روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

امریکی مزدور تحریک میں سابق فوجیوں کا بڑھتا کردار اور ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت

امریکی مزدور تحریک میں سابق فوجیوں کا بڑھتا کردار اور ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت

لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکہ میں موجود تقریباً 17 ملین سابق فوجیوں میں سے 13 لاکھ سے زائد اس وقت یونینائزڈ ملازمتوں میں کام کر رہے ہیں، جن میں خواتین اور اقلیتی گروہ تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ہیں۔ امریکہ کی سب سے بڑی مزدور یونینوں اے ایف ایل اورسی آئی او کے مطابق سابق فوجی عام شہریوں کے مقابلے میں یونین میں شامل ہونے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں، جبکہ کم از کم 6 ریاستوں میں فعال سابق فوجیوں کے 25 فیصد سے زیادہ یونین کے رکن ہیں۔

’جیکوبن‘ کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد کے صنعتی دور میں سابق فوجی محنت کش طبقے کی جدوجہد کا اہم حصہ تھے، جو یونین قیادت، اصلاحاتی تحریکوں اور ہڑتالی کمیٹیوں میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ لیبر آرگنائزر اور مصنف کار جین مکالیوی کے مطابق فوجی نظم و ضبط اور مشکل حالات میں ڈٹے رہنے کا تجربہ انہیں موثر یونین کارکن بناتا ہے۔

ٹرمپ دور میں وفاقی اداروں کی نجکاری، بجٹ کٹوتیوں اور وفاقی ورکرز کے حقوق محدود کرنے کی کوششوں نے بڑی تعداد میں سابق فوجیوں کو متاثر کیا، خصوصاً ڈپارٹمنٹ آف ویٹرنز افیئرز (وی اے) میں کام کرنے والے 1لاکھ سے زائد سابق فوجیوں کو۔ اس کے ردعمل میں اے ایف ایل اور سی آئی او کے یونین ویٹرنز کونسل نے 6 جون کو واشنگٹن میں بڑا احتجاج کیا، جس میں ملک بھر سے ہزاروں کارکن شریک ہوئے۔

شمالی کیرولائنا کے سابق فوجی اور فیڈرل ورکر جیمز جونز نے کہا کہ حکومت اپنے وعدے توڑ رہی ہے اور سابق فوجیوں کو صحت و سہولیات سے محروم کرنے کی کوشش جاری ہے۔

اسی طرح نجی شعبے میں بھی سابق فوجی مزدور رہنماؤں نے وی اے کی ممکنہ نجکاری کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ کامن ڈیفنس کے کارکن اور سابق میرین ڈیوڈ مارشل نے اسے سابق فوجیوں سے غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ نجی اسپتال فوجی صدموں (پی ٹی ایس ڈی) یا جنگی تجربے سے جڑے مسائل کو نہیں سمجھتے۔

مارشل اور دیگر کارکنان نے ٹیکساس کی ری پبلکن حکومت کی نئی انتخابی حدبندی کو بھی اقلیتی سابق فوجیوں کے خلاف”نسلی سیاسی انجینئرنگ“قرار دیا ہے۔ متعدد سابق فوجی اس وقت یونینوں کے اندر”ویٹرنز فار سوشل چینج“جیسے پروگراموں کے ذریعے تنظیمی قیادت اور سماجی انصاف کی مہموں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں