روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

بونیر سے سیلاب زدگان کا مولانا طارق جمیل کے نام خط

بونیر سے سیلاب زدگان کا مولانا طارق جمیل کے نام خط

فاروق سلہریا

مولانا صاحب، اسلام علیکم۔

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ہماری دعا ہے کہ سیلاب کے ریلے آپ کے علاقے سے بغیر کوئی نقصان پہنچائے گزر جائیں۔ ہم یہ خط کئی ہفتے پہلے لکھنا چاہتے تھے جب ہمارے ہاں سیلاب تباہی لایا تھا اور آپ نے اس بربادی کو ہمارے اعمال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے علاقے میں فحاشی کے اڈے کھلے ہوئے ہیں،اس لئے اللہ کا عذاب اتر رہا ہے۔

ان دنوں ہم جان بچاتے پھر رہے تھے۔ اپنوں کو دفنا رہے تھے۔سیلاب کے ہاتھوں شہید ہونے والوں میں بچے بھی تھے، خواتین اور بوڑھے بھی۔ ان کے کفن دفن کا انتظام، پس ماندگان اور سیلاب متاثرین کی مدد۔کتنے ہی کام تھے۔مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انسان دوستی کا وہ ثبوت دیا جو نہ تو آپ کے وعظ میں کبھی ملا نہ آپ کے کسی عمل میں۔

ممکن ہے آپ نے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے TJ کے مہنگے برانڈڈکپڑے ارسال کئے ہوں،ہمیں ویسے بونیر میں کسی کے بدن پر نظر نہیں آئے۔اوپر سے کبھی انٹرنیٹ بند تو کبھی بجلی نہیں تھی۔سو یہ خط لکھتے لکھتے دیر ہو گئی۔اتنے میں پنجاب کے کئی اضلاع سیلاب کی زد میں آ گئے۔ معلوم نہیں راوی میں ڈوب جانے والے علیم خان کے پارک وئیو بارے آپ کی رائے کیا ہے (یہ اللہ کا عذاب ہے یا علیم خان کا؟) لیکن ہم چاہتے تھے کہ بونیر بارے چند گزارشات آپ کے گوش گزار کر دیں۔

مولانا! ہمارے ضلع بونیر میں فحاشی کے اڈے تو پتہ نہیں ہیں بھی یا نہیں،مگر تبلیغی مرکز بہت زیادہ ہیں۔ہمارے ہاں تو لوگ ووٹ بھی آپ کی پسندیدہ جماعت پاکستان تحریک انصاف کو دیتے ہیں یا جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کو۔ کچھ عرصہ تو یہاں طالبان نے شریعت بھی نافذ کئے رکھی۔ پتہ نہیں کیوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پاک فوج نے شریعت لاگو کرنے والے طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کیا اور ان کی خلافت کا یہاں سے خاتمہ کر دیا حالانکہ ہماری معلومات کے مطابق پاک فوج بھی ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتی ہے اور بہت سے جرنیل و کرنیل ہر سال رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع میں کئی دہائیوں سے خشوع و خضوع کے ساتھ شریک ہورہے ہیں۔

نہ صرف ہمارے ہاں تبلیغی مرکز بہت زیادہ ہیں اور ہر سال ہزاروں لوگ رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع میں شریک ہوتے ہیں بلکہ یہاں بے شمار مدرسے بھی ہیں۔ان مدرسوں میں طالب علموں کے ساتھ جنسی تشدد کی خبریں بھی مسلسل آتی رہتی ہیں۔کیا وجہ ہے کہ فحاشی کے اڈوں پر تو آپ فوراََ عذاب کا فتویٰ جاری کر دیتے ہیں مگر مدرسوں میں ہونے والے طلبہ کے استحصال پر آپ نے کبھی لب کشائی نہیں کی؟نہ ہی ان مدرسوں میں ہونے والی فحاشی کی وجہ سے کوئی سیلاب آتا ہے نہ زلزلہ؟

ہمیں لگتا ہے کہ آپ کبھی بونیر آئے ہی نہیں۔ کم از کم حالیہ سالوں میں نہیں آئے۔ کبھی کینیڈا اور یورپ امریکہ کے دوروں سے فرصت ملے تو ہمارے ہاں تشریف لائیے گا۔ آپ کبھی آئے تو دیکھئے گا کہ ہمارے ہاں ہر طرف ماربل کی فیکٹریاں ہیں۔ کل 15 ہزار فیکٹریاں ہیں۔ان فیکٹریوں کے مالکان آئے روز بارود سے پہاڑ اڑاتے نظر آئیں گے۔ دوسری طرف،ان ماربل فیکٹریوں کی وجہ سے ہمارے چشموں کا پانی سفید ہو گیا ہے۔ ہر قسم کی آبی حیات ختم ہو چکی ہے۔ اور تو اور پرندے تک ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ رہی سہی کسر جنگلات کی کٹائی نے پوری کر دی ہے۔

سوچئے جہاں پہاڑوں کو روز بارود سے اڑایا جائے اور بڑے بڑے پتھر روز اپنی جگہ سے سرکتے ہوں،جنگلات ختم کئے جا رہے ہوں،پانی کے چشمے زہر آلود ہو چکے ہوں وہاں سیلاب نہیں آئیں گے تو کیا ہو گا۔ یہ سیلاب انسان کی لائی ہوئی تباہی ہے۔ اس انسان کی جو امیر ہے،طاقتور ہے اور اس امیر انسان کو ہماری ریاست کی سر پرستی اُسی طرح حاصل ہے جس طرح تبلیغی جماعت اور دیگر مذہبی جنونی قوتوں کو۔یوں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں لوگ سیلاب نہیں ریاستی نا اہلی، لاپرواہی اور عوام دشمنی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ضمنی طور پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ ماربل فیکٹریوں کے بہت سے مالک تبلیغی جماعت کو چندہ دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک بہت ہی مقبول سوشلسٹ سیاسی کارکن ہوا کرتے تھے، فانوس گجر مرحوم۔ انہوں نے سالوں پہلے عدالت میں مقدمہ لڑا کہ ماربل فیکٹریوں کو ریگولیٹ کیا جائے ورنہ بونیر تباہ ہو جائے گا۔اگر آپ کی تبلیغی جماعت کے لوگ بونیر کی مسجدوں میں سارا سال سالن پکانے اور استنجہ کرنے کی بجائے فانوس گجر کی طرح بونیر کے ماحول کو بچانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہوتے تو شائد سیلاب کا راستہ روکا جا سکتا تھا۔

ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ آپ نے ظالم (وہ ریاست ہو یا طالبان اور سرمایہ دار) کے جرم پر پردہ ڈالا ہے۔ بجائے ریاست کی نا اہلی،ناکامی اور لا پرواہی پر تنقید کرنے کے آپ نے ان معصوم بچوں کو مورد الزام ٹھرایا جو اس سیلاب میں بے موت مارے گئے۔ بجائے ماربل فیکٹریوں کے مالکان پر تنقید کرنے اور اس بے قابو صنعت کی ماحولیاتی تباہیوں پر بات کرنے کے،آپ نے ہمارے علاقے کی ان با پردہ بیبیوں کی لاشوں کو مورد الزام ٹہرایا جو کبھی بغیر چادر لئے گاوں تو کیا گھر سے بھی نہیں نکلی ہوں گی۔ ٹمبر مافیا پر تو آپ نے کوئی الزام نہیں لگایا لیکن ہلاک ہو جانے والے بے گناہ لوگوں کو گناہ گار قرار دے دیا۔

بات لمبی ہو جائے گی،ہم اس خط کے ذریعے صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اللہ کا عذاب مضافاتی ضلعوں پر ہی کیوں آتا ہے،جہلم،لاہور اور ملتان کو بچاے کے لئے تو شگاف ڈال دئے جاتے ہیں؟ یا قدرتی آفات میں ہمیشہ غریب ہی کیوں مرتے ہیں، ارب پتی کیوں بچ جاتے ہیں؟ کیا یہ اللہ کا عذاب ہے شکاگو بوائز کی شاک تھراپی؟

خیر اندیش

اہل ِبونیر

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں