لاہور(جدوجہد رپورٹ)پاکستان اب تک جنیوا کانفرنس میں عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی جانب سے کیے گئے 11 ارب ڈالر کے وعدوں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکا، حالانکہ 2022 کے بعد ایک بار پھر تباہ کن سیلاب ملک کو اربوں ڈالر کے نقصانات سے دوچار کر رہے ہیں۔
’ٹربیون‘ کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر 11 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، جن میں 4.6 ارب ڈالر تیل کی فراہمی اور 6.4 ارب ڈالر بحالی و تعمیر نو کے لیے تھے۔ تاہم قابل عمل منصوبے تیار نہ ہونے کے باعث اس امداد کی وصولی انتہائی محدود رہی۔ وزارت اقتصادی امور نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ 6.4 ارب ڈالر کے منصوبہ جاتی فنڈز میں سے صرف 2.8 ارب ڈالر ہی جاری کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق عالمی بینک نے 2.2 ارب ڈالر کا وعدہ کیا اور 1.6 ارب ڈالر جاری کیے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے 1.6 ارب ڈالر کا عہد کیا لیکن صرف 51 کروڑ ڈالر فراہم کیے۔ چین اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے 1.1 ارب ڈالر کا وعدہ کیا مگر صرف 25 کروڑ ڈالر دیے۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے 60 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 23 کروڑ ڈالر دیے جبکہ پیرس کلب کے ممالک نے 80 کروڑ ڈالر کے وعدے میں سے محض 13.9 کروڑ ڈالر جاری کیے۔ امریکہ نے 10 کروڑ ڈالر کے وعدے میں سے 7 کروڑ ڈالر دیے۔
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ پاکستان جنیوا میں کیے گئے وعدوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکا کیونکہ ’ہم قابل سرمایہ کاری منصوبے پیش کرنے میں ناکام رہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ 2022 کے سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا اور موجودہ بارشیں بھی اربوں ڈالر کے نقصانات کا سبب بن رہی ہیں، لیکن ریاستی ادارے اب تک سبق سیکھنے میں ناکام ہیں۔
محکمہ آبی وسائل نے دریائے چناب کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ستلج، راوی اور چناب میں ممکنہ طغیانی کے خدشے پر سیلاب الرٹ جاری کر دیا ہے۔
وزیرخزانہ نے مزید کہا کہ جب تک پاکستان آبادی کے تیزی سے بڑھتے دباؤ اور ماحولیاتی بحران سے نمٹنے میں سنجیدگی نہیں دکھاتا، اس وقت تک 2047 تک معیشت کو 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
11ارب ڈالر کی پچھلی غیر ملکی سیلابی امدادحکومتی غفلت کی نذر، نیا سیلابی خطرہ سر پر
ماخذ: جدوجہد