روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

جموں کشمیر: صحافیوں کو ’امن میں بگاڑ‘ نہ پیدا کرنے کا حلف نامہ دستخط کرنے کی ہدایت

جموں کشمیر: صحافیوں کو ’امن میں بگاڑ‘ نہ پیدا کرنے کا حلف نامہ دستخط کرنے کی ہدایت

لاہور(جدوجہد رپورٹ)بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں پولیس نے کم از کم تین صحافیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک تحریری حلف نامے پر دستخط کریں جس میں یہ یقین دہانی دی جائے کہ وہ خطے کے ”امن میں خلل“ نہیں ڈالیں گے۔ دو صحافیوں نے بدھ کو خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘کو بتایا کہ انہیں اس مقصد کے لیے پولیس نے طلب کیا۔

تیسرے صحافی، جو ہندوستان ٹائمز کے معاون ایڈیٹر ہیں، کو بھی سری نگر کے ایک تھانے میں طلب کیا گیا، تاہم انہوں نے یہ حلف نامہ سائن نہیں کیا۔ اس حوالے سے ہندوستان ٹائمز نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں تفصیل شائع کی۔

بھارت نے 2019 میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے خطے میں کئی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں میڈیا کوریج سے متعلق سخت ہدایات بھی شامل ہیں۔

’رائٹرز‘ کے مطابق سری نگر پولیس کے ترجمان نے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان کے صحافی کو 15 سے 19 جنوری کے درمیان چار مرتبہ طلب کیا گیا اور 16 جنوری کو حلف نامہ سائن کرنے کا کہا گیا۔

اخبار کے چیف ایڈیٹر، راج کمل جھا نے کہا کہ ”ہمارے صحافی نے پولیس کے کہنے پر کوئی بانڈ سائن نہیں کیا۔ ہندوستان ٹائمز اپنے صحافیوں کے حقوق اور ان کی عزت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔“

دو دیگر صحافیوں نے بتایا کہ انہیں بھی پولیس نے طلب کیا تھا، لیکن ایک صحافی سفر پر تھا جبکہ دوسرا تھانے نہیں گیا۔ حساس نوعیت کے معاملے کے باعث دونوں نے اپنا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

صحافیوں اور ہندوستان ٹائمز نے بتایا کہ انہیں اس وقت طلب کیا گیا جب انہوں نے خبریں شائع کیں کہ کشمیر پولیس مساجد سے ان کی فنڈنگ، انتظامی ڈھانچے اور بجٹ سے متعلق تفصیلات طلب کر رہی ہے۔

پریس کلب آف کشمیر نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ اس کے کئی اراکین کو یا تو طلب کیا گیا یا انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ مذہبی اداروں کی پروفائلنگ سے متعلق خبریں شائع کرنا روک دیں۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے ایشیا پیسیفک پروگرام کے کوآرڈینیٹر کونال مجمدار نے کہاکہ ”صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ رپورٹنگ پر پولیس کے ذریعے طلب کرنا کشمیر میں میڈیا کے خلاف جاری خوف و ہراس کی مہم کا حصہ ہے۔“

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں