لاہور(جدوجہد رپورٹ)یونان میں جمعرات کے روز ہزاروں مظاہرین نے دارالحکومت ایتھنز کی مرکزی سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کا رخ کیا۔ شرکاء نے ایران پر جاری امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور ملک میں موجود نیٹو کے فوجی اڈوں کی بندش کا مطالبہ کیا۔
’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق مظاہرین نے نعرے لگائے کہ یونان کو اس جنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہیے اور حکومت کو ایسی کسی بھی اقدام سے باز رہنا چاہیے جو ملک کو تنازع کا حصہ بنائے۔
احتجاج میں شریک سماجی کارکن سوفیا تھیوتوکا نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ یونانی حکومت کا موقف قابل نفرت ہے، کیونکہ وہ پورے ملک میں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرکے ہمیں خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ساتھ ہی اس کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، جو امریکہ کے ساتھ مل کر نسل کشی کر رہا ہے۔ ہماری نظر میں حکومت کو واضح اعلان کرنا چاہیے تھا کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گی۔ تاہم اس کے برعکس، ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ اقدامات کر رہی ہے،چاہے وہ بحیرہ احمر میں فریگیٹس بھیجنے ہوں یا قبرص میں ایف16 طیارے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا ملک اس جنگ میں شامل ہونا چاہتا ہے۔“
مظاہرے میں سیاسی کارکنوں، محنت کش تنظیموں، طلبہ یونینوں اور امن گروہوں نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ یونان کی جنگی مہمات میں شمولیت پورے خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔