روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

1953 ء: جب امریکہ نے ایران میں آیت اللہ اور فوج کی مدد سے مصدق کا تختہ الٹا

1953 ء: جب امریکہ  نے ایران میں آیت اللہ اور فوج کی مدد سے مصدق کا تختہ الٹا

حارث قدیر

حالیہ عرصے میں ایران پر اسرائیلی اور بعد ازاں امریکی حملے کے بعد رژیم چینج(حکومت کی تبدیلی) کی بحث عالمی میڈیا پر تجزیوں اور تبصروں کا حصہ بنی ہے۔ یہ بحث محض اس لیے نہیں بنی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جانب اشارے کیے تھے، بلکہ اس لیے بھی بنی کہ ماضی میں امریکی سامراج مختلف ملکوں میں ترقی پسند حکومتوں کو گرانے کے سامراجی منصوبے بنانے کی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ بظاہر جمہوریت، شہری اور جمہوری آزادیوں، اور لبرل ازم کا چمپئن کہلانے والے امریکی سامراج کی تاریخ منتخب جمہوری اور عوامی حکومتوں کو سازش کے تحت ہٹانے اور ان کی جگہ آمریتوں کو مسلط کرنے کی ایک بھیانک تاریخ رکھتا ہے۔ ایران کو وہ پہلا مقام سمجھا جاتا ہے، جہاں امریکی سامراج نے سب سے پہلے جمہوریت کا گلا گھونٹ کر ایک خفیہ مداخلت کے ذریعے اپنی مرضی کی حکومت مسلط کی۔ اس کے بعد خفیہ مداخلت امریکی حکمرانوں کے لیے ایک معروف اصول بن گیا۔

ایران میں یہ پہلی ’خفیہ سامراجیت ‘کی مشق 1953میں ہوئی۔ معروف امریکی صحافی، مصنف اور اکیڈیمک سٹیفن کنزر نے اپنی کتاب ’All The Shah’s Men‘ میں اسے ایک ایسی مداخلت قرار دیا، جس نے نہ صرف ایران کی تقدیر بدل دی، بلکہ مشرق وسطیٰ میں عالمی طاقتوں کے کھیل کی بنیاد بھی رکھی۔ یوں آج مشرق وسطیٰ میں سامراجیت، جنگوں، خونریزیوں اور سامراجی پشت پناہی پر قائم آمریتوں کی بنیاد میں بھی ایران میں ہونے والی پہلی خفیہ سامراجی مداخلت کے نتائج کا گہرا عمل دخل ہے۔

پس منظر: ایک قوم، تیل اورسامراجیت

ایران کی سرزمین تیل کے ذخائر سے مالامال تھی اور آج بھی ایران دنیا کے چند تیل سے مالا مال ملکوں میں شامل ہے۔ یہی تیل ایرانی سرزمین کی بدقسمتی کی وجہ بنا۔ 1901میں برطانوی تاجر ولیم ناکس ڈارسی کو ایران کی حکومت نے تیل تلاش کرنے کا حق دیا۔ جلد ہی 1908میں تیل دریافت ہوا اور برطانوی حکومت نے ’اینگلو ایرانی آئل کمپنی‘ کے ذریعے اس پر عملاً اجارہ داری قائم کر لی۔ برطانیہ اس ایرانی تیل سے اربوں پاؤنڈ کماتا رہا اور دوسری طرف ایرانی عوام غربت، افلاس اور استحصال کا شکار رہے۔ بہت کم حصہ ایرانی حکومت کو ملتا اور کمپنی میں کام کرنے والے ایرانی مزدوروں کو شدید استحصال اور بدترین کام کے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

ایسے حالات میں محمد مصدق ایرانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں آئے۔ وہ ایک قوم پرست اور آئینی قانون دان کے طورپر شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے برطانوی اثرورسوخ اور تیل پر مغربی قبضے کی سخت مخالفت کی۔ وہ نیشنل فرنٹ نامی سیاسی اتحاد کے قائد تھے، جو مختلف قوم پرست، روشن خیال اور ترقی پسند جماعتوں پر مشتمل ایک سیاسی اتحاد تھا۔ محمد مصدق نہ صرف تیل کو قومیانے کے حامی تھے، بلکہ برطانوی اجارہ داری کے خلاف مزاحمت کو قومی خودمختاری کا بنیادی مسئلہ سمجھتے تھے۔

ایران میں اس وقت وزیراعظم کا تقرر شاہ کی طرف سے ہوتا تھا، تاہم پارلیمان کی منظوری اور دباؤ اس پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔ بظاہرشاہ کا کردار آئینی سربراہ کا تھا، لیکن سامراجی پشت پناہی کی وجہ سے امور سلطنت میں شاہ کا عمل دخل کافی گہرا تھا۔ شاہ کے پاس فوج کی وفاداری تھی۔ وہ خفیہ ایجنسی، درباری اشرافیہ اور مغربی طاقتوں، بالخصوص برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے تھے۔ وہ اکثر پارلیمان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے اور حکومت سازی میں دخل دیتے۔ یوں ایران میں ظاہری طور پر پارلیمانی جمہوریت ہونے کے باوجود شاہ ایک طاقتور بادشاہ تھے، جوں وزیراعظم کے عہدے پر لوگوں کو مقرر یا برخاست کر تے تھے۔

مارچ1950اور مئی1951کے دوران نئے پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں مختلف دھڑوں کے امیدوار سامنے آئے، جن میں شاہ کے حامی، درباری طبقہ، ملاؤں کے نمائندے اور قوم پرست شامل تھے۔ ماضی کے انتخابات کی طرح یہ انتخابات بھی مکمل طو رپر آزاد نہیں تھے۔ تاہم عوامی دباؤ اور نیشنل فرنٹ کی مقبولیت کی وجہ سے محمد مصدق اور ان کے حامیوں کو کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ تیل کو قومیانے کی تحریک اس قدر مضبوط ہوئی کہ بالآخر شاہ کو مجبوراً محمد مصدق کو وزیراعظم نامزد کرنا پڑا۔ یوں اپریل1951میں محمد مصدق باقاعدہ وزیراعظم بن گئے۔ وزیراعظم بنتے ہی ان کی پارلیمان نے اینگلو ایرانی آئل کمپنی کو قومیانے کی منظوری دے دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے امریکی اور برطانوی سامراج کو مصدق کے خلاف متحرک کر دیا۔

تودہ پارٹی اس وقت سوویت بلاک سے باہر سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آ چکی تھی۔ تودہ پارٹی کی حمایت کے بغیر مصدق کا اقتدار میں آنا ممکن نہیں تھا۔ تاہم تودہ پارٹی نے مصدق کی تنقیدی حمایت کی اورتیل کے قومیانے کے فیصلے کو انقلابی قدم قرار دیا۔ مصدق کی حمایت عوام میں بڑھانے میں بھی تودہ پارٹی کی مزدور یونینوں، طلبہ اور مظاہرین نے اہم کردار ادا کیا۔ یوں تودہ پارٹی حکومت کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی سڑکوں پر حکومت کے لیے ایک طاقت کے طورپر موجود تھی۔

مصدق نے تودہ پارٹی کو اپنی حکومت سے اس لیے دور رکھا ، تاکہ امریکہ اور قدامت پسند حلقوں کی ناراضگی کے بوجھ سے بچا جا سکے۔ دوسری طرف تودہ پارٹی کو بھی یہ کھٹکا تھا کہ مصدق کسی بھی وقت مغرب سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔

خفیہ سامراجی مداخلت

برطانوی حکومت اور خفیہ ایجنسی ایم آئی 6ہر صورت میں مصدق حکومت کا خاتمہ چاہتے تھے۔ ابتدا میں برطانیہ نے ایران پر حملہ کرنے کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کی کوشش کی۔ تاہم ابتداء میں امریکہ نے مصدق حکومت کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا۔ صدر ہیری ٹرومین نے برطانیہ کو مصدق سے براہ راست مذاکرات پر زور دیا، لیکن 1953میں جب ڈوائٹ آئزن ہاور نے صدارت سنبھالی اور جان فوسٹر ڈلس وزیر خارجہ بنے تو صورتحال یکسر بدل گئی۔
جان فوسٹر ڈلس اور ان کے بھائی ایلن ڈلس (سی آئی اے کے سربراہ) کا تعلق معروف کارپوریٹ لاء فرم ’سلوان اینڈ

کرمیئر‘ سے تھا، جو اینگلو ایرانی آئل کمپنی سمیت کئی بڑی کمپنیوں کی نمائندگی کرتی تھی۔ ان کے نزدیک مصدق نہ صرف مغربی مفادات کے لیے خطرہ تھے بلکہ سرد جنگ کے تناظر میں ایک ممکنہ ’کمیونسٹ‘آلہ کار بھی بن سکتے تھے، حالانکہ اس الزام کی کوئی حقیقی بنیاد موجود نہ تھی۔

1953میں امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ نے برطانیہ خفیہ ایجنسی ایم آئی 6کے ساتھ مل کر ’آپریشن ایجیکس‘ کے کوڈ نام سے پہلا رجیم چینج آپریشن انجام دیا۔ اسٹیفن کنزر کی تصنیف میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق آپریشن ایجیکس کی قیادت کرمیٹ روزویلٹ نے کی، جو صدر تھیوڈور روزویلٹ کے پوتے تھے۔ ان کا بنیادی ہدف مصدق کی حکومت کو غیر مستحکم کرنا، شاہ ایران کو واپس اقتدار میں لانا اور ایک مغرب نواز حکومت قائم کرنا تھا۔اس سلسلہ میں اخبارات میں مصدق مخالف جھوٹے مضامین شائع کروائے گئے، مذہبی فتوے جاری کروائے گئے اور مصدق مخالف بیانات کی بھرمار کی گئی، تاکہ عوام کو مصدق حکومت کے خلاف متحرک کیا جا سکے۔ سیاستدانوں، مذہبی رہنماؤں، غنڈوں اور پولیس اہلکاروں کو لاکھوں ڈالر رشوت دی گئی۔ بھاری رقوم کے عوض کرائے کے افراد کے ذریعے احتجاجی مظاہرے کروا کر ’بغاوت‘ کا ماحول پیدا کیا گیا۔

پہلی کوشش کی ناکامی اور شاہ کی مفروری

اس ماحول کے نتیجے میں 15اگست1953کو بغاوت کی پہلی کوشش ہوئی۔ شاہ ایران نے مصدق کو برطرف کرنے کا فرمان جاری کیا اور ایک فوجی افسر جنرل فضل اللہ زاہدی کو نیا وزیراعظم مقرر کیا۔ مصدق کو اس سازش کا علم ہو گیا اور انہوں نے شاہ کے بھیجے گئے افسر کرنل نصیری کو گرفتار کر لیا ۔ فوج کے اندر مصدق کے وفادار عناصر نے یہ بغاوت ناکام بنا دی۔ عوام کی طرف سے بھی شاہ کے اس اقدام کے خلاف مزاحمت کی گئی اور شاہ کی اس کوشش کو غیر قانونی سمجھا گیا۔

اس ابتدائی کوشش کی ناکامی کے بعد شاہ ایران نے گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہونے میں ہی عافیت جانی۔ شاہ ایران 16اگست کو ایران سے فرار ہو کر عراق اور پھر وہاں سے اٹلی چلے گئے۔

دوسری کوشش کی کامیابی اور شاہ کی واپسی

شاہ ایران کے جانے کے بعد ایسا لگا کہ مصدق حکومت مضبوط ہو گئی ہے۔ تاہم چند روز بعد 19اگست1953کو سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی 6نے خفیہ فنڈز، ایجنٹس، فوجی افسران، مذہبی گروہوں اور مافیا عناصر کے ذریعے ایک نیا اور فیصلہ کن بغاوتی حملہ کیا۔ شاہ ایران کی آپریشن کی کامیابی کے بعد فاتح بن کر واپسی ہوئی۔

سی آئی اے نے اس منصوبے کے لیے باقاعدہ ایک ملین ڈالر کی رقم مختص کی۔ 19 اگست کو عوامی احتجاج کے پردے میں شاہی فوج، غنڈوں، اور سی آئی اے کے خریدے گئے عناصر نے مل کر تہران میں بغاوت برپا کی۔صبح سویرے تہران کی گلیوں میں کرائے کے افراد شاہ کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے نکلے۔ ریڈیو اسٹیشن پر حملہ ہوا، سرکاری عمارات پر قبضہ کیا گیا۔ مصدق کی رہائش گاہ پر ٹینک چڑھ دوڑے۔مصدق روپوش ہو گئے لیکن جلد ہی گرفتار ہو گئے۔ ان کے گھر کو جلا دیا گیا، کتابیں نذر آتش ہوئیں، اور شاہی پرچم دوبارہ لہرا دیا گیا۔جنرل فضل اللہ زاہدی ریڈیو پر نمودار ہوئے اور کہا کہ ’’اب ملک کو ایک مضبوط ہاتھ کی ضرورت ہے۔ مصدق کا دور ختم ہوا۔‘‘

سٹیفن کنزر کے مطابق مصدق کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اپنی قوم کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی عدالت میں کی گئی تقریر آج بھی جمہوری تاریخ کا ایک زریں باب ہے:’’اگر میری حب الوطنی جرم ہے، تو میں اپنے اس جرم پر فخر کرتا ہوں۔‘‘

مصدق پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ ان پر شاہ سے غداری، آئین شکنی اور اقتدار پر غیر آئینی قبضے کے الزامات لگائے گئے، حالانکہ وہ ایران کے منتخب وزیر اعظم تھے۔انہیں تین سال قید کی سزا ہوئی اور پھر عمر بھر کے لیے احمد آباد میں نظر بند رکھا گیا۔ ان کی تدفین تک کو عوامی قبرستان میں ہونے سے روکا گیا۔

بعد ازاں ایک شہری نے بیان کیا کہ ’’ہمیں بتایا گیا تھا کہ مصدق ملک توڑ رہا ہے، لیکن اب ہمیں اندازہ ہوا کہ ملک کو کس نے بیچا۔‘‘

آیت اللہ کا کرداراور تودہ پارٹی

آیت اللہ سید ابوالقاسم کاشانی مذہبی حلقوں میں وہ سب سے نمایاں کردار تھے، جنہوں نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے سامراجی منصوبے کی حمایت کی۔ وہ ابتدائی طور پر مصدق کے حامی تھے، لیکن بعد میں اختلاف کر کے سامراجی بغاوت کے خاموش حمایتی کے طور پر سامنے آئے۔ ان کے حامیوں نے شاہ کی واپسی کے حق میں نعرے لگائے۔ ان کے علاوہ کچھ دیگر مذہبی رہنما بھی سی آئی اے کی مالی مدد سے بغاوت کے وقت فتوے دینے اور تقریریں کرنے میں مصروف رہے۔

دوسری جانب تودہ پارٹی نے حکومت کا تختہ الٹنے کی پہلی کوشش کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تودہ پارٹی کے عسکری نیٹ ورک، طلبہ تنظیموں اوراحتجاج کرنے والی قوتوں نے مصدق حکومت کا ساتھ دیا۔ تاہم سامراجی بغاوت کی دوسری کوشش کے کامیاب ہونے کے بعد تودہ پارٹی عوام کو منظم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔

بعد ازاں 1979کی انقلابی بغاوت کے دوران بھی آیت اللہ کے کردار کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ آیت اللہ خمینی اس وقت فرانس میں مقیم تھے۔بائیں بازو کے نظریات کی حامل ’تودہ پارٹی ‘ نے ملاؤں کے ساتھ اتحاد کی پالیسی اپنائی تھی، جس باعث مغربی سامراجیوں کو ’کمیونسٹ‘ تودہ پارٹی کی نسبت ملاؤں میں امید نظر آرہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس میں موجود آیت اللہ خمینی کو بین الاقوامی میڈیا تک رسائی ملی، خاص طور پر بی بی سی فارسی نے ان کے بیانات کو بڑے پیمانے پر نشر کیا۔ عبوری حکومت نے خمینی کو واپسی پر پوری حمایت فراہم کی، تاوقتیکہ امریکی سفارتخانے پر قبضہ ہوتا۔ یوں تودہ پارٹی کی غلط حکمت عملی اور مبینہ سامراجی مداخلت نے آیت اللہ خمینی کی قیادت نے مذہبی رد انقلاب کی راہ ہموار کی۔

تودہ پارٹی نے ابتدا میں ملا رژیم کی حمایت جاری رکھی ، تاہم جلد ہی یہ تعلق نہ صرف ختم ہوا بلکہ1983میں تودہ پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی اور بڑے پیمانے پر جبر کا راستہ اختیار کر کے تودہ پارٹی کو بری طرح سے کچلا گیا۔

شاہی آمریت کی واپسی ، انتقام اور انقلاب

یوں امریکی اور برطانوی سامراجی مداخلت کے نتیجے میں ایران میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر شاہی آمریت کو مسلط کیا گیا۔ بغاوت کے بعد جنرل فضل اللہ زاہدی کو وزیراعظم بنایا گیا اور انہیں سی آئی اے کی طرف سے 5ملین ڈالر فراہم کیے گئے۔ ان میں سے ایک ملین ڈالر جنرل زاہدی کو ذاتی طور پر بطور انعام فراہم کیے گئے۔

جب شاہ ایران کی فاتح کی صورت واپسی ہوئی تو امریکی سفارتخانے کے باہر جشن منایا گیا۔ امریکہ نے ایران کو فوری طور پر 45ملین ڈالر کی مالی امداد دی۔ سی آئی اے اور موساد کی مدد سے SAVAK(خفیہ پولیس) قائم کی گئی، جس نے 25سال تک عوام کو کچلا۔

ہر طرح کی سیاسی آزادیاں ختم کر دی گئی، مخالفین کے لیے قید و بند اور تشدد کا دور شروع ہو گیا۔ عوام کی نگرانی، ٹیلیفون ٹیپ کرنا، جبری اغواء، قتل و گمشدگیاں ایران میں ایک معمول بن چکا تھا۔

اس بدترین ریاستی جبر، سامراجی لوٹ مار اور سامراجی مداخلت کا سلسلہ 26سال تک ایران پر جاری رہا۔ بالآخر 1979میں ایرانی انقلاب نے نہ صرف شاہی آمریت کا تختہ الٹا بلکہ سامراجیت کو بھی چیلنج کیا۔ اس انقلاب کو بھی تھیوکریٹک رد انقلاب میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگی۔ تاہم ایرانی عوام نے امریکی سامراجی مداخلت کے خلاف نفرت کا کھل کر اظہار ضرور کیا۔ نئی ملا رژیم نے شاہ ایران کو جلاوطن کردیااور امریکی سفارتخانے پر قبضہ کیا گیا، اور444روز تک امریکی سفارتخانے کے عملے کو یرغمال بنا رکھا گیا۔ یہ سارا غصہ اس ایک بغاوت کا شاخسانہ تھا، جو امریکی سی آئی اے نے 1953 میں انجام دی تھی۔

اسٹیفن کنزر لکھتے ہیں کہ’’اگر بغاوت نہ ہوئی ہوتی، تو نہ کوئی آیت اللہ خمینی ہوتا، نہ یرغمالیوں کا بحران اور نہ ہی ایران امریکہ تعلقات میں دراڑ آتی۔‘‘

سامراجیت کی نوعیت میں تبدیلی اور ایران

19ویں اور20ویں صدی میں سامراجیت کی مختلف شکلیں سامنے آئیں، جن میں سب سے واضح شکل براہ راست قبضے کی تھی۔ تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد براہ راست قبضہ اس طرح سے ممکن نہیں رہا، تو سامراجیت نئی صورتوں میں ڈھلتی گئی۔ اب خفیہ مداخلت، اقصادی دباؤ اور پراکسی حکمرانی سامراجیت کی نئی شکلوں کی صورت میں سامنے آرہی تھی۔ اسی دور میں امریکہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا۔ سرد جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان اثرورسوخ کی جنگ نے دنیا کو بلاکوں میں تقسیم کیا۔

ایران کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر میں سے ایک تھے اور اس کی سرحدیں سوویت یونین سے ملتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ امریکہ کے لیے یہ خطہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ برطانیہ پہلے ہی وہاں ایک نیم سامراجی حیثیت میں موجود تھا۔تاہم ایرانی عوام نے مصدق کی قیادت میں تیل کو قومیانے اور ملک کو خودمختار بنانے کا فیصلہ کیا تو برطانیہ کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی حرکت میں آگیا۔

ایسے میں 1953کی بغاوت ایک ایسا موقع بنی، جہاں خفیہ مداخلت کو امریکی خارجہ پالیسی کے باقاعدہ ہتھیار کے طو رپر استعمال کیا گیا۔ اس لمحے کو سٹیفن کنزر امریکی سامراج کی نئی شکل قرار دیتے ہیں، جو نہ صرف ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے پر منتج ہوا بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مخالفت اور دہشت گردی کے آغاز کی بنیاد بھی بنا۔

ایران میں کامیاب مداخلت کے بعد امریکہ کی نئی سامراجی پالیسی واضح ہو گئی کہ جہاں مفادات خطرے میں ہوں ،وہاں حکومت ختم کرنا ایک جائز حکمت عملی ہے۔ اس سلسلے میں جان فوسٹر ڈلس کا ایک جملہ مشہور ہوا کہ ’’غیرجانبداری بھی ایک جرم ہے اگر وہ دشمن کے کام آئے۔‘‘اس سامراجی ذہنیت نے دنیا بھر میں امریکی سامراج کو ایک ایسے کردار میں بدل دیا، جو جمہوریت کے نعرے لگاتا ہے لیکن آمریتوں کو اقتدار میں لاتا ہے۔

سٹیفن کنزر کے مطابق ایران میں1953کی بغاوت صرف ایک حکومتی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک سامراجی نظریے کی فتح تھی، وہ نظریہ جس میں سامراجی مفادات کو انسانی آزادیوں سے بلند تر سمجھا جاتا ہے۔

رژیم چینج کی یہ سامراجی پالیسی اس کے بعد دنیا بھر کے مختلف خطوں میں اپنائی گئی۔ گوئٹے مالا، کانگو، ویتنام، برازیل، چلی،ارجنٹینا، یوراگوئے، بولیویا،نکاراگوا، پاناما، افغانستان، عراق، لیبیا سمیت دنیا کے کئی دیگر ملکوں میں خفیہ منصوبوں یا اعلانیہ فوجی حملوں کے ذریعے سامراجی حمایت یافتہ حکومتوں، آمریتوں اور بادشاہتوں کو مسلط کیا گیا۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی ایران کی رژیم چینج ہے اور آپریشن ایجیکس امریکی سامراجیت کے ایک ایسے سیاہ باب کی یادگار ہے، جس کا خمیازہ آج بھی مشرق وسطیٰ اور بالعموم پوری دنیا میں جاری خونریزیوں کی صورت میں عام عوام بھگت رہے ہیں۔

سٹیفن کنزر کے الفاظ میں’یہ بغاوت وہ ابتدائی گناہ ہے، جس پر جدید ایران امریکہ تعلقات کی عمارت قائم ہوئی۔‘یہی سامراجی گناہ آج بھی دنیا کی سیاست کے چہرے پر ایک ایسے داغ کی صورت میں موجود ہے، جو جنگوں اور خونریزیوں میں انسانیت کو برباد کر رہا ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں