روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

ایران پر امریکہ اسرائیل کا حملہ: فورتھ انٹرنیشنل کا بیان

ایران پر امریکہ اسرائیل کا حملہ: فورتھ انٹرنیشنل کا بیان

لاہور(جدوجہد رپورٹ)فورتھ انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو بیورو کی جانب سے 28 فروری 2026 کو جاری کیے جانے والے بیان کا اردو ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہاہے:

1۔کئی سالوں تک مختلف امریکی حکومتیں ایران پر فوجی حملے کی دھمکیاں دیتی رہیں، اور اب امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ اتحاد میں ایران پر میزائل اور بمباری کا آغاز کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دے ورنہ ’’یقینی موت کا سامنا کرے‘‘۔ ایران نے خلیج بھر میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے ذریعے جواب دیا ہے، اور اب ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

2۔اس جنگ کا بہانہ ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والی ’’غیر نتیجہ خیز‘‘ بات چیت اور ٹرمپ کا یہ دعویٰ ہے کہ ایران یورپ یا حتیٰ کہ امریکہ پر حملے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنا رہا ہے۔ یہ وہی جھوٹا راگ ہے جو جارج ڈبلیو بش اور ٹونی بلیئر نے 2003 میں اس وقت الاپا تھا ،جب انہوں نے کہا تھا کہ عراق صرف ’’45 منٹ کی وارننگ‘‘ پر مغربی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ عالمی فوجی طاقت رکھنے والے اور ایٹمی اسلحے سے لیس سب سے بڑے جارح ممالک کا یہ دعویٰ کھلا تضاداور منافقت پر مبنی ہے کہ ایران نیویارک جیسے مقامات کے لیے خطرہ ہے۔ ایران نے یورینیم افزودگی پروگرام میں کچھ رعایتیں دینے اور اپنی گیس و تیل کی صنعت امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے کی پیشکش بھی کی تھی،لیکن یہ ٹرمپ جیسے ایک غنڈہ صفت جنگ پسند شخص کے لیے کافی نہیں تھا، جو اپنے اور امریکہ کے لیے مکمل فرمانبرداری اور ذاتی و جیو پولیٹیکل اطاعت کا تقاضا کرتا ہے۔

3۔ان فوجی کارروائیوں کو امریکہ کی بڑھتی ہوئی نوآبادیاتی اور کھلی جارحانہ پالیسی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایسی پالیسی ہے جسے ایک نیوفاشسٹ حکومت چلا رہی ہے اور اس میں بکھرتے ہوئے عالمی نظام کے اندروسائل تک براہ راست رسائی کے لیے سامراجی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بڑھ رہا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور سیلیا فلوریس کا اغوا اور اس کے نتیجے میں ملک کی حکومت پر قابو، گرین لینڈ پر ٹرمپ کے دعوے، فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی اور غزہ کی ’تعمیر نو‘ کی منصوبہ بندی، مغربی کنارے کا انضمام اور اب تہران پر بمباری،یہ سب اسی نئے عالمی نظام کا حصہ ہیں۔ پہلے میزائل حملے اسرائیل کی طرف سے کیے گئے اور اس کے بعد علاقے میں موجود امریکی جنگی بحری جہازوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں سے امریکی اسلحہ استعمال کیا گیا۔ یہ ایک بار پھر دونوں ملکوں کے گہرے سیاسی و عسکری تال میل کو بے نقاب کرتا ہے۔

4۔اگرچہ یہ تازہ جارحیت ٹرمپ حکومت کے بین الاقوامی قانون، قومی خودمختاری، اور عالمی امن کے لیے ضروری ضابطوں کی کھلی خلاف ورزیوں کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے، لیکن ایران پر یہ حملہ ایران اور اس کے عوام کے خلاف امریکی جارحیت کی طویل تاریخ کا ایک نیا باب بھی ہے۔ امریکہ نے کبھی ایران کو اس بات کے لیے معاف نہیں کیا کہ اس نے 1979 کے عوامی انقلاب میں امریکہ کے حمایت یافتہ شاہی آمرانہ کمپرادور نظام کو گرا دیا۔ تب سے ہر امریکی صدر نے ایران کے خلاف معاشی پابندیاں اور وقفے وقفے سے فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ یہ سب حکومتیں ایرانی عوام کی آمریت مخالف جدوجہد کی منافقانہ حمایت کا ڈھول بجاتی رہی ہیں،جبکہ اصل مقصد خطے اور اس کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

5۔ہو سکتا ہے کہ حالیہ عوامی بغاوت اور اس پر ایرانی مذہبی آمرانہ حکومت کے وحشیانہ جبر نے کچھ لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہوکہ شاید امریکی/اسرائیلی حملہ رژیم چینج میں مدد کر دے۔ جلاوطن شاہی رہنما رضا پہلوی کے حامیوں نے بھی فوجی حملوں کو سراہا ہے، کیونکہ وہ اسے دوبارہ اقتدار کی راہ سمجھ رہے ہیں۔ رضا پہلوی کے والد کی حکومت 1979 میں عوامی انقلاب نے ختم کی تھی،وہ اپریل 2023 میں اسرائیل بھی گئے تھے تاکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی پر بات چیت کر سکیں اور وہ کھلے عام کہتے رہے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ نیتن یاہو اس سلسلے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

6۔جیسے ہی بمباری کا آغاز ہوا، ٹرمپ نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’تمہاری آزادی کی گھڑی آ پہنچی ہے۔‘‘ یہ حملہ آزادی کے لیے نہیں ہے، اور کوئی سمجھدار شخص یہ یقین نہیں کرے گا کہ امریکہ یا اسرائیل انسانی آزادی یا خوشی کے لیے جنگ کر رہے ہیں،جن کے ہاتھ غزہ اور دیگر جگہوں پر انسانیت کے خون میں ڈوبے ہیں۔ یہ سب امریکی سامراجیت کی جیو پولیٹیکل حکمت عملی ہے تاکہ خطے پر زیادہ کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ جیسا کہ ہم نے 5 جنوری کے بیان میں کہا تھا کہ ’’ہم ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ’رژجیم چینج‘ کے منصوبوں کو مسترد کرتے ہیں، جو اوپر سے تھوپے گئے حل کے ذریعے شاہی تحریک کو فنڈ کرتے ہوئے ایران کو مزید فوجی مداخلت کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ٹرمپ کے منصوبوں کے پیچھے اصل مقصد تیل اور گیس کے ذخائر پر کنٹرول ہے،جیسا کہ انہوں نے واضح طور پر وینزویلا کے معاملے میں کہا تھا۔‘‘(ایران کی تھیوکریٹک اور آمرانہ حکومت اور سامراجی مداخلت کی مذمت: ایرانی عوام کی جدوجہد سے اظہار یکجہتی)

7۔ایران کے عوام برسوں سے مذہبی آمرانہ حکومت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایرانی خواتین خاص طور پر اس جدوجہد کی صف اول میں رہی ہیں، خصوصاً 2022 کی تحریک ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ میں۔خصوصاً تیل کے شعبے میں ایران کی بڑی محنت کش آبادی اور مضبوط ٹریڈ یونینیں ہیں۔ طلبہ نے بھی حال ہی میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیے ،جب حکومت نے جنوری میں ہزاروں لوگوں کو قتل کیا۔ ایرانی حکومت کمزور ہے،صرف خوف اور تشدد کے سہارے قائم ہے۔

8۔ایران کی عوام دشمن حکومت کا خاتمہ ایرانی عوام ہی کا کام ہے، اور فورتھ انٹرنیشنل ایران میں موجود تمام سامراج مخالف، محنت کش، جمہوری اور انقلابی قوتوں کی جدوجہد کی حمایت کرتی ہے۔
دنیا بھر میں جنگ کے خلاف عوامی تحریکوں کو منظم کرو!
ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ نامنظور!
ایرانی عوام سے یکجہتی!
امریکی سامراجیت اور اسرائیلی کلونیل ازم کا خاتمہ کرو!

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں