← Back to Newsroom OS خبریں

یہود دشمنی میں اضافے کی وجہ - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-05-24 • 3 min read

جلبیر اشقر

بلاشبہ گزشتہ دو سالوں میں یہود دشمنی(Anti-semitism)تیزی سے بڑھی ہے: ہر طرح کی نسل پرستی میں عمومی اضافے کے علاوہ، یہودیوں پر حملوں میں خاص کر ایک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے درست تشخیص کی جائے۔

ان حملوں میں اضافہ ان واقعات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جو مشرق وسطیٰ میں،7اکتوبر 2023کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد پیش آئے۔ اس حملے کے بعد غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج نے بدترین اور ہلاکت خیز حملوں کا آغاز کیا: غزہ پر اندھا دھند بمباری کی گئی اور غزہ ارتکازِ آبادی کے لحاظ سے سب سے گنجان آباد علاقہ ہے۔ بمباری کے نتیجے میں غزہ کا شہری تانا بانا بکھر کر رہ گیا۔ ہزار رہا شہری لقمہ اجل بن گئے۔ اسرائیل کی مسلسل ناکہ بندی سے بلاواسطہ کتنی اموات ہو رہی ہیں، اس کا تو کوئی شمار ہی نہین۔ غزہ کا نظام صحت دم توڑ گیا ہے۔ قحط بطور ہتھیار استعمال ہو رہا ہے۔ خیموں میں زندگی ایک بوجھ بن چکی ہے۔

اس بحث سے قطع نظر کہ غزہ میں ہونے والے قتل عام کو جینوسائیڈ کہنا چاہیے یا نہیں، حقیقت یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا۔ اس قتل عام کی ایک مخصوص بات یہ تھی کہ پہلی بار اتنے بڑے قتل عام کو ٹیلی ویژن اسکرین پر دکھایا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بعض نیٹ ورکز غزہ کی پٹی سے واقعات کی کوریج کرتے رہے۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ اس بڑے پیمانے اور اس تیزی سے ہونے والے قتل عام کو، جسے دو سال تک دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، فلسطین سے یکجہتی کو جنم دیا اور دنیا بھر میں پرامن مظاہرے ہوئے۔ لندن ان مظاہروں کا اگر سب سے بڑا مرکز نہیں تھا تو ایک اہم ترین مرکز ضرور تھا۔

یہ قتل عام ایک ایسی ریاست نے کیا جو اس بات پر بضد ہے کہ وہ یہودی ریاست ہے اور یہ ڈھونگ رچاتی ہے کہ وہ دنیا بھر کے یہودیوں کی نمائندہ ہے۔

ایسے میں یہ بحث بے کار ہے کہ یہود دشمنی میں اضافے کی وجہ اسرائیل کا یہودی ریاست ہونے پر اصرار ہے یا دنیا بھر کے یہودیوں کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ اس کی وجہ ہے۔

برطانیہ میں یہودیوں کے معمر ترقی پسند مذہبی پیشواؤں نے کھل کر وہ بیان دیا جو کسی بھی ایماندار انسان کو دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں فار رائٹ جس راستے پر چل رہا ہے اس کے نتیجے میں یہودیت کو ”وجودی خطرہ“ لاحق ہے۔ اس خطرے سے، صیہونیت کے یہودی ناقد، اسرائیل کے قیام سے قبل ہی متنبہ کر رہے تھے۔ 1944میں حانا ارینڈ نے فلسطین میں صیہونی منصوبے بارے کہا کہ ”اس کا لازمی نتیجہ یہودیوں سے نفرت کی ایک نئی لہر کو جنم دے گا۔ صیہونیت کے بے شمار یہودی ناقدین نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کلونیل حالات میں، آبادی کی قیمت پر بننے والی ریاست ایسے اقدامات اٹھائے گی جو ”یہودی اقدار“ کے منافی ہونگے۔ برطانیہ کے مندرجہ بالا مذہبی پیشواؤں کا بھی یہی کہنا تھا۔

برطانیہ کی سٹرامر سرکار، جو اس قتل عام میں مبینہ طور پر سہولت کار تھی، یہود دشمنی کو فلسطین یکجہتی کا گلا دبانے کے لیے، بطور ہتھیار استعمال کرتی آئی ہے۔ علاوہ ازیں یہ کارڈ سیاسی مخالفین کے خلاف بھی استعمال کیا گیا۔ برطانوی حکومت نے یہود دشمنی میں اضافے کی ذمہ داری فلسطین سے یکجہتی کے لیے ہونے والے مظاہروں پر ڈالی۔ حتی کہ ”گلوبلائز دی انتفادہ“ جیسے نعرے کی انتہائی عجیب تشریح کی گئی۔ یہود دشمنی میں اضافے کو اب گرین پارٹی کے رہنما زین پولانسکی کی کردار کشی کے لیے عین اسی طرح استعمال کیا جا رہا ہے، جس طرح یہ جیرمی کوربنکے لیے کیا گیا۔

دلچسپ فرق یہ ہے کہ زین پولانسکی خود یہودی ہیں۔ حقائق سے معمولی سی واقفیت رکھنے والا کوئی بھی نیک نیت شخص ان الزامات کے غیر حقیقی ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔

ذرا”گلوبلائز دی انتفادہ“ والے نعرے کی مثال ہی لے لیجئے۔ انتفادہ(عربی میں سرکشی:مترجم) اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینی جدوجہد کا اہم ترین بات ہے۔ انتفادہ اس پرامن تحریک کو کہا جاتا ہے جو مغربی کنارے اور غزہ میں 1988کے سال اپنے عروج پر پہنچی اور انتفادہ عالمی سطح پر ایک معروف اصطلاح بن گئی۔ ”انتفادہ کو گلوبلائز کرو“ کی یہ تشریح ہے کہ یہ یہود دشمنی ہے، دراصل جان بوجھ کر اس کوشش کا نام ہے کہ اسرائیلی ریاست اور دنیا بھر کے یہودی ایک ہیں، بلکہ فلسطین پر ناجائز اسرائیلی قبضے کے لیے بھی دنیا بھر کے یہودی ذمہ دار ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سٹرامر سرکار نے جس طرح یہود دشمنی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت عملی بنائی ہے، اس کے نتیجے میں یہود دشمنی بڑھی ہے۔

سٹرامر سرکار(یاد رہے سٹرامر برطانوی تاریخ کا سب سے غیر مقبول وزیراعظم ہے اور سٹرامر کی شہرت یہ ہے کہ اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا) انے اپنے وزیراعظم کی طرف سے جس ناقابل بیان بددیانتی کا مظاہرہ کیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سیاسی لحاظ سے جو لوگ نابالغ ہیں وہ سچ میں اسرائیل کو دنیا بھر کے یہودیوں کا نمائندہ سمجھنے لگے ہیں۔ اگر برطانوی حکومت سچ میں یہود دشمنی کے خاتمے میں سنجیدہ ہوتی تو اس کوشش کا آغاز اسرائیل سے تعاون کا خاتمہ کرنے سے کیا جاتا۔ ساتھ ہی ساتھ ان لاتعداد برطانوی یہودیوں کو سامنے لایا جاتا جن کا کہنا ہے: ناٹ ان آور نیم!

(ترجمہ: فاروق سلہریا)