روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

برطانوی جامعات نے پرو فلسطین طلبہ کی نگرانی کے لیے نجی انٹیلی جنس فرم کی خدمات حاصل کیں

برطانوی جامعات  نے پرو فلسطین طلبہ کی نگرانی کے لیے نجی انٹیلی جنس فرم کی خدمات حاصل کیں

لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایک مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ کی 12 یونیورسٹیوں نے سابق عسکری انٹیلی جنس اہلکاروں کی زیر قیادت ایک نجی سکیورٹی کمپنی کو طلبہ اور اساتذہ، خصوصاً فلسطین سے اظہاریکجہتی کرنے والے افراد، کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے بھاری رقوم ادا کیں۔

’الجزیرہ انگلش ‘اور ’لبرٹی انوسٹی گیٹس‘ کی رپورٹ کے مطابق ہوروس سکیورٹی کنسلٹنسی نامی کمپنی نے 2022 سے اب تک کم از کم 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ وصول کیے۔ کمپنی مختلف یونیورسٹیوں کے کہنے پر طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی، احتجاجی سرگرمیوں کا تجزیہ اور ’’کاؤنٹر ٹیرر‘‘ نوعیت کے خفیہ تشخیصی رپورٹس تیار کرتی رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لندن اسکول آف اکنامکس کی ایک پروغزہ پی ایچ ڈی طالبہ کی ٹوئٹ کو ’’سیکورٹی الرٹ‘‘ بنا کر یونیورسٹی کو بھیجا گیا، جبکہ مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے ایک معروف فلسطینی نژاد امریکی اسکالر رباب عبدالہادی کے لیکچر سے قبل ان پر ’’خفیہ تھریٹ اسسمنٹ‘‘ کرائی۔ یہ اقدام برطانیہ کے متنازع ’’پریوینٹ‘‘ پروگرام کے تحت کیا گیا، جس پر انسانی حقوق کے گروہ مسلم کمیونٹیز کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق یونیورسٹی آف بریسٹل نے 2024 میں کمپنی کو ’’بسپوک الرٹ سروس‘‘ کے لیے کم از کم 8ہزار700 پاؤنڈ ادا کیے، جس کے تحت پروفلسطین اور جانوروں کے حقوق کی مہم چلانے والے گروہوں کی نگرانی شامل تھی۔ کمپنی نے روزانہ کی بنیاد پر ’’انکیمپمنٹ اپڈیٹس‘‘ کے نام سے رپورٹس بھی تیار کیں، جن کے لیے جامعہ سے 900 پاؤنڈ ماہانہ وصول کیے جاتے تھے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ جینا رومیریو نے اس صورتحال کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ڈیٹا کو اے آئی کے ذریعے جمع اور تجزیہ کرنا ’’گہرے قانونی مسائل‘‘ پیدا کر رہا ہے اور نجی ادارے اس حساس معلومات پر مکمل اختیار حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نگرانی برطانیہ میں پروفلسطین سرگرمیوں کے خلاف ’’ریاستی دباؤ‘‘ میں اضافہ کر رہی ہے۔

برطانیہ کی سب سے بڑی اساتذہ یونین یو سی یوکی سربراہ جو گریڈی نے اسے ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جامعات نے اپنے ہی طلبہ پر جاسوسی کے لیے لاکھوں پاؤنڈ ضائع کیے۔ متعدد یونیورسٹیوں نے الجزیرہ کی جانب سے سوالات کے جواب دینے سے انکار کیا، جبکہ امپیریل کالج لندن سمیت کچھ اداروں نے دعویٰ کیا کہ وہ صرف ’’عوامی سطح پر دستیاب معلومات‘‘ استعمال کرتے ہیں اور یہ نگرانی ’’طلبہ کے خلاف کارروائی‘‘ نہیں ہے۔ دوسری جانب طلبہ نے اسے اپنی آواز دبانے اور پروفلسطین سرگرمیوں کو مجرمانہ رنگ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں