لاہور(جدوجہد رپورٹ)بھارتی حکومت نے اپنے زیر انتظام جموں کشمیر میں آرٹیکل370کی منسوخی کے بعد ’معمول کی بحالی‘ کو ثابت کرنے کے لیے سیاحوں کی بڑے پیمانے پر آمد کو جواز بنایا ہے۔ تاہم حال ہی میں معلومات تک رسائی کے قانون’آر ٹی آئی‘ کے تحت دی گئی ایک درخواست کے نتیجے میں سامنے آنے والے اعدادو شمار میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ مودی حکومت نے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔
’دی وائر‘ کے مطابق سری نگر کے ایک کارکن ایم ایم شجاع کی آر ٹی آئی درخواست میں انکشاف ہوا ہے کہ 2019سے2024کے درمیان وادی کشمیر میں 92لاکھ80ہزار199سیاحوں نے دورہ کیا، جن میں 1لاکھ40ہزار577غیر ملکی شامل تھے۔ تاہم مرکزی حکومت کے اقتصادی سروے2024-25کے مطابق اسی مدت میں 1کروڑ18لاکھ سیاحوں نے کشمیر کا دورہ کیا۔ 25لاکھ سے زائد کا یہ فرق دیگر سرکاری اعداد و شمار کی درستگی پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
سیاحوں کی گنتی کے طریقہ کار پر سوالات
شجاع نے دعویٰ کیا کہ سیاحت کے اعداد و شمار میں مقامی رہائشیوں، طلبہ، مریضوں، کاروباری افراد اور سکیورٹی اہلکاروں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو اصل سیاحوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سری نگر ایئرپورٹ اور قومی شاہراہ کے ذریعے آنے والے تمام افراد کو سیاح شمار کیا جاتا ہے، جس سے اعداد و شمار کی صداقت مشکوک ہو جاتی ہے۔
سونمرگ میں سیاحوں کی تعداد پر تضاد
سونمرگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق 2024 میں 8لاکھ 90ہزار874 سیاحوں نے سونمرگ کا دورہ کیا۔ تاہم شجاع نے نشاندہی کی کہ سونمرگ میں صرف 1270 کمرے دستیاب ہیں، اور اگر یہ تمام کمرے سال بھر مکمل طور پر بھرے رہیں، تو بھی زیادہ سے زیادہ 9لاکھ27ہزار100سیاحوں کی گنجائش بنتی ہے۔یہ اعداد و شمار اس حقیقت کے برعکس ہیں کہ سونمرگ سخت سردیوں اور 2024 میں ایک عسکریت پسندانہ حملے کے باعث کئی ہفتوں تک بند رہا۔
سیاحت کے شعبے کی معیشت میں شراکت
ایک 2018 کی رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) میں سیاحت کے شعبے کا حصہ 6.99فیصد سے 8.04فیصد کے درمیان رہا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے بجٹ خطاب میں اس شعبے کی شراکت کو 15فیصد تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
یہ تضادات حکومت کے ان دعووں پر سوال اٹھاتے ہیں کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں معمول کی زندگی بحال ہو گئی ہے۔ صحیح اور شفاف اعداد و شمار کی عدم موجودگی میں سیاحت کے شعبے کی پائیدار ترقی مشکل ہو سکتی ہے۔