روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

امریکہ: آئس کے ہاتھوں خاتون کے قتل کے خلاف ملک گیر احتجاج کی لہر

امریکہ: آئس کے ہاتھوں خاتون کے قتل کے خلاف ملک گیر احتجاج کی لہر

ڈین لا بوٹز

امریکہ میں لاکھوں لوگ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE، آئس) کے ہاتھوں ایک تین بچوں کی ماں کے قتل پر گہرے صدمے اور بڑھتے ہوئے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ملک بھر کے سینکڑوں شہروں اور قصبوں میں ہزاروں افراد احتجاج کر رہے ہیں۔ عوامی رائے میں ایک گہرا تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ اب زیادہ سے زیادہ امریکی آئس کے مقابلے میں احتجاج کرنے والوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ملک گیر سطح پر 10 اور 11 جنوری کو’’ICE Out For Good‘‘کے عنوان سے مظاہرے ہوں گے، اور اندازہ ہے کہ دسیوں ہزار، بلکہ ممکن ہے کہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلیں۔ یہ صورتحال بظاہر امریکی سیاست اور تہذیب میں ایک موڑ ثابت ہو رہی ہے، اگرچہ ابھی یقین سے کہنا قبل از وقت ہے۔

آئس اہلکاروں نے رینی نیکول گوڈ کو قتل کیا،جو 37 سالہ سفید فام خاتون اور تین بچوں کی ماں تھیں۔ وہ 7 جنوری 2026 کو ایک آئس آپریشن کے مقام پر اپنی کمیونٹی اور مہاجرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے موجود تھیں۔ جب ایجنٹس نے ان کے قریب جانے کی کوشش کی تو وہ وہاں سے گاڑی ہٹا کر نکلنے لگیں، لیکن ایک ایجنٹ نے گاڑی پر تین گولیاں چلائیں، جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگئیں۔ رینی نیکول گوڈ امریکی پیدائش رکھنے والی امریکی شہری تھیں اور انہیں ایک’’انتہائی مذہبی مسیحی‘‘کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ وہ ایک لکھاری اور شاعرہ بھی تھیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اور ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس ) کی سیکرٹری کرسٹی نوئم،تینوں نے یہ دعویٰ کیا کہ گوڈ آئس ایجنٹس پر حملہ کر رہی تھیں۔ نوئم نے انہیں’’ڈومیسٹک دہشت گرد‘‘قرار دیا اور کہا کہ وہ ’’سارا دن ایجنٹس کا پیچھا کرتی اور انہیں ہراساں کرتی رہی تھیں۔‘‘‘قدامت پسند میڈیا اور بلاگرز نے بھی ان الزامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ان کے قتل کا ذمہ دار خود انہیں ٹھہرایا۔

رینی گوڈ کے قتل پر ریاستی اور مقامی عہدیداروں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور امریکہ کی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کو قاتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بدامنی پھیلائی، تشدد بڑھایا اور بالآخر ان کی موت کا سبب بنا۔

منیاپولس کے میئر جیکب فری، جو ڈیموکریٹ ہیں، نے صحافیوں سے کہاکہ ’’میرے پاس آئس کو ایک ہی لفظ ہے، نکل جاؤ منیاپولس سے۔ ہم تمہیں یہاں نہیں چاہتے۔‘‘

مقامی حکام نے مزید کہا کہ آئس انہیں رینی گوڈ کے قتل کی انکوائری میں روک رہا ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں آزادانہ طور پر تحقیقات کی اجازت دی جائے۔

مینی سوٹا کے گورنر ٹم والز (ڈیموکریٹ) نے کہا کہ رینی گوڈ کے قتل کو’’روکا جا سکتا تھا‘‘اورانہوں نے اسے ’’غیر ضروری‘‘قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’کوئی بلا وجہ اپنی ہی کار میں مر گیا ہے۔‘‘

انہوں نے اس قتل کے خلاف احتجاج کو’’محب وطن فرض‘‘قرار دیتے ہوئے نیشنل گارڈ کو طلب کرنے کا اعلان بھی کیا۔
ایک ممکنہ منظرنامے میں ریاستی نیشنل گارڈ (جو گورنر والز کے ماتحت ہوگی) اور آئس کے اہلکار وں(جو وفاقی سطح پر ٹرمپ انتظامیہ کے تحت کام کرتے ہیں) کے درمیان تصادم کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایسے تصادم کی صورت میں ٹرمپ انسرکشن ایکٹ کا استعمال کر سکتے ہیں اور ریاست میں امریکی فوج کو تعینات کر سکتے ہیں۔

ہاؤس مایناریٹی لیڈر ہاکیم جیفریز نے کہاکہ ’’رینی نیکول گوڈ کا قتل نفرت انگیز، رسوائی آمیز اور ناقابل معافی ہے۔ یہ خون ان لوگوں کے ہاتھوں پر ہے جو انتہا پسند پالیسیوں کے حامی ہیں، جن کا امیگریشن نفاذ یا مجرمانہ خطرات کو ہٹانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

سینیٹر کرس مرفی (ڈیموکریٹ) ایسی قانون سازی تیار کر رہے ہیں جس کے تحت آئس اہلکار گرفتاری کے لیے وارنٹ لازمی لیں گے، اور اپنے چہرے ڈھانپ کر کام نہیں کر سکیں گے۔ ساتھ ہی وہ چاہتے ہیں کہ بارڈر پٹرول ایجنٹس سرحد سے دور کاروائی نہ کر سکیں۔

کئی ڈیموکریٹس نے آئس کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ مرفی نے کہاکہ ’’ڈیموکریٹس ایسے محکمہ برائے ہوم لینڈ سکیورٹی کے بجٹ کے حق میں ووٹ نہیں دے سکتے جو اس ایجنسی کی بڑھتی ہوئی بے قابو طاقت کو محدود نہ کرے۔‘‘

گوڈ کے قتل کا واقعہ واحد نہیں تھا۔8 جنوری کو پورٹلینڈ، اوریگن میں دو بارڈر پیٹرول ایجنٹس نے ایک گاڑی روکی اور دو وینزویلا سے آئے ہوئے تارکین وطن پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک شخص ٹرین ڈی آراگوا نامی وینزویلین گینگ کا رکن تھا، لیکن اس بارے میں کچھ واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔

کونگریس وویمن میکسین ڈیکسٹر (اوریگن) نے اس واقعے پر کہاکہ ’’آئس نے ہمارے معاشروں میں سوائے دہشت، انتشار اور ظلم کے کچھ بھی نہیں کیا ۔ ٹرمپ کی امیگریشن مشین ہمارے معاشروں پر قابو پانے کے لیے تشدد استعمال کر رہی ہے،یہ بالکل آمرانہ حکمت عملی ہے۔ آئس کو فوراً پورٹلینڈ میں اپنی تمام سرگرمیاں بند کر دینی چاہئیں۔‘‘

ٹرمپ کے دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد آئس اہلکاروں نے کم از کم 16 افراد پر فائرنگ کی ہے اور ان میں سے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ 32 افراد مختلف وجوہات سے آئس کی تحویل میں موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ نے 6لاکھ5ہزار تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیا ہے، جبکہ 19لاکھ افراد نے’’خود رضاکارانہ واپسی‘‘اختیار کی ہے ۔ عام طور پر اس سے بچنے کے لیے کہ انہیں جبری طور پر ملک بدر نہ کیا جائے۔جو لوگ خود رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کرتے ہیں، بعض اوقات انہیں پرواز کا کرایہ اورایک ہزار ڈالر کا مالی تعاون بھی دیا جاتا ہے۔

(بشکریہ: ’انٹرنیشنل ویو پوائنٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Dan La Botz
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں