روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

امریکہ کے پہلے سوشلسٹ رکن کانگریس وکٹر برگر اور سیاسی ’آؤٹ سائیڈرز‘ کی مزاحمت

امریکہ کے پہلے سوشلسٹ رکن کانگریس وکٹر برگر اور سیاسی ’آؤٹ سائیڈرز‘ کی مزاحمت

لاہور(جدوجہد رپورٹ) امریکی ریاست نیویارک میں زہران ممدان کے بطور میئر انتخاب کے بعد سوشلسٹ رہنماؤں کی انتخابی کامیابیوں اور امریکہ میں سیاسی طور پر ’باہر سے آنے والے‘(آؤٹ سائیڈر) رہنماؤں کی کامیابیوں کے حوالے سے بحث زوروں پر ہے۔ امریکی سیاست میں آج ڈاکٹر مہمت اوز، الیگزینڈریا اوکاسیوکورٹیز اور میڈیسن کاوتھورن جیسے رہنما بھی مقبول ہو رہے ہیں۔

ایک صدی قبل بھی واشنگٹن میں ایک ایسی ہی بحث زوروں پر تھی، جب ملواکی کے آسٹریائی نژاد سوشلسٹ رہنما وکٹر برگر نے سخت قانونی کارروئیوں، میڈیا بلیک آؤٹ اور کانگریس کی مخالفت کے باوجود1922میں دوبارہ کانگریس کی نشست حاصل کی تھی۔

اس حوالے سے ’کیفے ڈاٹ کام‘ پر ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون کے مطابق یہ داستان محض ایک شخص کی نہیں، بلکہ یہ امریکی جمہوریت میں بغاوت، اختلاف رائے، ریاستی جبر اور عوامی سیاسی مزاحمت کی گہری تاریخ کی یاد دہانی ہے۔

1910 میں ملواکی کے ووٹرز نے تاریخ رقم کی جب انہوں نے پہلی بار کسی سوشلسٹ کو امریکی کانگریس کے لیے منتخب کیا۔

وکٹر برگر ایک اخبار کے مدیر اور مقامی سیاسی تنظیم کار تھے۔ وہ ”Sewer Socialists“نامی تحریک کے روح رواں تھے جس کا مقصد نظریاتی نعروں کی بجائے بلدیاتی خدمات، صفائی، سیوریج اور شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا تھا۔اسی برس ان کے اتحادی ایمل سائیڈل ملواکی کے میئر منتخب ہوئے۔ برگر نہ صرف مقامی سیاست میں سرگرم تھے بلکہ انہوں نے یوجین ڈیبز کے ساتھ مل کر سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ کی بنیاد رکھی۔

اپنی پہلی مدت میں برگر نے واشنگٹن میں ہلچل مچا دی۔1911 میں انہوں نے امریکی سینیٹ کو ختم کرنے کا بل پیش کیا، جس نے بالآخر سینیٹ کے براہ راست انتخابات کی تحریک کو تقویت دی اور 1913 میں 17ویں آئینی ترمیم منظور ہوئی۔اسی دور میں برگر نے معمر افراد کے لیے پہلی وفاقی پنشن اسکیم تجویز کی، جو بعد میں سوشل سکیورٹی کی بنیاد بنی۔

جیسے ہی صدروڈرو ولسن امریکہ کو پہلی عالمی جنگ کی طرف لے جانے لگے، برگر جنگ کے سخت ترین مخالفین میں شامل ہوگئے۔ان کے اداریے جنگ کو سرمایہ دارانہ منافع کی جنگ قرار دیتے تھے۔1917 کے ایک مشہور اداریے میں انہوں نے لکھاکہ ”6 ملین انسان محض منافع کی ہوس کی نذر کیے گئے۔“

تاہم برگر خود اپنے دور کے تعصبات سے بھی پاک نہ تھے اور بعض تقریروں میں نسلی اور امیگریشن مخالف جملے استعمال کرتے رہے۔1918 میں محکمہ انصاف نے برگر سمیت پانچ سوشلسٹ مدیران پر جاسوسی ایکٹ (Espionage Act) کے تحت مقدمہ قائم کیا۔1919 میں جج کینیسو ماؤنٹین لینڈس نے انہیں 20 سال قید کی سزا سنائی اور صحافیوں سے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ قانون اسے”گولی مار کر ختم کرنے“کی اجازت نہیں دیتا۔

نہ صرف یہ کہ ان کے اخبارکا پوسٹل لائسنس منسوخ ہوا،بلکہ 1918 میں دو بار منتخب ہونے کے باوجود کانگریس نے ان کی رکنیت مسترد کر دی۔یہ وہ لمحہ تھا جب امریکہ میں ایوان نمائندگان کی طرف سے کسی رکن کی باضابطہ بے دخلی کی سب سے سخت مثال سامنے آئی۔

1921 میں سپریم کورٹ نے برگر کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ جج لینڈس نے جانبداری کا مظاہرہ کیا اور انہیں مقدمہ سننے سے خود کو الگ کر لینا چاہیے تھا۔ریاستی الزامات ابھی باقی تھے، مگر برگر نے 1922 کے انتخابات کے لیے بھرپور تیاری شروع کردی۔

اسی دوران امریکہ 1920 کے انتخابات کے بعد شدید دائیں جانب جھکاؤ کا شکار تھا، جب صدر وارن ہارڈنگ اور کاروباری مفادات کے حامی ریپبلکن اقتدار میں آئے۔

برگر نے اس ماحول میں فارمر لیبر پارٹی اور پلم پلان لیگ جیسے گروہوں سے اتحاد قائم کیا۔

مارچ 1922 میں انہوں نے کہاکہ ”مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تحریک کا نام سوشلسٹ ہو یا کچھ اور۔ ہم صرف احتجاج کی نئی سیاست کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔“

سب سے اہم اتحاد سینیٹر رابرٹ لا فولٹ کے ساتھ ہوا، جنہیں عالمی جنگ کی مخالفت کی وجہ سے سینیٹ سے نکالنے کی کوشش کی گئی تھی۔برگر نے سوشلسٹ پارٹی کو قائل کیا کہ وہ 1922 کے سینیٹ انتخابات میں لا فولٹ کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہ کرے۔

انتخابی نتائج حیران کن تھے۔لا فولٹ کی حمایت یافتہ بڑی تعداد نے برگر کو بھی ووٹ دیا اور 8 نومبر 1922 کو وہ باآسانی جیت گئے۔جیت کے بعد انہوں نے کہاکہ ”یہ انتخاب ثابت کرتا ہے کہ پہلی عالمی جنگ عوام کی خواہش پر نہیں بلکہ پروپیگنڈا اور طاقت کے زور پر مسلط کی گئی تھی۔“

اس بار کانگریس نے انہیں بلا مخالفت نشست دینے کا فیصلہ کیا۔مارچ 1923 میں تین برس کی قانونی اور سیاسی جنگ کے بعد برگر دوبارہ کانگریس میں واپس آگئے۔

1923 کے موسم گرما میں برگر یورپ کے دورے سے لوٹے تو انہوں نے جرمنی کی مہنگائی اور سیاسی انتہاپسندی پر شدید تشویش ظاہر کی۔انہوں نے خبردار کیاکہ ”یورپ خطرے کے دہانے پر ہے۔ اگر جرمنی گرتا ہے تو وہ فرانس کو بھی ساتھ لے ڈوبے گا۔“ان کی یہ پیش گوئی چند سال بعد سچی ثابت ہوئی، جب جرمنی میں فسطائیت ابھری اور یورپ دوسری عالمی جنگ کی طرف بڑھا۔

واپسی کے بعد برگر نے متعدد پارلیمانی کمیٹیوں میں سرگرم کردار ادا کیا، خاص طور پر 1923 کے یونائیٹڈ مائن ورکرز کے کوئلہ ہڑتال کے دوران وفاقی مداخلت کے منصوبے میں۔وہ 1928 تک دو بار مزید منتخب ہوئے، تاہم ملکی سیاسی فضا دائیں جانب جھک گئی اور وہ اپنی نشست ہار گئے۔1929 میں وہ ایک ٹرالی حادثے میں شدید زخمی ہوئے اور کچھ ہفتوں بعد وفات پاگئے۔یہ ایک ایسے شخص کے لیے ایک عجیب انجام تھا،جو اپنی پوری سیاسی زندگی شہری انفراسٹرکچر کے لیے لڑتا رہا۔

وکٹر برگر کے بعد امریکہ میں سوشلسٹ امیدواروں کے لیے قانونی اور سیاسی فضا مزید سخت ہوگئی۔سرد جنگ نے بائیں بازو کو تقریباً ختم کردیا۔2018 میں رشیدہ طلیب اور اے او سی نے سوشلسٹ حمایت کے ساتھ نئی روایت قائم کی، مگر وہ بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئیں،برگر کی طرح آزاد حیثیت میں نہیں۔

مورخ ہیتر کاکس رچرڈسن کہتی ہیں کہ ”کانگریس میں اختلافی آوازوں کا ہونا جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔۔۔برگر کا سسٹم سے ٹکراؤ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاسی تبدیلی اکثر باہر سے آتی ہے۔“تاہم وہ خبردار بھی کرتی ہیں کہ ووٹنگ رائٹس پر بڑھتا ہوا دباؤ ان’آؤٹ سائیڈرز‘کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

وکٹربرگر کی کہانی بتاتی ہے کہ امریکہ میں اختلاف، مزاحمت اور سیاسی باغی پن کا سفر کبھی آسان نہیں رہا،اور شاید مستقبل میں بھی نہیں ہوگا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں