فاروق سلہریا
(نوٹ: یہ مضمون ‘مزدور جدوجہد’ میگزین میں اپریل2007ء میں شائع ہوا تھا۔ آج ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ‘جدوجہد’ کے قارئین کے لیے اسے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس مضمون کو 2007ء سے پہلے کے حالات کے مطابق ہی پڑھا جائے۔)
بھٹو!
بھٹو محض ایک نام نہیں۔
بھٹو ایک نعرہ ہے!
ایک استعارہ ہے!
ایک لیجنڈ ہے!
ایک ٹریجڈی ہے!
عوام نے بھٹو سے ٹوٹ کر عشق کیا۔
خواص نے بھٹو کو جان سے مار ڈالا۔
بھٹو نے کسان کو سر اٹھانے پر اکسایا گو وہ خود جاگیردار تھا۔
بھٹو نے مزدور کو ہڑتال اور انقلاب کے رستے پر گامزن کیا گو حکومت میں آ کر مزدوروں پر گولیاں چلائیں۔
بھٹو نے صنعتوں کو قومی ملکیت میں لے کر سرمایہ داروں کی نیندیں حرام کر دیں اور زرعی اصلاحات سے جاگیرداروں کو خوفزدہ کر دیا مگر مگر مگر۔۔۔۔۔۔۔
بھٹو سیکولر تھا مگر بھٹو نے فرقہ احمدیہ کو سرکاری طور پر غیر مسلم قرار دے کر ریاست پر مذہب کی بالادستی قائم کی۔
بھٹو سندھی تھا لیکن بلوچستان پر فوج کشی کی۔
بھٹو خود کو سوشلسٹ کہتا مگر مولویوں کو خوش کرتا رہا اور نیپ والوں سے لڑتا رہا۔
بھٹو پارٹی کارکنوں کی بہت عزت کرتا لیکن جلسہ عام میں تالپور خاندانوں کے بڑوں کو ہاتھ کے اشارے کرتے ہوئے ‘ان کی تو میں بہن کو۔۔۔۔’کی گالی دے دیتا اور اپنے ہی پارٹی رہنماؤں کو دلائی کیمپ بھیج دیتا ہے۔
بھٹو نے جمعہ کی چھٹی اور شراب پر پابندی لگائی لیکن خود بھرے جلسوں میں کہتا پھرا کہ ہاں پیتا ہوں لیکن عوام کا خون تو نہیں پیتا۔
بھٹو بظاہر تضادات کا مجموعہ تھا۔
ایسا نہیں کہ عوام کو بھٹو کے تضادات سمجھ نہیں آرہے تھے۔ عوام ایسے بھولے تو کبھی بھی واقع نہیں ہوئے۔ انہوں نے جب بھی سیاسی فیصلے کیے حیران کن حد تک صحیح فیصلے کیے۔
بھٹو سے محبت عوام کی سرمایہ داری، فوجی آمریت، جاگیرداری اور سامراج سے نفرت کا اظہار تھی۔
بھٹو اس نفرت کا سمبل تھا۔ استعارہ تھا۔
آج جب ایک ٹیلی فون کال پر 20سالہ افغان پالیسی بدل جاتی ہے اور خاکی سرکار داڑھی منڈا کر سیکولرازم کا بگل بجانے لگتی ہے!
آج جب ہیوی مینڈیٹ والے رہنما دم دبا کر دیار غیر میں جاکر اسرائیلی مشینری سے فیکٹریاں لگا کر کاروبار کر رہے ہیں!
آج جب پاکستانی فوجیں عراق میں بھیجنے کی بات ہو رہی ہے!
آج جب اسرائیلی کو تسلیم کرنے پر بحث چل رہی ہے!
ایسے میں تصور کیجیے ایک ایسے مقبول عام منتخب رہنما کا ،جو قومی اسمبلی میں کھڑا ہو کر سفید ہاتھی کو للکارتا ہے اور پکارتا ہے: ‘جینٹل مین۔ دی پارٹی از ناٹ اوور!!’
ذرا سوچئے! ایک ایسے وزیراعظم بارے جو معافی کی درخواست کرنے کی بجائے سر اٹھا کر پھانسی گھاٹ کی طرف چل پڑا۔
ذرا سوچئے! ایک ایسا لیڈر جو اسرائیل کی عربوں پر جارحیت کو روکنے کے لیے پاکستانی فوج کو شام بھیج دیتا ہے۔
آج جب ملک میں ایک مرتبہ پھر مسلط فوجی آمریت کے پاکستان میں امریکی اڈے قائم ہیں، بھٹو کے ہاتھوں چت ہونے والے ملاں دو صوبوں میں حکومت اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن چلا رہے ہیں۔ بھٹو کی اپنی بنائی ہوئی پارٹی جاگیرداروں کا کلب بن چکی ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ بھٹو، بھٹو کی پھانسی اور اس عہد کا تجزیہ کیا جائے۔ نئے سرے سے بھٹو کو دریافت کیا جائے۔ یہ کام پیپلزپارٹی نہیں کرے گی۔
پیپلزپارٹی نے بھٹو کا بت بنا دیا ہے۔ جس رہنما کے بت بنا دیے جائیں اس کی تعلیمات بھلا دی جاتی ہیں۔ بت تراشوں کی خاص کر یہ کوشش ہوتی ہے کہ بت بنائے گئے نیتا کی تعلیمات عوام کی پہنچ سے باہر رہیں۔
لہٰذا بھٹو کو از سر نو دریافت کرنے، اس کے عہد کو سمجھنے اور اس سے سبق سیکھنے کا کام ان قوتوں کو کرنا ہوگا جو اس ملک سے جاگیرداری، سرمایہ داری، فوجی آمریت، ملائیت اور سامراج کی بالادستی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ آئیے بھٹو کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
انقلابی بھٹو
برسراقتدار آتے ہی بھٹونے پاکستان کے معروف (یا بدنام کہہ لیجئے!) 22خاندانوں کو کاری ضرب لگانے کا اعلان کیا۔ابھی اقتدار سنبھالے چند دن ہی ہوئے تھے کہ یکم جنوری1972ء کو بھٹو نے نیشنلائزیشن اینڈ اکنامک ریفارمز آرڈر لاگو کر دیا۔ 22خاندانوں کے بعض کرتے دھرتے گرفتار کر لیے گئے اور بعض کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا گیا۔
یہ لمحہ یقینا جذبات،توقعات اور جوش وخروش سے بھرپور لمحہ ہوگا جب 2جنوری1972ء کو بھٹو کے وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہوگا: ‘سوموار تک تمام بنک ایک گروپ کی ملکیت تھے۔ اب وہ عوام کی ملکیت ہیں۔’
کچھ دیر کے لیے تو طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور عام سپاہیوں کو لگا ہوگا کہ وہ دن آگیا ہے کہ ‘جب تاج گرائے جائیں جب تخت اچھالے جائیں گے۔’ بہت سے تاج اور تخت تو وہ خود 1970ء کے انتخابات میں ہی گرا چکے تھے۔ جو تاج بچے تھے وہ پی پی پی کی چھتری تلے پناہ لے کر بچے تھے۔
22ناخداؤں کو پولیس کی حراست میں دیکھ کر بھی تو دل کی دھڑکنیں تیز ہوئی ہوں گی!
قومی ملکیت میں لینے کا دوسرا مرحلہ یکم جنوری 1974ء کو شروع ہوا۔
دکھوں، ناکامیوں اور مایوسیوں کے مارے پاکستانی عوام کے لیے یہ یقینا فخر کا لمحہ ہوگا۔ ان کے ووٹ اور ان کے نام پر بننے والی پہلی حکومت نے صدر بھٹو کی قیادت 31بڑے کاروباری کھاتوں کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا، جن میں اسٹیل اینڈ آئرن انڈسٹری، میٹل، ہیوی انجینئرنگ، ہیوی الیکٹریکل موٹر گاڑیاں اور ٹریکٹر، کیمیکل انڈسٹری، پیٹرو کیمیکل انڈسٹری، سیمنٹ، پبلک یوٹیلٹی، پور جنریشن، گیس کی ترسیل اور آئل ریفائنریز، اس کے علاوہ 13بنک ، دو درجن انشورنس کمپنیاں، دو پیٹرولیم کمپنیاں اور 10شپنگ کمپنیاں بھی قومی ملکیت میں لی گئیں۔ یکم جولائی1976کو پھر صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان ہوا۔ جننگ ، کاٹن اور رائس ملیں قومی ملکیت میں لی گئیں۔
1972ء میں زرعی اصلاحات کا اعلان ہوا۔ زمین کی حد 150ایکڑ(بارانی زمین کی صورت300ایکڑ) مقرر کی گئی۔ 7جنوری1977ء کو زرعی اصلاحات کے دوسرے مرحلے کا اعلان ہوا۔ حد ملکیت 150ایکڑ سے کم کرتے ہوئے100ایکڑ (بارانی زمین کی صورت200ایکڑ) کر دی گئی۔
پاکستان میں پہلی بار مزدوروں کے عالمی دن یوم مئی پر چھٹی کا اعلان بھی بھٹو دور میں ہوا۔ بھٹونے کامن ویلتھ اور اسٹیو ایسی تنظیموں سے علیحدگی اختیار کر لی۔
10فروری1972میں بھٹو نے لیبر پالیسی کا اعلان کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ نمبر میں ٹریڈ یونین رجسٹر ہوئیں۔
طالبعلموں کے لیے تعلیمی اصلاحات کی گئیں۔ امراء کے لیے مختص تعلیمی اداروں سے طبقاتی نسل پرستی کا خاتمہ کرتے ہوئے بعض اداروں کو قومی ملکیت میں لے لیا گیا۔ ایک اہم سہولت یہ دی گئی کہ طلبہ رعایتی نرخوں پر سفر کر سکتے تھے، جس کے باعث دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں طلبہ کو کالج تک پہنچنے کا موقع ملا۔
خواتین کے لیے قومی اسمبلی میں 25سال کے لیے ایک کوٹہ مقرر کیا گیا اور یوں قانون ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا۔ یہ کوٹہ25سال کے لیے مقرر کیا گیا تھا اور توقع تھی کہ 25سال بعد خواتین بغیر کوٹہ کے بھی قومی اسمبلی یا قانون ساز اداروں تک پہنچ سکیں گی۔
ردِ انقلابی بھٹو
جو صنعتی قومی ملکیت میں لی گئیں، انہیں مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دینے کی بجائے بیوروکریسی کے حوالے کر دیا گیا اور یوں نیشنلائزیشن محض بیوروکریٹائزیشن بن کر رہ گئی۔ ہاں البتہ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ قومی اثاثو ں کی نجکاری کر دی جائے، جیسا کہ بعد کی حکومتوں(بشمول پی پی پی کی بینظیر حکومتوں) نے کیا۔
قومی ملکیت میں لیے جانے والے عمل اور الیکشن سے قبل بھٹو حکومت نے جو نعرے لگائے تھے، اس کانتیجہ تھا کہ مزدور اپنے مطالبات منوانے کے لیے آئے روز ہڑتالیں کر رہے تھے۔ مزدور طبقے کو اپنی طاقت کا یقین تھا۔ انہوں نے چند سال قبل ایک آمر کو بھگایا تھا۔ پھر1970ء کے الیکشن میں انہوں نے پرچی کی طاقت سے بڑے بڑے برج الٹ دیے تھے۔ بھٹو حکومت اگر انقلابی اعلانات اور بیانات جاری کر رہی تھی تو اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ملک میں انقلابی فضا تھی۔ مزدور اپنے مطالبات منوانے کے لیے براہ راست انقلابی اقدامات کر رہے تھے۔ یہ سب تو نظام کو بدل دینے کی علامات تھیں۔ نظام کو کلی طور پر بدل دینا بھٹو کا ایجنڈا نہ تھا۔ بھٹو کا آئیڈل سوشل ڈیموکریٹک والے برانڈ تھے، نہ کے ولادی میر لینن، چے گویرا اور ماؤ، چاہے بھٹوکو ماؤ طرز کے کپڑے پہننے کا شوق تھا۔ مزدور طبقے کی بڑھتی ہوئی سرکشی کو کچلنے کے لیے بھٹو نے پہلا پیغام یہ دیا کہ جون1972ء میں لانڈھی کراچی میں فیروز سلطان ٹیکسٹائل ملز کے ہڑتالی مزدوروں پر پولیس نے گولی چلا دی۔ گولی چلنے کے نتیجے میں مزدور ہلاک ہوئے، تاہم ان کی تعداد معلوم نہیں۔ مزدوروں نے پورے سندھ میں 11دن تک ہڑتال کی۔ جی ہاں! 11دن!! حکومت سندھ نے سہ فریقی (مزدور، مالک، حکومت) کانفرنس بھلائی۔
اکتوبر1972میں لانڈھی ایک مرتبہ پھر خون مزدور سے بھٹو کی پولیس کے ہاتھوں سرخ ہوا۔ اب کی بار مزدور ہڑتال پر تھے۔ ہڑتال بھی ایک حکومتی ادارے کے ٹول ورکرز نے کی تھی۔ ہڑتال توڑنے کے لیے بھٹو حکومت نے پولیس استعمال کی۔ ہڑتال سے یکجہتی کے لیے لانڈھی کی باقی ملوں اور فیکٹریوں میں بھی ہڑتال ہوئی۔ایک کا دکھ سب کا دکھ والا نعرہ اپنی عملی شکل میں ظہور پذیر ہو رہا تھا۔ دو فیکٹریوں پر مزدوروں کا قبضہ ہوا تو حکومت خوفزدہ ہو کر مزید جبر پر اتر آئی۔ ہڑتالی رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے کمانڈو ایکشن ہوا، جس کے خلاف لانڈھی میں ایک روزہ عام ہڑتال ہوئی۔ گولی چلی اور 2مزدور شہید ہو گئے۔ مزدوروں کو سرکشی سے باز رکھنے کے لیے ایک عمل یہ ہوا کہ مزدور قیات کو بدعنوان بنایا گیا۔ اگر ہڑتالیں مزدوروں کی بغاوت اور سرکشی کو ناپنے کا پیمانہ ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ 1972ء میں مزدوروں نے 779ہڑتالیں کیں، جبکہ 1976میں یہ تعداد81رہ گئی تھی۔
زرعی اصلاحات کا بھی یہی حال ہوا۔ اول تو یہ کہ حد ملکیت فی فرد کے حساب سے مقرر ہوئی نہ کہ فی خاندان، لہٰذا مشترکہ خاندانی نظام کے باعث وڈیروں نے بیوی بچوں کے نام زمین منتقل کرا لی اور اگر تھوڑی زمین ان کے ہاتھ سے نکلی تو ایسی زمین جو زیادہ فصل آور نہ تھی۔
دوم، محض حد ملکیت لگا دینے سے پاکستان میں جاگیرداری ختم نہیں ہو سکتی۔ جب تک جاگیردار، ہاری والے تعلقات موجود رہیں گے اور پیداواری تعلقات تبدیل نہیں ہوتے، تب تک اقتصادی، معاشی اور سیاسی لحاظ سے جاگیرداری کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ زمین پر ملکیت کامطلب ہے کہ جاگیردارکا ذرائع پیداوار(یعنی زمین) پر کنٹرول ہے۔ لہٰذا روزگار دینا اس کے ہاتھ میں ہے، گویا بے روزگار طبقہ(ہاری، مزارع) اس کی مٹھی میں ہے۔ یوں جاگیردار دیہات سے باہر کی دنیا(سیاسی، شہر، منڈی) پر حاوی ہو جاتا ہے۔ بھٹو کی زرعی اصلاحات نے چونکہ پیداواری تعلقات کو نہیں چھیڑا تھا، لہٰذا جاگیرداروں کی ملی بھگت اور سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے زرعی اصلاحات مذاق بن کر رہ گئیں۔ ان اصلاحات کے بے معنی ہونے کا اندازہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے:
واگزار ہونے والا رقبہ: 2کروڑ82لاکھ64ہزار ایکٹر
جو رقبہ تقسیم ہو سکا: 12لاکھ23ہزار ایکڑ
گویا کل واگزار ہونے والی زمین کا محض2.5فیصد مزارعوں اور بے زمین کسانوں میں تقسیم ہو سکا۔ محض 1لاکھ19ہزار182خاندان ان اصلاحات سے مستفید ہو سکے، جو کل کھیت مزدور ہاری/بے زمین کسان طبقے کا 9.2فیصد تھے۔
گویا یہ اجالا بھی داغ داغ تھا! یہ سحر بھی شب گزیدہ تھی۔ جس کا انتظار تھا، بھٹو وہ سحر نہ تھے۔
تو پھر بھٹو کیا تھا؟ انقلاب؟ ردِ انقلابی؟
بھٹو اس معنی میں انقلابی تھا کہ اس نے امریکی سامراج سے ٹکر لیتے ہوئے انقلابی ریت کے مطابق انقلابی انداز میں پھانسی گھاٹ کا سفر کیا۔ وہ بکا ، نہ جھکا۔ بھٹو کا یہ عمل تیسری دنیا کے کسی انقلابی قوم پرست رہنما کی مانند تھا۔
ہاں مگر وہ طبقاتی اور سیاسی لحاظ سے انقلابی نہ تھا۔ وہ مزدور ، کسان طبقے کا انقلابی نہ تھا۔ بھٹو بوناپارٹسٹ تھا۔ وہ پاپولسٹ تھا۔ بھٹو کے حقیقی کردار کو پاکستان کے اکثر سیاسی نیتاؤں اور دانشوروں کی نسبت پاکستان کے شاعروں نے زیادہ بہتر طورپر سمجھا۔
بوناپارٹسٹ بھٹو اور انقلابی دامن
یہ کوئی واحد مثال نہیں ہے کہ ایک سیاسی عمل کو فیض احمد فیض، حبیب جالب اور استاد دامن نے پارٹیون کے سیکرٹری جنرلوں کی نسبت بہتر سمجھا۔ پھر یہ عمل پاکستان تک ہی محدود نہیں رہا۔ وہ لاطینی امریکہ کا پابلو نیرودا تھا، یا عرب دنیا کا نظار قبانی، شاعرانہ وجدان سیاسی دانش مندوں سے زیادہ ایڈوانس ثابت ہوا۔ بھٹو کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ اس کے بونا پارٹسٹ اور پاپولسٹ کردار کو استاد دامن نے بروقت سمجھا اور پنجابی ادب کو ایک خوبصورت منظوم سیاسی خاکے سے لیس کیا، جس میں بھٹو کے بونا پارٹسٹ اور پاپولسٹ کردار کی زبردست عکس بندی کی گئی:
اینہوں پتہ کوئی نہیں، ایہنے کیہہ کہنا اے؟
کیہ کچھ کہہ جاندا اے، جدوں کہن لگدا اے
ایتھے گنجا کبوتر وی آکھدا اے میں
اوہ چن نہیں جنہوں گرہن لگدا اے
پیرزادے نومستیاں آوندیاں نیں
بھٹو سوہنا منڈا جدوں کہن لگدا اے
ملاں وسکی اودوں بھر کے جام دیندا اے
جدوں پیندیاں پیندیا ایہ ڈھن لگدا اے
ایہہ آپ وی تاڑیاں ماردا اے
ایہدے خلاف جدوں رولا پیہن لگدا اے
ایہہ بولدا بولدا ٹری جاندا اے
اودوں اٹھ بہندا، جدوں بیہن لگدا اے
بھٹو کے اس کردار کو خاص کر بایاں بازو بروقت سمجھنے میں ناکام رہا۔
بایاں بازو اور بھٹو
پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد نیشنل عوامی پارٹی(بھاشانی) نے اپنی قوتوں کو سوشلسٹ پارٹی کے نام سے سی آر اسلم کی قیادت میں منظم کیا۔ بھاشانی گروپ سے علیحدہ ہونے والا ایک اہم حصہ افضل بنگش اور میجر اسحاق کی قیادت میں مزدور کسان پارٹی کے نام سے کام کر رہا تھا، جبکہ کمیونسٹ پارٹی نیپ میں ‘بھاشانی ولی’ دھڑے بندی (1963-64) کے بعد سے نیپ ولی میں کام کر رہی تھی۔
1976ء میں کمیونسٹ پارٹی پہلی دفعہ اپنی کانگریس سرزمین پاکستان پر منعقد کرنے میں کامیاب ہو سکی۔ اسے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی دوسری کانگریس قرار دیا گیا۔ اس کانگریس کے ڈاکومنٹ میں گو بھٹو حکومت کی بابت خاصہ درست تجزیہ کیا گیا تھا، لیکن حکمت عملی کے حوالے سے زیر زمین کام جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ سی پی کے بھٹو حکومت کی طرف رویے کا انحصار اس بات پر تھا کہ بھٹو کا ماسکو سے کیا تعلق ہے؟
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والا ایک رجحان وہ تھا، جس کی نمائندگی معراج محمد خان کر رہے تھے۔ سابق طالبعلم رہنما اور این ایس ایف کے مرکزی صدر معراج محمد خان پیپلزپارٹی میں شامل ہو ئے اور بھٹو نے انہیں وزارت سے بھی نوازا۔ ایک زمانے میں وہ بھٹو کے جانشین بھی کہلاتے تھے۔ جب بھٹو حکومت نے لانڈھی میں مزدوروں پر گولی چلائی تو معراج محمد خان نے استعفیٰ دے دیا(آج کے سیاسی دیوالیہ پن کے عہد میں اس اقدام کو دیکھا جائے تو یہ انتہائی قابل ستائش عمل دکھائی دے گا)۔ انہوں نے سیاسی جماعت ‘قومی محاذ آزادی’ بنائی اور بھٹو حکومت کی سرتوڑ مخالفت میں سرگرم ہو گئے۔
بابائے سوشلزم شیخ رشید کی قیادت میں کام کرنے والا دھڑا پیپلزپارٹی کے اندر ہی مختلف سمجھوتے بازیا کرتا رہا۔
گویا بائیں بازو کے مختلف رجحانات تھے اور سب کا رجحان بھٹو حکومت کی طرف مختلف تھا۔ ایک طرف وہ دھڑے تھے جو بھٹو کی حمایت میں تھے اور دوسری طرف ایسے بھی رجحانات تھے، جو بھٹو کو فاشسٹ قرار دے رہے تھے۔
بھٹو کو بھی بائیں بازو کی فرسٹریشن کے بارے میں خوب اندازہ تھا۔ لہٰذا ایک دفعہ اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ‘‘آج پاکستان میں جو لوگ غصے سے بھرے ہوئے ہیں وہ کمیونسٹ ہیں، کیونکہ اسلامی سوشلزم کے ذریعے میں نے کمیونزم کا راستہ روک دیا ہے۔۔۔۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایشیا میں کمیونزم کا راستہ روکنے کے لیے تمام تر ذرائع اور دنیا کے اس حصے میں رقم خرچ کر کے اتنا امریکہ نے نہیں کیا، جتنا کمیونزم کے خلاف میں نے کیا ہے۔’’
بھٹو کے اس کردار کو تو بائیں بازو نے کافی حد تک درست طور پر سمجھ لیا تھا کہ بھٹو نے انقلاب کو پنکچر کرنے میں کردار ادا کیا ہے، لیکن ایک طرف تو بایاں بازو بھٹو کے خلاف چلنے والی رائٹ ونگ تحریک میں درست کردار ادا کرنے میں ناکام رہا، دوسری طرف بائیں بازو کا ایک حصہ بھٹو کو بھی سامراج کا ایجنٹ سمجھتا رہا اور اس تضاد کو نہ سمجھ سکا جو بھٹو اور امریکی سامراج کے مابین جنم لے چکا تھا۔
اس دور میں بائیں بازو کا ایک اپاہج پن یہ بھی تھا کہ کسی بھی حکومت کی طرف رویہ معروضی حالات کی بجائے ماسکو اور بیجنگ کی ہدایات کی روشنی میں اپنایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف جب بھٹو 1967-70کے عرصے میں حزب اختلاف کی آواز بن کر مزدور، کسان طبقے کی آواز بن کر ابھرے تو بایاں بازو بائی پاس ہو گیا، جبکہ اپنے زوال کے وقت جب بھٹو کو رائٹ ونگ رجعتی تحریک کا سامنا تھا، تو بایاں بازو ایک مرتبہ پھر یا تو بدعملی کا شکار تھا، یا صف بندی میں غلط جانب کھڑا تھا۔ ایسا نہیں کہ سارا بایاں بازو ایک طرح سوچ رہا تھا یا کر رہا تھا، مگر بڑے رجحانات کا کردار آج ضرور زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ بائیں بازو کے پاس بھٹو دور میں کام کرنے کا ایک اچھا موقع ہاتھ آیا تھا۔ ملک میں پہلی بار کافی حد تک کھل کر کام کرنے کا موقع تھا۔ سیاسی کلچر تبدیل ہوا تھا اور اس تبدیلی نے کئی نئے محاذ کھولے تھے، جن پر بایاں بازو کھل کر کام کر سکتا تھا۔ ان محاذوں میں ایک محاذ ثقافت کا بھی تھا۔
بھٹو اور ثقافتی سرگرمیاں
بھٹو نے 1967-68میں سامنے آنے والی انقلابی تحریک میں مقبولیت حاصل کی تھی۔ جب محنت کش طبقے میں بیداری تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات محض سیاست تک مرتب نہیں ہوتے۔ معاشرے کا ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ گو بھٹو کے حوالے سے صرف یہی Clicheبار بار دہرایا جاتا ہے کہ بھٹو نے سیاسی کلچر کو تبدیل کر دیا۔ جلسے جلوسوں کو نیا رنگ مل گیا۔ بھٹو کا عوامی سوٹ بھی بہت مقبول ہوا، وغیرہ وغیرہ۔
بھٹو دور میں البتہ چند اہم ثقافتی نوعیت کے اقدامات بھی سامنے آئے، جن پر عموماً پردہ ڈال دیا جاتا ہے، یا اسے ہماری عمومی جہالت کہیے کہ ثقافت پر بحث عام عوام نہیں چند دانشوروں کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
بھٹو دور کا ایک اہم ثقافتی حاصل تو یہ تھا کہ پہلی بار ملک میں ثقافتی پالیسی لکھی گئی، جس کا اصل سہرا عظیم انقلابی شاعر اور دانشور فیض احمد فیض کے سر ہے، جنہیں ذوالفقار علی بھٹو نے وزارت ثقافت میں مشیر متعین کر دیا تھا۔ فیض احمد فیض نے علاقائی کلچر کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے اور قومی سطح پر بھی ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے منصوبے شروع کرائے۔ اس ضمن میں ایک اہم پیش رفت لاہور میں الحمراء کا قیام ہے۔ الحمراء کا قیام درحقیقت پاکستان میں ایک طرح سے ماڈرن تھیٹر کی بنیاد ثابت ہوا۔
اس عہد کی ایک اہم پیش رفت صوبائی زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینا تھا۔ گو سندھ میں اس عمل کے نتیجے میں فسادات بھی ہوئے اور رائٹ ونگ حلقوں نے اردو کے نام پر قومی شاؤنزم اور چھوٹے صوبوں کے حقوق کی نفی میں آواز اٹھائی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات واضح ہوتی گئی کہ یہ اقدام کس قدر ضروری تھا۔
سرکاری سطح پر ثقافتی حوالے سے ایک اور اہم پیش رفت نیف ڈیک کا قیام تھا۔ اس ادارے نے گو سفید ہاتھی کی شکل اختیار کر لی اور بعد ازاں اپنے بنیادی مقصد سے پہلو تہی کرتے ہوئے خود فلم بنائی لیکن یہ بات بہر حال قابل توجہ ہے کہ فلمی دنیا کی ترویج و ترقی کے لیے ایک سنجیدہ اقدام اٹھایا گیا۔ نیف ڈیک کی طرز کے ادارے سکینڈے نیویا میں پائے جاتے ہیں جو ثقافتی میدان میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ نیف ڈیک اگر اپنا کردار مناسب طور پر نہیں نبھا رہا تو اس کا احتساب اور اصلاح ہونی چاہیے تھی، لیکن ثقافت سے پاکستان کے مذہب دوست حکمرانوں کو خطرہ رہتا ہے، لہٰذا نیف ڈیک کا قصہ ہی ختم کر دیا گیا۔
گو بھٹو دور میں بھی نومولود نیف ڈیک کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہ دے سکا، البتہ بھٹو دور میں پاکستانی فلم انڈسٹری نے اپنے مختصر سے عروج کا دور دیکھا۔ یہ وہ دور تھا جب ایک طرف حسن طارق نے امراؤ جان ادا (بعد ازاں اس فلم کو بھارت نے دومرتبہ بنایا) ایسی فلم کو پیش کیا، وہاں ٹریڈ یونین کے موضوع پر ‘مٹی کے دیے’(مرکزی کردار ندیم نے ادا کیا اور اس فلم کو ماسکو فلمی میلے میں ایوارڈ ملا) ایسی فلم بھی بنی۔ انسان اور گدھا، ایسی سیاسی فلم(مرکزی کردار رنگیلا، ہدایت کار کمال) بھی سامنے آئی۔ منٹو کے افسانے‘ممی’ کو بھی اسی دور میں ‘ایک گناہ اور سہی’ کی فلمی شکل دی گئی۔
یہ درست ہے کہ عمومی موضوعات روایتی ڈگر پر ہی چلتے رہے، لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھٹو عہد میں ‘خان چاچا’ بنی جو پنجابی کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم تھی، جبکہ سلطان راہی کی ‘بشیرا’ نے کراچی حیدرآباد سرکٹ میں بھی پنجابی فلموں کے رجحان کا آغاز کر دیا۔ اسی طرح ‘آئینہ’ (ندیم ، شبنم) بنی جو 401ہفتے چلی اور ا س قدر کامیاب ہوئی کہ گولڈن جوبلی، ڈائمنڈ جوبلی جیسی اصطلاحات بھی کم پرگئیں۔
فلمی صنعت میں ترقی کے رجحانات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ‘گاڈ فادر’ کو اگر بمبئی میں بنایا گیا تو اس کو ‘ان داتا’ کے نام سے پاکستان میں بھی بنانے کی کوشش ہوئی۔
‘ان داتا’ نے جہاں نام نہاد ایکشن فلموں کو فروغ دیا، وہاں منور ظریف اور رنگیلا کامیڈی ہیرو کے طورپر متعارف ہوئے۔ اگر منور ظریف کی فلم ‘نوکر ووہٹی دا’ کو بھارت میں بھی (نوکر بیوی کا، مرکزی کردار دھرمیندر) اپنایاگیا، وہاں رنگیلا کی ‘دو رنگیلے’ نے پلاٹینم جوبلی کی۔
آج جب ہر نئی آنے والی فلم کسی بدمعاش کے نام سے بن رہی ہے ، تو 70کی دہائی میں بننے والی اکثر فلموں کے نام گویا کوئی مدھر گیت لگتے ہیں۔ ‘جب جب پھول کھلے’، ‘میرا نام ہے محبت’، ‘پھول میرے گلشن’، ‘تم سلامت رہو’، ‘شمع’، ‘ثریا بھوپالی’۔۔۔۔ ایسی فلمی بھی بنیں(خطرناک، خانزادہ) جن پر فحاشی کے الزام لگے۔ اس بات کو بہر حال اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ فلم انڈسٹری کو کام کرنے کا موقع مل رہا تھا۔ ایک انتہائی اہم بات یہ کہ تین سرائیکی، 20سندھی اور38پشتو، جبکہ واحد انگریزی فلم(جو نیف ڈیک نے بنائی) بھی اسی دور میں سامنے آئیں۔
اسی طرح پاکستان ٹیلی ویژن نے بھی اپنی تاریخ کے یادگار ڈرامے پیش کیے۔ ‘اکڑ بکڑ’، ‘شمع’، ‘گپ شپ’، ‘ایک محبت سو افسانے’، ‘انکل عرفی’۔
گو بھٹو دور میں قومی ثقافتوں کی طرف توجہ دی گئی، لیکن قومی مسئلے کو سلجھانے کی طرف نہیں۔ اس کی بدترین مثال بلوچستان تھا۔
بھٹو اور بلوچستان
بھٹوکے سیاسی کیریئر پر چند ایسے ان منٹ دھبے ہیں کہ جنہیں کسی طور پر بھی دھویا نہیں جا سکتا۔ ان دھبوں میں سے ایک بلوچستان میں فوج کشی بھی ہے۔
1970کے انتخابات میں اگر سندھ اور پنجاب میں پیپلزپارٹی نے اکثریت حاصل کی تو سرحد اور بلوچستان سے نیپ(نیشنل عوامی پارٹی، ولی گروپ) نے اکثریت حاصل کی۔ ان دونوں صوبوں میں نیپ نے مخلوط حکومتیں تشکیل دیں۔ گو شروع میں بھٹو نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں صوبوں میں نیپ کے گورنر مقرر کیے، لیکن ساتھ ہی ساتھ شکست خوردہ خان عبدالقیوم خان کو وفاقی وزیر داخلہ بنا دیا، جس کا مقصد نیپ بالخصوص خان عبدالولی خان کو سخت پیغام دینا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی سطح پر بھی بلوچستان اور سرحد کی حکومتیں غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، کیونکہ بھٹو اس بات سے ناخوش تھے کہ قومی اسمبلی میں ان کی حزب مخالف کے ہاتھ میں دو صوبوں کی باگ ڈور دے دی گئی۔ اس طرح ان کا یہ امیج خراب ہوتا تھا کہ وہ پورے پاکستان کے غیر متنازع رہنما ہیں۔
سرحد میں تو بھٹو نے یہ کیا کہ اپنے پارٹی رہنماؤں سے نیپ کی قیادت کے خلاف بیان بازی شروع کروائی۔ نیپ کی قیادت کو جاگیردار ہونے کا طعنہ دیا جاتا۔ مزدور کسان پارٹی نے کسانوں کی جو سرکشی شروع کرائی تھی، اس پر مرکز نے آنکھیں بند کیے رکھیں، جبکہ ولی خان مزدور کسان پارٹی پر الزام لگاتے رہے کہ اسے وزارت داخلہ فنڈ کر رہی ہے، اور اس پارٹی کے رہنما افضل بنگش کو قیوم خان کی سرکاری رہائش گاہ میں پناہ دی گئی ہے۔
اتفاق سے ان دنوں پاکستان کی ماسکو نواز کمیونسٹ پارٹی نیپ کے اندر کام کر رہی تھی، جبکہ مزدور کسان پارٹی ماؤ نواز رجحانات کی حامل تھی۔
ادھر بلوچستان میں بحران پیدا کرنے کے لیے وہاں سے غیر بلوچ پولیس کو واپس بلا لیا گیا۔
1972میں جب صدر بھٹو نے بلوچستان کا سرکاری دورہ کیا تو ان کے ہمراہ وزیر داخلہ قیوم خان بھی تھے، جو ساتھ چالیس بندوق بردار غنڈوں کا گروہ بھی لے کر گئے تھے۔ نیپ حکومت کا اصرار تھا کہ ان بندوق برداروں کو غیر مسلح کیا جائے۔ ایسا کیا بھی گیا مگر بھٹو کی ذاتی مداخلت پر بندوق برداروں کا اسلحہ انہیں واپس مل گیا۔ ان بندوق برداروں کا بلوچ قوم پرستوں سے سرراہ جھگڑا ہوا، جس میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کے روز شاہ ایران کی بہن شہزادی اشرف پاکستان کے دورے پر آئی تھیں۔
محض اتفاق؟ یا سازش؟
مبصرین کا کہنا تھا کہ یہ محض اتفاق نہ تھا۔ بلوچستان میں قوم پرستوں کی انتخابی کامیابی اور صوبے میں ان کی حکومت کی تشکیل سے شاہ ایران شدید ناخوش تھے۔ پاکستانی بلوچستان میں قوم پرستوں کی کامیابی سے ایرانی بلوچستان میں دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوتی ہوئی تہران میں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ شاہ ایران پاکستان میں فوجی مداخلت کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ نیویارک ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر پاکستان کے مزید حصے بخرے ہوئے تو ایرانی فوج خطے کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے مداخلت کر سکتی ہے۔
بھٹو نے 1973ء میں ایران کا دورہ کیا۔ بھٹو نے اس دورے کے حوالے سے بعد ازاں ایک امریکی صحافی کو بتاتے ہوئے کہا ‘شاہ ایران نے دھمکیاں تک دیں اور ہمیں ہماری توقعات سے زیادہ اقتصادی اور فوجی امداد کا یقین بھی دلایا۔ شاہ ایران کو پورا یقین تھا کہ اگر بلوچوں کو صوبائی خودمختار حکومت بنانے کا موقع مل گیا تو اس کا نہ صرف پاکستان کو نقصان ہوگا، بلکہ ایرانی بلوچستان تک بھی خطرناک نظریات پہنچنے لگیں گے۔’
شاہ ایران نے 200ملین ڈالر امداد کا وعدہ کیا۔ ایران سے واپسی پر بھٹو نے بلوچ حکومت برطرف کر دی۔ الزام یہ لگایا کہ بلوچستان کے گورنر غوث بخش بزنجو اور وزیر اعلیٰ عطاء اللہ مینگل عراق اور سوویت روس کے ساتھ مل کر پاکستان توڑنے کی سازش کر رہے تھے۔ ثبوت کے طورپر اسلام آباد میں ایک عراقی سفارتکار کے گھر سے 350سوویت ساخت کی سب مشین گنیں برآمد کی گئیں۔ نکسن کے نام ایک خط میں اس سازش کے حوالے سے بھٹو نے کہاکہ بعض طاقتیں پاکستان کے محض مشرقی حصے کو علیحدہ کرنے پر قناعت نہیں کر رہی ہیں، بلکہ اب وہ پاکستان ہی توڑ دینا چاہتی ہیں۔
اس سازش کے تھوڑے ہی عرصے بعد بلوچوں پر پاکستان فضائیہ کے زیر استعمال معراج طیارے بمباری کر رہے تھے، جبکہ امریکی ساخت کے کوبرا ہیلی کاپٹر بھی گولیا ں برسا رہے تھے۔ یہ ہیلی کاپٹر ایران نے مہیا کیے تھے اور چونکہ پاکستان آرمی کو ہنوز یہ ہیلی کاپٹر دستیاب نہ تھے (بعد ازاں ضیاء دور کے دوران یہ ہیلی کاپٹر پاکستان کو مل گئے تھے)، لہٰذا انہیں اڑانے کے لیے ایران سے پائلٹ بھی آئے تھے۔
حکومت کو برطرف کرنے کے بعد بزنجو، مینگل اور نواب خیر بخش مری کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں نظر بند کر دیا گیا۔ نیپ کے ایم پی ایز کو خریدنے کی کوشش ہوئی، مگر بے سود رہی۔ سوائے نواب اکبر بگٹی کے کوئی نواب بھٹو کے ہاتھوں بکنے پر تیار نہ ہوا۔ ہزاروں بلوچ نوجوانوں نے البتہ پہاڑوں کا رخ کر لیا اور ہتھیار اٹھا لیے۔ بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی۔ اس خانہ جنگی پر قابو پانے کے لیے بھٹو نے فوج کشی کی اور فوج پھر سے پاکستان کی سیاست میں ملوث ہو گئی۔ چار ڈویژن فوج(ایک لاکھ سپاہی) اس آپریشن میں ملوث تھے۔
اس دور میں بلوچستان پیپلز لبریشن فرنٹ(بی پی ایل ایف) مزاحمت کی علامت بن کر ابھری۔ ایک اندازے کے مطابق80ہزار گوریلے بی پی ایل ایف میں شامل تھے۔ بلوچستان کی اس مزاحمت میں بعض لندن پلٹ ترقی پسند مارکس وادی نوجوان بھی لاہور اور سندھ سے جا کر شریک ہوئے۔ اس مزاحمت نے اسلام آباد میں بغاوت کے بعد رفتہ رفتہ دم توڑ دیا۔ تاہم ایک طرف بھٹو کی اس مہم جوئی نے جہاں5300گوریلو ں کی جان لی(فوج کے 3300فوجی ہلاک ہوئے) اور لاکھوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کیا، وہاں بلوچستان کے دکھوں میں مزید اضافہ کیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ فوج کی واپسی کے لیے راستہ صاف کر دیا گیا۔
امریکہ، فوج اور بھٹو
پاکستان فوج کاامریکی سامراج کے ساتھ رشتہ سمجھنے کے لیے سرد جنگ کی تاریخ میں جھانکنا پڑے گا۔ ادھر پاکستان کا عالمی نقطے پر ظہور ہوا، اُدھر سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ ماسکو میں بیٹھا پولٹ بیورو تو جانے اس بابت سوچ رہا تھا یا نہیں، البتہ واشنگٹن کے نمائندے محمد علی جناح کے ساتھ قیام پاکستان سے قبل بھی رابطے قائم کر چکے تھے۔ اگر بانی پاکستان نے واشنگٹن کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان کو کمیونسٹ ریاست نہیں بننے دیں گے، تو انکل سام بھی اپنے طور پر اس بات کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ مشرقی پاکستان میں بالخصوص اشتراکی سرگرمیاں خطرناک حد تک زور پکڑ رہی تھیں۔ سرخ دھمکی سے نپٹنے کے لیے البتہ انکل سام سیاست دانوں پر بھروسہ کرنے پر تیار نہ تھے۔ ان دنوں پوری تیسری دنیا میں انکل سام انقلابی واقعات کی روک تھام کے لیے بے رحم فوجی آمروں پر بھروسہ کیا کرتے تھے۔ لہٰذا واشنگٹن نے کراچی(ہنوز اسلام آباد نہیں بنا تھا) کی بجائے جی ایچ کیو راولپنڈی پر زیادہ توجہ دی۔
جی ایچ کیو پر نظر عنایت کی ایک وجہ اور بھی تھی۔ دو حصوں میں بٹا پاکستان منفرد حیثیت کا حامل تھا۔ اس کا مشرقی حصہ ایشیا میں کوریا اور ویت نام جیسے ممالک کے خلاف بیس کیمپ بن سکتا تھا۔ کوریا کی جنگ میں جب افغانستان اور بھارت نے امریکی ایجنٹ بننے سے انکار کر دیا تو انکل سام کو پاکستان کی اہمیت کا احساس اور بھی شدت سے ہوا۔
ادھر مغربی پاکستان ایک ایسی جگہ واقعہ تھا، جہاں سے مشرق وسطیٰ کے تیل کے کنوؤں کی حفاظت کی جا سکتی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں جن عیاش سلطانوں کو سامراج نے عرب عوام پر مسلط کیا تھا ان سلطانوں کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دو چیزوں سے سخت پرہیز کریں: (۱) محنت کش طبقہ ،(۲) فوج۔ عرب شیخ شاہیوں میں آج بھی لیبر غیر ممالک سے منگائی جاتی ہے، جبکہ اس وقت مقامات مقدسہ کی حفاظت ‘فوج کفار’ سے کرائی جاتی تھی۔ خلیج میں تیل کی حفاظت کے لیے پاکستانی فوج کے استعمال کے حوالے سے اس وقت زیادہ جوش و خروش سے کام شروع ہوا، جب 1953میں آئزن ہاور صدر بنے۔ ان کے سیکرٹری آف اسٹیٹ فاسٹر ڈلس جہاں شدید کمیونسٹ دشمن تھے، وہاں وہ پاکستانی فوج کے شدید معترف تھے۔ 1953میں انہوں نے بھارت اور پھر پاکستان کا دورہ کیا۔ جہاں نہرو سے مل کر انہیں مایوسی ہوئی، وہاں پاکستان کا دورہ کر کے ان کا خون سیروں کے حساب سے بڑھ گیا۔ امریکہ واپسی پر انہو ں نے نیشنل سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ نہرو بالکل Impractical سیاستدان ہیں، جبکہ پاکستانیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میں ‘پاکستانیوں کی مذہبی اور جنگجو صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوا ہوں۔’
یہ ان صلاحیتوں کا ہی اعتراف تھا کہ 1958ء میں جب جمہوری تحریک اور محنت کش طبقے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے انکل سام کو پاکستان بارے فکر مند کر دیا تو فوج نے اقتدار براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ نیویارک ٹائمز میں اس فوجی بغاوت کو خوش آمدید کہا گیا۔ پاکستان کے لیے امریکی امداد میں کئی گناہ اضافہ ہو گیا(ایوب خان تو مرتے دم تک سی آئی اے سے پنشن لیتے رہے، البتہ ان کے لیے ہوئے امریکی قرضے آج تک پاکستانی عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں)۔
جب 1967-68میں پہلی اور آخری بار مشرقی و مغربی پاکستان نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ساتھ سڑکوں پر آمریت کے خلاف مارچ شروع کیا تو بقول استاد دامن:
سن جا جاندیا راہیا
گیا ایوب تے پھنس گیا یحییٰ
بندے نے کم تے گاؤپئے ماہیا
جی او میرے ڈھول سپاہیا
ادھر مشرقی پاکستان میں یحییٰ ہی نہیں پوری پاکستانی فوج پھنسی ہوئی تھی۔ مشکل کی اس گھڑی میں بھی امریکہ نے یحییٰ کا ساتھ نہ چھوڑا گو پوری دنیا حتیٰ کہ امریکی میڈیا مشرقی پاکستان میں جاری قتل عام پر شور مچا رہا تھامگر صدر نکسن اپنے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو پاکستان کے حق میں جھکاؤ(Tilt) کی ہدایات دے رہے تھے۔ چین نے بھی کھل کر یحییٰ حکومت کی حمایت کی۔ یحییٰ خان کی یلغار نے مشرقی و مغربی پاکستان کے ماؤ نوازوں کو شدید الجھن میں ڈال دیا۔ ایک مرتبہ پھر یہ حبیب جالب جیسے دیوانے شاعر تھے، جو سڑکوں پر نظمیں گاتے نکلے اور فوج کو للکارا۔ ہاں البتہ بنگالی عوام کی جدوجہد سے مغربی پاکستان بالخصوص پنجاب میں یکجہتی کی کوئی بڑی تحریک نہیں بن سکی۔ ایک بڑی وجہ مشرقی پاکستان کے حالات سے لاعلمی بھی تھی۔ مغربی پاکستان کو دھچکا تب لگا، جب بنگلہ دیش معرض وجود میں اور 90ہزار فوجی بھارتی جیلوں میں پہنچ گئے۔ فوج اس قدر بدنام ہوئی کہ بھٹو چاہتے تو فوج کا خاتمہ ہی کر دیتے، مگر بھٹو کا بونا پارٹسٹ کردار ان کی قبر کھودتا رہا۔
مشرقی پاکستان میں آپریشن کے دوران ان کا فوجی جرنیلوں سے قریبی رابطہ رہا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر جی ایچ کیو میں بیٹھے جرنیل ان کی مٹھی میں ہوں تو فوج ان کے قابو میں رہے گی۔ وہ بھول گئے تھے کہ فوج ایک ادارہ ہے، وہ اس کے قابو میں ہوگا، جو اسے اسلحہ، تربیت اور لوٹ کھسوٹ کے مواقع فراہم کرے گا۔
فوج اور امریکہ کے اس قریبی تعلق کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب 1971ء میں فوج نے دیکھا کہ وہ مکمل طور پر تنہا ہو چکی ہے اور نظام کو بچانے کے لیے بھٹو کا سہارا لینا پڑے گا تو اس وقت بھٹو اقوام متحدہ سے جذباتی انداز میں خطاب کر رہے تھے۔ فوج نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے بھٹو کی کلیرنس لی اور حمتی منظوری نکسن کے ساتھ بھٹو کی ملاقات میں ہوئی۔
حکومت میں آتے ہی بھٹو نے چند جرنیلوں کو گرفتار اور بعض کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا(اس کی دلچسپ تفصیل کے لیے تہمینہ درانی کی ‘میڈھا سائیں’ دیکھئے) مگر فوج کے ڈھانچے کو نہیں چھیڑا۔
فوجی ڈھانچے کو چھیڑنا ممکن بھی نہ تھا کہ فوج درحقیقت سماجی ڈھانچے کا ہی تو پرتو ہوتی ہے۔ اگر سماج کا وہی پرانا ڈھانچہ تھا تو فوج کے سٹرکچر کو بھی نہ چھیڑا گیا۔ الٹا فوج کو خوش کرنے کے لیے بھٹو نے ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں یہ پروگرا م ان کے لیے مشہور انگریزی کہاوت ‘کیچ ٹونٹی ٹو’ والی صورتحال بن گیا۔ فوج کو خوش کرتے کرتے وہ امریکہ کو ناراض کر بیٹھے۔
ادھر جب عربوں کی اسرائیل سے چوتھی جنگ ہوئی تو بھٹو نے پاکستانی فضائیہ کو شام روانہ کر دیا۔ پاکستانی شاہین اور عقاب تو انکل سام نے خلیج میں تیل کے کنوؤں کے لیے پال رکھے تھے، بھٹو انہیں خلیج میں انکل سام کے پالتو بدمعاش اسرائیل کے خلاف استعمال کرنے لگے تو یقینا انکل سام کو تاؤ آنا تھا۔
بھٹو اور مسلم دنیا
دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلم دنیا کے اندر بیداری اور ترقی پسند قوم پرستی کی ایک نئی لہر نے جنم لیا۔ انڈونیشیا نے سائیکارنو کی قیادت میں نہ صرف آزادی حاصل کی، بلکہ انڈونیشیا کی کمیونسٹ پارٹی(جس کے سہارے صدر سائیکارنو حکومت کر رہے تھے) دنیا کی بڑی کمیونسٹ پارٹی بن کر ابھری۔ جمال عبدالناصر کی قیادت میں فوج نے بادشاہت کا خاتمہ کرتے ہوئے جب سامراج کو للکارا تو برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر پر حملہ کر دیا۔ کچھ تو سوویت روس کی حمایت نے اثر دکھایا، کچھ امریکہ بھی بلااجازت جنگ پر اسرائیل، فرانس اور برطانیہ سے ناراض تھا، مگر عرب دنیا کی عوامی حمایت نے بھی اہم کردار ادا کیا اور اس سہ فریقی اتحاد کو عالمی سطح پر زبردست ہزیمت اٹھانی پڑی۔یاد رہے پاکستان نے اس جنگ میں سہ فریقی اتحاد، جبکہ بھارت کے رہنما پنڈت نہرو نے کھل کر جمال عبدالناصر کا ساتھ دیا۔ ادھر ایران کے پہلے مقبول عام اور منتخب رہنما مصدق نے تیل کو قومی ملکیت میں لے کر امریکہ اور برطانیہ کی نیندیں حرام کر دیں۔ گو ایران میں جلد ہی شاہی بغاوت کے ذریعے رد انقلاب کا بندوبست کر لیا گیا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے عراق نے عبدالکریم قاسم کی قیادت میں 1958ء میں انقلاب برپا کر دیا۔
عراق میں بھی قاسم وہاں کی کمیونسٹ پارٹی کے سہارے حکومت کر رہے تھے۔ اگر انڈونیشیا کی کمیونسٹ پارٹی اس وقت کی اشتراکی دنیا(سوویت روس، مشرقی یورپ اور چین)سے باہر دنیا کی سب سے بڑی اشتراکی جماعت تھی، تو عراقی کمیونسٹ پارٹی عرب دنیا کی سب سے بڑی اشتراکی جماعت تھی۔
عرب دنیامیں قوم پرستی کو مزید عروج اس وقت حاصل ہوا، جب قومی محاذ آزادی کے پرچم تلے الجزائری حریت پسندوں نے فرانس سے آزادی حاصل کی اور اسی عہد میں فلسطینی بھی پی ایل او کے پلیٹ فارم سے متحد ہوئے، جبکہ کرنل قذافی کی قیادت میں لیبیا کے اندر بھی بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔ شام میں بعث پارٹی کا ترقی پسند دھڑا برسراقتدار آگیا۔ بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ سعودی عرب کے اندر بھی بعث کے سیل اور اشتراکیت کی آوازیں گونجنے لگیں، جبکہ شاہی خاندان کے اپنے شہزادوں نے ایک باغی گروپ قائم کر لیا، جو ملک میں جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کرنے لگے۔
لازمی تھا کہ بھٹو ایسا باصلاحیت، بے چین اور Ambitious(بوالہوس) نوجوان سیاستدان ان واقعات سے متاثر ہو لیکن ایک جہاندیدہ سیاستدان کے طور پر جب بھٹو نے عنان اقتدار سنبھالی تو ‘کجھ انج وی راہواں اوکھیاں سن، کج مینوں مرن دا شوق وی سی’ ۔پاکستان کے معاشی حالات بھی ایسے ہو چکے تھے کہ ‘عرب بھائیوں’ کی تیل کی دولت کا سہارا ضروری تھا، پھر بنگلہ دیش کے واقعہ نے ایک سیاسی ضرورت کوبھی جنم دیا۔ یوں بھٹو نے مسلم بلاک اور اسلامی بم وغیرہ کے نعرے بلند کرنے شروع کر دیے۔
مسلم بلاک اور لاہور میں ہونے والی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کے معاشی پہلو سے معروف ترقی پسند دانشور فیروز احمد نے اسی دور میں نقاب اٹھاتے ہوئے لکھا:
‘‘باہمی تجارت کے حوالے سے 9بڑے مسلم ممالک یعنی ایران، عراق، ابوظہبی، دبئی، کویت، عمان، سعودی عرب، لیبیا اور انڈونیشیا کے ساتھ 1969-70کے مقابلے میں 1973-74میں برآمدات میں 24.8فیصد اضافہ ہوا۔ 1974-75کے پہلے 9ماہ میں مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کو پاکستان برآمدات کل برآمدات کا 30فیصد تھیں، جبکہ اسی عرصے میں ایک سال قبل یہ حصہ17.2فیصد تھا۔’’
ایسا کیوں ہونے لگا؟
دراصل 1970تک پاکستان کا بہت بڑا انحصار ایک طرف تو امریکی امداد پر تھا، جبکہ دوسری طرف مشرقی پاکستان کے آزاد ہو جانے سے جہاں پٹ سن ہاتھ سے جاتی رہی وہاں پاکستانی سرمایہ دار ایک اہم منڈی سے بھی محروم ہو گئے۔ ادھر جب 1970-71ء میں مشرقی پاکستان میں آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو یحییٰ خانی سپاہ کا روزانہ خرچ دو ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ گویا مشرقی پاکستان کی آزادی اسلام آباد کے لیے ایک سیاسی دھچکے کے ساتھ ساتھ بہت بڑا معاشی زلزلہ بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بیرونی قرضے پر سود کی قسطیں ادا کرنا بند کردیں، تاآنکہ آئی ایم ایف نے مزید قرضہ دے کر مریض کو زندہ رکھنے کا بندوبست کیا۔ مبادہ مریض دم توڑ جائے اور خون نچوڑنے کے لیے عالمی سود خوروں کے پاس کچھ بھی نہ بچے۔
عرب ممالک کو جو اجناس برآمد کی گئیں، ان میں ایک اہم برآمد لیبر بھی تھی۔ ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کی ایک بڑی تعداد نے خلیجی ممالک کا رخ کیا۔ ان دنوں ایک افواہ یہ بھی تھی کہ 10ہزار پاکستانی خواتین(جے کے لیے طوائف کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا) بھی عرب شیخوں کی عیاشی کے لیے مقدس سرزمینوں کی طرف بھیجی گئیں۔ بڑی تعداد میں فوجی یونٹ بھی خلیجی ریاستوں میں تعینات ہوئے۔ بعض چھوٹی خلیجی ریاستوں کی فضائیہ کے تو سربراہ بھی پاکستانی تھے۔
بڑی تعداد میں بھیجی گئی انسانی برآمدات نے جب پیسہ بھیجنا شروع کیا تو پاکستان کے فارن کرنسی ریزرو کا انحصار ان پر اس قدر بڑھا کہ یہ سرمایہ فارن کرنسی ایکسچینج کا 20فیصد حصہ بن گیا۔ کمائی کے اس اہم ذریعے کو Sustain(پائیدار) کرنے کے لیے ضروری تھا کہ بھٹو اسلامی اخوت کے چمپئن بن کر ابھریں۔ یوں جب 22فروری1974کو لاہور میں ایک اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ہوا تو اس کا مقصد صرف اور صرف پبلک ریلیشننگ تھا، مگر اس کا ایک ضمنی سیاسی فائدہ بھٹو نے یہ اٹھایا کہ کانفرنس سے پیدا ہونے والے عوامی جوش و خروش کو استعمال کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔
شاید یہ فیصلہ صادر کردینا مناسب نہیں کہ محض اقتصادیات ہی واحد عنصر تھا، جس نے بھٹو کا رخ مسلم بلاک کی طرف متعین کیا۔ ایک عنصر تو غالباً مسلم دنیا کے اندر ترقی پسند قوم پرستی کی لہر بھی تھی، جس نے نہ صرف ذاتی طور پر بھٹو کو متاثر کیا ہوگا، بلکہ پاکستان کے عوام کے اندر بھی کچھ امنگوں کو جنم دیا ہوگا۔ مسلم بلاک کا خیال کتنا ہی یوٹوپیائی کیوں نہ سہی، بہر حال مسلم دنیا کے دل کے تار ضرور چھیڑتا ہے۔ پھر یہ بھی تو تھا کہ بھٹو ایک جاہ طلب رہنما تھے، جو اپنا کردار عالمی سطح پر دیکھنا چاہتے تھے۔ 60اور70کی دہائی میں کتنے ہی مسلم رہنما آئے جو جمال عبدالناصر کی جگہ لینا چاہتے تھے۔ قاسم سے لے کر صدام تک اور قذافی سے لے کر بھٹو تک، کتنے ہی ذہنوں پر جمال عبدالناصر بننے کا خبط سوار تھا۔
مسلم دنیا سے اس محبت کی ایک وجہ ٹراٹسکی نے بھی بیان کی ہے۔ ٹراٹسکی کا کہنا ہے کہ : ‘‘خارجہ پالیسی ہر جگہ اور ہمیشہ داخلی پالیسی کا تسلسل ہوتی ہے۔’’
پاکستان اسرائیل کی طرح مذہب کے نام پر بنا تھا۔ روز اول سے ہی یہاں عوام کو مذہب کے نام پر متحد کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان کے ناطے مشرق سے توڑ کر مغرب کی اوٹ جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ لہٰذا اندرون ملک مقبولیت کا ایک اہم داؤ یہ بھی ہے کہ مسلم دنیا(خاص کر فلسطین کاز) کے چمپئن بن کر ابھریں۔ صدام حسین اور امام خمینی گو آپس میں دست و گریباں تھے(اور اس چپقلش نے دو ملین مسلمانوں کی جان لے لی) مگر دونوں فلسطین کی محبت میں مرے جاتے تھے۔ گویا مسلم بلاک ترپ کا وہ پتہ ہے، جسے مسلم دنیا کا ہر شاطر رہنما کھیلنے کی کوشش کرتا ہے اور بھٹو نے بھی اسے کھیلنے کی کوشش کی مگر بھٹو کے معاملے میں اس کے منفی اثرات نے بھی جنم لیا۔
اس کا ایک نقصان (یا شاید فائدہ!) یہ ہوا کہ واشنگٹن میں بھٹو کی جو فائل تیار ہو رہی تھی، اس میں ایک سرخ نشان کا اور اضافہ ہوگیا۔
پاکستان میں ریاض اور تہران کا اثرورسوخ بڑھ گیا، ان دنوں ریاض کے منصورہ کے ساتھ گہرے روابط تھے۔ ان رابطوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت اسلامی پاکستانی افواج کے اندر گھس بیٹھ کرنے لگی۔ پہلی دفعہ بھٹو دور میں ایسا ہوا کہ پاس آؤٹ ہونے والے فوجیوں کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابیں بطور تحائف سرکاری طور پر ملنے لگیں۔ سعودی اثر کا توڑ کرنے کے لیے بھٹو نے قذافی سے دوستی لگائی، مگر قذافی سعودیہ خاندان کا توڑ نہ تھے۔
اسلامی دنیا کا رہنما بننے کے چکر میں بھٹو نے یہ بھی سوچا تھا کہ وہ مولویو کے پاؤں تلے سے زمین نکال دیں گے، لیکن ہوا اس کے برعکس۔مولویوں نے جب دیکھا کہ بھٹو ان کی پچ پر کھیل رہے ہیں تو وہ بھٹو سے مزید چوکوں اور چھکوں کی فرمائش کرنے لگے۔
مسلم بلاک والی پالیسی کا ایک تباہ کن اثر بلوچستان میں نظر آیا۔ شاہ ایران اس دورمیں مسلم دنیا کا ایک اہم کردار تھے۔ وہ بلوچستان میں قوم پرستوں کی حکومت سے نالاں تھے۔ لہٰذا بلوچستان میں فوج کشی جہاں بھٹو کے زوال کا باعث بنی، وہاں وہ ان کے سیاسی کیریئر پرایک بدنما دھبے کے طور پر آج بھی ہے۔ بلوچستان کے بے قصور عام نے اس کا زبردست خمیازہ بھگتا اور آج بھی بھگت رہے ہیں۔
مسلم بلاک کے ذریعے بھٹو جنوبی ایشیا(بالخصوص بھارت) کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ 1971ء میں دولخت ہونے کے باوجود پاکستان مسلم بلاک کا حصہ ہونے کی وجہ سے ایک اہم فیکٹر ہے۔ بھٹو کی یہ چال بھی الٹی پڑی۔ لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے تین ماہ بعد19مئی1974ء کو سمائلنگ بدھا(Smiling Buddha) بھٹو پر ہنس رہا تھا۔ اندرا گاندھی نے سمائلنگ بدھا کے کوڈ نام سے جاری آپریشن کو عملی جامہ پہنا دیا:بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر دیا۔ ہزار سال جنگ لڑنے کا نعرہ لگانے والا بھٹو خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ اس نے ‘گھاس کھائی گے، ایٹم بم بنائیں گے’ کا نعرہ بلند کر دیا۔ بھٹو کو شاید علم نہیں تھا کہ یہ نعرہ ان کا اپنا ڈیتھ وارنٹ ثابت ہوگا۔
بھٹو اور ایٹم بم
1976ء میں لاہور گورنر ہاؤس میں شاندار سرکاری ضیافت ہو رہی تھی، مہمان خاص امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر وزیراعظم بھٹو کو ایک خاص پیغام دینے آئے تھے۔ یہ پیغام 1976ء میں نیویارک میں ہونے والی ایک ضیافت میں بھی ہنری کسنجر نے بھٹو کو دیا تھا۔ بھٹو نے کسنجر کے پیغام پر کان نہیں دھرا۔ مارچ1976ء میں امریکی صدر نے بھی ایک خط کے ذریعے یہی پیغام دہرایا۔ بھٹو نے ایک مرتبہ پھر سنی ان سنی کر دی۔ فورڈ اور کسنجر تیسریدنیا کے ایک رہنما کی اس آزاد روئی پر حیران بھی ہوئے، تلملائے بھی اور جزبز بھی ہوئے۔ شاید شرمندہ بھی ہوئے ہوں۔ سٹپٹائے ہوئے ہنری کسنجر جب لاہور پہنچے تو سرکاری ملاقات سے قبل لاہور میں ان کے لیے اس شاندار ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ دوران ضیافت جب دور چلنے لگا تو بھٹو نے جام اٹھاتے ہوئے کہا: ‘‘(لاہور) ہماراری پروسیسنگ سنٹر ہے اور ہم کسی طرح بھی اپنا ری پروسیسنگ سنٹر بند نہیں کر سکتے۔’’کسنجر نے جواب دیا کہ حکومتوں کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ان کی اپنی ری پروسیسنگ ہو سکے۔
بھٹو نے حکومت سنبھالنے سے پہلے نکسن سے ملاقات کے ذریعے اپنی حکومت کو ‘پروسیس’ کیا تھا، مگر اب ایٹم بم بنانے کی ضد کا نتیجہ یہ نکل رہا تھا کہ واشنگٹن ان کی حکومت کو ‘ری پروسیس’ کرنے سے بھی منکر تھا اور ہنری کسنجر ان کو عبرت ناک مثال بنا دینے کی دھمکی دے کر 1976ء میں لاہور سے رخصت ہوئے۔
اس دھمکی کے 8ماہ بعد28اپریل1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو نومنتخب قومی اسمبلی کو بتا رہے تھے کہ امریکہ بہادر ایک بہت بڑی عالمی سازش کو فنڈ کر رہا ہے۔ بھٹو نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ویت نام میں امریکی پالیسی کی مخالفت، اسرائیل کے خلاف عربوں کی حمایت اور ایٹمی پالیسی کے باعث ان کو امریکہ سزا دینا چاہتا ہے۔ تالیوں کی گونج میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کو بتایا: ‘‘ابھی پارٹی ختم نہیں ہوئی۔’’
ان کا اشارہ پاکستان میں متعین دو امریکی سفارتکاروں کے مابین ہونے والی گفتگو کی طرف تھا، جسے پاکستان کی خفیہ والوں نے ریکارڈ کیا تھا۔ اس گفتگو میں ایک امریکی سفارت کار دوسرے کو بتا رہا تھا: The party is over, the party is over. He’s gone. پارٹی کو صرف پیپلزپارٹی بچا سکتی تھی مگر۔۔۔۔۔
بھٹو اور پیپلزپارٹی
2جولائی1974ء کو وزیراعظم ہاؤس راولپنڈی میں وزراء اور سرکاری افسر عشایے پر مدعو ہیں۔ بھٹو اندر صوبائی حکومتوں کے افراد اور سیاستدانوں سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ عشائیہ 8بجے شروع ہونا تھا مگر اب 12بج چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے معمر رہنما اور سیکرٹری جنرل جے اے رحیم باآواز بلند یہ کہتے ہوئے ‘واک آؤٹ’ کر جاتے ہیں کہ بھٹو اس طرح مہمانوں کو انتظار کروا کر اپنے مہمانوں کی بے عزتی کر رہے ہیں۔
رات کے ایک بجے جے اے رحیم اور ان کے بیٹے کو اغواء کر لیا گیا۔ اگلے تین روز دونوں حضرات حکومتی مہمان خانوں میں ریاستی مہمان نوازی سے محظوظ ہوتے رہے۔ جب اس واقعہ کی بابت بھٹو سے پوچھا گیا تو بھٹو نے جواب دیا: ‘میں ہوں پیپلزپارٹی۔ یہ سب میرے بنائے ہوئے ہیں۔’
پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف اس رویے کی نشاندہی طارق علی اپنے ڈامے ‘چیتا اور لومڑی’ میں بھی کرتے ہیں:
‘‘بھٹو(کچھ توقف کے بعد، باب کی طرف دیکھتے ہوئے): مجھے معلوم ہے باب تم کیا سوچ رہے ہو۔ وہ الیکشن ملتوی کر دے گا۔ اسے اصل خطرہ یہ ہے کہ ہم کوئلے دہکا رہے ہیں اور ان سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ لوگ غصے سے پاگل ہو جائیں گے اگر الیکشن ملتوی ہوئے تو!
چیری(بھٹو کی طرح سوچ میں غرق): دھوئیں کو استعمال میں لانے کے لیے انجن کا ہونا ضروری ہے۔
بھٹو بولنے ہی لگتے ہیں کہ چیری انہیں ٹوک دیتا ہے۔
چیری(بات جاری رکھتے ہوے: ایک منٹ! انجن عوام ہیں۔
بھٹو مسکراتے ہوئے ہاں میں سرہلاتے ہیں۔
چیری(بات جاریرکھتے ہوئے): پسٹن کون ہے؟
ہر طرف قہقہے بکھر نے لگتے ہیں، جب بھٹو خاموشی سے اپنی طرف اشارہ کرتیہیں۔
چیری (بات جاری رکھتے ہوئے): درست۔
کیا پسٹن کے بغیر انجن چل پائے گا؟
خاموشی چھا جاتی ہے اور اس سوال میں پنہاں سنجیدگی کے باعث ہر چہرے پر فکر حاوی ہو جاتی ہے۔’’
بھٹو کا یہ دعویٰ تو شاید درست تھا کہ ’میں ہوں پیپلزپارٹی’، لیکن ان کا یہ سیاسی طریقہکار ان کے اپنے لیے، ملکی سیاست اور سیاسی کلچر کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پیپلزپارٹی کو گراس روٹ لیول(نچلی سطح پر) منظم کیا جاتا۔ اس کو جمہوری انداز میں چلایا جاتا۔ اس کے منظم ٹریڈ یونین، طلبہ اور کسان فرنٹ ہوتے کہ ان طبقوں نے بھٹو کو پذیرائی بخشی تھی۔ خود بھٹو کو بھی خوب معلوم تھا کہ مزدور اور طلبہ کس قدر طاقتور عنصر ہیں۔
بھٹو نے مزدور، طلبہ اور کسان طبقے کی طاقت سے حاصل ہونے والی حمایت کو تنظیمی شکل دینے کی بجائے ایک ہجوم کی شکل دی۔ بھٹو کو خدشہ تھا کہ ایک منظم اور جمہوری انداز میں کام کرنے والی جماعت ان کے اپنے کنٹرول سے باہر جا سکتی ہے۔ وہ پیپلزپارٹی کو لاڑکانہ والی جاگیر کی طرح چلاتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب وہ موت کی کال کوٹھری میں بند تھے تو ان کے سیاسی مزارع(جو دراصل جاگیر دار تھے) یا تو فوج سے جا ملے یا پسٹن کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے اور عوامی مزاحمت کا انجن ناکارہ ثابت ہوا۔ اگر پیپلزپارٹی ایک شخصیت کی بجائے ایک تنظیم کا نام ہوتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔ دراصل یہی وہ نکتہ ہے جو بھٹو کی ٹریجڈی سے سیاسی کارکنوں کو سیکھنا ہے۔
بھٹو انفرادی سطح پر ایک منفرد یا بڑی شخصیت ضرور تھے، لیکن ایک طرف تو ان کی شخصیت اس تاریخی عمل کا پرتو تھی، جس کا وہ حصہ بنے اور دوسری طرف یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ 1967-68کی تحریک کے تاریخی عمل نے بھٹو کی وجہ سے جنم نہیں لیا تھا، بلکہ تاریخی عمل شخصیات کو جنم دیتا ہے۔ شخصیات اس عمل کی پیداوار ہوتی ہیں۔بھٹو نے خود بھی تاریخ کو شخصیات کی خامی خوبی بنا کر پیش کیا اور آج کی پیپلزپارٹی بھی یہی کر رہی ہے۔
1971ء کے بعد عین ممکن تھا کہ عوام کی سیاسی تربیت کی جاتی مگر بھٹو نے بنگلہ دیش کی ناکامی کو چند عیاش جرنیلوں کا کھیل بنا کر پیش کرتے ہوئے شخصیت پرستی کو فروغ دیا۔ ان کی بہادرانہ موت کے بعد تو پیپلزپارٹی نے شخصیت پرستی کو سیاسی مذہب کا درجہ دلادیا۔ ویسے بھی آج کی پیپلزپارٹی کے پاس بھٹو کا نام لینے کے علاوہ اور ہے بھی کیا؟
یہاں البتہ یہ کہنا مقصود نہیں کہ افراد بالکل صفر ہوتے ہیں اور انفرادی عمل کوئی معنی نہیں رکھتے۔
بھٹو کے حوالے سے ہم تاریخ اور فرد کے کردار کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ بھٹو پھانسی کا پھندا قبول کرنے کی بجائے نوازشریف کی طرح معافی تلافی کے ذریعے جان بخشی کرواتے ہوئے پھانسی گھاٹ کی بجائے لندن یا پیرس تک بھی جا سکتے تھے۔
پھانسی گھاٹ کی طرف بہادری سے جانا ایک انفرادی عمل تھا، جو ہیروازم کی شاندار مثال ہے۔ ان کے زندہ رہنے کی صورت میں بھی البتہ فوجی آمریت کا کردار اور انجام اس سے زیادہ مختلف نہ ہوتا، جو 1980کی دہائی میں دیکھنے میں آیا۔
پیپلزپارٹی کے مقابلے پر فوج ایک ادارہ تھی۔ بھٹو مونچھ بردار ضیاء الحق کی بجائے کسی کلین شیو جرنیل کو بھی چیف بنا دیتے تو وہ بھی یہی کچھ کرتا۔1977ء کا مارشل لاء ضیاء الحق کی نمک حرامی نہیں بلکہ ٹھوس سیاسی اور معاشی وجوہات کی بناء پر لگا تھا۔
فرد اور تاریخ کے باہمی رشتے کی ایک اہم مثال عظیم انقلابی چے گویرا بھی ہے۔ چے نے انقلابی کیوبا کی قیادت کی۔ وہی چے جب بولیویا پہنچا تو انقلاب لانے میں ناکام رہا۔ انقلاب کیوبا چے کی وجہ سے نہ آیا تھا۔ اس کے پیچھے تاریخی عوامل کارفرما تھے۔ ہاں البتہ چے کی شخصیت اور قائدانہ صلاحیتوں نے انقلاب کیوبا کو جلا بخشی۔ اس کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر چے کی بہادرانہ زندگی اور بلند حوصلہ موت ایک انفرادی عمل تھا۔ جہاں ہیروازم اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔
آج جب پیپلزپارٹی والے ہر سال4اپریل کے موقع پر یہ بڑھک بازی کرتے ہیں کہ بھٹو نے غریب کو سراٹھانا سکھایا، اسے سیاسی شعور دیا، یا صنعت کو قومی ملکیت میں لیا تو درحقیقت وہ سرمایہ دار طبقے کی اسی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں کہ عام عوام اور مزدور کسان طبقے کا تاریخ بنانے اور اجتماعی سطح پر اپنی تقدیر سنوارنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ نعرہ بازی دراصل بھٹو کی شہادت پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔ بھٹو کے یوم شہادت پر ہمیں بھٹو کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پاکستان کے عوام، طلبہ اور مزدور کسان کو یہ پیغام دینا ہے کہ اگر وہ وینزویلا کے عوام کی طرح منظم ہوں تو سی آئی اے کی تمام تر سازشوں کے باوجود24گھنٹے کے اندر اندر نہ صرف امریکہ کے پٹھو فوجیوں کو ہیوگوشاویز کی حکومت بحال کرنا پڑتی ہے، بلکہ وہاں کے عوام کو 4اپریل کے روز ‘اپنے اعلیٰ آدمی’ کو دیر تک رونے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی!!
Farooq Sulehria
فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔
