روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

ایران: کیمپ ازم اور تھیوکریسی کا خاتمہ

ایران: کیمپ ازم اور تھیوکریسی کا خاتمہ

سائمن پیئرسن

میں نے حال ہی میں ایران پر بائیں بازو کے مختلف تجزیے پڑھے ہیں، اور ان سب میں ایک ایسا رجحان بار بار سامنے آتا ہے جسے نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ مذہب غائب ہو جاتا ہے۔ ریاست کی تھیوکریٹک ساخت تجزیے سے یوں غائب ہو جاتی ہے جیسے کبھی موجود ہی نہ ہو۔ اسلامی جمہوریہ کو صرف’’ایرانی ریاست‘‘یا’’قومی بورژوا تشکیل‘‘کہا جاتا ہے اور ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم ملا حکمرانی کو محض ایک سجاوٹی چیز سمجھیں،جیسے یہ مادی تجزیے میں کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی۔

یہ بات مجھے اس لیے پریشان کرتی ہے کہ یہ سنجیدہ تجزیہ نہیں ہے۔ آپ اسلامی جمہوریہ ایران کا مادی تجزیہ اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک آپ مسلسل یہ نظرانداز کریں کہ ریاست کیسے کام کرتی ہے۔ ریاست مذہبی اختیار کے ذریعے کام کرتی ہے۔ یہ کوئی حادثاتی یا اضافی چیز نہیں،یہ اس نظام کی جوہری اور بنیادی حقیقت ہے۔

مثال کے طور پر حال ہی میں میں نے احتجاجوں پر ایک پوسٹ پڑھی۔ دلیل کچھ یوں تھی:ہر چیز کی جڑ پابندیاں ہیں، مغربی سامراج ایران کی تمام داخلی حرکیات کو سمجھا دیتا ہے، اور تھیوکریٹک ریاست کی کوئی خود مختار ایجنسی نہیں، جو ہے وہ صرف بیرونی دباؤ کا ردعمل ہے۔

ٹھیک ہے۔ مگر اس پورے تجزیے میں لفظ’’تھیوکریسی‘‘صرف دو بار آیا، وہ بھی محض ایک غیرجانبدار، بے ضرر شناخت کے طور پر،جیسے آپ ’’جمہوریہ‘‘یا’’بادشاہت‘‘کہیں۔ تھیوکریسی کیا کرتی ہے، کیسے کام کرتی ہے، اور اس کے تحت زندہ رہنے والے لوگوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے،یہ سب پوری طرح غائب تھا۔

کیوں؟

میرا خیال ہے کہ ایران کے ریاستی ڈھانچے کے مذہبی کردار سے متعلق سنجیدگی سے گفتگو کرنا نام نہاد سامراج مخالف بیانیے کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔یہ اس بات کا اعتراف مانگتا ہے کہ ایران میں ایسی جابرانہ شکلیں موجود ہیں جنہیں صرف مغربی پابندیوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ایرانی مزدور طبقہ اپنے ہی مقامی بورژوا طبقے (جس میں مذہبی اشرافیہ بھی شامل ہے) کے ہاتھوں استحصال اور سرکوبی کا شکار ہے،چاہے واشنگٹن کچھ بھی کرے یا نہ کرے۔

یہ نظام حقیقتاًکیسے کام کرتا ہے؟

ولایت فقیہ کوئی ثقافتی عجوبہ نہیں ہے جو ایک عام سرمایہ دار ریاست پر بعد میں جوڑ دیا گیا ہو۔ یہ اس ریاست کا تنظیمی اور بنیادی اصول ہے۔سپریم لیڈر کی اتھارٹی الٰہی اختیار کے دعوے سے نکلتی ہے، جو شیعہ فقہ کے ذریعے استعمال کی جاتی ہے۔یہ اختیار عوامی حاکمیت سے حاصل نہیں ہوتا، نہ ہی اس کے پاس انقلابی جمہوری جواز ہوتا ہے ،جیسا کہ دیگر ریاستوں میں دیکھا جاتا ہے۔

یہی چیز طے کرتی ہے کہ مزاحمت اور اختلاف کو کس طرح درجہ بند کیا جائے اور کس نوعیت سے کچلا جائے۔مخالفت کوئی محض سیاسی اختلاف یا طبقاتی جدوجہد نہیں رہتی۔ وہ بدل کر ارتداد، فساد فی الارض اور محاربہ(خدا کے خلاف جنگ) بن جاتی ہے۔جب اخلاقی پولیس حجاب نافذ کرتی ہے، وہ کسی سماجی قانون کی نہیں بلکہ مبینہ الٰہی حکم کا نفاذ کر رہی ہوتی ہے۔جب عورتوں کو غلط یا ناکافی پردہ کرنے پر گرفتار کیا جاتا ہے، تو ان پر الزام ہوتا ہے کہ وہ خدا کے احکام کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔جب مظاہرین کو پھانسی دی جاتی ہے،تو اسے خدا اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں کی شرعی سزاسمجھا جاتا ہے۔

ایران میں طاقت کیسے چلتی ہے، اس کو آپ اس مذہبی میکانزم کے بغیر سمجھ ہی نہیں سکتے۔یہ آپ کو نہیں سمجھ آ سکتا کہ سب سے زیادہ کون متاثر ہوتا ہے، اور مزاحمت کی شکلیں کیسے بنتی ہیں۔مذہبی پہلو کو طبقاتی پہلو سے الگ کرنا ناممکن ہے۔یہ دونوں ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔

پھر بھی بعض سامراج مخالف تجزیے اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہیں،جیسے کہ تھیوکریٹک جبر کو ماننا خود بخود رژیم چینج کے امریکی بیانیے کی حمایت بن جائے گا۔

صنف کا سوال

دیکھیے کہ مذہب کی عدم موجودگی کے ساتھ صنف بھی کیسے غائب ہو جاتی ہے۔عورتوں کے جسم اور رویے وہ مقامات ہیں جہاں ریاستی طاقت، مذہبی اختیار اور پدرشاہی کنٹرول ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔حجاب کی پابندی کوئی عام ڈریس کوڈ نہیں ہے۔ یہ ایک پورے مذہبی صنفی قانون کا ظاہری نشان ہے جوشادی، طلاق، وراثت، شہادت، نقل و حرکت، سماجی شرکت سمیت ہر چیز کو منظم کرتا ہے۔

مہسا امینی کو اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر ٹھیک طریقے سے حجاب نہ پہننے کے الزام میں قتل کیا۔یہ تھیوکریٹک تشدد اور مذہبی قانون کا نفاذ تھا۔اس کے بعد ابھرنے والا احتجاج (عورت، زندگی، آزادی) ایک ایسے مذہبی سیاسی نظام کو چیلنج کر رہا تھا جو عورتوں کی محکومی کو حکم الہٰی کے طور پر نافذ کرتا ہے۔

اگر کوئی مادی تجزیہ اس کو سمجھ نہ سکے، تو وہ سیدھے سادھے معاشی تقلیل پسندی (crude economism) میں گر چکا ہے۔عورتوں کی مخصوص محکومی زیادہ سے زیادہ ثانوی مسئلہ بن جاتی ہے،یا بدترین صورت میں سامراج مخالف جدوجہد سے توجہ ہٹانے کا الزام بن جاتی ہے۔لبرل شناخت کی سیاست اور مغربی فکر کی مداخلت قرار پاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آبادی کا آدھا حصہ مذہبی صنفی تابع داری کے نظام کے تحت جیتا ہے۔آپ اس وقت تک طبقاتی تجزیہ نہیں کر سکتے ، جب تک آپ یہ نظرانداز کرتے رہیں کہ مزدور طبقہ صنفی مذہبی قوانین کے ذریعے تقسیم کیا گیا ہے۔ آپ تھیوکریٹک کنٹرول کے خلاف جدوجہد کو پابندیوں کی مخالفت سے کم اہم قرار دے کر آپ انقلابی امکانات پر بات بھی نہیں کر سکتے۔

سوائے اس کے کہ آپ کو ایرانی مزدور طبقے سے حقیقت میں کوئی دلچسپی ہی نہ ہو،اور آپ کے لیے مغربی بالادستی کے سامنے ایک رکاوٹ کے طور پر صرف ایرانی ریاست کی جیوپولیٹیکل حیثیت اہم ہو۔اگر معاملہ یہی ہے تو پھر صاف صاف کہہ دیں۔

ملا بطور بورژوا دھڑا

ان تجزیوں میں ایک اور چیز بھی غائب ہو جاتی ہے۔مذہبی اسٹیبلشمنٹ کوئی صرف نظریاتی آلہ نہیں ہے۔ملااشرافیہ خود ایک بورژوا دھڑا ہے،جس کے مخصوص مادی مفادات ہیں۔

بونیاد(نام نہاد مذہبی فلاحی تنظیمیں)بھیانک حد تک وسیع معاشی وسائل پر قابض ہیں۔ تعمیرات، فارماسیوٹیکلز، تیل وغیرہ سب میں ان کا حصہ ہے۔ یہ ادارے بظاہر مذہبی ہیں اور ملاؤں کی نگرانی میں چلتے ہیں، لیکن عام ٹیکس نظام اور ریگولیٹری ڈھانچوں سے باہر کام کرتے ہیں۔سرمایہ جمع کرتے ہیں مگر اسے مذہبی خدمت قرار دیتے ہیں۔پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) ایک وسیع معاشی سلطنت میں تبدیل ہو چکی ہے،جس کے مفادات اسلامی جمہوریہ کے تحفظ کے نظریاتی عزم سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔

تو جب ہم ’ایرانی بورژوازی‘ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اصل میں ہیں کون؟تاجر طبقہ ؟صنعتی سرمایہ دار؟ملا اشرافیہ؟ پاسداران انقلاب کے معاشی نیٹ ورکس؟یہ دھڑے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ بھی کرتے ہیں اور اشتراک بھی۔آپ ایرانی سرمایہ داری کو اس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک یہ نہ دیکھیں کہ ملاؤں کااختیار سرمائے کے خاص طریقوں سے ارتکاز کو کیسے ممکن بناتا ہے۔

تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم دیکھیں کہ تھیوکریٹک ریاست کیسے کام کرتی ہے۔ یہ بھی مانیں کہ’’قومی بورژوازی‘‘جیسی اصطلاح ایک ایسی ریاست کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے ،جہاں مذہبی اختیار ہی طبقاتی طاقت کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ ہے۔

لامحدود التواء کی منطق

ایک پوسٹ میں احتجاج کے بارے میں یہ دلیل دی گئی کہ یہ احتجاج’’معروضی طور پر سامراج کے مفاد میں ہیں‘‘ کیونکہ ان میں نظریاتی ہم آہنگی اور تنظیم کی کمی ہے۔لہٰذا یہ ایسے وقت میں ریاست کو کمزور کرتے ہیں جب سامراجی جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔اس لیے (اگرچہ براہ راست نہیں کہا گیا) یہ احتجاج قابل حمایت نہیں۔

یہ منطق پوری طرح رژیم کے بیانیے کو قبول کر لیتی ہے، یعنی اپوزیشن بیرونی دشمنوں کو طاقت دیتی ہے، اوراختلاف وطن دشمنی ہے۔ایرانی مزدور طبقے کو چاہیے کہ اپنی جدوجہد کو اس جیوپولیٹیکل ضرورت کے تابع کرے کہ ریاست کو مغرب کے خلاف مضبوط رکھا جائے۔

لیکن مارکس وادی یہ سب کیوں قبول کریں؟ایرانی مزدور طبقے کے مفادات مغربی سامراج سے بھی الگ ہیں اور اپنے مقامی استحصالی طبقے سے بھی۔ان استحصالیوں میں ملا بورژوازی، پاسداران انقلاب کی معاشی سلطنت اور وہ تمام قوتیں شامل ہیں،جو تھیوکریٹک کنٹرول سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔

یہ دعویٰ کہ احتجاج ریاست کو’’کلائنٹ رژیم‘‘ میں بدل سکتے ہیں،یہ فرض کرتا ہے کہ انتخاب دو ہی ہیں، اسلامیہ جمہوریہ ایران یا مغربی بالادستی۔ یہی رژیم کی منطق ہے۔ یہی منطق ہر وہ آمرانہ ریاست استعمال کرتی ہے جو عوامی بے چینی کا سامنا کرتی ہے۔یوں ہر مزاحمت بیرونی سازش بن جاتی ہے۔

یہ درست ہے کہ مغربی خفیہ ادارے احتجاجی تحریکوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حقیقی مقامی مزاحمت موجود نہیں۔ نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ مذہبی آمریت کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں وہ کسی کے ہاتھوں کے کھلونے ہیں، یا یہ کہ ان کی اذیت واشنگٹن کے خلاف مزاحمت کرنے والی ایک ریاست کے تحفظ سے کم اہم ہے۔

ایک مخصوص طرز کی دلیل بار بار سامنے آتی ہے۔ احتجاجی تحریکیں نظریاتی ہم آہنگی سے خالی ہیں، لہٰذا کامیاب نہیں ہو سکتیں اور معروضی طور پرسامراج کے مفاد میں ہیں، لہٰذا ہم ان کی حمایت نہیں کر سکتے۔ ہمیں صحیح انقلابی حالات کا انتظار کرنا ہوگا۔

یہ دلیل ایک ناممکن معیار قائم کرتی ہے۔ انقلابی تحریکیں کبھی مکمل اور منظم شکل میں جنم نہیں لیتیں۔ وہ جدوجہد کے عمل میں ارتقا پاتی ہیں۔ بالشویکوں نے فروری انقلاب کو خود رو اور بے ربط کہہ کر مسترد نہیں کیا تھا۔ انہوں نے مداخلت کی تھی۔

تاہم بظاہر ایرانی مزدوروں کو انتظار کرنا چاہیے۔ مسلسل اذیت برداشت کرتے رہیں جبکہ ہم انہیں بتاتے رہیں کہ ان کے احتجاج میں نظریاتی یکسانیت کی کمی ہے۔ اپنی جدوجہد کو جیوپولیٹیکل ضروریات کے تابع کر دیں۔ حالانکہ یہی ریاست ان کا استحصال کرتی ہے، یہاں تک کہ یہی مذہبی اختیار ان کی محکومی کی ساخت تشکیل دیتا ہے۔

یہ انتظار کب ختم ہوگا؟ عالمی سطح پر سامراج کی شکست کے بعد؟ یا امپیریل مرکز میں انقلاب کے بعد؟ یہ منطق لامحدود التواء کی طرف لے جاتی ہے۔ ایرانی مزدور طبقے کو ایک فعال سیاسی فاعل کی بجائے محض ایک شے بنا کر رکھ دیتی ہے۔

یہ کیمپ ازم ہے

میری رائے میں ہمیں دیانتدار ہونا چاہیے۔ یہ کیمپ ازم ہے، جس کا مطلب طبقاتی جدوجہد کے مقابلے میں جیوپولیٹیکل وابستگی کا انتخاب ہے۔

اسلامی جمہوریہ مغرب کی مخالفت کرتی ہے۔ لہٰذا اسے دفاع کے لائق سمجھا جاتا ہے، یا کم از کم اسے کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ اپوزیشن مشکوک قرار پاتی ہے، یہاں تک کہ اگر وہ ایرانی مزدوروں کی طرف سے ہو جو استحصال اور مذہبی آمریت دونوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بہتر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ ریاست کو برقرار رکھا جائے، چاہے وہ جتنی بھی جابرانہ ہو، تاکہ کوئی ایسا متبادل پیدا نہ ہو جائے جو مغرب کے مفادات سے زیادہ قریب ہو۔

یہ موقف مزدور طبقے کی آزادی کو ترک کر دیتا ہے۔ یہ ایرانی پرولتاریہ کی جدوجہد کو تذویراتی حساب کتاب کے تابع بنا دیتا ہے۔ یہ تھیوکریٹک جبر کو قابل قبول ضمنی نقصان (کولیٹرل ڈیمیج)میں تبدیل کر دیتا ہے۔

تاہم اس کے لیے مسلسل گریز درکار ہے۔ مذہب سے گریز،صنف (جینڈر) سے گریز، مذہبی پیشواؤں کے بورژوا مفادات سے گریز اور مزدوروں کی ایجنسی اور ان کی حقیقی شکایات سے گریز۔

آخر میں سب کو ایک فارمولے میں گھول کر رکھ دینا کہ پابندیاں ہر چیز کی وجہ ہیں،احتجاج سامراج کے کام آتے ہیں،اورمزید بہتر حالات کا انتظار کرو۔

ایک متبادل

یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ مغربی پابندیوں اور رژیم چینج کی مخالفت کریں اور ساتھ ہی مذہبی آمریت اور جبر کی بھی مخالفت کریں۔ یہ دونوں پوزیشنیں ایک ہی اصول سے نکلتی ہیں،یعنی ایرانی مزدور طبقے کے ساتھ ہر قسم کے جبر کے خلاف یکجہتی۔

اس کا مطلب ہے ایرانی سوشلسٹوں، کمیونسٹوں، خود مختار مزدور منتظمین کی بات سنی جائے۔ وہ کیا دلائل دیتے ہیں؟ وہ کیا کر رہے ہیں؟ کون سی تنظیمی شکلیں موجود ہیں؟یہ سوالات ان تجریدی تجزیوں میں بالکل غائب ہوتے ہیں جو فاصلے پر بیٹھ کر کیے جاتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ تسلیم کرنا ہے کہ محض مغرب کی مخالفت کرنا ایرانی ریاست کو ترقی پسند نہیں بنا دیتا۔ تھیوکریٹک نظام ایران کی سرمایہ دارانہ اشرافیہکی خدمت کرتا ہے،جس میں مذہبی پیشواؤں کی سرمایہ دارانہ پرت بھی شامل ہے۔ یہ مزدوروں کا استحصال کرتا ہے۔ یہ عورتوں کو مذہبی قانون کے ذریعے تابع بناتا ہے۔ یہ خود مختار مزدور تنظیم سازی کو کچل دیتا ہے۔ یہ کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کو پھانسی دیتا ہے۔

یہ سب کچھ پابندیوں کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ پابندیاں حالات کو یقینابدتر کرتی ہیں۔ یہ ایک ظالمانہ اجتماعی سزا ہیں جن کی مخالفت ضروری ہے۔ تاہم تھیوکریٹک ریاست کا کردار، اس کی طبقاتی ساخت، اس کا جبر،یہ سب پابندیوں سے پہلے بھی موجود تھا اور پابندیاں ختم ہو جائیں تب بھی جاری رہے گا۔

ایسا مارکسی تجزیہ ،جو تھیوکریٹک جبر کا نام لینے سے اس ڈر کی وجہ سے گریز کرے کہ کہیں سامراج کی خدمت نہ ہو جائے،وہ مارکسزم ہے ہی نہیں۔ وہ صرف جیوپولیٹیکل صف بندی ہے جسے انقلابی زبان میں لپیٹ دیا گیا ہے۔

اس کی نشانی ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے۔مذہب غائب ہو جاتا ہے۔صنف (جینڈر) غائب ہو جاتا ہے۔مذہبی بورژوازی غائب ہو جاتی ہے۔جبری حجاب کے خلاف احتجاج کرنے والی عورتیں بیرونی ہاتھوں میں استعمال ہونے والی قرار پاتی ہیں۔ہڑتال کرنے والے مزدور مغربی انٹیلی جنس کے ہاتھوں استعمال ہونے والا خطرہ بن جاتے ہیں۔تھیوکریٹک ریاست کا اصل کردار ’’بیرونی دباؤ کے تحت قومی بورژوا تشکیل‘‘میں تحلیل کر دیا جاتا ہے۔

(بشکریہ:’اینٹی کیپیٹل اسٹ رزسٹنس‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں