لاہور(جدوجہد رپورٹ) ٹرمپ انتظامیہ نے اقوامِ متحدہ کی تنبیہوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کیوبا پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اقوام متحدہ نے حالیہ امریکی پابندیوں، خصوصاً ایندھن کی سپلائی روکنے کو کیوبا کے خلاف Energy Starvation قرار دیا تھا۔
’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو اعلان کیا کہ نئی پابندیاں کیوبا کی اُس بڑے کاروباری گروپ پر لگائی جا رہی ہیں جو کیوبن فوج کے زیر انتظام ہے اور ملک کی معیشت کے بڑے حصوں کا نگران سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب برازیلی صدرلولا ڈی سلوا نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں برازیلی سفارتخانے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لولا نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ نے نجی گفتگو میں واضح اشارہ دیا کہ امریکہ کیوبا کے خلاف کوئی فوجی کارروائی شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
صدر لولا نے کہا کہ ’’اگر انہیں کیوبا کی صورتحال پر بات کرنے میں مدد درکار ہے تو میں حاضر ہوں، کیونکہ میں نے مترجم سے سنا کہ صدر ٹرمپ کیوبا پر حملے کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔ اگر مترجم درست ہے تو یہ بہت مثبت اشارہ ہے۔‘‘ امریکی پابندیوں میں تازہ اضافہ امریکہ کیوبا تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بن رہا ہے، جبکہ لاطینی امریکہ میں اس پالیسی کے ممکنہ اثرات پر بھی شدید بحث جاری ہے۔