عشا خضروٹو
یہ یادداشت، زبان اور کہانیاں ہی ہیں، جن کے ذریعے جنوبی ایشیا کی تاریخ زندہ رہتی ہے۔ سب سے اہم، خوفناک، اور بیک وقت عظیم واقعہ 1947کی تقسیم ہے،جس نے اس خطے کی تقدیر کا رخ موڑ دیا۔
حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’’75 Years After ParTition: India, Pakistan and Bangladesh‘‘ ،جس کی تدوین امت رنجن اور فاروق سلہریا نے کی ہے، اس خطے کے سب سے دیرپا ورثے یعنی تقسیم پر علمی بصیر ت کے ساتھ بات کرتی ہے۔
اس کتاب کے مطابق تقسیم ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک نہ ختم ہونے والا، جاری عمل ہے۔ اس کتاب میں ایسے مضامین یکجا کیے گئے ہیں جو پہلے ’انڈیا ریویو‘کے ایک خصوصی شمارے میں شائع ہوئے تھے۔ یہ کتاب تقسیم کے بعد لگنے والے ثقافتی اور فکری طور پر لگنے والے جھٹکوں کا جائزہ لیتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ یہ واقعہ ہماری زبان، ہماری تحریروں اور ہماری فلموں پر کس طرح اثرانداز ہوا۔
یہ مجموعہ مدیران کی ایک تمہیدی تحریر سے کھلتا ہے، جس کے بعد امت رنجن کا تجزیہ آتا ہے کہ کس طرح ہندی اور اردو نوآبادیاتی اور بعد از نوآبادیاتی ہندوستان میں شناخت کی علامت بن گئیں۔ پھر ریتیکا ورما اور انجلی گیرا رائے یہ جائزہ لیتی ہیں کہ ہندی فلموں میں سرحدوں کی بات کیسے کی جاتی ہے۔ دیویکا متل کا باب اس بارے بصیرت فراہم کرتا ہے کہ بھارتی نصابی کتب میں مسلم شناخت کس طرح تشکیل پاتی ہے۔
قیصرعباس، خدیجہ مستور کے ناول’’ زمین‘‘ کا تنقیدی مطالعہ پیش کرتے ہیں، جس میں بے دخلی اور پدرشاہی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فاروق سلہریا اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ تقسیم کوپاکستانی فلموں میں کس طرح پیش کیا گیا،جبکہ مظہر عباس نہایت عمدگی سے 1947 اور 1971 کی تقسیم کے پاکستانی نصاب میں بیانیے اور خاص طور پر ضیاء اور مشرف کے ادوارمیں ترتیب دیئے گئے نصاب کا موازنہ کرتے ہیں۔
فہمیدالحق اپنے باب میں 1947 پر بنگلہ دیشی فلم انڈسٹری کی خاموشی اور 1971 پر اس کی توجہ کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں، جبکہ افروجہ شوما اس بات کی پڑتال کرتی ہیں کہ تاریخ، حقائق اور فکشن کی سرحدیں کس قدر دھندلی ہو سکتی ہیں۔
یہ تمام جائزے اپنی غیر جانب دارانہ تنقید کے ساتھ یہ آشکار کرتے ہیں کہ نوآبادیاتی دور کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ ‘کی پالیسی محض نوآبادیاتی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ختم نہیں ہوئی بلکہ احیاء پذیر قوم پرستی کے دور میں بھی زندہ ہے اور نئے روپ دھار چکی ہے۔ یہ کتاب ہر قاری،چاہے وہ محقق ہو، طالب علم یا عام قاری ہو، کو دعوت دیتی ہے کہ وہ سوچے کہ 1947 میں پیدا ہونے والے سوالات، مسائل اور تقسیمیں 75 سال بعد بھی کیوں حل نہ ہو سکیں۔
اگرچہ کتاب میں بھارت اور بنگلہ دیش پر بھی مواد موجود ہے،لیکن میں یہاں پاکستان سے متعلق ابواب پر توجہ مرکوز کروں گی، کیونکہ یہ ایک مربوط فکری ربط قائم کرتے ہیں اور وہ مباحث چھیڑتے ہیں جو آج کے پاکستان میں سیاسی اور ثقافتی طور پر نہایت حساس ہیں۔ یہ واضح طور پر بتاتے ہیں کہ ریاست، عوامی ثقافت، اور اجتماعی یادداشت کس طرح دہائیوں سے ایک دوسرے کو تشکیل دیتے آئے ہیں۔
قیصر عباس کا باب
’’Building an Ideological Nation-State: Migrancy and Patriarchy in Khadija Mastoor’s Zameen‘‘ کے عنوان سے شروع ہونے والے باب میں قیصرعباس ہجرت اور پدر شاہی جیسے دو زاویوں سے پاکستان کے بعد از تقسیم سماجی و سیاسی ڈھانچے کی تبدیلی کا جائزہ لیتے ہیں۔ زیر بحث ناول’ ’زمین‘ ‘خدیجہ مستور کا لکھا ہوا ہے، جو خود بھی مہاجر تھیں۔ ان کا کام ایک نو تشکیل شدہ ریاست کی نظریاتی امنگوں اور اس کی تاسیس میں چھپے تضادات کی بھاری قیمت کو آشکار کرتا ہے۔
قیصر عباس کا ہجرت کے تصور کا تجزیہ متاثر کن ہے کیونکہ وہ پناہ گزینوں کے تجربے کو رومانوی انداز میں پیش کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ریاستی بیانیوں میں مہاجرین کی مشکلات کو عموماً کسی ہیرو والے صبر و استقامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اس ناول کا بعد از تقسیم پاکستان ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں دھوکہ دہی، جعلی جائیداد کے دعوے، رشوت اور بیوروکریٹک بدعنوانی روزمرہ کی بقا ء کا حصہ ہیں۔
قیصر عباس مزید یہ کھوج لگاتے ہیں کہ کس طرح ریاست کی مذہب کی تنگ نظراور رسم پرست تعبیر پر مبنی نظریاتی سمت نے پدرشاہی کنٹرول کو مزید سخت کیا۔ ’’زمین‘‘ میں عورت کی جگہ کو ثقافتی، قانونی اور معاشی ڈھانچوں کے ذریعے سختی سے متعین کیا جاتا ہے۔ ناول میں زمین کا استعارہ اتفاقی نہیں ہے،بلکہ یہ جنسیت سے جڑا ہوا ہے۔ اس ناول کو انگریزی میں ڈیسی راک ویل نے ترجمہ کیا۔ اس ترجمے میں بھی اجاگر ہوتا ہے، کہ اس نئے پاکستان میں عورتیں ان ایکڑوں سے سستی ہیں جنہیں مرد لالچ سے گنتے ہیں۔ قیصر عباس ناول کو پاکستان کی حقیقی دنیا کی صنفی سیاست (مردانہ برتری کے قانونی کوڈ، عورت کے جسم پر ثقافتی نگرانی) کے ساتھ رکھ کر تقریباً 8صدیوں پر محیط ادارہ جاتی عدم مساوات کو دیکھنے کا آلہ بنا دیتے ہیں۔
وہ یہ بھی اشارہ دیتے ہیں کہ پچھلی 7دہائیوں میں پاکستانی عورتوں نے تعلیم، روزگار اور سرگرم سیاست میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن یہ تذکرہ ضمنی سا رہ جاتا ہے۔ اس پہلو پر کم توجہ دی گئی ہے،جو اس ناول کی دیرپا معنویت کو کم کر دیتی ہے۔ اگر’ ’زمین ‘‘پدرشاہی کے تسلسل کو بیان کرتا ہے تو یہ مزاحمت کی پائیداری کا بھی پیش خیمہ ہے۔
فاروق سلہریا کا باب
’’Lollywood on Partition: Surprise Departures, Anticipated Arrivals‘‘ میں فاروق سلہریا اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ مثلاََ:لالی ووڈ نے تقسیم اور اس کے اثرات کو فلموں میں اتنا کم کیوں پیش کیا؟ اور ریاست نے اس میڈیم کے ذریعے تقسیم بارے اپنا پراپیگنڈہ اتنا زیادہ کیوں نہیں کیا؟
اس باب کی سب سے قیمتی خصوصیت اس بات پر اصرار ہے کہ تقسیم کو ایک واقعہ اور 1947 میں ہونے والے ایک سانحے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔ ان کے خیال میں تقسیم کو تین مرحلوں، یعنی پس منظر(context)، واقعہ (eventجو 1947 میں ہوا)، اور یادگار سازی(Memorialisation) کے ایک عمل کے طور پر تھیورائزکیا جائے۔
یہ فریم ورک کسی حد تک آر سمدر کے’’partitioned times‘ ‘کے تصور سے اخذ کیا گیا ہے، اور تقسیم کو اس طرح سے تھیورائز کرنامحض ایک مجرد اکیڈیمک مشق نہیں ہے۔ فاروق سلہریا یہ ثابت کرتے ہیں کہ تقسیم کا یہ ماڈل کس طرح واضح کرتا ہے کہ لوئیس التھوسر کے بیان کردہ’ ’آئیڈیولوجیکل اسٹیٹ اپریٹسز‘‘(آئی ایس ایز)جن میں اسکول کا نصاب، ریاستی رسومات اور ثقافتی پروڈکشنز شامل ہیں، کس طرح اشرافیہ کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے تقسیم کو مسلسل ایک زندہ، سانس لیتا ہواسیاسی منصوبہ بنائے رکھتے ہیں۔
فاروق سلہریا کے باب کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں تقسیم کو 1947 تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ اسے ایک ایسے جاری عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جسے دونوں ملکوں کے حکمران روز مرہ کی بناید پر جاری رکھتے ہیں۔
یہ باب خاص طور پر اس وقت زیادہ متاثرکن ہو جاتا ہے جب یہ پاکستانی فلموں میں ریاستی بیانیے سے انحراف پر توجہ دیتا ہے۔ فاروق سلہریاکی’ ’کرتار سنگھ‘‘، ’’جناح‘‘، اور’’ خاموش پانی‘‘ پر تبصرے یہ بتاتے ہیں کہ سنسرشپ کی حدود میں رہتے ہوئے بھی بعض فلموں نے مسلم مظلومیت اور ہندو/سکھ درندگی کی سرکاری منطق کو نہیں مانا۔ یہاں بصیرت صرف یہ نہیں کہ مخالف بیانیے موجود ہیں بلکہ یہ کہ وہ ایک ایسی فلمی روایت میں زندہ ہیں جو عمومی طور پر’’ہم بمقابلہ وہ‘‘کے بیانیے کی طرف مائل ہے (’’لاکھوں میں ایک‘ ‘ البتہ معمول کا ریاستی پراپیگنڈہ کرنے والے ایک فلم تھی جو 1965 کے بعد کے جنگی جنون سے ہم آہنگ ہے)۔
فاروق سلہریا اجاگر کرتے ہیں کہ صنفی نقطہ نظر سے’’خاموش پانی‘ ‘سب سے نمایاں ہے۔’ ’کرتار سنگھ‘‘ اور’ ’لاکھوں میں ایک‘ ‘میں عورتوں کا دکھ مردانہ عزت کے پیمانے پر رکھ کر دیکھا جاتا ہے۔ مثلاً ’’کرتار سنگھ‘‘ میں عمر دین کی بہن کے اغوا ء کو اس کی ذاتی خودمختاری پر حملے کی بجائے مردانہ انا پر چوٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس’’ خاموش پانی‘ ‘تقسیم کو عورت کے جسم اور نفسیات کے حوالے سے متعین کرتی ہے۔ اس کا صدمہ مسلسل، بے شفا، اور اسلامائزیشن کے منصوبے سے جڑا ہوا ہے۔ فاروق سلہریادرست طور پر نوٹ کرتے ہیں کہ یہ ’’خاموش پانی‘‘ میں جس طرح سے پیش کیا گیا ہے ،وہ بائیں بازو کی سوچ سے بھی مختلف ہے۔ بایاں بازو تقسیم کو ہندوستان کے محنت کشوں سے ایک غداری کے طور پر دیکھتا ہے۔ بائیں بازو کے ہاں ناسٹیلجیاپایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ’’خاموش پانی‘‘ میں بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں جو ہو رہا ہے(یعنی ضیا آمریت نے جس طرح کی اسلامائزیشن مسلط کی)، در اصل تقسیم کا مقصد یہی تھا۔
فلم ’’جناح‘‘ نظریہ پاکستان سے ہٹ کر عالمی ناظرین کو لبھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس فلم کے متعلق فاروق سلہریا کی ریڈنگ بالکل درست ہے۔ خاص طور پر اس مشاہدے میں کہ یہ فلم ضیاء دور میں پیش کی گئی اسلامائزڈ شخصیت کی بجائے جناح کو ایک سیکولر ماڈرنسٹ کے طور پر پیش کرتی ہے۔
فاروق سلہریا کا خیال ہے کہ اگر پاکستانی فلم انڈسٹری میں تقسیم پر اتنی کم فلمیں بنیں تو اس کی ایک وجہ فلمی صنعت کی سیاسی معیشت ہو سکتی ہے۔ان کے خیال میں یہ ایسا پہلو ہے جس پر مزید غور کی ضرورت ہے۔ ہمارا میڈیا بڑے پیمانے پر ریاستی کنٹرول میں ہے، اور ٹیلی وژن، ادب اور حتیٰ کہ کھیل بھی ریاستی بیانئے کو دہرانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں سنیما کی تقسیم کے موضوع پر نسبتاً عدم توجہی خلاف معمول ہے۔
ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ یہ باب ان فلموں کو ایک وسیع تر نظریاتی اور تاریخی فریم میں رکھتا ہے۔ فاروق سلہریا کا جو کلیری، یاسمین خان اور رادھا کمار جیسے محققین سے مکالمہ پاکستان کی تقسیم کو یا 1947 کو ایک منفرد واقعہ بنا کر پیش نہیں کرتا۔ تقسیم ایک حکمت عملی تھی۔ برطانوی حکمرانوں کی اپنی کالونیوں سے exit strategy جو آئرلینڈ، ہندوستان اور فلسطین جیسے مختلف ممالک مین دیکھنے کو ملی۔
فاروق سلہریا کا تجزیہ قاری کو یہ دیکھنے کی دعوت دیتا ہے کہ لالی ووڈ ایک غیر سیاسی تفریحی صنعت نہیں بلکہ ایک ثقافتی آلہ ہے جو جب چاہے ریاست کی نظریاتی بنیادوں کو چیلنج کر سکتا ہے۔ اگر لالی ووڈ سے تقسیم پر کوئی سبق ملتا ہے تو وہ یہ ہے کہ خاموشی بھی ایک ڈسکورس ہے۔ پاکستانی سنیما میں تقسیم کی غیر موجودگی کوئی حادثہ نہیں، یہ ایک نظریاتی انتخاب ہے۔
ضمنی نوٹ: جو لوگ ’’کرتار سنگھ‘‘،’’ جناح‘‘، ’’لاکھوں میں ایک‘ ‘یا ’’خاموش پانی‘ ‘نہیں دیکھ سکے، ان کے لیے فاروق سلہریاکی تفصیل اتنی بھرپور ہے کہ فلم دیکھنے کا کئی پہلوؤں سے تجسس ختم ہو سکتا ہے۔ (دوسرے لفظوں میں اسپائلر الرٹ ہے).
مظہر عباس کا باب
آخر میں’’In Reimagining and Reproducing the Partitions (of 1947 and 1971) in Textbooks in Pakistan: A Comparative Analysis of the Zia and Musharraf Regines‘‘میں مظہرعباس پاکستان کی فکری زندگی کے سب سے زیادہ سیاسی موضوعات میں سے ایک کو زیربحث لاتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ ریاست اپنی پیدائش (1947)اور اپنے ٹوٹنے بارے(1971) آنے والی نسلوں کو کس طرح پڑھاتی ہے۔ انداز بیان کے فرق کے باوجود ضیاء کا 1979 کی تعلیمی پالیسی کے ذریعے اسلامائزیشن کا منصوبہ بمقابلہ مشرف کی 2002 اور 2006 میں ناکام ڈی ریڈیکلائزیشن کی کوششوں کے دونوں ادوار میں تقسیم کی دو بالکل مختلف کہانیاں سنانے کے لیے چنیدہ یادداشت کا سہارا لیاگیا۔مظہر عباس نوٹ کرتے ہیں 1947’’ابھرتی ہوئی ریاست‘‘کا بیانیہ ہے، اور1971’’پیرنٹ اسٹیٹ‘‘(parent state)کا بیانیہ ہے۔ ایک فخر کو بڑھاتا ہے،اور دوسرا فراموشی کا مطالبہ کرتا ہے۔
مظہرعباس یہ دکھاتے ہیں کہ کس طرح بعض واقعات، شخصیات اور علاقوں کو نمایاں کیا جاتا ہے جبکہ دوسروں کو مٹا دیا جاتا ہے، کس طرح نسلی، مذہبی اور سیاسی گروہوں کو اکثریتی قوم پرستی کے حق میں’’دشمن‘‘بنایا جاتا ہے، اور کس طرح’’ہم/وہ‘‘اور’’وفادار/غدار‘‘جیسی بائنری کو(binary) طلبہ کے ذہنوں میں ابتدا ہی سے بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس روشنی میں تاریخ کھلے سوالات کا میدان نہیں بلکہ ایک باڑ بند احاطہ ہے۔ مظہر عباس نصاب تیار کرنے والوں پر بھی تنقید کرتے ہیں جن میں مہارت کی بھی کمی ہے ،جو ریاستی بیانئے سے ہٹ کر نہیں دیکھتے اور تاریخ پر’’ٹنل ویژن‘‘رکھتے ہیں۔مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس طرح کے نصاب پڑھانے کا نتیجہ تاریخی شعور نہیں بلکہ تاریخی معذوری ہے۔ پاکستان میں اب ایسے شہری آباد ہیں جو بیانیے یاد کرنے کے عادی ہے لیکن ان پر سوال اٹھانے کے نہیں۔ اس کا حاصل ایک ایسا تعلیمی نظام ہے جو نہ تنقیدی سوچ پیدا کرتا ہے اور نہ ہی جامع اجتماعی یادداشت، اور یہ بالکل وہی’’بینکنگ ماڈل‘‘ہے جس سے پاؤلو فریرے نے خبردار کیا تھا۔
مظہرعباس عام جواز کو شاندار انداز میں چیلنج کرتے ہیں۔ اس طرح کی تاریخ پڑھانے کا عام جواز یہ دیا جاتا ہے کہ ہر ملک اپنی قوم کو متحد رکھنے کے لیے حب الوطنی پر مبنی تاریخ پڑھاتا ہے۔ مظہر عباس نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ دلیل اس وقت ٹوٹ جاتی ہے جب ہم 1971 کو یاد کرتے ہیں۔ اگر قوم پرستانہ تاریخ ملک کو جوڑے رکھنے کے لیے تھی، تو پاکستان کے ٹوٹنے کو نصاب میں سب سے بلند انتباہ کے طور پر ہونا چاہیے تھا،لیکن حقیقت میں اس کا بمشکل ذکر آتا ہے۔
یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب تک نصاب سیاسی ایجنڈوں کی بجائے غور و فکر پر مبنی نہیں ہوتے اور حقائق پر مبنی تاریخ کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتے، تب تک پاکستان ایسے شہری پیدا کرتا رہے گا جو نعرے بازی میں ماہر ہوں لیکن اپنے ماضی سے ناواقف رہیں۔
ان تمام ابواب سے جو تصویر ابھرتی ہے وہ تقسیم کو ایک ایسے تصور کے طور پر پیش کرتی ہے جو حال کے تقاضوں (ریاست کے تقاضوں) کو پورا کرنے کے لیے مسلسل اپنی شکل بدلتا رہتا ہے، چاہے وہ سرکاری تاریخوں کی بگاڑ کے ذریعے ہو، مقبول سنیما کی چنیدہ یادداشت کے ذریعے، یا سخت سنسر شدہ اور جانبدار نصاب کے ذریعے۔ ہمارا ادب، ہماری زبان، ہماری فلمیں اور ہمارے نصاب تاریخ کے غیر فعال آئینے نہیں، بلکہ ایسے فعال عوامل ہیں جو تقسیم کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم تقسیم کو ایک زخم کے طور پر نہ دیکھیں جو مندمل ہونے کا انتظار کر رہا ہے، بلکہ ایک ایسے ڈھانچے کے طور پر جو مسلسل قائم رکھا جاتا ہے۔ یہ طاقت اور تاریخ کے مابین اس تعلق کو بے نقاب کرتی ہے جہاں ماضی کو قوم کی پسندیدہ صورت میں تراشا جاتا ہے۔ یہ مجموعہ ایک بے چین کر دینے والا سوال اٹھاتا ہے۔ اگر ہم نے ماضی کو اپنی مرضی سے ہی گھڑنا ہے تو کیا ہم تاریخ سیکھ رہے ہیں، یا فراموشی کی مشق کر رہے ہیں؟
