روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

بلوچستان:ریاستی جبر نے خواتین رہنماؤں کی نئی نسل کو جنم دیا - روزنامہ جدوجہد

بلوچستان:ریاستی جبر نے خواتین رہنماؤں کی نئی نسل کو جنم دیا - روزنامہ جدوجہد

پیٹر بوئل

نوجوان بلوچ خاتون کارکن سمی دین بلوچ گزشتہ 17 برسوں سے براہ راست پاکستانی ریاست کے شدید جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔ تاہم وہ اب بھی بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پرامن مہم چلانے کے لیے پرعزم ہیں، جو پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور طویل عرصے سے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

سمی دین بلوچ نے ’گرین لیفٹ‘کو بتایا کہ ان کے والد ایک سیاسی رہنما تھے، انہیں خفیہ ایجنسیوں نے زبردستی لاپتہ کیا۔ تب سے وہ اپنے والد کی بازیابی اور ہزاروں دیگر جبری طور پر لاپتہ افراد کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔

اسی جدوجہد کی وجہ سے انہیں دھمکیوں، گرفتاری اور حتیٰ کہ اپنی ہی جبری گمشدگی کا سامنا کرنا پڑا۔

سمی دین صحافت کی طالبہ ہیں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) سے منسلک ہیں۔ یہ سیاسی تحریک جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے متاثرین کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کو منظم کرتی ہے۔

اکتوبر 2013 میں سمی دین بلوچ نے جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کے دیگر افراد کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی اور وہاں سے اسلام آباد تک 3ہزار کلومیٹر طویل پیدل مارچ منظم کرنے میں حصہ لیا۔

اس کے بعد سے وہ کئی مارچ، احتجاج اور دھرنے منظم کر چکی ہیں۔ بی وائے سی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے کیسز کی دستاویز بندی کرتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو حکام کے پاس مقدمات درج کرانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

جبری گمشدگیاں

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے حال ہی میں اٹھائے گئے دو کیس بلوچستان کے لوگوں پر مسلط شدید ریاستی جبر کی واضح مثال ہیں۔

شہرام بلوچ گیشتاگان کا 38 سالہ چرواہا تھا،اسے 21 فروری کو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں نہنگ زموران سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ہفتوں تک اس کے اہل خانہ شدید اذیت میں رہے اور اس کی کوئی خبر نہیں ملی۔ تقریباً دو ماہ بعد اسے ہلاک کر دیا گیا اور اس کی موت کو پروم میں ”ایک مقابلے“میں ہونے والی ہلاکت کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جسے بلوچ یکجہتی کمیٹی اکثر غیر قانونی قتل اور حراستی تشدد کو چھپانے کے لیے استعمال ہونے والی کہانی قرار دیتی ہے۔

ذوالفقاربھی اسی علاقے کا ایک 47 سالہ چرواہا تھا۔ اسے بھی اسی دن بغیر کسی قانونی وارنٹ یا وضاحت کے لے جایا گیا۔ وہ مویشی پال کر روزی کماتا تھا اور کسی مسلح سرگرمی میں ملوث نہیں تھا۔اسے تلاش کرنے کی اہل خانہ کی بارہا کوششوں کے باوجود حکام نے کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ 16 اپریل کو اس کی لاش پروم میں ملی، اور اسے بھی سرکاری طور پر”ایک مقابلے“میں ہلاک قرار دیا گیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی ان ماورائے عدالت ہلاکتوں کی سخت مذمت کرتی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف فوری احتساب کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ تنظیم بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف دلائیں۔

کچھ کیسز میں جبری لاپتہ کیے گئے افراد کو بعد میں رہا بھی کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر رحیم بخش کو 2 مارچ کو اٹھایا گیا اور 6 اپریل کو رہا کردیا گیا۔

تاہم نئی جبری گمشدگیاں مسلسل جاری ہیں۔

سمی خود بھی 2016 میں پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں جبری لاپتہ کی گئیں، جب وہ صرف 17 سال کی تھیں۔ انہیں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 7دن تک حراست میں رکھا گیا، جہاں انہیں بدسلوکی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔انہیں خبردار کیا گیا کہ وہ انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنی مہم ترک کر دیں، جس کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔
دیگر نمایاں کارکنان، جن میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاجی بلوچ، بیبرگ زہری اور گلزادی بلوچ شامل ہیں،گزشتہ سال جبری گمشدگیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج پر کریک ڈاؤن کے بعد اب بھی حراست میں ہیں۔

نئی نسل

سمی بلوچ خواتین اور بچیوں کے حقوق، خصوصاً تعلیم تک رسائی کی کھل کر وکالت کرتی ہیں، اور وہ بلوچ جدوجہد میں سامنے آنے والی نئی نسل کی کئی نوجوان خواتین رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

سمی بلوچ کہتی ہیں کہ”نوجوان بلوچ خواتین رہنماؤں کا ابھار اچانک نہیں ہوا۔ یہ بلوچستان میں دہائیوں پر محیط مسلسل ریاستی جبر کا نتیجہ ہے۔سالوں تک بلوچ مرد،خاص طور پر سیاسی کارکن، طلبہ اور سماجی رہنما، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوجی کارروائیوں کا سامنا کرتے رہے۔ اس منظم نشانہ بنائے جانے نے خاندانوں اور تحریکوں کے اندر ایک خلا پیدا کر دیا۔جب والد، بھائی اور بیٹے اٹھا لیے گئے یا خاموش کرا دیے گئے، اور باقی بچے ہوئے مرد مستقل خوف کے سائے میں رہنے لگے، تو بلوچ خواتین کے پاس آگے بڑھنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہا۔“

سمی دین بلوچ کا کہنا تھا کہ جو ابتدا میں مجبوری کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب ایک”طاقتور سیاسی موجودگی“میں بدل چکا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ”خواتین اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنی عزت، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے بھی آواز بلند کی۔“

سمی کے مطابق خواتین طویل عرصے سے سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہی ہیں، مگر جب ریاستی کریک ڈاؤن مزید شدید ہوئے، تو وہ محض شرکت کرنے سے بڑھ کر قیادت کرنے کے مقام تک آگئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ”آج بلوچ خواتین جدوجہد کی صف اوّل میں ہیں۔وہ احتجاج، مارچ اور خطے کی تاریخ کے بڑے اجتماعات منظم کر رہی ہیں اور ان کی قیادت کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی ان کے تاریخی کردار کا تسلسل بھی ہے اور غیر معمولی حالات کا ردعمل بھی۔“

سمی کے مطابق اس وسیع ہوتے ہوئے سیاسی کردار نے انہیں ریاستی نشانے پر بھی لا کھڑا کیا ہے۔ اب خواتین بھی وہی جبر برداشت کر رہی ہیں جو پہلے زیادہ تر مردوں کے خلاف استعمال ہوتا تھا، جیسے گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، دھمکیاں اور گھڑ کر لگائے گئے مقدمات۔

ان کا کہنا ہے کہ ”اس سب کے باوجود، وہ(بلوچ خواتین) ڈٹی ہوئی ہیں۔ ان کی مزاحمت محض ہمت اور استقامت نہیں، بلکہ اپنے بنیادی حقوق اور اجتماعی وقار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان ہے۔“

زن، زندگی، آزادی

ایران میں چلنے والی جدوجہد اور کردوں کی”زن، زندگی، آزادی“تحریک کے اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر سمی بلوچ نے کہا کہ ان تحریکوں نے خطے کے مظلوم لوگوں پر”اخلاقی اور علامتی“اثر ضرور ڈالا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ”ان تحریکوں نے دکھایا ہے کہ خواتین صرف شریک نہیں ہوتیں بلکہ مزاحمت کے عین مرکز میں کھڑی ہو کر ریاستی جبر اور پدر شاہی دونوں کو ایک ساتھ چیلنج کر سکتی ہیں۔“

یہ نعرہ، جس کی جڑیں کرد خواتین کی تحریکوں میں ہیں، ایک ایسے تصور کی نمائندگی کرتا ہے جس میں عورت کی آزادی اجتماعی آزادی اور وقار سے جدا نہیں۔ یہ تصور ایسے معاشروں میں گہری گونج رکھتا ہے جیسے بلوچستان، جہاں خواتین نے بھی کثیرالجہتی سیاسی اور سماجی جبر کا سامنا کیا ہے۔

تاہم سمی نے زور دے کر کہا کہ بلوچ جدوجہد میں خواتین کی نمایاں شمولیت بیرونی اثر کا نتیجہ نہیں۔”یہ ہمارے اپنے زندہ تجربات، جبری گمشدگیوں، نقصان اور مسلسل مزاحمت سے جنم لینے والا عمل ہے۔“

وہ کہتی ہیں کہ ”ہماری خواتین کی قیادت میں چلنے والی تحریکیں یاد دلاتی ہیں کہ ہمت کئی صورتیں اختیار کر سکتی ہے، محض مسلح جدوجہد ہی نہیں، بلکہ سیاسی، سماجی اور فکری مزاحمت بھی ہمت کی صورت ہے۔سب سے شدید جبر میں بھی آوازیں اٹھ سکتی ہیں اور بیانیہ بدل سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”ہماری تحریکیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خواتین فیصلہ سازی، قیادت اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کا حصہ بن سکتی ہیں،استثنا کے طور پر نہیں، بلکہ برابر کی حیثیت سے۔ان کا کردار ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں مرکزی ہو گا جو انصاف، وقار اور شمولیت پر مبنی ہو، اورجہاں آنے والی نسلیں تشدد اور محرومی کے انہی چکروں کی وارث نہ بنیں۔“


(بشکریہ: ’گرین لیفٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: jeddojehad.com

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں