لاہور(جدوجہد رپورٹ) حال ہی میں شائع ہونے والی ایک نئی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین تعلیم کئی دہائیوں تک ایسے پیالے(کپ) میں مشروب پیتے رہے، جو انسانی کھوپڑی سے بنایاگیا تھا۔ یہ کتاب نوآبادیاتی دور میں لوٹی گئی انسانی باقیات کی پرتشدد تاریخ کو اجاگر کرتی ہے۔
’گارڈین‘ کے مطابق یہ پیالہ ایک انسانی کھوپڑے کے بالائی حصے کو کاٹ کر اور چمکا کر بنایا گیا تھا، جس کے کنارے اور بنیاد پر چاندی کا کام تھا۔ آکسفورڈکے وورسٹر کالج میں باقاعدہ ضیافتوں کے دوران اسے 2015تک استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ بات یونیورسٹی کے پٹ ریورز میوزیم میں عالمی آثار قدیمہ کے منتظم پروفیسر ڈین ہکس نے بتائی ہے۔
پروفیسر ہکس کی آنے والی کتاب ’Every Monument Will Fall‘ اس کھوپڑی کی شرمناک تاریخ کا سراغ لگاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اس پیالے سے شراب رسنے لگی تو اسے چاکلیٹ پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔
ماہرِ آثار قدیمہ کے مطابق اس عمل سے متعلق اساتذہ اور مہمانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی نے بالآخر اس رسم کا خاتمہ کر دیا۔2019میں کالج نے پروفیسر ہکس کو دعوت دی کہ وہ اس کھوپڑی کے اوریجن کے بارے میں تحقیق کریں، جسے وہ ’ٹیبل ویئر کی بیمار ورائٹی‘ قرار دیتے ہیں۔
پرفیسر ہکس کا کہنا ہے کہ نوآبادیاتی نظام کے ورثے پر ہونے والی موجودہ بحثیں عموماً ان معروف برطانوی شخصیات پر مرکوز رہتی ہیں، جنہوں نے اس استحصالی نظام سے فائدہ اٹھایا، جیسے سیسل روڈز یا ایڈورڈ کولسٹن، اور جنہیں مجسموں، نوادرات یا ان کے نام پر قائم اداروں کے ذریعے یاد رکھا گیا۔
تاہم ان کی کوشش ہے کہ وہ اس بحث کا رخ ان لوگوں کی طرف موڑیں جنہیں نوآبادیاتی نظام نے محکوم بنایا اور جن کی شناخت کو تاریخی بیانیے سے مکمل طور پر مٹا دیا گیا۔ ان کے مطابق برطانوی ثقافتی اور نسلی برتری کے نسل پرستانہ نظریات کے باعث ان متاثرین کو قابل ذکر ہی نہیں سمجھا گیا۔ ہکس کے الفاظ میں ’انسانیت سے محرومی اور شناختوں کا مٹایا جانا خود اس نظام کی ایک پرتشدد شکل تھی۔‘
پروفیسر ہکس کو اس شخص کے بارے میں کوئی ریکارڈ نہیں ملا جس کی باقیات سے یہ کھوپڑی نما پیالہ بنایا گیا تھا۔ اگرچہ کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا کہ یہ کھوپڑی تقریباً225سال پرانی ہے۔ اس کا سائز اور دیگر قرائن اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ کھوپڑی کیریبین سے آئی تھی اور ممکنہ طور پر کسی غلام عورت کی تھی۔
اس کے برعکس اس پیالے کے برطانوی مالکان کا ریکارڈ واضح طور پر موجود ہے۔ یہ پیالہ1946میں وورسٹر کالج کو ایک سابق طالبعلم جارج پٹ ریورز نے عطیہ کیا تھا، جس کا نام اس کے چاندی کے کنارے پر کندہ ہے۔ جارج پٹ ریورز ایک نسلی اصلاحات (یوجینکس) کا حامی تھا اور دوسری عالمی جنگ کے دوران فاشسٹ رہنما اوسوالڈ موسلی کی حمایت کے سبب برطانوی حکومت نے اسے نظر بند کر دیا تھا۔
یہ پیالہ اس کے دادا وکٹورین دور کے برطانوی سپاہی اور ماہر آثار قدیمہ آگسٹس ہنری لین فاکس پٹ ریورز کے دوسرے غیر معروف مجموعے کا حصہ تھا، جنہوں نے 1884میں پٹ ریورز میوزیم کی بنیاد رکھی تھی۔
بزرگ پٹ ریورز نے اسی سال سوتھبی کی نیلامی میں کھوپڑی کا کپ خریدا تھا۔ نیلامی فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت اس کے نیچے لکڑی کا اسٹینڈ تھا، جس کے نیچے ملکہ وکٹوریہ شلنگ (سکہ)جڑا ہوا تھا۔ چاندی کے نشانات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ 1838میں بنایا گیا تھا، جو کہ ملکہ وکٹوریہ کی تاجپوشی کا سال تھا۔
بیچنے والا شخص برنارڈ اسمتھ تھا، جو اورئیل کالج آکسفورڈ کا گریجویٹ اور پیسے کے لحاظ سے وکیل تھا، اور بنیادی طور پر اسلحہ اور زرہ بکتر جمع کرتا تھا۔ ہکس کا اندازہ ہے کہ یہ پیالہ اسمتھ کو اس کے والد سے تحفے میں ملا ہوگا، جو بحریہ میں خدمات انجام دیتے ہوئے کیربین میں تعینات تھے۔
افریقی نژاد افراد کے لیے معاوضے سے متعلق بین الجماعتی پارلیمانی گروپ کی چیئرپرسن اور لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ بیل ریبیرو ایڈی کا کہنا ہے کہ ’یہ جان کر گھن آتی ہے کہ آکسفورڈ جیسے مراعات یافتہ ادارے کے معزز اساتذہ ایک ایسی انسانی کھوپڑی سے شراب نوشی کرتے رہے جو شاید کسی غلام عورت کی تھی اور اسے اس حد تک بے وقعت سمجھا گیا کہ اسے ایک ’چیز‘ میں بدل دیا گیا۔ یہ معزز اساتذہ صدیوں کے نوآبادیاتی تشدد اور وسائل کے استحصال سے حاصل شدہ دولت سے بھی فیض یاب ہوئے ہیں۔‘
ووسٹر کالج کے ترجمان نے کہا کہ ’بیسویں صدی میں یہ پیالہ کبھی کبھار کالج کی چاندی کی اشیاء کے مجموعی کے ساتھ نمائش میں رکھا جاتا تھا اور کبھی کھانے کی میز پر بھی استعمال کیا گیا۔ کالج کے پاس اس کے استعمال کی مکمل تفصیلات موجود نہیں، لیکن 2011کے بعد اس کا استعمال نہایت محدود ہو گیا تھا اور 10سال قبل اسے مکمل طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ سائنسی اور قانونی مشاورت کے بعد کالج کی گورننگ باڈی نے فیصلہ کیا کہ اس کھوپڑی کے پیالے کو احترام کے ساتھ کالج کے آرکائیو میں محفوظ کر دیا جائے، جہاں اس تک مستقل طور پر کسی کی رسائی نہ ہو۔
ترجمان کے مطابق ’جیسا کہ ڈاکٹر ہکس نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے، کالج نے اس معاملے سے اخلاقی اور سوچ سمجھ کر نمٹنے کی کوشش کی۔‘
یہ کتاب نوآبادیاتی جنگوں کے میدانوں سے لوٹی گئی دیگر انسانی کھوپڑیوں کی تفصیلات بھی فراہم کرتی ہے، جنہیں ممتاز وکٹورین افراد نے اپنے گھروں میں سجاوٹ کے طور پر رکھا، یا عجائب گھروں کو عطیہ کر دیا۔ ان افراد میں فیلڈ مارشل لارڈ گرینفیلڈ بھی شامل ہیں، جن کے نام پر کینسنگٹن میں ایک ٹاور ہے۔ انہوں نے 1879میں برطانوی فوج کے ہاتھوں جنگِ اولندی میں مارے جانے والے ایک زولو کمانڈر کی کھوپڑی کو دو سال بعد زمین سے نکالا اور اسے محفوظ کر لیا۔