لاہور(جدوجہد رپورٹ)بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پچھلے 23 ماہ کے دوران 20 ہزار سے زائد فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوسطاً ہر گھنٹے ایک فلسطینی بچہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔
’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق تنظیم نے کہا کہ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر کارروائی نہ کی تو غزہ کی پوری نسل بچوں کی بربادی کا سامنا کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل بمباری، ناکہ بندی اور حملوں نے نہ صرف معصوم جانوں کو نگل لیا ہے بلکہ بچوں کے مستقبل کو بھی تاریک کر دیا ہے۔
اسی دوران فلسطین میں بھوک اور غذائی قلت سے مزید 6 فلسطینی جان سے گئے، جس کے بعد بھوک اور قحط سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد تقریباً 400 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 140 بچے بھی شامل ہیں جو خوراک کی شدید کمی کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ صورتحال کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ اسرائیلی پالیسیوں اور غزہ کی ناکہ بندی کا براہ راست اثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فلسطینی عوام بالخصوص بچوں کو بچانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں۔