روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

افغانستان میں 23 ہزار جنگجو سرگرم: پوست کی کاشت میں کمی، میٹامیفامین کی پیداوار بڑھ گئی

افغانستان میں 23 ہزار جنگجو سرگرم: پوست کی کاشت میں کمی، میٹامیفامین کی پیداوار بڑھ گئی

لاہور(جدوجہد رپورٹ) روس کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان میں 20 سے 23 ہزار کے درمیان جنگجو سرگرم ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ غیر ملکی ہیں۔

’ٹربیون‘ کے مطابق وزارت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہم عسکریت پسند گروہوں میں داعش کے تقریباً3ہزار جنگجو موجود ہیں، تحریک طالبان پاکستان کے 5ہزار سے 7ہزار کے درمیان، القاعدہ کے 400سے1500کے درمیان جنگجو موجود ہیں۔ مشرقی ترکستان کی اسلامی تحریک(ای ٹی آئی ایم) کے 300سے1200جنگجو، ازبکستان کی اسلامی تحریک(آئی ایم یو) یا اسلامی پارٹی آف ترکساتان کے 150سے500، اور جماعت انصار اللہ کے تقریبا150سے250جنگجو موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی زیادہ تر افغانستان کے جنوب مشرق اور مشرقی علاقوں میں موجود ہے، وہ اپنی کارروائیاں پاکستان کے اندر ہی جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ مزید بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ نے داعش خراسان (آئی ایس آئی ایس کے) کی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی، جس نے افغانستان کے کئی علاقوں میں تربیتی کیمپ اور سلیپر سیلز قائم کر رکھے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ داعش خراسان طالبان حکومت کے لیے براہ راست خطرہ نہیں، لیکن اس کے حملوں سے طالبان کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ ان کا مقصد عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنا ہے کہ آیا طالبان ملک میں امن برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ گروہ زیادہ تر افغانستان کے مشرق، شمال اور شمال مشرقی حصوں میں سرگرم ہے اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کر کے ایک نیا خلافتی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل حملوں کے باوجود افغان سکیورٹی فورسز داعش کے سیلز کو ختم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ کارروائیوں کے نتیجے میں کئی چھوٹے جنگجو گروہ مارے گئے اور اسلحے کے ذخائر پکڑے گئے ہیں۔ طالبان نے ان مساجد کے خلاف بھی ایکشن لیا ہے جہاں داعش جیسے سخت گیر نظریات کی تبلیغ ہوتی تھی، اور ایسے افراد کو سرکاری اداروں اور تعلیمی شعبے سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

اگرچہ داعش کی سرگرمیوں میں کمی کی اطلاع دی گئی ہے، لیکن 2025 اور 2026 میں کئی نمایاں حملے جاری رہے۔بغلان میں علما پر حملہ، تخار میں ایک چینی شہری کا قتل، اور قندوز میں ہجوم پر بم دھماکہ ان میں شامل ہیں۔

القاعدہ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس کے وسیع نیٹ ورک اب بھی افغانستان کے کئی صوبوں، یعنی غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور اروزگان میں موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ افغانستان کو ایک مرکز کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ علاقائی سطح پر اپنا اثر بڑھانے کے لیے دوسری انتہا پسند تنظیموں سے روابط قائم رکھے جا سکیں۔

وزارت نے مزید کہا کہ افغان مسلح حزب مخالف منتشر ہے اور طالبان کے لیے کوئی موثر چیلنج ثابت نہیں ہو رہی۔ افغانستان کے قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) جیسے گروہوں نے چھوٹے پیمانے کی کارروائیاں ضرور کی ہیں لیکن وہ زیادہ تر پنجشیر، بدخشاں اور بغلان تک محدود رہی ہیں۔

منشیات کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے پوست کی کاشت پر پابندی کے باوجود افغانستان اب بھی منشیات پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے۔ 2025 میں پوست کی کاشت میں 20 فیصد تک کمی آئی، تاہم میٹامفیٹامین کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023 سے 2024 کے درمیان مصنوعی منشیات خصوصاً میٹامفیٹامین کی اسمگلنگ میں 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں