روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

بیرسٹر عبدالحمید باشانی کی وفات: جموں کشمیر کی تاریخ کا ایک عہد تمام ہوا

بیرسٹر عبدالحمید باشانی کی وفات: جموں کشمیر کی تاریخ کا ایک عہد تمام ہوا

راولاکوٹ(حارث قدیر) معروف ترقی پسند دانشور، مصنف اور انسانی حقوق کے علمبردار بیرسٹر عبدالحمید باشانی کینیڈا میں وفات پا گئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے پھیپھڑں کے کینسر کا شکار تھے۔ منگل کی شب انہوں نے اپنی آخری سانس لی۔

بیرسٹر عبدالحمید باشانی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع پونچھ کے خوبصورت سیاحتی مقام بنجونسہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس خطے کی اولین ترقی پسند طلبہ تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (جے کے این ایس ایف)سے انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور 1987میں جے کے این ایس ایف کے مرکزی صدر بھی منتخب ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور وہیں ان کا تعلق ترقی پسند ادب اور کتاب سے جڑا، پھر کتاب اور قلم کے ساتھ ان کا تعلق آخری سانس تک قائم رہا۔

جے کے این ایس ایف کے مرکزی صدر منتخب ہونے کے بعد وہ بیرون ملک منتقل ہو گئے تھے اور تنظیمی سرگرمیوں سے ناطہ توڑ لیا تھا۔ تاہم وہ جموں کشمیر کی تاریخ، جدوجہد آزادی اور دنیا بھر میں محنت کش طبقے کی تحریکوں کے ساتھ منسلک رہے۔
طالبعلم رہنما رہتے ہوئے انہوں نے ترقی پسند نظریات کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کیا اور اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے سوشلزم کے دفاع کا بیڑا اٹھایا اور تنگ نظر قوم پرستی کے خلاف ایک توانا آواز بن کر سامنے آئے۔ نوجوان طالب علموں کی فکری آبیاری میں ان کا کردار کلیدی رہا ہے۔

بیرون ملک سے واپسی پر انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بھی قائم کی اور وکالت کے شعبے سے منسلک رہے، لیکن جلد ہی وہ کینیڈا منتقل ہو گئے۔ کینیڈا میں بار ایٹ لاء کرنے کے بعد جہاں انہو ں نے پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رکھیں، وہاں وہ پڑھنے اور لکھنے سے مسلسل منسلک رہے۔ ان کی چار تصانیف بھی شائع ہوئیں، جن میں ’تیسری رائے‘، ’خواب آشنا‘، ’مسئلہ کشمیر: ناکام سفارتکاری کی ان کہی داستان‘ اور ’شاہراہ خیال‘ کے نام سے ان کے مضامین کا مجموعہ شامل ہیں۔

وہ کئی اردو اور انگریزی اخبارات سمیت مختلف جریدوں میں باقاعدگی سے مضامین لکھتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان اور بھارت کے مقبول صحافیوں کے ساتھ پاک بھارت تعلقات، مسئلہ جموں کشمیر کی تاریخ، سماجی مسائل اور انسانی حقوق سمیت مختلف موضوعات پر ڈیجیٹل میڈیا کے پروگراموں میں بھی باقاعدگی کے ساتھ شریک ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی ساری زندگی ایک ترقی پسند اور انسانی حقوق کے علمبردارکے طور پر گزاری۔ وہ زندگی کی آخری سانس تک نظریات پر کاربند رہے اور جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کی فکری آبیاری کرتے رہے۔ کینسر کا مرض لاحق ہونے کے بعد انہوں نے اپنی باقیات ٹورانٹو کی میڈیکل یونیورسٹی کو عطیہ کر دی گئیں۔

بیرسٹر عبدالحمید باشانی کی وفات پر سیز فائر لائن کے دونوں اطراف بسنے والے جموں کشمیر کے سیاسی و سماجی کارکنوں اور صحافیوں کے علاوہ بھارت اور پاکستان کے ترقی پسند حلقوں اور صحافیوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

ان کے زمانہ طالبعلمی کے ساتھی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان نے کہا کہ جب انہوں نے میری سبکدوشی کے بعد جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی قیادت سنبھالی تو تنظیم کو بے شمار چیلنجوں کا سامنا تھا لیکن انہوں نے اپنے مصمم ارادے اور صلاحیت سے ان چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے این ایس ایف کو جموں کشمیر کے محکوم عوام اور طلبہ کی حقیقی نمائندہ تنظیم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔وہ سیاسی اور نظریاتی طور پر بہت ہی پختہ تھے۔ انہوں نے 80 کی دہائی میں طلبہ کو شعوری بنیادوں پر منظم کرتے ہوئے این ایس ایف کے نوجوانوں کی نظریاتی آبیاری کی۔ان کی یہ خدمات اور کردار ہمیشہ آنے والی نسلوں کو نظریاتی اور شعوری رہنمائی فراہم کرتی رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن میں ایک ہی وقت میں ہر طرح کی صلاحیت موجود ہو۔ادب سے لیکر سیاست اور تجزیہ نگاری میں ان کا ثانی کوئی نہیں۔انھوں نے اپنے نظریات اور فکر کے ساتھ آخری وقت تک وفا کی تعلیم سے فارغ کے ہونے کے بعد عملی زندگی میں وکالت کے پیشے سے لیکر بیرون ملک مقیم ہونے کے باوجود انھوں نے ہر فورم اور محاذ پر بڑی جرات،دلیری اور دلائل کے ساتھ اپنی فکر،سوچ اور نظریات کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ اپنے نظریات کو سچ بھی ثابت کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر بھاشانی نے جموں کشمیر میں چلنے والی تحریکوں کی جو فکری رہنمائی کی وہ ہمیشہ یارکھی جائے گی۔وہ جموں کشمیر کے ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر کے عوام کے لیے ایک روشن مستقبل کا خواب دیکھتے تھے۔ آج ہر ترقی پسند کارکن ان کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جموں کشمیر میں مارکسزم کے نظریات کے پھیلاؤ، جے کے این ایس ایف کو سائنسی نظریات سے لیس کرنے سمیت بیرسٹر عبدالحمید بھاشانی نے پیشہ ورانہ زندگی میں بھی نمایاں کامیابیاں سمیٹیں اور کینیڈا میں مقیم رہتے ہوئے بھی آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کی فکری آبیاری کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔وہ پوری دنیا کے مظلوم انسانوں کے ساتھی رہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تاعمر اپنی آواز بلند کرتے رہے۔

بیرسٹر عبد الحمید بھاشانی کی وفات ان کے نظریاتی ساتھیوں اور بالخصوص جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ہم ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور بیرسٹر عبد الحمید بھاشانی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں