← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

یی بن فیکٹری کی آگ اور سوشلسٹ جنت کا فریب

By جدوجہد • 2025-05-30 • 14 min read

عمیر خورشید

20 مئی 2025 کو چین کے صوبے سیچوان کے ضلع پنگشان میں واقع جِن یو ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ کوئی حادثاتی آگ نہ تھی۔ یہ آگ تین دن تک بھڑکتی رہی اور فیکٹری کی تین میں سے دو ورکشاپس کو جلا کر راکھ کر گئی۔یہ آگ ایک 27 سالہ مزدور ‘وین’نے لگائی تھی۔ شروعات میں اس واقعے کو ایک ذاتی المیہ قرار دیا گیا، لیکن جلد ہی یہ خبر وائرل ہو گئی۔ یہ محض ایک سنسنی خیز جرم نہیں تھا ، بلکہ یہ اس آئینے میں ایک دراڑ تھی جو چین کو ایک مزدوروں کی جنت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

عینی شاہدین اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شیئر کی گئیں ابتدائی اطلاعات کے مطابق وین کو فیکٹری چھوڑنے کے بعد اپنی تنخواہ کی 800 یوان (تقریباً 31ہزار500 پاکستانی روپے) کی رقم نہیں ملی تھی اور اس کی استعفیٰ کی درخواست بھی قبول نہیں کی گئی تھی۔ انتظامیہ کی مسلسل ٹال مٹول سے تنگ آ کر وین نے غصے میں آ کر کارروائی کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا نشانہ فیکٹری کا مالیاتی افسر تھا، جو مبینہ طور پر مالک کا رشتہ دار بھی تھا۔ انٹرنیٹ صارفین وین کو ‘عوامی ہیرو کے طور پر پیش کرنے لگے۔ انہوں نے اس واقعے کوایک استحصالی نظام کے خلاف مزدورکی مزاحمت کے طور پر دیکھا۔ اس کے خاندان کے لیے عطیات جمع ہونے لگے۔ کچھ لوگوں نے قانونی مدد کی اپیل کی۔ کئی افراد نے یہ رقم خیراط کے طور پر نہیں دی، بلکہ اس لیے دی کہ وہ وین سے ہمدردی رکھتے تھے، اور وہ خود بھی ایسے ہی تجربات اور غصے سے گزر چکے تھے۔ انہوں نے کہنا تھا کہ :‘‘800یوان ایک مالک کے لیے کچھ نہیں، لیکن ایک مزدور کے لیے یہی اس کی آخری حد ہو سکتی ہے!’’

پھر سرکاری بیان سامنے آیا۔ مقامی پولیس کے مطابق وین کو استعفیٰ کے بعد 5ہزار370 یوان ادا کیے گئے تھے اور تاخیر محض مالیاتی کارروائی کی وجہ سے ہوئی۔ پولیس نے وین کو ایک ذہنی مریض، آٹسٹک اور زندگی سے مایوس انسان اور خودکشی کی کیفیت میں مبتلا شخص کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ مزدوروں کے حقوق کا نہیں، بلکہ ایک ذہنی بیمار شخص کی مایوسی کا اظہار تھا۔

یہ بیان عوامی غصے کو کم نہیں کر سکا۔ لوگ کسی ایک واقعے پر ردعمل نہیں دے رہے تھے، وہ اُس طویل تاریخ پر ردعمل دے رہے تھے جس میں مزدوروں کو نچوڑا گیا ہے اور جس میں سوشلسٹ نظام کے نام پر انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں کسی ایک درخت پر نہیں بلکہ پورے جنگل پر نظر ڈالنی چاہیے۔ یی بن کی آگ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ یہ چین میں جاری طبقاتی جدوجہد کا ایک اور مظہر ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جسے بائیں بازو کے حلقے اکثر ‘سوشلسٹ ترقی’ اور غربت کے خاتمے کی کامیاب مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ الجھی ہوئی اور پریشان کن ہے۔

آج کا چین ایک مزدوروں کی ریاست نہیں بلکہ ایک آمریت پر مبنی ریاستی سرمایہ داری کے طور پر کام کر رہا ہے، جہاں نجی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ مزدوروں کے تحفظات تیزی سے ختم ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ سرکاری ادارے بھی اکثر ذیلی ٹھیکیداروں اور غیر یقینی نوعیت کی مزدوری پر انحصار کرتے ہیں۔ اجرتوں کی واپسی کے قانونی عمل کو جان بوجھ کر سست رکھا جاتا ہے اور ہڑتالوں کو دبایا جاتا ہے۔

اگرچہ ریاست یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے مزدوروں کے مسائل حل کیے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ تنخواہوں کی چوری عام ہے، اور خود چینی حکومت کے اعداد و شمار اس کا اعتراف کرتے ہیں۔2023 میں چین کی وزارتِ انسانی وسائل کو لاکھوں شکایات موصول ہوئیں، لیکن ان پر عملدرآمد ناہموار ہے۔ مزدوروں کو اکثر مشورہ دیا جاتا ہے کہ چپ چاپ صلح کر لیں ورنہ بلیک لسٹ ہو جائیں گے۔ کئی مزدور تو ایسے بھی ہیں جو سالوں کی محنت کی اجرت چھوڑ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ، لیکن وین نے ایسا نہیں کیا۔

‘چائنا لیبر بلیٹن’کے مطابق صرف گزشتہ چھ ماہ میں 1100سے زائد ہڑتالیں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہوئیں۔تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ہڑتالیں چینی مزدوروں کی زندگی کا معقول بن چکی ہیں۔خاص طور پر تعمیرات، لاجسٹکس اور فیکٹریوں میں یہ مسئلہ عام ہے۔

وین کے لیے عوامی حمایت صرف ہمدردی نہیں بلکہ خود کو اس کی جگہ رکھ کر غصے، بے بسی اور ذلت کا اظہار تھا۔ایک صارف نے اس عمل کو ‘‘اپنے آپ کو جلا کر دوسروں کو روشنی دینے’’سے تشبیہ دی۔ یہ محض ایک استعارہ نہیں، بلکہ اس نظام کی حقیقت ہے جو انسانوں کو جلا کر ہی روشنی حاصل کرتا ہے۔وین کی کہانی اس گہرے درد کو اجاگر کرتی ہے جو ایک ایسی نسل میں رچ بس چکا ہے جو گوداموں اور فیکٹریوں میں قید ہے، جس کے پاس نہ روزگار کی ضمانت ہے، نہ بچت، نہ کوئی مستقبل ہے۔

چین کو سوشلسٹ یوٹوپیا کے طور پر دیکھنے والے بائیں بازو کے لوگ اکثر اس کی غربت مٹاؤ مہم، انسدادِ بدعنوانی کی کوششوں یا بیلٹ اینڈ روڈ جیسے منصوبوں کی تعریف کرتے ہیں، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ چین کی ترقی کا ماڈل سستی محنت، دیہی علاقوں کی بے دخلی، اور اختلافِ رائے کو دبانے پر مبنی ہے۔ یہ ایسا ماڈل ہے جو سرمائے کے ارتکاز کو فروغ دیتا ہے اور مزدوروں کی تنظیم سازی کو کچلتا ہے۔

‘‘سوشلسٹ چین’’کے اس فسانے میں اُن مزدوروں کی زندگی کا کوئی ذکر نہیں جنہیں تنخواہ نہیں ملتی، جو فیکٹریوں میں مر جاتے ہیں، جنہیں خودکشی پر مجبور کیا جاتا ہے، اور جن کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔یہ کہانی ان کارکنوں کے دکھ کو نہیں سناتی جو صرف اس لیے جیل میں ڈال دیے جاتے ہیں کہ وہ آزاد یونین بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ کوئی وضاحت نہیں کرتی کہ کیوں وین جیسے مزدور یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ انہیں فیکٹریوں کو اس لیے جلانا پڑے گا تاکہ کوئی ان کی بات سننے پر تیار ہو۔
چین کے حامی مسلسل چین کو ایک سوشلسٹ کامیابی کی کہانی کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو کہ‘‘کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکال چکا ہے۔’’ ایسی کہانیاں نہ صرف چین میں جاری طبقاتی جدوجہد کو معمولی بنا کر پیش کرتی ہیں بلکہ اکثر تو اسے مکمل طور پر نظر انداز ہی کر دیتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ‘‘لوگوں کو غربت سے نکالنا’’دراصل کیا معنی رکھتا ہے؟ چین کا یہ دعویٰ کہ اس نے انتہائی غربت کو ختم کر دیا ہے، دراصل ورلڈ بینک کے یومیہ 1.90 ڈالر کے معیار پر مبنی ہے، جو کہ بذاتِ خود مزدوروں کی زندگی کی اصل حالت کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔ اگر کوئی مزدور روزانہ 2.00 ڈالر کماتا ہے تو وہ اس تعریف کے مطابق ‘‘انتہائی غریب’’نہیں رہتا، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ خوشحال زندگی گزار رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت، جسے شاذ و نادر ہی کوئی سوشلسٹ ملک کہے گا ، نے بھی انہی پیمانوں پر 271 سے 450 ملین افراد کو انتہائی غربت سے نکالنے کا دعویٰ کیا ہے۔ نائیجیریا نے بھی یہی کیا ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت یا نائیجیریا کامیاب سوشلسٹ ممالک ہیں؟ بالکل نہیں۔ اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب اس معیار کو ایک حکومت کی تعریف اور دوسری کو رد کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ کتنا کھوکھلا اور بے معنی ہو جاتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں درجن سے زائد ممالک نے کثیر جہتی غربت کو نصف کر دیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ممالک سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ہیں، کیونکہ لوگوں کو یومیہ 1.90 یا 3.20 ڈالر کی حد سے اوپر لانا سرمایہ داری کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ اوسط عمر میں اضافہ بھی سرمایہ داری کے تحت ہوا ہے۔ یہ تمام پیمانے ہمیں پیداوار کے سماجی رشتوں کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے۔

چین کو‘سوشلسٹ جنت’کے طور پر پیش کرنا صرف اس وجہ سے نہیں کہ لوگ اس کے اندرونی تضادات کو نہیں سمجھتے، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ وہ امریکی سامراج کا کوئی متبادل چاہتے ہیں اور کثیر القطبیت (multipolarity) کو اینٹی امپیریل ازم سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں۔ یہ ایک مشرق پسندی (Orientalist) جیسی سوچ ہے، جس میں چین کو محض اس وجہ سے نجات دہندہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ مغرب نہیں ہے۔

اگر وین کا یہ عمل بنگلہ دیش یا بھارت میں پیش آتا، تو کوئی بھی اسے ‘سوشلسٹ مایوسی’نہ کہتا۔ اسے وہی سمجھا جاتا جو یہ حقیقت میں ہے۔ ایک ایسا مایوس انسان جو سرمائے کے بوجھ تلے کچلا گیا۔

یی بن کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ‘استحکام’اور ‘مشترکہ خوشحالی’کے نعروں کے پیچھے چین میں طبقاتی جدوجہد پوری شدت سے جاری ہے۔ آگ شاید بجھا دی گئی ہو گی، لیکن وہ حالات آج بھی موجود ہیں،جنہوں نے اس آگ کو بھڑکایا۔ مزدور طبقہ اس حقیقت کو جانتا ہے ، کیونکہ وہ اسے روزانہ جیتا ہے۔

اگرچہ انفرادی تشدد کے واقعات نظاموں کو نہیں گراتے، لیکن وین جیسے لوگوں کی کہانیاں ختم نہیں ہوتیں۔ ریاست اُسے پاگل قرار دے سکتی ہے، اس آگ کو خبروں سے مٹا سکتی ہے، اس کے نام کو یادداشت سے مٹانے کی کوشش کر سکتی ہے ، لیکن مزدور اُسے یاد رکھتے ہیں۔

وین کی کہانی سرکاری میڈیا میں شاید گردش نہ کرے، مگر وہ اسمبلی لائنوں، یونیورسٹی ہاسٹلز، اور فیکٹری کی مشینوں کے شور کے بیچ سرگوشیوں میں زندہ رہے گی ، خوشحالی اور ترقی کے سراب کو چیرتی ہوئی ، اور استحصال کے بے رحم نظام کو بے نقاب کرتی ہوئی، جو مزدوروں کے دلوں میں پلتی ہوئی خاموش، مگر بڑھتی ہوئی بغاوت کو جنم دے رہی ہے۔

Umair Khurshid

عمیر خورشیدجموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایڈیٹر عزم ہیں۔معاشیات اور ترجمہ علوم کے تعلیمی پس منظر کے ساتھ، سماجی و معاشی تاریخ کے سوالات پر لکھتے ہیں، بالخصوص منصوبہ بندی اور سیاسی معیشت پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔