روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

بھارت: آمدہ اسمبلی انتخابات اور جمہوریت کا دفاع کرنے والوں کے سامنے چیلنج

بھارت: آمدہ اسمبلی انتخابات اور جمہوریت کا دفاع کرنے والوں کے سامنے چیلنج

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ۔لیننسٹ) لبریشن

15 مارچ کو الیکشن کمیشن نے آسام، کیرالا، تمل ناڈو، پدوچیری اور مغربی بنگال کی اسمبلیوں کے انتخابی شیڈول کا اعلان کیا۔ آسام، کیرالا اور پدوچیری میں پولنگ 9 اپریل کو ہوگی، تمل ناڈو میں 23 اپریل کو، جبکہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کوپولنگ ہوگی ۔ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، جس کا مطلب یہ ہے کہ کیرالا، پدوچیری اور آسام کے عوام کو اپنے ووٹوں کی گنتی کے لیے تقریباً ایک مہینے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ جو لوگ اب بھی اس غلط فہمی میں ای وی ایم پر اعتماد کرتے ہیں کہ ای وی ایم کے ذریعے انتخابات میں ووٹوں کی تیز گنتی اور فوری نتائج ممکن ہوتے ہیں، انہیں ووٹنگ اور گنتی کے درمیان اس طویل وقفے پر غور کرنا چاہیے۔

نومبر 2024 کے بہار انتخابات کی طرح موجودہ مرحلے کے اسمبلی انتخابات سے قبل بھی ووٹر لسٹ میں خصوصی اور انتہائی سخت نظرثانی (ایس آئی آر)کی اخراج مہم چلائی گئی۔ ہر ریاست میں ایس آئی آر کے نتیجے میں ووٹروں کے بڑے پیمانے پر اخراج اور انتخابی فہرست کا سکڑاؤ سامنے آ رہا ہے۔ کیرالا میں یہ کمی سب سے کم ہے، لیکن یہاں بھی ووٹر لسٹ سے تقریباً 10لاکھ یعنی تین فیصد کے قریب ووٹروں کو نکال دیا گیا۔ اس کے برعکس تمل ناڈو میں 12 فیصد کی خوفناک کمی دیکھی گئی، جہاں 74 لاکھ نام حذف کر دیے گئے، اور ووٹر لسٹ 6 کروڑ20لاکھ سے گھٹ کر 5 کروڑ50لاکھ رہ گئی۔ مغربی بنگال میں اب تک 60لاکھ سے زیادہ ووٹر حذف کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 60لاکھ ووٹروں کا مستقبل ابھی ’زیر فیصلہ‘ ہے۔

درحقیقت ایس آئی آر کے مبہم، غیر شفاف اور من مانے عمل کی سب سے بہتر مثال مغربی بنگال ہے۔ جب 2002 کے بنیادی انتخابی رجسٹر سے ووٹروں کو دوبارہ جوڑ کر پہلی ڈرافٹ لسٹ شائع کی گئی، تو 58 لاکھ نام موت، مستقل نقل مکانی یا ڈپلیکیٹ انٹری کے بہانے سے نکال دیے گئے۔ تاہم اس ابتدائی مرحلے کے بعد جو کچھ شروع ہوا، وہ ووٹروں کی بڑے پیمانے پر ہراسانی اور جان بوجھ کر ٹارگٹڈ اخراج تھا۔ مالدہ اور مرشدآباد کی مسلم اکثریتی نشستوں میں، جہاں پہلے مرحلے میں صرف 2 فیصد ووٹر حذف ہوئے تھے، اب آدھی آبادی کے کیسز دوسرے مرحلے کے ممکنہ اخراج کے لیے زیر غور ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان ان 60لاکھ ووٹروں کو ایک طرف رکھ کر کر دیا گیا ہے، گویا ان کا ووٹ دینے کا حق کوئی اہمیت نہیں رکھتا، یا ان کے ووٹ ’جمہوریت کے تہوار‘ میں شمار ہی نہیں ہوتے۔ جن ووٹروں نے ایس آئی آر کی اس جارحانہ چھانٹی سے بچ کر ووٹر لسٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھی ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے مودی حکومت کو اس انتخابی جمہوریت پر حملے کا سخت ترین جواب دیں۔

چاروں ریاستوں میں سے فی الحال بی جے پی صرف آسام میں اقتدار میں ہے۔ آسام کے وزیراعلیٰ بی جے پی کے سب سے زہریلے نفرت پھیلانے والوں میں سے ایک کے طور پر سامنے آئے ہیں، جو اب کھلے عام آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ان کی حکومت میں آسام بے لگام کارپوریٹ لوٹ مار کے لیے چراگاہ بنا دیا گیا ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ انتخابات کے اعلان سے ذرا پہلے مودی حکومت نے تمل ناڈو کے متنازع گورنر این روی کو مغربی بنگال منتقل کر دیا، جنہیں سپریم کورٹ نے ان کے غیر آئینی اقدامات پر سخت تنبیہ کی تھی۔ اس اعلان کے فوراً بعد الیکشن کمیشن نے ریاست میں مکمل انتظامی کنٹرول سنبھالنے کے عمل کی شروعات کر دی۔ تمل ناڈو اور کیرالا میں، جہاں مستقبل قریب میں بی جے پی کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں، وہاں بھی مودی حکومت اور سنگھ بریگیڈ کی جارحیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔

جمہوریت اور آئین کے محافظوں کو اسمبلی انتخابات کو لازماً ایک اینٹی فاشسٹ سیاسی متحرک پلیٹ فارم کے طور پر اختیار کرنا چاہیے۔ یکم اپریل سے حکومت نئے مزدور قوانین نافذ کرنے جا رہی ہے، جو دراصل غلامی جیسے قوانین ہیں۔ کام کے اوقات میں اضافے کی کوششوں کے خلاف مزدوروں میں بے چینی کے آثار پہلے ہی ظاہر ہو چکے ہیں۔ 12 فروری کی عام ہڑتال کے ایجنڈے کو مشترکہ انتخابی ایجنڈا بنایا جانا چاہیے۔

امریکہ اوراسرائیل کی ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی جنگ کے تباہ کن اثرات بھارت میں پہلے ہی شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مودی حکومت کا امریکہ اسرائیل اتحاد کے سامنے جھک جانا نہ صرف بھارت کی خارجہ پالیسی پر ایک داغ ہے بلکہ یہ بھارت اور اس کے عوامی مفادات پر براہ راست حملہ ہے۔ کسان امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے شدید متاثر ہوں گے۔ بیرون ملک محنت کش مغربی ایشیا میں پھنسے ہوئے ہیں، اور ہر عام بھارتی شہری ایندھن کے بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ انتخابات کو ایک جنگ مخالف مہم کے پلیٹ فارم کے طور پر بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔

تمام انتخابی ریاستیں بھارت میں بائیں بازو کی تحریک کے مضبوط مراکز رہی ہیں۔ فوری انتخابی صورتحال اور نتائج سے آگے بڑھ کر ہمیں ان تمام ریاستوں میں کمیونسٹ تحریک کی جدوجہد کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ ان ریاستوں میں کوئی یکساں انتخابی اتحاد کا نمونہ موجود نہیں، لیکن انقلابی کمیونسٹوں کو ان انتخابات میں مداخلت کرنی چاہیے ،تاکہ عوامی تحریک کو مضبوط اور بھارت پر فاشسٹ گرفت کو کمزور کیا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت پہلی بار سی پی آئی (ایم ایل)مغربی بنگال میں سی پی آئی ایم اور لیفٹ فرنٹ کے ساتھ ریاست گیر انتخابی مفاہمت کرے گی۔ آسام میں پارٹی کی کانگریس کے ساتھ جزوی مفاہمت ہوگی، جبکہ تمل ناڈو، پدوچیری اور کیرالا میں پارٹی چند مخصوص حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور ساتھ ہی تمل ناڈو اور پدوچیری میں ڈی ایم کے کی قیادت والے اتحاد اور کیرالا میں ایل ڈی ایف کی عمومی حمایت کرے گی۔

عوام کے ووٹ کے حق کو چوری کرنے کی سازش کو شکست دیں

دو مرحلوں پر مشتمل مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا عمل مکمل ہونے کے قریب ہے، اور ان انتخابات کے لیے ووٹر لسٹ کو اب ’منجمد‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتخابی جمہوریت بھی گویا گہری منجمد حالت میں ڈال دی گئی ہے،جیسا کہ ہم اسے 1952 کے پہلے عام انتخابات سے جانتے آئے ہیں ۔

اب تک کئی ریاستیں اس تکلیف دہ تجربے سے گزر چکی ہیں، جسے الیکشن کمیشن آف انڈیا ایس ٓئی آر( اسپیشل انٹینسیو ریویژن آف الیکٹورل رول )کہتا ہے۔ انتخابی فہرست کو مکمل طور پر درست بنانے کے نام پر بہار، اتر پردیش، تمل ناڈو، کیرالا اور مغربی بنگال میں لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ اس کارروائی میں فوت شدہ ووٹروں، ایک سے زیادہ اندراج رکھنے والوں، یا مستقل طور پر اپنی اصل رہائش گاہ سے منتقل ہونے والوں کے نام نکالنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ جب ایس آئی آرپورے بھارت میں نافذ ہو جائے گا، تو دنیا شاید تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی تطہیر کا مشاہدہ کرے گی۔

تمام ریاستوں میں ووٹروں کے ناموں کے اخراج کا پیمانہ بہت بڑا ہے، لیکن مغربی بنگال میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ واقعی حیران کن ہے ۔ لاکھوں ووٹروں کا حق رائے دہی بغیر کسی قصور کے معطل کر دیا گیا ہے۔ مغربی بنگال میں ابتدائی اخراج کا پیمانہ تقریباً وہی تھا جو ہم نے بہار میں دیکھا تھا۔ 7 کروڑ 60 لاکھ کے پری ایس آئی آر ووٹرز میں سے 58 لاکھ نام حذف کر دیے گئے۔ تاہم اس کے بعد جو عمل شروع ہوا وہ عوامی ہراسانی اور مخصوص گروہوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے اخراج کا ایک بے مثال سلسلہ ثابت ہوا۔

مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن نے ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ (عقلی تضاد) کے نام پر مزید اضافی فلٹرز لگائے۔ بغیر آزمائے ہوئے سافٹ ویئر اور اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایسے تقریباً ڈیڑھ کروڑ کیسز شناخت کیے ہیں، جنہیں بعد میں کم کر کے تقریباً ایک کروڑ تک لایا گیا۔ ان تمام ووٹروں کو سماعت میں حاضر ہونے اور اضافی دستاویزات جمع کروانے کے لیے کہا گیا۔ اس کے بعد مزید 5لاکھ نام حذف کر دیے گئے اور 60 لاکھ ووٹروں کوعدالتی جانچ کے لیے بھیج دیا گیا۔ یوں انتخابی فہرست کو حتمی شکل دینے کا کام خاموشی سے ایک عدالتی مشق بن گیا۔

ان 60لاکھ ووٹروں کی عدالتی جانچ کے نتیجے میں اخراج کی شرح حد سے زیادہ بلند ، یعنی تقریباً 45 فیصدرہی۔تاہم صرف پیمانہ ہی نہیں، بلکہ اس عمل کی سب سے زیادہ قابل مذمت بات مسلمانوں کا انتہائی غیر متناسب اخراج ہے۔ مسلم اکثریتی اضلاع جیسے مرشدآباد اور مالدہ کے کچھ حلقوں میں، جہاں ابتدائی اخراج کی شرح صرف 2 سے 5 فیصد تھی، وہ اچانک 10 سے 20گنا بڑھ کر 40 سے 50 فیصد تک پہنچ گئی۔

یہ رجحان ان اضلاع میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے جہاں مسلم آبادی اوسط سطح پر ہے۔ مثال کے طور پر نندی گرام کے حلقے کو دیکھیں ، یہ وہی حلقہ ہے جہاں 2021 میں ممتا بینرجی کو اسمبلی میں اس وقت کے قائد حزب اختلاف سوویندو ادھیکاری کے ہاتھوں حیران کن شکست ہوئی تھی۔ نندی گرام میں مسلم آبادی تقریباً 25 فیصد ہے۔ دسمبر کے آخر میں شائع ہونے والی پہلی ایس آئی آر لسٹ میں 10ہزار604 نام حذف کیے گئے، جن میں مسلمانوں کا تناسب 33.3 فیصد تھا ، یعنی ہر تین میں سے ایک۔ اب اضافی 2ہزار826 ووٹروں کی حذف شدہ فہرست میں مسلمانوں کی تعداد 2ہزار700 ہے، یعنی مزید خارج شدہ ووٹروں کا حیران کن 95.5 فیصد مسلمان ہیں۔اے ایل ٹی نیوزنے کولکتہ کی دو اسمبلی نشستوں ، ممتا بینرجی کی موجودہ نشست بھبانی پور اور بالی گنج ، کے تفصیلی جائزے میں اسی طرح کے رجحانات کی نشاندہی کی ہے۔

جب ایڈجیوڈیکیشن (عدالتی جانچ) کا مسئلہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو جج صاحبان نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرہ ووٹروں کے لیے ایک اور فورم اور اصلاح کا راستہ موجود ہے ، یعنی ٹریبونل۔ بتایا گیا کہ عدالتی جانچ کے ذریعے خارج کیے گئے ووٹروں کی اپیلوں کی سماعت کے لیے 19ٹریبونل قائم کیے جائیں گے۔ بات سننے میں مناسب لگتی تھی، مگر عملی طور پر یہ ٹریبونل کاغذوں میں ہی موجود ہیں۔ جب ابھی تک ٹریبونل باقاعدہ کام شروع ہی نہیں کر سکے، تو پھر 27 لاکھ خارج کیے گئے وہ ووٹر،جو زندہ بھی ہیں اور دستاویزی طور پر ثابت شدہ بھی ، انتخابات سے پہلے انصاف کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ اب عدالت صرف یہ تسلی دیتی ہے کہ اگر اپیلیں منظور ہو گئیں تو یہ ووٹر ’’آئندہ‘‘ انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے۔

انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ اگر کسی شہری کے ووٹ کے حق کو الیکشن کمیشن اور عدلیہ کی مشترکہ کاررَوائی کے طریقہ کار اور پیچیدگیوں کی وجہ سے معطل کر دیا جائے، تو یہ ایک اہل ووٹر کی موثر طور پر حق رائے دہی سے محرومی ہے۔ جب لاکھوں ووٹر باہر کر دیے جائیں تو پورا انتخاب ہی غیر منصفانہ اور بدنما ہو جاتا ہے۔ عدالتی جانچ اور تصدیق کو موخر کیا جا سکتا ہے، لیکن بالغ رائے دہی کے عالمگیر اصول کو نہ موخر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کمزور۔

جب ایس آئی آرکا آغاز کیا گیا تھا، تو نعرہ تھا کہ ’کوئی بھی اہل ووٹر باہر نہیں رہ جائے گا‘۔تاہم آج جب 27 لاکھ وہ ووٹر ، جنہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا ، اب اپنے حق سے محروم کر دیے گئے ہیں، تو اہلیت کے اصول کو پوری طرح الٹ دیا گیا ہے۔ مغربی بنگال میں اب ووٹ شہریوں کا بنیادی حق نہیں رہا، بلکہ ایک ’امتیازی رعایت‘ یا’قسمت‘ کی بات بن چکا ہے۔ لاکھوں ووٹروں کا حق رائے دہی چھین کر کروائے گئے انتخابات واضح طور پر ایک دھوکہ ہیں ، اور یہ دھوکہ انتخابی فہرست کے سب سے بنیادی مرحلے پر برپا کیا گیا ہے۔

ہم اس دھوکے کا مقابلہ کیسے کریں؟بہت سے لوگ یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ایسے جعلی اور غیرآئینی انتخاب میں حصہ لینا، اس پورے عمل کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔ تاہم کیا ایک علامتی بائیکاٹ کوئی موثر سیاسی جواب فراہم کر سکتا ہے؟ یا اس سے میدان قابضوں کے لیے اور زیادہ کھل جائے گا؟

نوٹ بندی سے لے کر انتخابی بانڈز (جنہیں سپریم کورٹ نے اب غیرآئینی قرار دیا)، اور پھر سی اے اے اورایس آئی آر تک، مودی حکومت کے ہر بڑے قدم میں منطق کی کمی اور کھلی تفریق موجود رہی ہے۔ شہری جب ان بگڑے اور مسخ شدہ عوامل میں شرکت پر مجبور ہوتے ہیں، تو وہ نہ تو ان غلطیوں کو جائز قرار دیتے ہیں، نہ ہی انصاف کے خلاف اپنی جدوجہد ترک کرتے ہیں۔

مغربی بنگال میں ایس آئی آر پورے عمل اور بحث کا ایک بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ بات اب ناقابل تردید ہے کہ مغربی بنگال میں اقتدار پر قابض ہونے کے لیے بی جے پی نے انتخابی نظام کی بنیادوں پر ایک بہت بڑے حملے کا آغاز کیا ہے، اور انتخابی مہم کو سیدھے طور پر اسی ایس آئی آر یلغار کے خلاف منظم کیا جانا چاہیے۔جو لوگ ووٹروں کی تطہیر کرکے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، انہیں ایک بھرپور سیاسی جواب دینا ہوگا۔

(بشکریہ:’لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں