← Back to Newsroom OS خبریں

’یوکرینی دائیں بازو کو اتنا مضبوط کسی نے نہیں کیا، جتنا پیوٹن نے ‘

By جدوجہد • 2025-06-17 • 29 min read

وکٹر اوسپرے

روس کے یوکرین پر حملے کو تین سال سے زائد ہو چکے ہیں، لیکن عالمی بایاں بازو اب بھی اس جنگ پر منقسم ہے۔ یوکرینی بائیں بازو کے کارکنان اس صورتِ حال پر یقینامایوس ہیں، لیکن حیران نہیں ،کیونکہ مغربی دنیا اور عالمی جنوب کے بائیں بازو کے حلقوں میں یوکرین اور سوویت یونین کے بعد کی دنیا کے بارے میں علم کی شدید کمی ہے۔

بجائے اس کے کہ وہ یوکرین (اور روس و دیگر سابقہ سوویت ممالک) کے بائیں بازو سے رابطہ کریں، بہت سے لوگ بس روسی ریاستی پروپیگنڈہ قبول کر لیتے ہیں ۔ روسی دعویٰ ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن کے پاس حملے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا تاکہ وہ نازیوں سے بھرپورایک جارحانہ دائیں بازو کے ہمسائے سے روس کا دفاع کر سکیں۔

یوکرینی بائیں بازو کے کارکن آندری مووچان کہتے ہیں کہ’’یوکرینی قوم پرستی اور دائیں بازو کی تحریکوں کو مضبوط کرنے میں کسی کا بھی کردار پیوٹن سے بڑا نہیں ہے۔‘‘

مووچان یوکرین میں کئی بائیں بازو کی تنظیموں کے سابق کارکن ہیں، اور اب کاتالونیا (سپین) میں مقیم ہیں، جہاں وہ میڈیا ایکٹوازم، فن اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ لنکس انٹرنیشنل جرنل آف سوشلسٹ رینیول کے لیے وکٹر اوسپرے کو دیے گئے ایک مفصل انٹرویو کے دوسرے حصے میں وہ روس یوکرین جنگ کی موجودہ صورت حال، دونوں ممالک میں دائیں بازو کے کردار، اور یوکرین کے بائیں بازو کو عالمی یکجہتی کی تعمیر میں درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہیں۔

انٹرویو کے پہلے حصے میں انہوں نے ترقی پسند مفکرین اور سوویت یونین کے یوکرینی قومی شعور پر اثرات، بالشویکوں کے درمیان یوکرینی آزادی پر شدید مباحثوں، روسی عظمت پسندی کے یوکرین پر تاریخی اثرات، اور زبان کی بنیاد پر امتیاز جیسے پیچیدہ موضوعات پر گفتگو کی تھی۔ان کا انٹرویو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

جنگ کی موجودہ صورتِ حال کیا ہے؟ کیا روس آہستہ آہستہ مزید علاقے پر قبضہ کر رہا ہے اور یوکرین کے اندر گہرائی تک حملے کر رہا ہے، یا یوکرینی افواج نے محاذ کو مستحکم کر لیا ہے اور کچھ علاقوں میں پیش رفت کی ہے؟ خاص طور پر 2022 میں رضاکاروں کی لہر کے مقابلے میں آج جبری بھرتی شدہ فوجیوں کے حوصلے کا کیا حال ہے؟

مووچان: بہار 2025 تک دونوں افواج شدید حد تک تھک چکی ہیں۔ افرادی قوت کی قلت ہے، اور حوصلہ بہت کمزور ہے۔ دشمن کی عددی برتری کے باوجود یوکرینی عوام بہادری سے مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اور محاذ کو تھامے ہوئے ہیں۔ یوکرینی معاشرہ شدید تھکن کا شکار ہے۔

اب کوئی فتح کے خواب نہیں دیکھتا۔ کوئی 1991 کی سرحدوں کی واپسی کا خواب نہیں دیکھ رہا۔ سب سے تکلیف دہ مسئلہ جبری بھرتی کا ہے، جو انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ رضاکارانہ طور پر محاذ پر جانے کے لیے اب تقریباً کوئی تیار نہیں۔ حتیٰ کہ ریاستی رہنما بھی عوامی جذبات کو نظرانداز نہیں کر پا رہے اور زیادہ حقیقت پسندانہ اہداف پر بات کر رہے ہیں۔

آج یوکرین کا مؤقف یہ ہے کہ جنگ موجودہ فرنٹ لائن پر ہی سکیورٹی ضمانتوں کے ساتھ اور روسی قبضوں کو تسلیم کیے بغیر منجمد کر دی جائے۔ معاشرے کی اکثریت ان شرائط سے متفق ہے۔روس ان شرائط سے متفق نہیں ہے اور وہ اب بھی یوکرین کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

دوسری طرف روس کی 14 کروڑ کی آبادی اسے یہ موقع دیتی ہے کہ وہ عوام کی بڑی تعداد کو جنگ میں جھونکے بغیر صرف کرائے کے فوجیوں سے لڑ سکے۔ روسی معاشرہ تھکن کا شکار نہیں لگتا، لیکن روسی فوج بری طرح تھک چکی ہے۔ سوویت دور کا ہتھیاروں کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب ہے۔ زخمیوں کو دوبارہ محاذ پر بھیجا جا رہا ہے۔ قابض فوج کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ حتیٰ کہ روسی فوجی بلاگرز بھی کہہ رہے ہیں کہ جنگ زیادہ دیر تک جاری رکھنا ممکن نہیں۔

صدر ولادیمیر زیلنسکی کی قیادت میں یوکرینی حکومت کو سیاسی طور پر کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے؟ اگر انتخابات منعقد ہوں تو کیا زیلنسکی کے دوبارہ جیتنے کے امکانات ہیں؟

مووچان: زیلنسکی کی حکومت ایک پاپولسٹ نیو لبرل حکومت ہے۔ موجودہ صدر نے 2019 کے انتخابات میں 73 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جو زیادہ تر پچھلے صدر پیٹرو پوروشینکو کی دائیں بازو کی قدامت پسند پالیسیوں کے خلاف احتجاجی ووٹ تھا۔ تاہم پوروشینکو ایک ایسا ریاستی ڈھانچہ چھوڑ کر گئے تھے جو پہلے ہی دائیں بازو کے اثر میں تھا، اور اس نے زیلنسکی کی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔

زیلنسکی ذاتی طور پر قوم پرست نہیں تھے، لیکن روسی حملے کے نتیجے میں وہ قوم پرست بن گئے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب کوئی معاشرہ وجودی جنگ کا سامنا کرتا ہے تو قوم پرستانہ رجحانات خود بخود ابھرتے ہیں۔ اسی طرح ان حالات میں ریاستیں آمرانہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یوکرین میں بدقسمتی سے یہ رجحانات بڑھ رہے ہیں۔

تین سالہ جنگ، غیر مقبول جبری بھرتی، حکومت کے ہر سطح پر کرپشن اسکینڈلز، اور نمایاں عدم مساوات کے پس منظر میں زیلنسکی کی حمایت عام شہریوں اور فوجیوں دونوں میں تیزی سے گر رہی ہے۔ میرے خیال میں ان کے لیے اگلے انتخابات جیتنا مشکل ہوگا۔

2014 سے اور خاص طور پر 2022 کی یلغار کے بعد یوکرین میں فار رائٹ کس حد تک مضبوط ہوا؟ اس کا اثر و رسوخ کتنا وسیع ہے؟ اور روسی پروپیگنڈے کے ذریعے یہ کتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے؟

مووچان: 2014 میں فار رائٹ کو سینٹر رائٹ حزبِ اختلاف نے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے سب سے پرعزم عنصر کے طور پر استعمال کیا۔ وہ تحریک میں توانائی کا مرکزی ذریعہ بن گئے، حالانکہ میدان تحریک میں شرکت کرنے والوں کا پس منظر خاصا متنوع تھا۔

جب روس نے اپریل 2014 میں ڈونباس میں پراکسی جنگ شروع کی، تب یوکرین کی فوج اس مقابلے کے لیے تیار نہ تھی۔ فار رائٹ نے اُن ابتدائی دستوں کی بنیاد رکھی جو بعد میں یوکرینی فوج میں شامل کر دیے گئے۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ جنگ کے دوران قوم پرست عناصر کا کردار تیزی سے بڑھ جاتا ہے، اور قوم پرست ہی سب سے پرعزم سپاہی بنتے ہیں۔ یہ بات ڈونباس میں دونوں جانب دیکھی گئی۔

2014 کے بعد سے فار رائٹ کی بڑھتی ہوئی طاقت نے انتخابی سیاست پر تو کوئی بڑا اثر نہیں ڈالا، لیکن اس نے گلیوں میں صورتِ حال کو خاصا پیچیدہ کر دیا ہے، جہاں اکثر انہیں ریاستی سطح پر کھلی چھوٹ حاصل ہوتی ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ یوکرین میں فار رائٹ کا کوئی مسئلہ نہیں، وہ غلط کہتے ہیں۔ خود مجھے بائیں بازو کے نظریات رکھنے کی وجہ سے ان فار رائٹ گروہوں کے ہاتھوں بارہا سڑک پر حملے کا نشانہ بننا پڑا، اور اسی بنا پر مجھے یوکرین چھوڑنا پڑا۔

قوم پرستوں نے فوج کے اندر بھی اہم پوزیشنیں حاصل کر لی ہیں۔ ایک بار پھر یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے،کیونکہ کسی قوم کی بقاء کی جنگ میں سب سے قابل اور پرعزم سپاہی لبرلز یا سوشلسٹ نہیں، بلکہ قوم پرست ہی ہوتے ہیں۔

تاہم یوکرین کو’نیو نازی ریاست‘کہنا بہت بڑا مبالغہ ہے۔ یہ واضح ہے کہ روسی پروپیگنڈا اس افسانے کو بڑھاوا دے رہا ہے کہ یوکرین ایک نیو نازی ملک ہے ، اور بدقسمتی سے یہ پروپیگنڈا مغربی بائیں بازو کے کچھ حلقوں میں مقبول بھی ہو جاتا ہے۔ ہاں، ہمارے ہاں دائیں بازو کے گروہوں سے متعلق داخلی مسائل ضرور ہیں، لیکن یہ روس کا مسئلہ نہیں ہے۔ کیا یہ اس بات کا جواز ہے کہ ہمارے شہروں پر بم برسائے جائیں اور انہیں زمین سے مٹا دیا جائے تاکہ انہیں ’آزاد‘کرایا جا سکے؟

ہمارے ملک میں دائیں بازو کے گروہوں کے ساتھ مسائل موجود ہیں، لیکن یہ ہماری زمین پر حملے کا جواز نہیں بن سکتے۔ چاہے یوکرین موجودہ صورتحال سے 20 گنا زیادہ رجعت پسند ہی کیوں نہ ہوتا، تب بھی روس کو حملے کا حق حاصل نہ ہوتا۔

درحقیقت، یوکرینی قوم پرستی اورفار رائٹ کی تحریکوں کو سب سے زیادہ مضبوط کسی نے اگرکیا ہے تو وہ صدر پیوٹن ہیں۔ اگر انہوں نے 2014 اور 2022 میں دو جنگیں نہ چھیڑیں ہوتیں، تو آج یوکرینی فار رائٹ ایک نسبتاً غیر اہم عنصر ہوتا۔

روس میں فار رائٹ ، خصوصاً فوج میں، کس حد تک اثر رکھتاہے؟

مووچان:بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ روس میں فار رائٹ کی تحریک زیادہ نمایاں نہیں، کیونکہ روسی ریاست کسی بھی آزاد تحریک یا جماعت کو برداشت نہیں کرتی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ خود روسی ریاست نے اب ایک انتہا پسند سامراجی قوم پرستی اور توسیع پسندی کی پالیسی کو اپنا لیا ہے۔ یہ وہی نظریہ ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف حاشیے پر موجود شدت پسند گروہوں کی پہچان سمجھا جاتا تھا۔

آج جو کچھ ولادیمیر پیوٹن کہہ اور کر رہے ہیں، وہ روسی الٹرا نیشنلسٹوں کے سب سے پاگل پالیسی سازوں کے ایجنڈے کا عملی اظہار ہے۔ وہ تمام لکھاری، ریٹائرڈ فوجی افسران، فلسفی، اور صحافی جنہوں نے روسی ’ریکونکویستا‘(یعنی دوبارہ فتح و غلبے) کا خواب اپنے بلاگز، کتابوں اور محب وطن مظاہروں میں پیش کیا، آج یہ دیکھ رہے ہیں کہ ریاست خود اُن کا ایجنڈا نافذ کر رہی ہے۔ یہی لوگ روسی حملے میں شامل ہیں ، جن میں سے کچھ بطور سپاہی اور کچھ بطور میڈیا کے خدمت گارشامل ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1991 کے بعد سے روس میں ایک بڑا طبقہ اور کئی تحریکیں ایسی ابھریں جن کے لیے سوویت یونین کا خاتمہ ذاتی سانحہ تھا۔ ان کے لیے یہ قومی ذلت تھی۔ یوکرینیوں، جارجیائیوں، قازقوں اور دیگر قوموں کے برعکس، ان روسیوں نے پورے سوویت یونین کو اپنا قومی وطن سمجھا ، یعنی صرف روس نہیں، بلکہ پورا سوویت علاقہ۔ ان کا خیال تھا کہ یہ سب کچھ ’مصنوعی‘طور پر ٹکڑوں میں بانٹا گیا، اور وہ بدلہ لینا چاہتے تھے۔

ایسے افراد اکثر خود کو ’کمیونسٹ‘کہتے ہیں، لیکن ان کا اصل خواب سماجی برابری نہیں بلکہ علاقائی توسیع ہے۔ بیرونی دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ روس میں ایسے ’کمیونسٹ‘ درحقیقت زیادہ تر فار رائٹ کے لوگ ہیں، بیشک وہ سرخ جھنڈا لہراتے ہوں۔ ہم انہیں’ریڈبراؤنز‘کہتے ہیں۔

روایتی نیو نازی عناصر نے بھی اس جنگ کے دوران روس میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ روسی فوج میں کم از کم دو واضح نیو نازی یونٹ موجود ہیں، جن میں روسیچ اور ایسپانولا شامل ہیں۔ ملک میں مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز سلوک اور نسلی بنیادوں پر تشدد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ روسی ریاست کے زیر سرپرستی دائیں بازو کے گروہوں کا ایک وسیع نیٹ ورک، روسکایا اُبشچینا (Russkaya Obshchina) قائم کیا گیا ہے، جو مہاجرین کو نشانہ بناتا ہے اور مقامی اقوام کو خوفزدہ کرتا ہے۔

یوکرین میں اقلیتوں جیسے ہنگرین، روما، تاتار اور یہودیوں کے ساتھ سلوک کیسا ہے؟

مووچان: مختلف اقلیتوں کی صورتحال ایک جیسی نہیں۔ مثال کے طور پر کریمیائی تاتار مکمل طور پر ریاست اور معاشرے کی حمایت حاصل کر چکے ہیں۔ دوسری طرف ہنگرین اقلیت کے بارے میں کچھ بداعتمادی پائی جاتی ہے، کیونکہ موجودہ ہنگری حکومت روس کی حامی سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، ہنگرین اقلیت نے اپنی ’تاریخی مادرِ وطن‘(ہنگری، جو یورپی یونین کا رکن ہے) کے سیاسی دباؤ کے ذریعے کچھ حقوق حاصل کیے ہیں۔

یہودیوں کے حوالے سے کبھی کبھار روزمرہ زندگی میں یہود مخالف واقعات پیش آتے ہیں، مگر یہ کسی دوسرے مشرقی یورپی ملک سے زیادہ نہیں۔ یہودی برادریوں کی شکایات زیادہ تر یادگاری پالیسیوں سے متعلق ہوتی ہیں، جیسے کہ بعض ایسے قومی ہیروز کو سرکاری اعزاز دیا جاتا ہے جو ماضی میں یہودیوں پر ظلم میں ملوث رہے۔

سب سے زیادہ دشواری روما اقلیت کو درپیش ہے۔ معاشرے میں ان کے خلاف مسلسل نفرت پائی جاتی ہے۔ جنگ سے پہلے فار رائٹ کے لوگ اکثر روما کی بستیوں پر حملے کرتے تھے، اور عوام یا ریاست کی جانب سے ان حملوں کی مذمت نہیں کی جاتی تھی۔

2014 میں روس کے قبضے کے بعد سے کریمیائی تاتاروں کی صورتحال کیسی رہی؟ کیا وہ اور دیگر لوگ چاہتے ہیں کہ کریمیا دوبارہ یوکرین کا حصہ بنے؟

مووچان: کریمیائی تاتار کریمیا میں سب سے زیادہ یوکرین نواز طبقہ ہیں۔ 1944 میں جوزف اسٹالن کے ہاتھوں جبری جلاوطنی کی جو اجتماعی یادداشت ہے، وہ آج بھی ان کے دلوں میں تازہ ہے۔ وہ خودمختاریوکرین کے شکر گزار ہیں جنہوں نے آزادی کے بعد انہیں اپنے آبائی وطن لوٹنے کی اجازت دی۔

تاتاروں کی بھاری اکثریت روسی الحاق کے خلاف تھی۔ ہزاروں تاتار کریمیا سے نکل کر یوکرین کے زیر کنٹرول علاقوں میں چلے گئے، جہاں ان کی سیاسی نمائندہ تنظیم ’مجلس‘قائم ہے۔ کچھ تاتار یوکرینی فوج میں بھی لڑ رہے ہیں۔ ادھر جو تاتار کریمیا میں باقی رہ گئے ہیں، ان پر روسی قابض حکومت مسلسل جبر کر رہی ہے۔ روسی جیلوں میں زیادہ تر کریمیائی سیاسی قیدی تاتار ہی ہیں۔

مجھے نہیں لگتا کہ تاتار چاہتے ہیں کہ یوکرین کریمیا کو عسکری طاقت سے دوبارہ حاصل کرے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ جزیرہ نما کریمیا میں تباہ کن جنگ ہو۔ وہ ایک سفارتی حل کو ترجیح دیں گے۔فی الحال کریمیا کی وہ عمومی آبادی الحاق کی حامی ہے، جو زیادہ تر نسلی روسیوں پر مشتمل ہے۔

یوکرین میں عمومی رائے یہی ہے کہ کریمیا کی واپسی تقریباً ناممکن ہے، لیکن صرف ایک اقلیتی طبقہ ایسا ہے جو روس کے اس الحاق کو جائز تسلیم کرنے کے حق میں ہے۔

چونکہ روس اور امریکہ دونوں یوکرین کے وسائل، جیسے کہ قیمتی معدنیات، حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یوکرین کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا ترقی پسند سماجی اصلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، تو کیا یوکرین کو چاہیے کہ وہ یورپی یونین یا گلوبل ساؤتھ میں کسی اور جگہ اتحادی تلاش کرے؟

مووچان: جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں برسر اقتدار آئے، یوکرین کو یورپ پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔ آج بھی یورپ ہی یوکرین کا واحد مستقل اتحادی ہے جو جارحیت کے خلاف ساتھ کھڑا ہے۔ تاہم یورپ کی عسکری صلاحیت امریکہ کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ یوکرین امریکہ کو یکسر نظر انداز نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ امریکی فوجی ٹیکنالوجی اور سفارتکاری پر وجودی سطح پر انحصار کرتا ہے۔

جہاں تک گلوبل ساؤتھ کے ساتھ تعلقات کا تعلق ہے، میرے خیال میں یوکرین نے بہت سی غلطیاں کیں۔ یوکرین نے اپنی مزاحمت کا آغاز اس امید پر کیا کہ دنیا کے امیر ترین اور طاقتور ممالک اس کے ساتھ ہیں، اور اس لیے وہ باقی دنیا کی حمایت کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ یہ ایک خام خیالی تھی۔ درحقیقت گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر بہت سی چیزوں کا انحصار ہے ،جیسے سفارتکاری، روس مخالف پابندیوں کا مؤثر نفاذ، گولہ بارود کی مارکیٹ، روسی فوج کے لیے بھرتی کیے جانے والے کرائے کے فوجیوں کا مسئلہ، اور درجنوں دیگر اہم معاملات شامل ہیں۔

تقریباً ایک سال قبل یوکرینی قیادت کو احساس ہوا کہ انہیں گلوبل ساؤتھ کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔اسی لیے عرب ممالک سے بات چیت ، جنوبی افریقہ کے دورے ، فلسطین کو انسانی امداد بھیجنے سمیت دیگر اقدامات کیے گئے۔

تاہم ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ان ممالک کی صلاحیتیں محدود ہیں۔ مثال کے طور پر گلوبل ساؤتھ نے فلسطین کی اسرائیل کے خلاف کس حد تک مدد کی ہے؟ تقریباً کچھ نہیں۔ تو ہم کیسے امید کریں کہ یہ یوکرین کی مؤثر مدد کریں گے؟

آپ ’سالڈیریٹی کلیکٹوز‘کے حامی ہیں، جو یوکرینی انارکسٹوں اور اینٹی اتھاریٹیرین (مخالف آمریت) کارکنوں کا ایساگروپ ہے جنہوں نے روسی جارحیت کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ وہ ریاست سے جتنا ممکن ہو، آزاد رہ کر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ایک متبادل قوت بننے کی بجائے بالآخر ریاستی فوج میں ضم ہو گئے۔ آپ اس سوچ اور اس کے ارتقا کے بارے میں کیا بتا سکتے ہیں؟

مووچان: بدقسمتی سے یوکرینی بائیں بازو کی قوت ایک چھوٹا سا حلقہ ہے جسے نہایت مشکل حالات میں کام کرنا پڑا ہے۔ 2014 کے بعد بہت سے کارکنان ، جن میں میں بھی شامل ہوں ،فار رائٹ کے ہاتھوں مسائل کا سامنا کر کے ملک چھوڑ گئے۔ بہت سے دیگرلوگ ملک کے اندر ہی خاموشی سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم کچھ لوگ آج بھی ان تمام مشکلات کے باوجود عوامی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ان میں خاص طور پر انارکسٹ، چھوٹے سوشلسٹ گروپ اور مزدور یونینیں شامل ہیں۔

انہی حلقوں کے کارکنان ان رضاکاروں میں شامل تھے جنہوں نے یوکرین کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھائے۔ چونکہ بائیں بازو کی تحریک پہلے ہی بہت چھوٹی تھی، اس لیے وہ مسلح مزاحمت میں ایک آزاد قوت کے طور پر ابھر نہیں سکی۔ تمام تر تضادات کے باوجود جو بائیں بازو کے کارکن میدان جنگ میں گئے، وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ روسی جارحیت کی کامیابی یوکرینی عوام کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔

مغربی دنیا کے نظریاتی بائیں بازو کی نظر میں یہ ایک تضاد ہے کہ ایک ایسا ملک جو رجعتی نظریات کے زیر اثر ہے اور جہاں بایاں بازو بہت کمزور ہے، اس کا دفاع کیا جائے۔ لیکن یہ نقطہ نظر غیرمادیاتی ہے۔

بطور مادیت پرست ہمیں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ جب بھی نام نہاد ’حقیقی موجود سوشلزم‘ ناکام ہوا ہے، اس کے بعد ردانقلابی رجعت پسندی کا ابھرنا ایک تاریخی تسلسل رہا ہے۔ مشرقی یورپ کے کسی بھی ملک کو دیکھیں توکہیں بھی سوشلسٹ (یا انقلابی) تحریکیں نہ تو طاقتور ہیں اور نہ ہی مقبول۔ اس تاریخی لمحے پر یہ ممکن ہی نہیں۔ یوکرین سے مختلف امید رکھنا خود فریبی ہوگی۔

لیکن کیا کسی ملک کا رجعتی مرحلے سے گزرنا کسی اور کو اس پر قبضہ کرنے کا حق دے دیتا ہے؟ بالکل نہیں۔ رجعت ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ اگر یوکرین اپنی بقا کے حق کا دفاع کرتا ہے، تو درحقیقت وہ ایک بہتر اور ترقی پسند مستقبل کے امکان کا بھی دفاع کرتا ہے ، ایک ایسے یوکرین کی امید جو کل کو بدلے اور آگے بڑھے۔

آپ کا ان یوکرینی بائیں بازو کے ان کارکنوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو ایک مختلف مؤقف رکھتے ہیں، یعنی دونوں طرف سے انقلابی شکست پسندی (revolutionary defeatism) کا، جیسے کہ ’ورکرز فرنٹ آف یوکرین‘؟

مووچان: ایک یوکرینی اختلافی آواز کے طور پر میں ان لوگوں کی مذمت نہیں کرتا جو مختلف مؤقف رکھتے ہیں، خاص طور پر انقلابی شکست پسندی کا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یوکرین میں اس مؤقف کو اپنانے کے لیے خاصا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ میں عوامی سطح پر تنقید سے گریز کرتا ہوں، کیونکہ میں خود جنگ میں شریک نہیں ہوں اور میرے پاس دوسروں کو مزاحمت کا کہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ایسی تنقید بعض اوقات دوسروں کو ریاستی جبر کا شکار بنا سکتی ہے ، جو کسی بھی ایسے ملک میں عام بات ہے جو وجودی خطرے کا سامنا کر رہا ہو۔

تاہم مجھے یہ بات سخت ناپسند ہے کہ یوکرینی انقلابی شکست پسندوں کے مؤقف کو مغربی یا روسی بائیں بازو کی جانب سے سراہا جاتا ہے۔ روسی بائیں بازو کے لیے واحد درست مؤقف جارح ریاست کی مخالفت کرنا اور اس کی شکست کی حمایت کرنا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ’اگر روس لڑائی بند کر دے، تو جنگ ختم ہو جائے گی، اور اگر یوکرین لڑائی بند کر دے، تو یوکرین ختم ہو جائے گا۔‘

افسوس کی بات ہے کہ روسی بائیں بازو کے اکثر حلقوں میں اسٹالن کے زمانے سے جو یوکرین مخالف شاؤنزم پایا جاتا ہے، وہ انہیں شکست پسندی کا مؤقف اپنانے سے روکتا ہے، اگرچہ اس رجحان سے کچھ خوش آئند استثنیٰ بھی موجود ہیں۔

کیا سوویت یونین کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی سابقہ کمیونسٹ پارٹی آف یوکرین (سی پی یو)کا آج بھی کچھ وجود باقی ہے، چاہے یوکرینی یا روس کے زیرقبضہ علاقوں میں؟

مووچان:سی پی یو کی کہانی ختم ہو چکی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ روسی جارحیت کی حمایت کے باعث وہ یوکرین میں دوبارہ کوئی مقام حاصل نہیں کر سکے گی۔ زیر قبضہ علاقوں میں بھی یہ پارٹی باقی نہیں رہے گی، کیونکہ وہاں کے ممبران روس کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

روس ان مقبوضہ علاقوں سے ہر اُس چیز کو مٹا دینا چاہتا ہے جو یوکرینی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں ’یوکرینی‘کمیونسٹ پارٹی کا کوئی وجود نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ ’کمیونسٹ‘بھی نہیں رہ سکتی، کیونکہ قابض حکام کے خلاف احتجاج کی کسی بھی کوشش کا انجام گرفتاری ہوتا ہے۔ ایسے ’کمیونسٹوں‘کا کردار صرف اتنا ہے کہ وہ حملے اور قبضے کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

روس میں جنگ مخالف، عسکریت مخالف اور بائیں بازو کے کارکنوں کا یوکرین پر روسی جارحیت کے خلاف مزاحمت میں اور روسی توسیع پسند عزائم کو ناکام بنانے میں کیا کردار ہو سکتا ہے؟ مثلاً آپ نے روسی مارکسی دانشور بورس کاگارلتسکی کی حمایت کی ہے، باوجود اس کے کہ آپ ماضی میں ان کے تجزیے سے اختلاف رکھتے تھے۔

مووچان: روس ایک آمریت ہے۔ اس لیے وہاں کسی جنگ مخالف تحریک کی موجودگی پر بات کرنا مشکل ہے۔ وہاں کچھ افراد ضرور ہیں جو جنگ کے خلاف ہیں، لیکن انہیں اپنی مخالفت کو قانونی دائرے میں ظاہر کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کے پاس پیوٹن کے اقدامات پر اثر انداز ہونے کا کوئی ذریعہ نہیں۔

ان میں سے کچھ افراد نے جنگ کی مخالفت میں اپنی آزادی قربان کر دی، یہ قابل احترام بات ہے۔ بورس کاگارلتسکی بھی ان میں شامل ہیں۔ 2014 میں انہوں نے روسی سامراجیت کی حمایت کا شرمناک مؤقف اپنایا، لیکن 2022 میں ان کا مؤقف بالکل بدل گیا۔

عمومی طور پر جنگ کے خلاف روسی بائیں بازو میں دو رجحانات پیدا ہوئے ہیں، محبت وطن اور شکست پسند۔ محب وطن حصے کے لوگ فریقین کو برابر سمجھتے ہیں اور امن کے لیے یوکرین کی طرف سے رعایتوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔شکست پسند واضح طور پر روس کو جارح قرار دیتے ہیں اور روسی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ہسپانوی بایاں بازو یوکرین کی جنگ کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ کیا ایک طرف ہسپانوی سوشلسٹ ورکرز پارٹی (PSOE)، کمیونسٹ پارٹی آف اسپین (PCE) اور پوڈیموس جیسی نسبتاً ’متحد‘ بائیں بازو کی جماعتوں اور دوسری طرف کاتالونیہ کی پارٹی CUP یا باسک پارٹی EH Bilduجیسی آزادی پسند بائیں بازوجماعتوں کے درمیان کوئی فرق ہے؟

مووچان:بدقسمتی سے جنوبی یورپ میں بایاں بازو تاریخی طور پر اسٹالن ازم اور امریکہ مخالف رجحان کی طرف جھکتا رہا ہے، اور یہی سیاسی فیصلوں کا بنیادی پیمانہ رہا ہے۔ اسی وجہ سے روسی جارحیت کے مسئلے کو بایاں بازو ، اور خاص طور پر بائیں بازو کے ریڈیکل حلقے ، انتہائی تقسیم انگیز معاملے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

حکمران جماعت PSOE نے مسلسل یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے اور اس کی علاقائی سالمیت کے حق میں موقف اپنایا ہے۔ حکومت میں شامل Sumar اتحاد کے رکن بھی یوکرین کی حمایت کرتے ہیں، لیکن وہ ہتھیاروں کی فراہمی پر تنقید کرتے ہیں۔

دوسری جانب پوڈیموس یوکرین کو فوجی امداد کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ یہی مؤقف باسک اور کاتالونیہ کی بائیں بازو کی آزادی پسند ریڈیکل جماعتوں کا بھی ہے۔ وہ درحقیقت یوکرین کی شکست کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں۔ پہلی نظر میں تو انہیں یوکرین کی ثقافتی یکسانیت کے خلاف جدوجہد سے ہمدردی ہونی چاہیے تھی، لیکن وہ اس سادہ لوح فارمولے پر عمل کرتے ہیں کہ ’دشمن کا دشمن دوست ہے‘،اور انہیں امید ہے کہ یوکرین کی شکست ان کے لیے آزادی حاصل کرنے کا کوئی موقع پیدا کرے گی۔

بہت سے روسی جلاوطن افراد یوکرینیوں کے ساتھ مل کر جنگ مخالف مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں۔ کیا اسپین میں بھی ایسا ہوا ہے؟

مووچان: بارسلونا، میڈرڈ اور ویلنسیا میں روسیوں کی بڑی کمیونٹیز موجود ہیں جو جنگ شروع ہونے کے بعد جلاوطنی میں آئیں۔ تاہم وہ زیادہ سیاسی طور پر سرگرم نہیں ہیں۔ زیادہ تر سیاسی کارکن، اپوزیشن صحافی اور دانشور جرمنی اور بالٹک ریاستوں کا رخ کر گئے۔ اسپین میں عموماً وہ لوگ آئے جو کم سیاسی تھے اور اب اپنی نئی زندگی بسانے میں مصروف ہیں۔

بدقسمتی سے یوکرینیوں اور جنگ مخالف روسیوں کے درمیان تعلقات کافی پیچیدہ ہیں۔ یوکرینی اکثر جنگ کے صدمے کی وجہ سے روسیوں سے دور رہتے ہیں۔ وہ روسیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین کی زیادہ سرگرم حمایت کریں، اور انہیں اجتماعی ذمہ داری کا الزام بھی دیتے ہیں۔ یہ تمام عوامل باہمی تعاون میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

 ایک سوشلسٹ نقط نظر سے جدید یوکرین کو بہتر سمجھنے کے لیے آپ کن ذرائع کی سفارش کریں گے؟

مووچان: میں تجویز کروں گا کہ یوکرینی میگزین Spilne(Commons) میں شائع ہونے والے مضامین کے انگریزی تراجم کو پڑھا جائے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں اس کے مصنفین اور ایڈیٹرز، خاص طور پر تاراس بیلوس جیسے بائیں بازو کے دانشور، جنہوں نے مزاحمتی فورسز میں شمولیت اختیار کی، نے بہترین مضامین لکھے۔

میں روسی بائیں بازو کے سیاسی سائنسدانوں جیسے ایلیا ماتویف اور ایلیا بودرائٹسکیس کو بھی پڑھنے کی تجویز دوں گا، جو پیوٹن کے روس کی حقیقت پر مبنی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔

اس سے بھی بڑھ کر میں بیرونی مبصرین کو مشورہ دوں گا کہ وہ یوکرین کے تاریخی سیاق و سباق کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے درج ذیل کتابیں مفید ہیں:

National Bolshevism : Stalinist mass culture and the formation of modern Russian national identity, 1931-1956 by David Brandenberger
The Affirmative Action Empire: Nations and Nationalism in the Soviet Union, 1923-961939 by Terry Martin
-91You, Stalin, are the traitor-92. The End of Left-wing Solidarity
The Comintern and Communist Parties in the Second World War 1939-1941 by Bernhard Bayerlein

میری نظر میں مغربی بائیں بازو کا سب سے بڑا مسئلہ باقی دنیا کے بارے میں لاعلمی ہے. اس کے ساتھ ساتھ یہ عجیب یقین بھی کہ وہ سب سے بہتر جانتے ہیں۔ میں واقعی چاہتا ہوں کہ ہم اس کیفیت سے باہر نکل سکیں۔

(بشکریہ: ’انٹرنیشنل ویوپوائنٹ‘، ترجمہ:حارث قدیر)

Victor Osprey