دانتے ایسپی نوزا
وینزویلا میں نکولس مادورو کی حکومت کی نوعیت پر ’لنکس انٹرنیشنل جرنل آف سوشلسٹ رینیول ‘میں ایک اہم بحث جاری ہے۔ اب تک گیبریل ہیٹ لینڈ، اسٹیو ایلنر، ایمیلیانو تیراں مانت وانی اور پیڈرو ایوسے کی تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔
ہم ان تحریروں کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ جو سمجھتے ہیں کہ وینزویلا کے موجودہ ادارہ جاتی، سیاسی اور معاشی بحران کی بڑی وجہ سامراج ہے (ایلنر)، اور دوسرے وہ جو اگرچہ پابندیوں کے بعد کے کردار کو نظرانداز نہیں کرتے، لیکن موجودہ صورتِ حال کی بنیادی وجہ مادورو کی غفلت اور نظریاتی انحراف کو سمجھتے ہیں (ہیٹ لینڈ، تیراں، اور ایوسے)۔
میری اس تحریر کا مقصد دو پہلوؤں پر بات کرنا ہے۔ پہلا، کچھ مقداری اعداد و شمار پیش کرنا، جیسا کہ ایلنر نے درست نشاندہی کی کہ اس کی ضرورت ہے ، تاکہ موجودہ حالات اور پس منظر کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ دوسرا، چند معیاری جائزے پیش کرنا ہے،جو ہمیں ایک وسیع تر تجزیاتی فریم ورک بنانے میں مدد دیں۔
وینزویلا اور سامراج
ایلنر نے اپنی 23 جولائی کی تحریر میں درست لکھا ہے کہ سامراج کے حملوں کا شکار سوشلسٹ حکومتوں کے طرزعمل پر مباحث مختلف بائیں بازو کے دھاروں میں ہمیشہ سے جاری رہے ہیں۔
وینزویلا پر بحث میں مجھے فرانسیسی فلسفی ژاں پال سارتر کی وہ تحریر یاد آتی ہے جو انہوں نے 1956 کی عوامی بغاوت کے بعد سوویت یونین کے ہنگری پر قبضے کے بارے میں لکھی تھی، جس کا عنوان ’اسٹالن کا بھوت‘ تھا۔
سارتر کے خیالات کو ڈھال کر کہا جا سکتا ہے کہ اس بحث میں ہم سے یہ ماننے کو کہا جا رہا ہے کہ عالمگیر بنیادوں پر یا بائیں بازو کے لیے قابل قبول ہونے کے لیے ہمیں یہ امکان یکسر رد کر دینا چاہیے کہ وینزویلا میں کوئی نئی داخلی سیاسی قوتیں ابھر سکتی ہیں۔ ہمارابلکہ واحد انتخاب یہ ہے کہ ہم وینزویلا میں جاری افراتفری اور جبر کو قبول کر لیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وینزویلا کے واقعات کو ان کے اپنے تناظر میں پرکھا ہی نہیں جا سکتا۔ انہیں صرف اس حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ سامراج کے حملے یا ایک نہایت ہی مفروضاتی ’کثیر قطبی دنیا‘کے ابھرنے پر کیا اثر ڈال سکتے ہیں۔
ہم بلاشبہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ سامراج وینزویلا کے خلاف مسلسل حملے اور دباؤ ڈال رہا ہے۔ لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ ’سامراج‘کو محض ایک نعرے یا مارکیٹنگ کے ہتھیار میں بدلنے سے بچایا جائے ، جیسا کہ گلوبل نارتھ کے بعض سرگرم کارکنوں نے ماحولیات یا مائنڈ فل نیس جیسے الفاظ کے ساتھ کیا ۔ اس تصور کو درست طور پر سمجھنا لازمی ہے۔
مارکسی پس منظر سے ہونے کی وجہ سے ایلنر بخوبی جانتے ہیں کہ معاشی اصطلاحات تاریخ کے اعتبار سے تشکیل پانے والے سماجی تعلقات کو ظاہر کرتی ہیں، چاہے وہ قومی ہوں یا عالمی۔ اگر اس حقیقت کو مدنظر نہ رکھا جائے تو’سامراج‘کو محض ایک مظلوم قوم اور ایک ظالم طاقت کے درمیان تعلق کے طور پر سادہ اور سطحی انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔
وینزویلا کے معاملے میں، جیسا کہ بہت سے لوگ شدت سے بھلانے کی کوشش کرتے ہیں، ہم اس سادہ فہم کو رد کر سکتے ہیں اگر یاد کریں کہ ہماری تیل کی صنعت پر پابندی لگنے سے پہلے قومی سرمایہ دار طبقے اور گلوبل نارتھ کے عدم استحکام پیدا کرنے والے مفادات کے درمیان کھلا تعاون موجود تھا۔ یہی سرمایہ دار طبقہ 2016 سے 2019 کے درمیان ہمیں بھوک سے مارنے کی کوشش کرتا رہا، اور آج بھی سامراج کے اندرونی پنجے کا حصہ ہے۔
پیداوار کی قوتوں اور منڈی کی طرح سامراج بھی کوئی مجرد تصور نہیں ہے۔ یہ مالیاتی سرمایہ داری کی منطق ہے، جس میں تاریخی طور پر قائم شدہ تعلقات شامل ہیں، جیسے درآمدی کمپنیاں، تقسیم کار، پیٹنٹ، سرمایہ کاری فنڈز، دباؤ ڈالنے کے طریقہ کار وغیرہ۔
سامراج اس وقت شاید سب سے نمایاں دکھائی دیتا ہے جب وہ پابندیوں کی شکل اختیار کرتا ہے، لیکن یہ قومی سرمایہ داروں کی صورت میں بھی موجود رہتا ہے جو مزدوروں کا استحصال کرتے ہیں، اجارہ داریوں کو فروغ دیتے ہیں اور سرمایہ ملک سے باہر منتقل کرتے ہیں۔
جیسا کہ دومنگو البرتو رانخل کہا کرتے تھے،وینزویلا میں ہمارے پاس ایک ایسا سرمایہ داری نظام ہے جو بوڑھا پیدا ہوا اور جس کی پیدائش میں براہ راست سامراجی سرمائے کا ہاتھ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مفادات اور سامراج کے مفادات
ایک جیسے ہیں۔
یہ جاننے کے لیے بس یہ دیکھنا کافی ہے کہ ملک کے بڑے مالیاتی گروپ اپنے وسائل کہاں جمع کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا ایلنر جانتے ہیں کہ ہمارے نئے سرمایہ دار دوست گروپو مسٹرال اپنے منافعے کہاں رکھتے ہیں؟ اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ انہیں وینزویلا میں رکھنے کے لیے اتنے ’محب وطن‘ نہیں ہیں۔
اسی تناظر میں ایسے مزدور جو کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی جانب سے غیر منصفانہ برطرفیوں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، یا انزواتیگی ریاست کے میسا دے گوانیپا علاقے میں ماحولیاتی کارکن جو ملٹی نیشنل کمپنی اوورو برانکو کی طرف سے زیرزمین پانی کے استحصال کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، یا وہ لوگ جو شیورون کے ساتھ طے شدہ تیل کے معاہدوں میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، یا وہ جو 600 سے زائد سرکاری اداروں کو انتہائی غیر معمولی حالات میں حوالے کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ یہ سب دراصل سامراج مخالف جدوجہد کا حصہ ہیں۔
تاہم جو چیز سامراج مخالف جدوجہد کا حصہ نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ ہم امریکہ اور یورپ کی 15 سے زائد تیل کی کثیرالقومی کمپنیوں کے اثاثوں اور قرضوں کا احترام کریں، جبکہ انہی کمپنیوں کے اپنے ممالک ہمارے اثاثے منجمد اور ضبط کر رہے ہوں۔
یہی بات اس وقت بھی درست ہے جب ہم نے 2013 سے 2018 کے درمیان عالمی مالیاتی قرض دہندگان کو 71 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں کیں، حالانکہ ہمیں علم تھا کہ وہ کسی بھی وقت وینزویلا کو بین الاقوامی قرضوں اور سوفٹ ادائیگی کے نظام تک رسائی سے روک سکتے ہیں۔
سامراج کو محض زبانی کلامی کوسنا بلاشبہ اچھی بات ہے، اور دور بیٹھے ناظرین کے لیے یہ ہمیں زیادہ مطمئن اور پرجوش محسوس کرا سکتا ہے، لیکن ہمارے لیے ، جو اس جنگ کے بیچ میں پھنسے ہوئے ہیں، یہ صرف ایک قصہ ہے۔
یہ باریکیاں اور سیاق و سباق موجودہ حکومت کی نوعیت بیان کرنے میں بھی ضروری ہیں۔
چند مقداری اعداد و شمار: وسائل کی متھ
اکثر یہ جملے سننے کو ملتے ہیں کہ مثلاً’سابق صدر ہوگو شاویز کو تیل 100 ڈالر فی بیرل ملتا تھا، مادورو کو زیادہ کٹھن حالات کا سامنا ہے‘، یا’مادورو پر مسلسل پابندیوں کا گلا گھونٹا گیا، شاویز کے لیے حالات آسان تھے‘ وغیرہ۔ ایسے بیانات میں عموماً ان کی تائید کے لیے کوئی مقداری اعداد و شمار نہیں ہوتے۔
اسی وجہ سے ،اور ایلنر کی جانب سے دیے گئے تجرباتی شواہد فراہم کرنے کے مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے ،میں پچھلے 25 سال (1999-2024) میں تیل کی پیداوار کا جائزہ لینا چاہتا ہوں، جس میں پیداوار اور اوسط قیمتوں پر توجہ ہوگی، اور شاویز کے دورحکومت (1999-2012) کا موازنہ مادورو کے دور (2013-2024) سے کیا جائے گا۔
میں نے اعداد و شمار حکومت کے وینزویلا اینٹی بلاکیڈ آبزرویٹری سے لیے ہیں، جو کہ اپنی باری میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی ماہانہ رپورٹوں پر انحصار کرتا ہے، اور یہ اعداد و شمار کم از کم فی الحال عوامی رسائی میں موجود ہیں۔
اگر ہم 1999 سے 2012 کے عرصے کا تجزیہ کریں تو کچھ حیران کن اعداد سامنے آتے ہیں۔ سب سے پہلے اس عرصے میں اوسط اوپیک خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے کہیں کم تھی، بلکہ یہ 56.70 ڈالر فی بیرل رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس 13 سالہ مدت میں خام تیل کی قیمتیں صرف 26 مہینوں میں 100 ڈالر سے زیادہ رہیں۔
یہ 2005 تک نہیں ہوا تھا کہ اوسط خام تیل کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل سے زیادہ پہنچی۔ اس وقت تک شاویز حکومت خواندگی اور اسکول تعلیم کے لیے بڑے سماجی مشن (مشن روبنسن، ریباس اور سوکری) شروع کر چکی تھی اور بارریو آدینترو سماجی مشن (جس کے ذریعے کمیونٹی سطح پر بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کی جاتیں) پوری طرح فعال تھا۔ اس کے علاوہ دیگر کئی اہم سماجی پروگرام بھی چل رہے تھے ، اور یہ سب تیل کی قیمت 100 ڈالر سے کہیں کم ہونے کے باوجود ہو رہا تھا۔
اس عرصے میں پیداوار کے لحاظ سے اوسط یومیہ پیداوار قدرے زیادہ ، یعنی 25 لاکھ بیرل سے کچھ اوپرتھی ۔ یہ درست ہے جیسا کہ تیراں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا کہ شاویز کے دور کے اختتام تک پیداوار میں کمی کا رجحان تھا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں جنہیں یہاں صرف مختصراً بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی نوعیت تکنیکی (جیسے مشرقی ساحل پر جھیل مراکائیبو کے روایتی تیل کے ذخائر سے اورینوکو آئل بیلٹ کے غیر روایتی ذخائر میں منتقلی)، عملیاتی (پروجیکٹ مینجمنٹ میں ناکامیاں) اور مالیاتی (اضافی پیداواری اخراجات) تھی۔
مادورو کے دور (2013-24) میں خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 14 لاکھ بیرل سے کچھ زیادہ رہی اور خام تیل کی اوسط قیمت 71 ڈالر فی بیرل رہی۔ جی ہاں، یہ درست ہے ، مادورو کو اوسطاً زیادہ تیل کی قیمتوں سے فائدہ ہوا ہے۔
بہت سے لوگ کہیں گے کہ یہ صرف پابندیوں کے اثرات کو ثابت کرتا ہے، کہ زیادہ قیمتوں کے باوجود کم پیداوار اور بعض اوقات پابندیوں کے حالات میں ہونے والی فروخت پر دی جانے والی رعایتوں کی وجہ سے ان وسائل کا بہترین استعمال مشکل ہو گیا۔
تاہم ایک اور حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے، وہ یہ کہ 2013 سے 2018 کے پانچ سالہ عرصے میں خام تیل کی اوسط پیداوار یومیہ 21 لاکھ بیرل سے زیادہ رہی اور قیمت اوسطاً 69 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی عرصے میں ہمیں محنت کی منڈی میں سب سے سخت ڈی ریگولیشن کا سامنا کرنا پڑا، عوامی خدمات تقریباً غیر مؤثر ہو گئیں اور سماجی پروگراموں کا دائرہ کافی حد تک سکڑ گیا۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا،اس کی وجہ یہ تھی کہ سامراج کی دھمکیوں کے باوجود غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کو ترجیح دی گئی۔
یقیناکچھ لوگ اعتراض کریں گے اور کہیں گے کہ مادورو کو گواریمباس (پرتشدد احتجاجی مظاہرے) کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ شاویز کو بغاوت کی کوشش، تیل کی صنعت کی تالہ بندی، اغوا اور قتل کی دھمکیوں کا مقابلہ کرنا پڑا تھا۔یہ مسئلہ محض معاشی مشکلات کا نہیں بلکہ سیاسی عزم کا ہے۔
قومی سرمایہ داروں کی متھ
حکومتی ترجمانوں کے مطابق نجی شعبے کی ملکی معیشت میں حرکیات جانچنے کے دو اہم ذرائع ہیں ، یہ وہ شعبہ ہے جو بظاہر قومی معیشت کو بچائے گا۔ یہ ذرائع کون انڈسٹریا کی صنعتی صورتحال پر سہ ماہی رپورٹ اور وینزویلا فنانس آبزرویٹری کی سہ ماہی رپورٹس ہیں۔
پہلا ذریعہ قومی صنعتی شعبے میں اجرتوں کے بارے میں معلومات جمع کرتا ہے، جبکہ دوسرا بنیادی طور پر کاراکاس میٹروپولیٹن علاقے میں نجی شعبے کے کارکنوں کی آمدنی کا ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے، جو زیادہ تر تجارت اور خدمات میں کام کرتے ہیں۔
قومی صنعتی شعبے میں 2025 کی پہلی سہ ماہی میں مزدوروں کی ماہانہ اجرت 235 ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2024 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 11.3 فیصد اضافہ ہے۔ تاہم کون انڈسٹریا کے حساب کے مطابق یہ اضافہ ان صنعتوں میں بننے والی اشیا کی ملکی قیمتوں میں اضافے (62.2 فیصد) سے کہیں پیچھے ہے۔
وینزویلا فنانس آبزرویٹری کا ڈیٹا بھی حوصلہ افزا نہیں۔ 2024 کی تیسری سہ ماہی میں آبزرویٹری نے کاراکاس میٹروپولیٹن علاقے میں نجی شعبے میں کام کرنے والوں کی اوسط ماہانہ اجرت تقریباً 241 ڈالر ریکارڈ کی۔ یہ پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 7.1 فیصد اضافہ ہے، لیکن آبزرویٹری کی پیش گوئی کے مطابق افراط زر(43 فیصد) سے کہیں کم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نجی شعبے کا اپنا ڈیٹا بھی ظاہر کرتا ہے کہ بالکل عوامی شعبے کی طرح یہاں بھی اجرتوں کی قدر میں طویل اور نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم اس کمی نے اشیا اور خدمات کے حقیقی استعمال کو کس حد تک متاثر کیا ہے، سرکاری اعدادوشمار کی کمی کی وجہ سے اس کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ایسی کیفیت میں جو بہترین طریقہ ہم اپنا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اندازے کے ذریعے تخمینہ لگائیں۔
ایک طریقہ یہ ہے کہ کھپت کے رجحانات کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو بطور حوالہ لیا جائے، اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ 16فیصد پر مستقل رہا ہے اور یہ تمام بنیادی ضروریات پر عائد ہوتا ہے، جبکہ یہ بھی تسلیم کرتے ہوئے کہ ٹیکس چوری اور تجارتی کھپت کی وجہ سے یہ مکمل طور پر درست پیمانہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہ کم از کم ہمیں صورتحال کے بارے میں کچھ اندازہ فراہم کر سکتا ہے۔
اوپر کے گراف میں دو اہم ٹیکس آمدنی کے ذرائع دکھائے گئے ہیں۔ انکم ٹیکس (آئی ایس ایل آر) جو جنوری تا نومبر 2024 کے درمیان کل ٹیکس آمدنی کا 45.8فیصد تھا، اور ویلیو ایڈڈٹیکس جو 29.3فیصد تھا۔ جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی آمدنی کم ترین سطح پر 246 ملین ڈالر اور بلند ترین سطح پر 325 ملین ڈالر کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ اس مدت کے دوران اوسط ماہانہ ویلیو ایڈڈٹیکس آمدنی تقریباً 299.2 ملین ڈالر رہی۔
ویلیوایڈڈٹیکس کی آمدنی کا تجزیہ کرنے سے ہم ایک فلیٹ رجحان دیکھ سکتے ہیں، جب اس کا موازنہ آئی ایس ایل آر آمدنی کے اضافے سے کیا جائے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آمدنی میں اضافہ کھپت میں اضافے سے زیادہ تیز رہا ہے۔ ایک جزوی نتیجہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ پیدا کی گئی زیادہ تر دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو رہی ہے، بجائے اس کے کہ یہ عوام کی زیادہ کھپت کا باعث بنے۔
یہ نتائج جزوی ہو سکتے ہیں، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اگر اجرتیں قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتیں، تو کھپت میں کمی آ جائے گی۔ بہت سے لوگ اس پر اعتراض کریں گے، ترسیلات زر کے حجم یا اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکی ڈالر کھپت کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
تاہم عمومی طور پر معیشت میں گردش کرنے والی کوئی بھی کرنسی بالآخر سرمائے، کرائے یا اجرت میں بدل جاتی ہے۔ معیشت میں داخل ہونے والے پیسوں کی مقدار سے قطع نظر، آخرکار زیادہ تر رقم ان کے پاس جاتی ہے جو قیمتیں طے کرتے ہیں، نہ کہ ان کے پاس جو پسماندہ اجرت وصول کرتے ہیں۔ اس لیے طویل مدت میں کھپت میں کمی کا رجحان ہو گا۔
کچھ نیو لبرل منطق اپناتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کرائے پر مبنی سرمائے کے ارتکاز سے صنعتی ارتکاز کی طرف منتقلی، جو بڑھتی ہوئی لیبر پیداواریت اور حقیقی اجرتوں کو محدود کرنے پر مبنی ہو، قلیل مدت میں معاشی ترقی کا باعث بنے گی۔ اگر ایسا ہے تو زیادہ پیداواریت سے دستیاب ملازمتوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح گھریلو مارکیٹ میں طلب کی کمی کو پورا کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے، تاکہ گھریلو مارکیٹ میں ایک ’اسپل اوور ایفیکٹ‘کے ذریعے حرکیات کو تقویت دی جا سکے۔ کم از کم یہ معیشت اور مالیات کی وزارت کے ٹیکنوکریٹس کا نظریہ ہے۔
آئیے کچھ اعداد و شمار دیکھتے ہیں۔ 2021 کی پہلی سہ ماہی سے 2025 کی پہلی سہ ماہی تک کے کون انڈسٹریاکے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ اوسطاً 55.8فیصدکمپنیوں نے اپنی فروخت کے حجم میں اضافے کو تسلیم کیا، 54.7فیصد نے پیداوار میں اضافے کی تصدیق کی، لیکن صرف 22.6فیصدنے ملازمین کی تعداد میں اضافے کا اعتراف کیا۔
ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ ملازمتوں کی تخلیق پیداوار اور فروخت کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ خود کون انڈسٹریاتسلیم کرتا ہے کہ ان سہ ماہیوں میں جہاں ملازمتوں کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا،وہ اضافہ اوسطاً 1.5فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔
لہٰذا ہمارے پاس ایک صنعتی شعبہ ہے جو زیادہ پیدا کرتا اور زیادہ فروخت کرتا ہے، لیکن ملازمتیں پیدا کرنے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ 17 سہ ماہیوں کے دوران پیداواری صلاحیت کے استعمال میں 148فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا (2021 کے آغاز میں 18.4فیصد سے بڑھ کر 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 45.8فیصد تک)۔ نتیجتاً ہم مزدوری کی پیداواریت میں مسلسل اضافے کا اندازہ لگا سکتے ہیں، جو مزدوروں کے استحصال کی شدت اور دورانیے میں اضافے کی وجہ سے ہے۔
یہ واضح ہے کہ موجودہ اجرتی نظام، چاہے نجی ہو یا سرکاری ،اپنے سماجی کردار سے بہت دور ہے۔ نہ ہی سماجی قربانی اور وینزویلا کے صنعتی شعبے یا مجموعی معیشت کی مضبوطی کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نجی شعبے کے اس اتحاد کو سہارا دینے کے لیے بہت کم دلائل موجود ہیں جسے ’عملی‘حلقے بہت سراہتے ہیں۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ برآمدات کے نام نہاد رجحان کو فروغ دینے کے لحاظ سے نجی شعبے کا کیا حال رہا۔ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں کون انڈسٹریا کے سروے میں شامل 85فیصد کمپنیوں نے اعتراف کیا کہ وہ برآمد نہیں کرتیں۔ 2024 کی دوسری سہ ماہی تک برآمد کرنے والی کمپنیوں کا تناسب بڑھ گیا، اگرچہ زیادہ تر (تقریباً 62فیصد) اب بھی برآمد نہیں کر رہی تھیں۔
ان سروے میں درآمدات کا مسئلہ بھی قابل تجزیہ ہے۔ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں 60فیصد کمپنیوں کا انحصار اپنی سرگرمیوں کے لیے درآمدات پر تھا۔ 2024 کی دوسری سہ ماہی تک یہ بڑھ کر 89فیصد ہو گیا۔
لہٰذا اگرچہ برآمد کرنے والی کمپنیوں کا تناسب 23فیصد بڑھا، لیکن درآمدات کرنے والی کمپنیوں کا تناسب 29فیصد بڑھا۔ یعنی درآمدات برآمدات سے زیادہ تیزی سے بڑھیں ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صنعتی شعبے کی ترقی ساختی طور پر بیرونی منڈیوں پر منحصر ہے۔ جیسے جیسے پیداواری صلاحیت کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے، ویسے ہی غیر ملکی مصنوعات کی طلب بھی بڑھتی ہے، اور ان اشیاء کو حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی کرنسی کی لازمی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔
یہ بات آسانی سے تصدیق کی جا سکتی ہے اگر ہم نجی صنعتی شعبے کی غیر تیل برآمدات کے حجم کا موازنہ اس شعبے کی غیر ملکی کرنسی کی طلب سے کریں۔ وینزویلا ایسوسی ایشن آف ایکسپورٹرز کے صدر گستاوو گونزالیز ویلوٹینی کے مطابق 2024 کی برآمدات پچھلے سال سے کم تھیں (کل ملا کر 3 ارب ڈالر سے کم)۔
تاہم وہ نہ صرف 2023 کی برآمدات سے کم تھیں بلکہ اس 5.5 ارب ڈالر سے بھی کہیں کم تھیں ،جو نجی شعبے نے اسی سال وینزویلا کے مرکزی بینک (بی سی وی) کی غیر ملکی کرنسی کی منڈی میں مداخلت کے ذریعے حاصل کی تھیں۔
حقیقی موجودہ عوامی راستہ
عوامی طاقت اور سماجی تحریکوں کی وزارت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا میں 49ہزار183 عوامی کونسلیں موجود ہیں، جن میں سے صرف 30ہزار219 کسی کمیون کا حصہ ہیں۔ بدلے میں 3ہزار663 کمیونز ہیں، جن میں اوسطاً 20فیصد سے بھی کم کے پاس عوامی حکومت یا عوامی بینک جیسے فعال ادارے ہیں۔
اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے کم فعال اداروں کے ہوتے ہوئے کوئی عوامی منصوبہ کس طرح چلایا جا سکتا ہے؟ منصوبے کیسے نافذ کیے جا رہے ہیں؟ ان کا آڈٹ کس طرح ہو رہا ہے؟ ایک نئی جمہوریت کس طرح بنائی جا سکتی ہے جب تک ان اداروں کو مضبوط اور فعال نہ بنایا جائے؟
اسی طرح 4ہزار171 سماجی ملکیت کی کمپنیاں (ای پی ایس) ہیں۔ ان میں سے 3ہزار985 براہ راست عوامی ملکیت میں ہیں اور 186 بالواسطہ عوامی ملکیت میں ہیں۔ یہ اوسطاً ہر کمیون کے لیے ایک ای پی ایس سے بھی تھوڑا زیادہ بنتا ہے، جو کہ شاویز کے بیان کردہ’سماجی ملکیت کی بالادستی‘کے ہدف سے بہت کم ہے۔
حالیہ برسوں میں عوامی طاقت تک وسائل پہنچانے کے لیے ایک متبادل طریقہ اختیار کیا گیا ہے، جو عوامی حلقوں میں کمیونل مشاورت کا طریقہ ہے۔ 2024 میں دو مشاورتی اجلاس ہوئے، اور رواں سال اب تک مزید دو اجلاس ہو چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عمل نے کمیون میں تنظیمی ڈھانچوں اور اداروں کو سرگرم کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مزید اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
تاہم ان مشاورتوں سے جڑا سوال یہ ہے کہ ان میں شرکت کرنے والوں کے اعداد و شمار کیوں فراہم نہیں کیے گئے؟ ہمیں صرف یہ کیوں بتایا جاتا ہے کہ ’شرکت بڑے پیمانے پر تھی‘؟ کیا یہ ایک نئی جمہوریت قائم کرنے کا صحیح طریقہ ہے، یا یہ صرف باقی ماندہ جمہوریت کو بھی ختم کرنے کا ایک ذریعہ ہے؟
کیا ایک ڈیجیٹل رجسٹر، جو شرکت کی تصدیق کرے، اتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟ کیا سامراج کے حملے زیادہ شدید ہو جائیں گے اگر پینٹاگون کو پتہ چل جائے کہ سانتا ماریا ڈی ایپیئر ے کے عوامی حلقے میں مشاورت میں کتنے لوگوں نے ووٹ ڈالا؟
اسی طرح جن منصوبوں کو منظور اور نافذ کیا گیا ہے ،جیسے کہ سڑکوں کی مرمت یا مقامی عوامی ٹرانسپورٹ ،وہ بلدیاتی یا صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ تو پھر کیوں نہ ان اختیارات کی منتقلی کے لیے دباؤ ڈالا جائے؟
کیوں نہ یہ مطالبہ کیا جائے کہ وفاقی حکومت کی کونسل کے آرگینک قانون کے ضابطے کے آرٹیکل 9 کے تحت ان اختیارات کو اس فہرست میں شامل کیا جائے جو ہر سال جنوری کے پہلے 15 دنوں میں متعلقہ سیاسی یا علاقائی ادارے کی طرف سے عوامی طاقت کو منتقل کرنے کے لیے پیش کی جانی چاہیے؟ ایک فہرست جو2015 سے اب تک کسی ایک صوبائی یا بلدیاتی ادارے نے پیش نہیں کی۔
پھر یہ معاملہ بھی ہے کہ مختلف شکلوں کی عوامی طاقت کو ریاست کی غیر معمولی آمدنی ، جیسے کہ تیل اور کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی ،کے استعمال کے تعین میں زیادہ کردار دیا جائے۔ فی الحال مشاورت اور اس سے وابستہ اداروں کو مختص کیے جانے والے 100فیصد وسائل ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی آمدنی سے آتے ہیں، جو کہ سختی سے دیکھا جائے تو مجموعی ریاستی آمدنی کا 3فیصد سے بھی کم ہیں۔
آخری نکتہ یہ کہ جون تک وینزویلا کے مرکزی بینک نے نجی زرمبادلہ کی مارکیٹ میں 2 ارب ڈالر سے زیادہ ڈالے، اسی عرصے میں عوامی منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے 200 ملین ڈالر سے بھی کم مختص کیے گئے۔
یہ ایک سیدھی سادہ حقیقت ہے کوئی سیاسی بیان نہیں ، اور اکیلے یہی حقائق حکومتی اشرافیہ کی ترجیحات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔
راز داری اور نئے حکومتی ڈھانچے
ایلنر کو یقینایاد ہوگا کہ اپنی کتاب ’ریتھنگنگ وینزویلا پالیٹکس: کلاس، کنفلکٹ اینڈ دی شاویز فینومینن ‘کے باب 6 میں انہوں نے شاوسٹا تحریک کے اندر نرم اور سخت گیر دھاراؤں کے درمیان فرق، اور خاص طور پر روایتی اور متوازی سیاسی ڈھانچوں کے درمیان موجود کشیدگی پر بحث کی تھی۔
اس لیے وہ بخوبی سمجھتے ہوں گے کہ آج وینزویلا میں ہمارے پاس متوازی ڈھانچوں کی روایتی ڈھانچوں کے ذریعے مکمل کالونائزیشن قائم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی عوامی طاقت اور آئین ساز قوتوں کے لیے کسی بھی قسم کی تبدیلی کے امکانات بند ہو گئے ہیں۔
یہ تضاد محنت کشوں اور ریاست کے درمیان کمزور کر دینے والے تنازعات کو جنم دے چکا ہے، قیادت کو عوام سے دور کر چکا ہے، اور ایک آمرانہ اور بیوروکریٹک نظام قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے جس میں سب کچھ پیداوار کی خاطر قربان کر دیا جاتا ہے۔
معاشی فیصلے ’اعلیٰ اقتصادی کونسل‘کرتی ہے، جس میں عوام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ ہمارے وسائل پر مذاکرات خفیہ طور پر اور کسی قسم کے آڈٹ کے بغیر کیے جاتے ہیں۔
جمہوری ووٹنگ کا عمل ایک افسانہ بن چکا ہے، جو اس تجربے سے بہت دور ہے جس کا ہمیں عادی بنا دیا گیا تھا۔ ہمارے حقوق اور آزادیوں کے دفاع کا انحصار اب لڑنے کی صلاحیت پر نہیں بلکہ خاموش رہنے کی صلاحیت پر زیادہ ہے۔
یہاں ’بولیوین انقلابی آلوارو گارسیا لینیرا ‘کا حوالہ دینا موزوں ہے، جو جاری انقلاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’۔۔۔ اگر عوامی عمل کے تنظیمی طریقے نمائندہ جمہوریت کے پتھرا چکے خول کو توڑ کر عوام کی مکمل اور وسیع تر شمولیت کے نئے طریقے ایجاد کریں، تو ایک جاری سماجی انقلاب کا امکان موجود ہے۔ سوشلسٹ رجحانات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب انقلاب ایسے میکانزم تخلیق کرے جو سماج کی شرکت کو بحث اور ان فیصلوں میں جن کا اثر اس پر پڑتا ہے، کئی گنا بڑھا دیں، اور مزید یہ کہ اگر یہ فیصلے پورے معاشرے کے اجتماعی اور عالمگیر فائدے کے لیے ہوں نہ کہ انفرادی یا کارپوریٹ منافع کے لیے ہوں۔‘
آج سیاست کا میدان بڑی اکثریت کے لیے بند نظر آتا ہے، خواہ وہ ان کی معاشی تقدیر ہو یا سماجی۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔
وہ حالات جو شاوسٹا کے ظہور کا باعث بنے تھے اب بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ معاشی عوامل کا شدید ارتکاز، قومی پیداواری ڈھانچے سے اکثریت کی محرومی، فرسودہ، بدعنوان اور بند ادارہ جاتی ڈھانچہ، اور سب سے بڑھ کر، حکومتی اشرافیہ اور عام عوام کے درمیان مکمل خلاموجود ہے۔
کیوبن انقلابی اورلینڈو بورریگو اکثر قیادت کے حوالے سے خبردار کیا کرتے تھے کہ جب رہنما اکیلے آگے بڑھتے ہیں تو وہ پچھلی صف سے کٹ جاتے ہیں، جو پیچھے رہ جاتی ہے۔ جب قیادت اور اس کو سہارا دینے والے عوام کے درمیان ضروری تعلق کو برقرار رکھنے کی پرواہ نہیں کی جاتی تو نتیجہ محض عارضی فتوحات کی صورت میں نکلتا ہے۔
28 جولائی 2024 کے صدارتی انتخابات میں ہم نے جزوی طور پر ایک ایسی عوامی بنیاد کو دیکھا جو اس قیادت کو رد کر رہی تھی جو اسے پیچھے چھوڑ چکی تھی۔ رہنماؤں نے البتہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک عارضی کامیابی کی طرف اکیلے ہی آگے بڑھتے رہیں۔
سارتر کی طرف لوٹتے ہوئے، آج وقت ہے کہ ہم ایک نئے بھوت پر غور کریں، مادوروازم کے بھوت پر، اور اس عوام مخالف، غیر سنجیدہ اور منافقانہ نظام پر جو یہ چھپائے ہوئے ہے، لیکن پھر بھی نادانوں کو اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔
(بشکریہ: ’دی لنکس‘، ترجمہ : حارث قدیر)