روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

ایران سے لے کر امریکہ تک کوئی بادشاہ نہیں چاہیے: اوکلینڈ سوشلسٹ کا متفقہ بیان

ایران سے  لے کر امریکہ تک کوئی بادشاہ نہیں چاہیے: اوکلینڈ سوشلسٹ کا متفقہ بیان

امریکہ میں محنت کش طبقے کے ایک گروپ نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایران کے خلاف جنگ، اور ایران کے اندر جاری آزادی کی جدوجہد کے بارے میں متفقہ بیان جاری کیا ہے، جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

ہم ،جنگ کی مخالفت کرتے ہیں؛’عورت، زندگی، آزادی‘ انقلاب کی حمایت کرتے ہیں؛پہلوی کی مخالفت کرتے ہیں؛ٹکر کارلسن جیسے پرو فاشسٹ لوگوں سے خبردار کرتے ہیں، جو ایرانی عوام کا دوست بننے کا ڈراما کرتے ہیں؛ان مسیحی فاشسٹ بنیاد پرستوں سے خبردار کرتے ہیں، جو’آخری زمانے‘کی باتیں کرکے صورتحال کو ایٹمی جنگ تک لے جا سکتے ہیں؛یہ واضح کرتے ہیں کہ ایک نیا محنت کش طبقے کا سوشلسٹ انقلابی عمل تعمیر ہو رہا ہے، جو کارل مارکس کے ان الفاظ پر مبنی ہے کہ ’’دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ! تمہارے پاس کھونے کو کچھ نہیں سوائے اپنی زنجیروں کے۔ تمہیں ایک نئی دنیا جیتنی ہے۔‘‘

ہم محنت کش سوشلسٹ، ایران کے عوام اور پورے خطے کے عوام کو اپنی یکجہتی پیش کرتے ہیں۔امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی رہائشی عمارتوں، ہسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کر چکے ہیں،بالکل ویسے ہی جیسے اسرائیل نے غزہ میں اور روس نے یوکرین میں کیا۔ یہ ایران، فلسطین اور یوکرین کے عوام کے خلاف جنگیں ہیں۔ ہم امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے عوام پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

ٹرمپ/وینس/ملر کی ٹرائیکا ایک ایسی رژیم کو گرانا چاہتی ہے جو ان کی بالادستی کے راستے میں ہے۔ یہ ٹرائیکااپنے اتحادی اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان لوگوں کو ایرانی ریاست کے داخلی جبر و استبداد کی کوئی پروا نہیں۔یہ ٹرائیکااور اسرائیل ’’زن، زندگی، آزادی‘‘ کی تحریک کو ایک خطرہ سمجھتے ہیں، اور وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے بعد یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار نہ ہو۔ اس تحریک کی ترقی پسند اور محنت کش طبقے سے جڑی اقدار کی بجائے، ٹرمپ اور نیتن یاہو ایک نئی جابرانہ رژیم مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے موجودہ رژیم سے بچنے والے افراد کو ہی دوبارہ مسلط کرنے کی بات کی ہے۔وہ پہلوی کو بطور بادشاہ مسلط کرنے کی بات سے پیچھے ہٹ چکے ہیں اور شاید انہوں نے مجاہدین خلق کے حوالے سے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہ موجودہ ایرانی ریاست کے کچھ بچ جانے والے عناصر، مثلاً پاسداران انقلاب یا بسیج کے ساتھ بھی کام کرنے کی گنجائش کو رد نہیں کیا۔ یہ دائیں بازو کا ایک مسیحی بنیاد پرست اور آمرانہ امریکی صدر دعویٰ کرتا ہے کہ ایران کا اگلا حکمران کون ہوگا، اس کا فیصلہ وہ کرے گا!اگر وہ یہ سب کرنے میں ناکام رہے تو وہ اور شریک جرم نیتن یاہو پسند کریں گے کہ ایران تقسیم ہوجائے اور افراتفری میں ڈوب جائے۔درحقیقت غالب امکان ہے کہ یہ نیتن یاہو کی پہلی ترجیح ہی ہو۔امریکی اور اسرائیلی حکمران طبقات ’’زن، زندگی، آزادی‘‘کی جدوجہد سے نفرت اور خوف محسوس کرتے ہیں، کیونکہ یہ دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔

ناقابل یقین لگے تو بھی، ٹرمپ کے ایران پر حملے کی ایک ثانوی وجہ یہ ہے کہ وہ جیفری ایپسٹین جیسے بچوں کے جنسی استحصال کرنے والے شخص سے اپنے تعلق اور ایپسٹین فائلوں سے بھی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔

بمباری کا بڑا حصہ روژہلات اور تہران پر ہو رہا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کرد عوام کئی حوالوں سے ایرانی حکومت کے خلاف جدوجہد میں قیادت کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب ٹرمپ/وینس/ملر کی ٹرائیکا تحریک کے ایک حصے کو اسلحہ دے کر کرد آزادی کی تحریک کو سبوتاژ اور تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ ٹرائیکاجب چاہے گی، انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دے گی، بالکل ویسے ہی جیسے اس نے روژاوا، شام میں کیا تھا۔ ہم کرد عوام کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے حقوق، اور پوری دنیا کے محنت کش طبقے کے حقوق و مفادات، ایک دوسرے سے جدانہیں ہو سکتے۔

کچھ لوگ جو خود کو’’سوشلسٹ‘‘ظاہر کرتے ہیں اور جنگ کی مخالفت بھی کرتے ہیں، وہ ایرانی عوام کی حکومت کے خلاف جدوجہد کی حمایت نہیں کرتے۔ یہی’’سوشلسٹ‘‘روس کی یوکرین کے عوام کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں،جوامریکہ/اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ یا اسرائیل کی فلسطین کے خلاف جنگ سے زیادہ مختلف نہیں ہے ۔ ایسے’’سوشلسٹوں‘‘کا حقیقی سوشلزم سے کوئی تعلق نہیں۔ حقیقی سوشلزم کی بنیاد ہر حال میں بین الاقوامی محنت کش یکجہتی پر ہوتی ہے۔

ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امریکی ٹکر کارلسن کی ظاہری جنگ مخالف باتیں دنیا بھر میں زیادہ سنائی دے رہی ہیں۔کامریڈز! دھوکا مت کھانا! ٹکر کارلسن بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا ہے۔ وہ اور اس کے ساتھی ٹرمپ کو اقتدار میں لانے میں مددگار تھے۔ وہ امریکہ میں مہاجرین پر حملوں کی حمایت کرتا ہے۔ وہ یہاں اور دنیا بھر میں مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔ ٹکر کارلسن یہودیوں سے بھی نفرت رکھتا ہے،صرف اسرائیل کے حامیوں سے نہیں بلکہ تمام یہودیوں سے۔ اسرائیل کی مخالفت بھی وہ اسی وجہ سے کرتا ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ فلسطینی عوام کا حامی ہے۔ٹکر کارلسن فاشزم کے ساتھ کھڑا ہے۔ وہ محنت کش طبقے کا کٹر دشمن ہے۔

امریکی فوج کے اندر بھی ایسے مسیحی قوم پرست فاشسٹ موجود ہیں جو ایران کے خلاف جنگ کو’’مقدس جنگ‘‘قرار دے رہے ہیں اور اسے خدا کے’’آخری زمانے‘‘کے منصوبے کا حصہ کہتے ہیں۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسس ان لوگوں کے بہت قریب ہیں۔ایٹمی ہتھیاروں کے حقیقی استعمال کی راہ انہی فاشسٹ جنونیوں کے خیالات سے ہو کر گزرتی ہے۔

دنیا کو ایک نئی محنت کش طبقے کی سوشلسٹ تحریک کی ضرورت ہے۔روژہلات کے پہاڑوں میں، تہران سے لے کر منیاپولس تک شہروں اور گلیوں میں، اور دنیا کے ہر محنت کش طبقے کے اندر،اس تحریک کے بیج پھوٹ رہے ہیں۔ہم مل کر ان بیجوں کو ایک ناقابل شکست طاقت میں بدلنے میں مدد کریں گے۔

دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!

تمہارے پاس کھونے کو اپنی زنجیروں کے سوا کچھ نہیں۔تمہیں ایک دنیا جیتنی ہے۔

بیان کی حمایت کرنے یا اس پر دستخط کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے ۔دستخط کرنے کے خواہشمند افراد درج ذیل ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں:1999wildcat@gmail.com، Oaklandsocialist@gmail.com

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں