ظلم کبھی بھی کسی ایک سرزمین کا مقید مسئلہ نہیں ہوتا۔ جب دنیا کے کسی کونے میں ایک بچی کی کتاب چھینی جاتی ہے، تو اس کی بازگشت پوری دنیا کے ضمیر میں سنائی دیتی ہے۔ انسانیت ایک جسم کی طرح ہے، اگر ایک حصہ زخمی ہو تو سارا وجود درد محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے ہم افغان خواتین کے ساتھ ہیں، ہم ان خوابوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو ٹوٹ رہے ہیں، ان آوازوں کے ساتھ جو دبائی جا رہی ہے۔ایسے ظالمانہ اور فسطائی نظام کو بدلنے کا راستہ وہ تبدیلی جو عورت کو علم، روزگار اور برابری دے۔