روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

بجٹ 2025-26ء: امیروں کی عیاشی، غریبوں کی بربادی

بجٹ 2025-26ء: امیروں کی عیاشی، غریبوں کی بربادی

ظفراللہ

پاکستان کا سال 2025ء کا بجٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں اسمبلی میں پیش ہو چکا ہے۔ یہ ن لیگ کی شاید پہلی حکومت ہے جس میں مسلسل دوسرا بجٹ پارٹی کے اپنے وزیر خزانہ نے پیش نہیں کیا بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ اور بینکار محمد اورنگزیب نے بطور وزیر خزانہ پیش کیا۔ اس سے صورتحال کی نزاکت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس حکومت کی تشکیل کے آغاز سے ہی نواز شریف اور اس کی قریبی معاشی ٹیم کو پالیسی سازی سے دور رکھا گیا ہے۔ یوں اسحاق ڈار، جو عوامی دباؤ کے پیش نظر تھوڑے بہت ریلیف کیلئے آئی ایم ایف سے بھاؤ تاؤ کر لیتا تھا، کے راستوں کو بھی بند کر کے معیشت کو مکمل طور پر آئی ایم ایف کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔

غور کریں تو بجٹ گزشتہ طویل عرصے سے وسیع تر عوام کیلئے ایک غیر متعلقہ چیز بلکہ مذاق بن چکا ہے۔ حتیٰ کہ سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کی دلچسپی بھی بڑی حد تک کم ہو گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ بجٹ کا انتظار کیا کرتے تھے۔ تب معیشت نسبتاً سادہ، چھوٹے حجم کی حامل اور کسی حد تک مستحکم ہوا کرتی تھی۔ اشیا کی قیمتوں اور ٹیکسوں وغیرہ میں اضافہ سالانہ بنیادوں پر ہوتا تھا اور سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں نسبتاً معقول اضافے کا انتظار ہوتا تھا۔ لہٰذا لوگوں کو بجٹ میں کافی دلچسپی ہوتی تھی۔ اب صورتحال کافی بدل چکی ہے۔ معیشت کا حجم کافی بڑھ چکا ہے۔ نجی شعبہ سرکاری شعبے سے بڑا ہو چکا ہے۔ نیولبرل پالیسیوں کیساتھ معیشت کی جہتیں کافی بدل گئی ہیں۔ پیداواری شعبہ سکڑ گیا ہے اور خدمات کا حصہ جی ڈی پی میں سب سے زیادہ ہو گیا ہے۔ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور نئے ٹیکسوں کا نفاذ آئے دن کا معمول ہے۔ پٹرول کی قیمتیں جو پہلے کئی سالوں تک مستحکم رہتی تھیں اب ہر پندرہ روز بعد تبدیل ہو کر لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ عالمی سطح پر سرمایہ داری کے عمومی بحران کا بھی نتیجہ ہے۔ جس میں تجارتی جنگوں اور آئے روز کے مسلح تنازعات نے مزید انتشار برپا کر رکھا ہے۔

اس نظام کے بجٹ عوام کی سہولت کیلئے نہیں بنائے جاتے۔ یہ سرمایہ دارانہ ریاست کے انتظام کو چلانے کی کھاتہ داری ہوتی ہے جس میں حکومتیں اپنی آمدن اور اخراجات کا تخمینہ لگاتی ہیں۔ اچھے وقتوں میں معیشت کا پھیلاؤ مقصود ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان جیسے ممالک میں زیادہ تر معاشی استحکام یا بقا کا بندوبست کرنے کی ہی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں سرمایہ داروں کی شرح منافع میں اضافے کیلئے غریب عوام کو نچوڑنے کی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ امیروں کو مالی مراعات فراہم کی جاتی ہیں اور عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے کاروبارِ معیشت پھیلے گا اور ’’آخرکار‘‘ ثمرات عوام تک پہنچیں گے۔ یہ نیولبرلزم کے ’’ٹریکل ڈاؤن ماڈل‘‘ کا بنیادی نسخہ ہے۔

اس نظام کی تمام حکومتیں سرمایہ داروں اور بڑے کاروباریوں کو ٹیکس چھوٹ دیتی ہیں اور عوام پر مختلف شکلوں اور قسموں کے ٹیکس نافذ کر کے نظام ریاست چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس میں ظاہر ہے سرکاری افسر شاہی کی عیاشیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یوں غریب ملکوں کی عیاش اور بدقماش اشرافیہ غریب محنت کشوں کے خون پہ جونکوں کی طرح پلتی ہے۔ بڑے بڑے بنگلے، مہنگی کاریں، نوکروں کی فوج ظفر موج… یہ سب کچھ رعایا کے خون پسینے کی کمائی سے چلتا ہے اور محنت کرنے والے نسل در نسل ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

اس بجٹ میں بھی موجودہ سرمایہ نواز حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی ہے۔ جونہی عام لوگ اپنی زندگیوں میں بہتری کیلئے مزید سر پیر مارتے ہیں یا کوئی نیا ذریعہ آمدن ڈھونڈتے ہیں‘ نئے ٹیکس لگا کر ان کے معیار زندگی کوپہلے سے بھی گرا دیا جاتا ہے۔

اس سال بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے طفیلی شعبے کو ٹیکسوں کی مد میں کافی رعایت دی گئی ہے جس سے بڑی بڑی پراپرٹیوں کا کاروبار کرنے والے سرمایہ دارمستفید ہوں گے۔ دراصل یہ ان شعبوں میں سر فہرست ہے جہاں کالا دھن خوب لگتا اور بڑھتا ہے۔ حکومتیں اس کو کنٹرول اور ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے کچھ سخت اقدامات کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن اِس ملک کی معاشی طرز ایسی بن چکی ہے کہ اس شعبے سے کالا دھن (جس پر مجموعی معیشت کا بڑا حصہ مبنی ہے) جب نکلتا ہے تو پوری معیشت بیٹھ جاتی ہے۔ نتیجے میں حکومتیں مجبور ہو کر دوبارہ اس شعبے کو ٹیکس مراعات دیتی ہیں، ایمنسٹی سکیمیں لاتی ہیں کہ معیشت کا پہیہ چل سکے۔ ویسے بھی یہ کالے دھن والے نہ صرف خاصے طاقتور ہوتے ہیں بلکہ بیشتر صورتوں میں خود حکومت، مروجہ سیاست اور ریاست کے اندر کلیدی عہدوں پر بھی فائز ہوتے ہیں۔ لہٰذا کوئی ان کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔

ایک ہزار ارب روپے ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ اس ملک کی جو حالت ہے اس کے پیش نظر تو اس سے کئی گنا زیادہ رقم بھی ناکافی ہو گی۔ لیکن یہ ترقیاتی اخراجات بھی دراصل سیاسی اشرافیہ، ٹھیکیداروں اور ریاستی بیوروکریسی کو کمیشن اور کرپشن کے ذریعے پیسہ کمانے کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ ممبران اسمبلی، سپیکر اور سینیٹ چیئرمین وغیرہ جیسے کروڑ یا ارب پتیوں کی تنخواہوں میں 600 فیصد تک ایسے اضافہ کیا گیا ہے جیسے وہ صرف تنخواہ پہ گزارا کر رہے ہوں۔ لیکن اس کرپٹ سیاسی اشرافیہ کی ہوس بھی اتنی زیادہ ہے کہ وہ بے شرموں کی طرح اسے قبول بھی کر لیتے ہیں۔ دوسری طرف سرکاری ملازمین، جو کل لیبر فورس کا پانچ فیصد تک ہی بنتے ہیں، کی تنخواہوں میں بمشکل 10 فیصدکا اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس سے کئی گنا بڑی تعداد نجی شعبے کے وائٹ کالر ملازمین اور کروڑوں محنت کشوں کی ہے جنہیں ایسے معمولی اضافے بھی نصیب نہیں ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں ہر قسم کی یونین اور لیبر حقوق سے عاری یہ محنت کش نجی شعبے کے سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جن کی اجرت میں بہت معمولی اضافہ ہوتا ہے یا عملاً وہ پہلے سے بھی کم ہو جاتی ہے۔

کم از کم تنخواہ کو پہلی دفعہ اس بجٹ میں مقرر نہیں کیا گیا اور وزیر خزانہ نے فرمایا کہ مل مالکان اور سرمایہ دار اس پہ راضی نہیں ہیں۔ وفاقی سطح پر پہلے ہی 37 ہزار روپے ماہانہ کی شرمناک حد تک ناکافی‘ کم ازکم تنخواہ مقرر تھی۔ لیکن غیر رسمی شعبے میں اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہوتا۔ زیادہ تر محنت کش اس سے بھی کم اجرت پر کام کرتے ہیں۔

دفاعی اخراجات 18 فیصد اضافہ کے ساتھ 2550 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں حالیہ پاک بھارت جنگ کے حوالے دے کر بجٹ تقریر کا آغاز ہی فوج اور آرمی چیف کی تعریفوں سے ایسے کیا گیا ہے جیسے ہر سرکاری اجلاس کا آغاز مذہبی کلمات سے کیا جاتا ہے۔ فوجی افسران کی تنخواہوں میں اضافے کے علاوہ 50 فیصد سپیشل الاؤنس اور جونیئر افسران اور سپاہیوں کیلئے 10 فیصد الاؤنس تجویز کیا گیا ہے۔ جس کو رد کرنے کی کسی میں جرات نہیں ہے۔ یہ دراصل جنگ کا تاوان ہے جو یہاں کے محنت کش عوام کو ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاہ یہ ایک طرح کا ڈیمج کنٹرول بھی ہے جو گزشتہ دو برسوں میں فوج کی داخلی بے چینی پر قابو پانے کیلئے کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس جنگ نے دکھایا ہے کہ کیسے اب جنگوں کی نوعیت بھی بد ل چکی ہے۔ اب پیدل مارچ کرتے فوجی کم ہی دکھائی دیتے ہیں اور خوفناک تباہی پھیلانے والے میزائل، ڈرون اور جنگی جہاز زیادہ چلتے ہیں۔ جن کے پیچھے لمبی دوری تک دیکھنے والے ریڈار، سیٹلائٹ اور جی پی ایس جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی کارفرما ہوتی ہے۔ جو ظاہر ہے اتنی ہی مہنگی بھی ہوتی ہے۔

مارکسسٹوں نے پہلے انتباہ کیا تھا کہ جس نام نہاد جنگ کی جیت کے جشن منائے جا رہے ہیں یہ جیت یہاں کے محنت کشوں کو بہت مہنگی پڑے گی اور سامراجیوں، عسکری اشرافیہ اور سرمایہ داروں کیلئے منافع بخش ثابت ہو گی۔ اب جنگ کے فوراً بعد چین سے نئے اور زیادہ جدید جنگی جہازوں کی خریداری کی اطلاعات ہیں اور دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ لیکن بعد از جنگ ’’سرشاری‘‘ کی حالت میں کوئی اس پر بات تک کرنے کو تیار نہیں۔ ویسے بھی قومی دفاع حب الوطنی کے نام پر مقدس لوٹ مار کے دھندے کا ہی نام ہوتا ہے۔

دفاع سے بھی بڑھ کر آدھا بجٹ قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ اس مد میں 8200 ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔ اِس مملکت کا سارا نظام بنیادی طور پر انہی قرضوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ جس سے حکمرانوں کی پرتعیش زندگیاں اور بدعنوانیاں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ وزیروں مشیروں کی بھاری فوج کے علاوہ ریاستی خرچ پر پلنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے جن میں ان حکمرانوں کے منظورِ نظر لوگ، چاپلوس اور کاسہ لیس وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ یہ بات خود آئی ایم ایف جیسے سامراجی ادارے بھی کھلے عام کہتے ہیں۔ بیرونی سامراجی قرضے اور ان پر بھاری سود اس کے علاوہ ہے۔ دراصل یہ ریاست داخلی اور بیرونی قرضوں میں ایسی جکڑی ہوئی ہے کہ اس سے نکلنے کا کوئی سنجیدہ ارادہ یا امید یہاں کی حکمران اشرافیہ نے بھی چھوڑ دی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک بحران زدہ اور ناکام سرمایہ داری کا مظہر ہے۔

سرمائے کے اس نظام میں محنت کرنے والوں کی زندگیاں برباد ہیں۔ لیکن ان کی پیدا کی ہوئی دولت پر حکمرانوں کی عیاشی جاری و ساری ہے۔ ججوں سمیت بیشتر اعلیٰ ریاستی اہلکاروں کی تنخواہ ہی ان کی پنشن بن جاتی ہے۔ جبکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، جنہوں نے اپنی زندگیاں نوکریوں میں صرف کر دیں، کی پنشن میں 6 فیصد کا معمولی اضافہ کر کے بھی احسان جتایا جاتا ہے۔ فیملی پنشن کو تا حیات ختم کر کے محض دس سال تک محدود کیا جا رہا ہے۔ نئی سرکاری بھرتیوں میں پنشن کا چکر ویسے ہی ختم کرنے کا عمل جاری ہے۔ جبکہ نجی شعبے کے محنت کشوں کی چھوٹی سی اقلیت کو ہی یہ مراعت حاصل ہے۔ بڑھاپے میں انسان کو پنشن کی شکل میں ریاستی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اب ضعیفوں کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
یہ بنیادی طور پر ایک ہی بجٹ ہے جو ہر سال نئی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ جس میں محنت کشوں کیلئے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ الٹا کسی امید کی بجائے اب یہ عوام کیلئے ایک خوف کی علامت بن چکا ہے۔ جبکہ سٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے!

یہی وجہ ہے کہ کروڑوں لوگ اب بجٹ سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ بجٹ کے مجموعی ہجم کا 60 سے 70 فیصد اس سال بھی ’’دفاع‘‘ اور قرضوں کی نذر ہی ہو گا۔ 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم اور صحت کے معاملات کو صوبوں کے حوالے کر کے ویسے ہی گول کر دیا گیا ہے۔ ان دونوں کلیدی شعبوں پر مجموعی سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے 5 فیصد سے بھی کم ہیں۔ اب سکولوں اور ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ریاست اپنی بچی کھچی ذمہ داری سے بھی جان چھڑانا چاہتی ہے۔

بجٹ کے دنوں میں اسمبلی میں اپوزیشن پارٹیوں کا شور و غوغا بھی اس بیہودہ کھلواڑ کا روایتی حصہ بن گیا ہے۔ پھر یہی اپوزیشن پارٹیاں اقتدار میں آ کے یہی بجٹ پیش کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ کے خلاف احتجاج بھی کر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اسے پاس بھی کروائے گی۔ بلکہ سندھ میں ایسا ہی بجٹ خود پیش بھی کر دیا ہے۔ کیونکہ جس سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد پر یہ حاکمیت اور سیاست قائم ہے‘ اس کا تقاضا یہی ہے۔ محنت کش عوام کو اپنے طبقاتی مفادات کا ضامن بجٹ بنانے اور نافذ کرنے کیلئے ایک انقلابی سرکشی کے ذریعے سرمائے کے اس نظام کو اکھاڑکر اپنا اقتدار قائم کرنا پڑے گا۔ ذلت اور محرومی کے ان بجٹوں سے نجات کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں