سوشوان دھر
12 فروری 2026 کو پورے بھارت میں لاکھوں مزدوروں نے مرکزی ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کی اپیل پر ملک گیر عام ہڑتال میں حصہ لیا۔ محض شرکت کے پیمانے سے دیکھا جائے تو یہ ہڑتال جدید بھارت میں بڑے صنعتی احتجاج کی ایک مانوس روایت کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
تاہم سیاسی طور پر اس کی اہمیت کہیں اور تھی۔ یہ ہڑتال اس وقت ہوئی جب محنت کش طبقے کے تعلقات کو منظم کرنے والا ادارہ جاتی ڈھانچہ فیصلہ کن تبدیلی سے گزر چکا تھا، اور قانونی، معاشی اور نظریاتی دباؤ اس حد تک مجتمع ہو گئے تھے کہ اجتماعی مزدورہ جدوجہد کے لیے دستیاب جگہ تیزی سے سکڑ چکی تھی۔
گزشتہ تین دہائیوں میں بھارت میں نجکاری، مالیاتی توسیع، اور عالمی پیداواری نیٹ ورکس میں گہری شمولیت کے ذریعے سرمائے کے ارتکاز میں اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی پالیسیوں میں بتدریج ایسی سمت اختیار کی گئی جو مسابقت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
لیبر مارکیٹ میں لچک کے استحکام نے جمہوری دائرے کے سکڑنے کے ساتھ زیادہ مطابقت پیدا کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی ڈھانچے میں تبدیلی اور اقتدار کا آمرانہ مرکزیت اختیار کرنا دو متوازی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مضبوط کرنے والے عمل ہیں۔اسی پس منظر میں 12 فروری کی ہڑتال محض کام روکے جانے سے زیادہ اہم سیاسی مفہوم رکھتی ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی سیاسی و قانونی دشواریوں کے درمیان مزدور طبقے کی اجتماعی قوت ارادی کے اظہار کی کوشش تھی۔
حالیہ برسوں میں مختلف محنت کش مقدمات کے دوران عدالتی ریمارکس میں سرمایہ کاری کے ماحول اور معاشی کارکردگی کے بارے میں تشویش نمایاں طور پر سامنے آئی ہے،جس میں منظم مزدوروں کو بالواسطہ طور پر ترقی میں رکاوٹ کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ رویہ اس قدیم عدالتی فکر سے ٹکراتا ہے جو مزدور کی عظمت اور سماجی انصاف پر زور دیتی تھی۔اسی اثناء میں میڈیا کے بڑے حصے مسلسل مزدور حقوق اور اجتماعی بارگیننگ کو ریگولیٹری بوجھ کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور لچک کو ترقی کا مترادف بنا کر دکھاتے ہیں۔ یوں ایک ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جو لیبرکی لچک کے جواز کو معاشرے میں مضبوط کرتا ہے۔
اس تناظر میں گزشتہ سال نومبر کے آخر میں چاروں لیبر کوڈز کے نافذ ہونے کے اعلان کو کسی اچانک پالیسی موڑ کی بجائے پہلے سے ابھرتی ہوئی سرمایہ دارانہ سمت کے مستحکم ہونے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔وقت کے ساتھ محنت کشوں کو حاصل پروٹیکشنز کسی ایک بڑے جھٹکے سے نہیں بلکہ انتظامی نوٹیفکیشنز، عدالتی تعبیرات اور ریگولیٹری کمزوریوں کے سلسلے کے ذریعے بتدریج کمزور کی گئیں۔لیبر کوڈز ان منتشر تبدیلیوں کو ایک متحد قانونی ڈھانچے میں سمو دیتے ہیں۔ یہ اس سمت کو باقاعدہ قانونی جواز فراہم کرتے ہیں جو عرصے سے پالیسی اور عملی سطح پر خاموشی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
کام کی جگہوں پر طاقت کے توازن کو دوبارہ متعین کرنے والی شقوں میں ہڑتال کو عملاًمزید مشکل بنانا،برطرفیوں کیلئے پیشگی منظوری کی شرائط کو سخت کرنا ،مختلف شعبوں میں مقررہ مدت ملازمت کو قانونی جواز دینا، اوریونین کی شناخت کے اصولوں میں تبدیلی جیسی شقیں شامل ہیں۔
یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں لائی گئی ہیں جب ملک میں بے روزگاری بلند سطح پر ہے اور ان فارملائزیشن (غیر مستقل روزگار)وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ اس کے نتیجے میں انتظامیہ اختیارات وسیع ہو رہے ہیں اور مزدوروں کی بارگین پاورپہلے ہی دباؤ میں ہے۔
اسی لئے یہ عام ہڑتال صرف صنعتی مذاکرات کا روایتی حربہ نہیں رہی، بلکہ ایسے قانونی ماحول کے خلاف ایک سیاسی اقدام کی صورت اختیار کر گئی،جو مسلسل جکڑ بندہو رہا ہے۔جب اجتماعی کارروائی پر قانونی رکاوٹیں روز بروز بڑھ رہی ہوں اور سزا کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہو، تو ہڑتال کرنے والے مزدور محض معاشی مطالبات کے لیے نہیں نکلے، بلکہ ان جمہوری حقوق کے لیے بھی نکلے ہیں جو خود محدود کیے جا رہے ہیں۔
یہ ہڑتال بھارت کی مزدورتاریخ کی بعض سابقہ شاندار ہڑتالوں جتنی نمایاں نہ سہی، لیکن وقت کے لحاظ سے ناگزیر اور سیاسی طور پر نہایت معنی خیز تھی۔ اس نے یہ اشارہ دیا کہ منفی قانونی ڈھانچوں اور ادارہ جاتی مخالفت کے باوجود، مزدور طبقے کے کچھ حصے اب بھی اجتماعی طاقت کا اظہار کر سکتے ہیں۔
مطالبات، اتحاد اور سماجی تشکیل
مشترکہ پلیٹ فارم نے چار بنیادی مطالبات پیش کیے:(1) چاروں لیبر کوڈز اور ان کے قواعد کو منسوخ کرنا،(2) دیہی روزگار گارنٹی پر اثر انداز ہونے والی پالیسیوں کی واپسی اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (MGNREGA)کی بحالی اور توسیع،(3) الیکٹرسٹی ترمیمی بل اور ڈرافٹ سیڈز بل کو واپس لینا،اور(4) کم از کم اجرت، پنشن، غیرمستقل روزگار اور نجکاری کے خاتمے کے بارے میں اقدامات۔
ہڑتال کوسامیوکتاکسان مورچہ (ایس کے ایم) کی کسان یونینوں، زرعی مزدور تنظیموں، خواتین کی تنظیموں، طلبہ گروہوں اور نوجوانوں کے اتحاد کی حمایت حاصل تھی،جس نے مزدورکسان اتحاد کی ایک واضح جھلک پیش کی۔
یہ ہڑتال چیف جسٹس سوریا کانت کے 29 جنوری کے ان عدالتی ریمارکس کے فوراً بعد بھی ہوئی، جن میں ٹریڈ یونینوں کو صنعتی سست روی اور سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کی ایک وجہ کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔ یہ ریمارکس فوراً ہی ہڑتال کے تناظر میں سیاسی مخالفت کا موضوع بن گئے۔ٹریڈ یونینوں نے اس کا جواب آئین کے آرٹیکل 19(1)(c) کا حوالہ دیتے ہوئے دیا،جو انجمن سازی کا بنیادی حق دیتا ہے،اور یہ بھی یاد دلایا کہ کم از کم اجرت کا تعین ایک قانونی اور آئینی ذمہ داری ہے، روزگار پیدا کرنے میں رکاوٹ نہیں ہے۔
ہڑتال میں معیشت کے مختلف شعبوں نے شرکت کی۔کوئلہ، اسٹیل، انجینئرنگ اور آٹو مینوفیکچرنگ کے مزدوروں نے کام روک کر احتجاج کیا۔ بینکنگ اور انشورنس کے کچھ حصوں نے بھی ہڑتال میں شرکت کی۔بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے شعبوں سمیت مختلف توانائی خدمات میں مختلف سطحوں پر کام بند رہا۔ڈاک کے ملازمین اور سرکاری محکموں کے بعض حصوں نے بھی حصہ لیا۔ایک نمایاں شرکت سکیم ورکرز (یعنی وہ کارکن جو حکومتی فلاحی یا ترقیاتی اسکیموں میں کام کرتے ہیں ،مگر مستقل سرکاری ملازمین کی حیثیت نہیں رکھتے) کی تھی۔اس کے علاوہ بیڑی مزدور، تعمیراتی مزدور، اور غیر رسمی شعبوں کے بے شمار کارکن شریک ہوئے،جو منظم صنعتوں سے آگے بڑھ کر وسیع ترموبلائزیشن کی نشاندہی کرتا ہے۔
غیر رسمی شعبوں کی خواتین محنت کش سڑک اور ریل روکو مظاہروں میں نمایاں طور پر موجود تھیں۔طلبہ اور نوجوان تنظیمیں روزگار کے مطالبات اور پبلک ایجوکیشن کے دفاع میں ان مظاہروں میں شامل ہوئیں۔
آئی ٹی شعبے میں کم یونین کوریج کے باعث مکمل شٹ ڈاؤن تو ممکن نہ ہو سکا، لیکن ابھرنے والی نئی تنظیموں،جیسے IT/ITeS ملازمین کی یونینوں نے بڑے شہروں میں قابل ذکر شرکت دکھائی۔
پیداوار میں خلل ڈالنا: پابندیوں کے باوجود تنظیم سازی
بڑی صنعتی ریاستوں کرناٹک، تامل ناڈو، مہاراشٹر، مغربی بنگال، کیرالہ، تلنگانہ اور شمالی بھارت کے کئی حصوں میں یونینوں کی جانب سے مختلف درجوں کی پیداوار بندش کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
12 فروری کی ہڑتال کی حکمت عملی صنعتی خطوں میں اس کی نمایاں خصوصیت تھی۔ کئی ریاستوں میں مزدور سورج نکلنے سے پہلے جمع ہو گئے تاکہ صبح سویرے پکٹ لائنیں قائم کر سکیں،اور فیکٹریوں کی جانب جانے والی ٹرانسپورٹ کو روک کر کمپنیوں کی بسوں میں سوار مزدوروں کو ہڑتال میں شامل ہونے پر آمادہ کریں۔کئی صنعتی گیٹس پر یونین کے ارکان بڑی تعداد میں جمع ہوئے، وہ انتظامیہ پر زور ڈالتے رہے کہ اس دن کے لیے کام بند رکھا جائے۔
بہت سے علاقوں میں مزدور اہم شاہراہوں، بڑے چوکوں اور ان سڑکوں پر جمع ہوئے جو صنعتی زونز کو جوڑتی ہیں،جس کے نتیجے میں مال کی ترسیل اور کمپنیوں کی ٹرانسپورٹ سست یا عارضی طور پر بند ہوئی۔ یہ اقدامات کسی ایک فیکٹری تک محدود نہیں تھے بلکہ پورے صنعتی بیلٹس میں کیے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یونینوں نے پہلے سے منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کی تاکہ ہڑتال حقیقی طور پر پیداوار اور ترسیل میں خلل ڈال سکے۔
کئی علاقوں میں مستقل مزدوروں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا، جبکہ کنٹریکٹ مزدور اکثر ایسے دباؤ کا شکار رہے جس نے ان کی مکمل شرکت کو محدود کر دیا۔ یہ بھارت کی محنت کش قوت کی گہری ساختی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پیداواری شعبے آٹوموبائل، انجینئرنگ، الیکٹرانکس اور دواسازی تھے۔ انشورنس اور بینکنگ خدمات جزوی طور پر متاثر ہوئیں۔ کان کن علاقوں میں مختلف مقامات پر سڑکوں کی بندش رپورٹ ہوئی۔
یونینوں نے یہ دکھایا کہ وہ بالواسطہ طور پر سپلائی چین پر منحصر صنعتوں میں پیداوار کے بہاؤ میں نمایاں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، چاہے وہ مکمل شٹ ڈاؤن نہ بھی کرا سکیں۔لہٰذا 12 فروری کی ہڑتال کا مفہوم صرف شرکت کے پیمانے یا وقتی پیداوار بندش تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے بھارتی سرمایہ داری کے موجودہ مرحلے کے بارے میں بڑی حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ایسے وقت میں جب ارتکازکا انحصار مزدوروں کی لچک، بکھرے روزگار کے تعلقات اور اجتماعی بارگیننگ کے کمزور ہونے پر بڑھتا جا رہا ہو، تو مربوط اور محدود نوعیت کی کام بندش بھی زیادہ سیاسی معنی رکھتی ہے۔
ہڑتال نے موجودہ مرحلے کے بنیادی تضاد کو آشکار کیا ہے۔ ایک طرف سرمایہ داری عالمی پیداوار ی نیٹ ورکس میں ضم، منقسم اور تابع دار افرادی قوت چاہتی ہے، اور دوسری طرف اجتماعی تنظیم کی دوبارہ واپسی اس منصوبے میں رکاوٹ بنتی رہتی ہے۔
لیبر کوڈز اور کام کی جگہ پر طاقت کی دوبارہ تنظیم
2019-20 میں چار لیبر کوڈز کی منظوری اور 2025 کے آخر میں ان کے نفاذ کے بعد سے ملک میں 6 ملک گیر عام ہڑتالیں ہو چکی ہیں۔ بے شمار ٹریڈ یونینوں کا موقف ہے کہ یہ چاروں لیبر کوڈز مجموعی طور پر کام کی جگہ پر طاقت کے توازن کو آجر کے حق میں دوبارہ ترتیب دیتے ہیں۔یہ کوڈز ہڑتال کے حق کو بھی موثر طور پر محدود کرتے ہیں،کیونکہ لازمی نوٹس کی شرط مصالحتی کارروائی کو خودکار طور پر شروع کر دیتی ہے، جس سے ہڑتال عملی طور پر مشکل بنا دی جاتی ہے۔
برطرفیوں، ملازمتوں میں کمی اور فیکٹری بندش کے لیے سرکاری پیشگی منظوری کی لازمی حد 100 سے بڑھا کر 300 مزدور کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اکثریتی فیکٹریاں ریگولیٹری نگرانی سے باہر ہو جاتی ہیں۔بغیر موثر تحفظ کے مقررہ مدت ملازمت کی باضابطہ قانونی حیثیت روزگار کی غیر یقینی صورتحال کو ادارہ جاتی شکل دیتی ہے۔اسی طرح’’ورکر‘‘ کی تعریف کو محدود اور ازسرنو ترتیب دینے سے سپروائزری اور تکنیکی عملے کے بڑے حصے صنعتی تنازعات میں پروٹیکشنز سے باہر ہو جاتے ہیں۔ساتھ ہی حکومت نے کئی سنگین لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں کوکمپاؤنڈیبل بنا دیا ہے،جس کا مطلب ہے کہ فوجداری ذمہ داری کو کم کر کے مالی جرمانے تک محدود کیا جا رہا ہے۔یونینیں یہ بھی کہتی ہیں کہ یونین رجسٹریشن، شناخت اور مالیاتی کام کاج پر سخت کنٹرول نے آزاد تنظیم سازی کو مزید محدود کر دیا ہے۔
آخر میں اگرچہ حکومت شمولیت کی بات کرتی ہے، لیکن گیگ اور پلیٹ فارم ورکرز اب بھی رسمی روزگار کی شناخت سے محروم ہیں، اور انہیں حقوق پر مبنی پروٹیکشنز کی بجائے محض فلاحی اسکیموں تک محدود رکھا گیا ہے۔
ڈرافٹ نیشنل لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ پالیسی (شرم شکتی نیتی 2025) نے تشویش کو بڑھا دیا ہے،کیونکہ یہ ریاست کو حقوق کی ضامن سے بدل کر محض’’روزگار پیدا کرنے میں سہولت کار‘‘ کے طور پر پیش کرتی ہے۔
صنعتی بحران اور الزامات کی سیاست
عدالتی ریمارکس میں مزدور یونینوں کو صنعتوں کی بندش کا ذمہ دار ٹھہرانے کے خلاف احتجاج اس ہڑتال کا مرکزی نکتہ بن گیا۔ دراصل لیبر بیورو کا ڈیٹا اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ ٹریڈ یونینوں کی لڑاکا سرگرمی صنعتی زوال کا باعث بنی ہے۔2006 سے 2014 کے درمیان صنعتی تنازعات کی سالانہ اوسط تعداد 354 تھی، جو 2015 سے 2023 کے درمیان کم ہو کر صرف 76 رہ گئی۔ اسی طرح ہڑتالوں اور تالہ بندیوں کے باعث ضائع ہونے والے مزدوروں کام کے ایام میں بھی ڈرامائی کمی آئی۔ 2006 میں یہ تعداد 2 کروڑ 3 لاکھ تھی، جو 2023 میں گھٹ کر صرف 3 لاکھ 40 ہزار رہ گئی۔
مزید یہ کہ وزارت کارپوریٹ امور کے پارلیمانی ڈیٹا کے مطابق 2020-21 سے 2024-25 کے دوران 2 لاکھ 4 ہزار سے زائد نجی کمپنیاں بند ہوئیں، اور یہ رجحان مزدوروں کی مزاحمت کی بجائے مارکیٹ کے دباؤ، مالیاتی تنظیم نو، اور دیوالیہ پن سے جڑا ہوا ہے۔
حالیہ برسوں میں صنعتی دباؤ کو زیادہ تر ساختی معاشی جھٹکوں سے جوڑا گیا ہے، نہ کہ مزدور طبقے کی کسی مزاحمتی کارروائی سے۔ڈی مونیٹائزیشن (نوٹ بندی)اورعجلت میں نافذ کردہ جی ایس ٹی نے سپلائی چین، ورکنگ کیپیٹل اور خاص طور پر چھوٹے و درمیانی درجے کے اداروں کے کاروباری چکر کو شدید نقصان پہنچایا۔ کم مارجن پر چلنے والے چھوٹے کاروباری اداروں کا بحران مزید گہرا ہوا کیونکہ قرضوں کی سخت شرائط، ادائیگیوں میں تاخیر، اور مالیاتی دباؤ بڑھ گیا۔
اسی دوران بڑی کارپوریشنوں کے بھاری قرضوں اور دیوالیہ پن کی بڑھتی کارروائیوں نے یہ واضح کیا کہ اصل کمزوریاں پیداواری بحران کی بجائے مالیاتی سرمائے کی بے اعتدالی میں ہیں۔ مزید یہ کہ مالیاتی اور سٹے باز سرمائے کے بڑھتے ہوئے کردار نے وسائل کو پیداواری شعبوں سے ہٹا کر غیر پیداواری منافع کی طرف موڑ دیا ہے۔ان تمام عوامل کی بنیاد کمزور مقامی کھپت ہے، جس کی بڑی وجہ جمود زدہ اجرتیں اور بڑھتی بیروزگاری ہیں۔ یہ عناصر ٹریڈ یونین سرگرمی کی نسبت صنعتی توسیع کو کہیں زیادہ محدود کرتے ہیں ۔
عدم مساوات، ریاستی طاقت اور جمہوری فضا
یہ ہڑتال ایسے وقت میں ہوئی جب معاشی عدم مساوات میں تشویشناک اضافہ ہو چکا ہے۔ ورلڈ ان ایکوالیٹی لیب (2024) کے مطابق ملک کی آمدنی کا 22.6فیصد اورقومی دولت کا 40.1فیصدصرف امیر ترین1 فیصد کے پاس ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔اس کے برعکس ملک کی نچلی نصف آبادی مجموعی آمدنی کا صرف 15فیصد حاصل کرتی ہے۔
نوجوانوں میں بیروزگاری مسلسل شدید ہے۔ مستقل ملازمتیں سکڑ رہی ہیں، جبکہ غیر مستقل، کنٹریکچول اور غیر رسمی روزگار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حالات میں مزدور قوانین کوئی بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ طاقت کے ارتکاز کے مقابلے میں ایک توازن فراہم کرتے ہیں۔ موجودہ معیشت میں یہ قوانین ایک حفاظتی دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ اس معیشت کی نمایاں خصوصیات دولت کا شدید ارتکاز اور روزگار کا بگڑتا ہوا تحفظ ہیں ۔
کئی ریاستوں میں پولیس نے احتجاجی مظاہروں پر پابندیاں لگائیں اور مظاہرین کو حراست میں لیا۔ متعدد شہروں میں پیشگی گرفتاریوں، رکاوٹوں، اور جلسوں کی اجازت نہ دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کچھ ریاستوں میں، جہاں اپوزیشن حکومت میں ہے، وہاں ایک طرف ان مزدور قوانین پر تنقید کی گئی، اور دوسری طرف انہی قوانین کے اطلاق کے لیے ڈرافٹ رولز آگے بڑھائے گئے، جو سیاسی منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔
احتجاج سے نمٹنے کے طریقہ کار نے شہری آزادیوں، جمہوری حقوق، اور منظم مزدور تحریک کے لیے سکڑتی ہوئی جگہ پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
12 فروری نے کیا واضح کیا؟
یہ ہڑتال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بھارتی محنت کش طبقہ تمام تر تقسیم، بکھراؤ اور مسلسل قانونی پابندیوں کے باوجود اب بھی قومی سطح پر مربوط اجتماعی عمل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کئی اہم معاشی و صنعتی شعبوں میں اس ہڑتال نے واضح اور محسوس ہونے والا اثر ڈالا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پیداوار کے کلیدی مراکز پر مزدوروں کی اسٹریٹجک طاقت ابھی ختم نہیں ہوئی۔مزدور یونینوں اور کسان تنظیموں کا نظر آنے والا اتحاد مزدورکسان یکجہتی کی ایک نئی شکل کے طور پر ابھرا، جو ہڑتال کو محض شہری صنعتی دائرے تک محدود رکھنے کی بجائے دیہی اورشہری رشتوں تک لے گیا۔
خواتین محنت کشوں اور غیر رسمی و اسکیم پر مبنی ملازمتوں میں کام کرنے والوں کی نمایاں موجودگی نے محنت کش طبقے کی بدلتی ہوئی سماجی تشکیل کو واضح کیا۔اس دوران کنٹریکچول اور غیر مستقل محنت کشوں کی غیر ہموار شمولیت نے اس ساختی تقسیم کو بھی آشکار کیا جو دہائیوں سے مستقل ملازمتوں میں کمی اور ٹھیکیداری نظام نے پیدا کی ہے۔
لہٰذا اس ہڑتال کو ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑی کشمکش کے ابتدائی اظہار کے طور پر سمجھا جانا چاہیے ۔ ایک ایسی کشمکش جو معاشی بحران کے گہرا ہونے اور مزدور قوت کی ازسر نو تشکیل کے ساتھ مزید شدت اختیار کرے گی۔ یہ کشمکش محنت کشوں اور ایک ایسی ریاست کے درمیان پرانا اور ابھی نامکمل ٹکراؤ ہے جو دن بدن کارپوریٹ طاقت سے زیادہ ہم آہنگ ہوتی جا رہی ہے۔
معاشی بحران بڑھ رہا ہے،عدم مساوات تیزی سے وسیع ہو رہی ہے،نوجوانوں میں بیروزگاری برقرار ہے،غیر مستقل اور غیر محفوظ روزگار میں اضافہ ہو رہا ہے،اور اس سب کے باوجود مزدور حقوق مسلسل کمزور کیے جا رہے ہیں۔ یہ تضاد محض عارضی نہیں بلکہ ساختی ہے۔
رسمی احتجاج سے آگے
یہ ہڑتال موجودہ ٹریڈ یونین تحریک کی اسٹریٹجک حدود کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ دہائیوں سے بیوروکریٹائزڈ یونین ڈھانچے عام ہڑتالوں کو اکثر رسمی احتجاج کے طور پر برتتے آئے ہیں، نہ کہ بطور ایک ایسا لمحہ جو طبقاتی طاقت کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہو۔جدوجہد کے ارتقا کی عدم موجودگی میں مسلسل تکرار اسے محض علامتی کارروائی بنا دیتی ہے،اور صرف عوامی تحریک کے بل بوتے پر مگر تنظیمی گہرائی کے بغیر کی گئی سرگرمی جلد بکھر جانے کا خطرہ رکھتی ہے۔
اگر مزدور قوانین دہائیوں کی نیولبرل یلغار کا نقطہ عروج ہیں تو پھر مزاحمت وقتی یا ردعمل کی بنیاد پر نہیں رہ سکتی۔ہمیں مستقل اور کنٹریکٹ مزدوروں کے درمیان خلیج ختم کرنا ہوگی،رسمی اور غیر رسمی شعبوں کے درمیان دراڑوں کو پر کرنا ہوگا،دیہی اور شہری محنت کشوں کی جدوجہد کو ایک ساتھ جوڑنا ہوگا،اور اس ہڑتال میں نظر آنے والی مزدورکسان یکجہتی کو مستقل ادارہ جاتی شکل دینا ہوگی، بجائے اس کے کہ اسے صرف ایک خوش کن واقعہ سمجھ کر نہ گزار دیں۔اسی طرح گیگ ،پلیٹ فارم محنت کشوں اور آئی ٹی سیکٹر کے ملازمین کو طبقاتی حکمت عملی کے مرکزی دھارے میں لانا ہوگا، نہ کہ انہیں حاشیے کے گروہ سمجھ کر نظرانداز کیا جائے۔
سخت گیر دائیں بازو کی سیاست کا ابھار محنت کش طبقے کی اسی بکھری ہوئی اور غیر منظم حالت سے جڑا ہوا ہے۔آمریت پسند حکمرانی وہاں پھلتی پھولتی ہے جہاں مزدور طبقہ تقسیم شدہ ہو،مایوس ہو،یا تنظیمی طور پر کھوکھلا ہو۔ٹریڈ یونینوں پر تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض دفاعی احتجاج سے آگے بڑھ کر خود کو جمہوری طبقاتی جدوجہد کے اوزار کے طور پر ازسرنو قائم کریں۔
12 فروری ایک غیر اہم حاشیے کا نوٹ بنتا ہے یا ایک فیصلہ کن موڑ، یہ بسوں کے رک جانے یا کارخانوں کے بند ہونے کی تعداد پر نہیں، بلکہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آگے کیا ہوگا ہے۔ ایسے ممکنات حقیقت بن سکتے ہیں یا نہیں، یہ محض وقفے وقفے سے کی جانے والی موبلائزیشنز پر کم اور اس بات پر زیادہ منحصر ہوگا کہ محنت کشوں کی تحریک کس حد تک ان حالات میں پائیدار اور دیرپا تنظیمی ڈھانچے دوبارہ تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو حالات اجتماعی سیاست کے لیے مسلسل دشمنانہ بنتے جا رہے ہیں۔
(بشکریہ:’لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)