پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک کے نئے مرحلہ میں 29ستمبر سے4اکتوبر2025ء تک لاک ڈاؤن، مظاہرے اور لانگ مارچ منعقد کیے گئے۔ اس تحریک کو ایک تسلسل کے ساتھ چلتے ہوئے ڈھائی سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ ماضی کی تحریکوں کے ساتھ اس تحریک کے تعلق، اس تحریک کے مرحلہ وار ارتقاء سمیت دیگر کئی امور پر ’الٹرنیٹو ویوپوائنٹ‘ کے مدیر سوشوان دھر نے شریک مدیر ’جدوجہد‘ حارث قدیر کا ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے، جس کا اصل متن یہاں کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔ اس انٹرویو کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:
موجودہ جدوجہد کا تعلق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی پچھلی احتجاجی تحریکوں سے کس طرح جڑتا ہے؟
حارث قدیر:پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر کے دو انتظامی ڈھانچوں کے تحت پاکستان کے وفاقی سیٹ اپ کے زیر سایہ رول کیا جا رہا ہے۔ ایک حصہ گلگت بلتستان کا ہے جسے پاکستان کے ایک صدارتی آرڈر کے تحت صوبائی طرز کے ڈھانچے میں ڈھالا گیا ہے۔ ماضی میں فرنٹیر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) جیسے برطانوی نوآبادیاتی قانون کے تحت اس کا انتظام چلایا جاتا رہا ہے۔ دوسرا حصہ جموں کشمیر کے ان اضلاع پر مشتمل ہے، جو ماضی میں پونچھ ریاست اور ویلی کشمیر کے زیر اثر رہے ہیں۔ اس حصے کو ایک ظاہری طور پر ایک الگ ریاستی ڈھانچے کے طور پر چلایاجاتا ہے۔ جس میں صدر، وزیراعظم، سپریم کورٹ اور دیگر ریاستی ڈھانچہ موجود ہے۔ تاہم ان دونوں حصوں کے اقتدار کا اصل مرکز پاکستان کے بھیجے گئے اہم لینٹ افسران اور پاکستان کی وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان میں بیٹھنے والے افسران ہی ہیں۔
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی ریاستی حکومت کے زیر اثر علاقوں میں جدوجہد اور احتجاجی تحریکوں کا سلسلہ 1932سے ہی جاری رہا ہے۔ پہلے اس خطے میں ماضی کی ریاست پونچھ کی خودمختاری کی جدوجہد جاری رہی ہے۔ پھر جب 1940میں پونچھ کی سب سٹیٹ کو مہاراجہ جموں کشمیر نے اپنے اثر میں لیا اور امتیازی ٹیکسوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تو مہاراجہ جموں کشمیر کے شخصی راج اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی۔ یہ تحریک 1947ء میں برصغیر کی تقسیم سے قبل ہی پرتشدد رخ اختیار کر کے مسلح تحریک میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی تھی۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد پونچھ کی یہ مسلح تحریک پونچھ کے بڑے حصے پر قابض بھی ہو چکی تھی۔ اسی دوران نومولود پاکستانی ریاست کی جانب سے قبائلی لشکر بھی مظفرآباد کے راستے سرینگر کو فتح کرنے کے لیے بھیجے اور یہ لشکر بھی مظفرآباد کو فتح کرنے کے بعد بارہمولہ اور سرینگر کے نواحی علاقوں تک پہنچ گئے تھے۔ دوسری جانب نومولود بھارتی حکمران اور مہاراجہ جموں کشمیر ہری سنگھ بھی بھارت کے ساتھ جموں کشمیر کے الحاق کی راہ ہموار کر رہے تھے۔ قبائلی لشکر کے حملے اور پونچھ میں مقامی بغاوت کے بعد انہیں یہ جواز مل گیا کہ بھارتی فورسز کو جموں کشمیر میں اتارا جائے اور جموں کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کیا جائے۔
پونچھ کے باغیوں نے ایک باغی حکومت قائم کی تھی اور اس حکومت کو جموں کشمیر کے عوام کی نمائندہ، جمہوری، خودمختار اور سیکولر حکومت قرار دیا گیا تھا۔ تاسیسی اعلامیے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ پورے جموں کشمیر کو آزاد کروانے کے بعد رائے شماری کے ذریعے اس خطے کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم جموں کشمیر میں بھارتی فوجوں کی آمد کے بعدپاکستانی قبائلی لشکر کی مدد کے لیے پاکستان کی باقاعدہ فوج بھی اس جنگ میں شامل ہو گئی تھی اور پاک بھارت جنگ اور بعد ازاں جنگ بندی کے نتیجے میں جموں کشمیر مستقل بنیادوں پر دوحصوں میں تقسیم ہو گیا۔
اس تمہید کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ جموں کشمیر کے اس حصے میں تحریکوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ صرف مہاراجہ جموں کشمیر کے شخصی راج کے خلاف ہی یہ تحریک اور بغاوت نہیں رہی ہے، بلکہ بعد ازاں جب مقامی لوگوں کی حکومت کو پاکستانی حکومت کی طرف سے یرغمال بنایا گیا۔ اختیارات پاکستان کی مرکزی حکومت کے پاس منتقل ہو گئے اور جموں کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان میں آباد ہونے والی قیادتوں کے ذریعے فیصلہ سازی کا سلسلہ شروع کر لیا گیا تو یہاں پھر پاکستان کے خلاف بھی ایک بغاوت ہوئی۔ مئی، جون 1950ء میں پونچھ میں ایک بار پھر متوازی حکومت قائم کر لی گئی۔ اس حکومت کو کچلنے کے لیے پاکستانی فوج کو بھیجا گیا اور ان فوجی اہلکاروں کو ہتھیار چھین کر یرغمال بنا لیا گیا۔ تین سال چلنے والی اس بغاوت کے نتیجے میں مطالبات تسلیم ہوئے الیکشن کمیشن قائم کرنے اور عوام کی نمائندہ حکومت کے انتخاب کے لیے انتظامات کرنے کا وعدہ کیا گیا۔
یہ وعدہ بھی پورا نہ ہوا اور 1955میں ایک بار پھر پونچھ ہی کے علاقے پلندری سے بغاوت پھوٹ پڑی۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے پنجاب کانسٹیبلری کے نیم فوجی دستے بھیجے گئے۔ دو سال کی اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دینے کے بعد بالآخرایک معاہدے کے نتیجے میں امن قائم ہوا، جسے معاہدہ بارل کہتے ہیں ۔
اس کے بعد ایک منصوبے کے تحت مقامی حکمران اشرافیہ نے یہ سرکاری بیانیہ ترتیب دیا کہ یہ نام نہاد تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے، اس لیے اس خطے کے لوگوں کا مقصد بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کو آزاد کروانا ہے۔ اس مقصد کے تحت مقامی وسائل پر اختیار، حق حکمرانی اور سیاسی و مالیاتی اختیارات کے حصول کی جدوجہد کو بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کو آزاد کروانے کی جدوجہد سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس کی بھی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اس خطے میں لوگوں کے اجتماعی شعور میں ایک بات ہمیشہ سے موجود رہی ہے کہ پورے جموں کشمیر کو آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر قائم کرنا ان کی ذمہ داری ہے، اور یہ کام 1947ء میں ادھورا رہ گیا تھا۔
مقامی سطح پر عوامی حقوق کی بازیابی کے لیے جدوجہد کا یہ سفر جاری رہا، اور جموں کشمیر کی مکمل آزادی کی تحریک ظاہر ہے اس پر غالب رہی ہے۔ تاہم 5 اگست 2019کے واقعات نے ایک بار پھر قوم پرست اور ترقی پسند قیادتوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اگر وہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں حق حکمرانی حاصل کر نے میں کامیاب ہوتے ہیں تو جموں کشمیر کی آزادی کی جدوجہدکو بہترطریقے سے استوار کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا فرق قومی آزادی کی جدوجہد کو سامراجی اداروں اور سامراجی حکمرانوں کی مدد کے ذریعے استوار کرنے میں بھی مکمل ناکامی نظر آرہی تھی۔ مثال کے طور پر اقوام متحدہ اور امریکہ سے جو امیدیں لگائی جا رہی تھیں، وہ 2019میں مودی حکومت اور عمران خان حکومت کی ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتوں اور ان ملاقاتوں کے نتیجے میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد دم توڑ چکی تھیں۔
بائیں بازو کا ایک حلقہ طویل عرصے سے قومی آزادی کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر منظم کرنے کی کوششوں میں مصروف رہا ہے۔ تاہم اسے پہلے بہت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ روز مرہ ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بے جا ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کو قوم پرست حلقوں کی طرف سے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ تاہم 2019ء کے بعدیہ سلسلہ تبدیل ہوا اور طبقاتی مسائل کے خلاف مختلف سطح کی تحریکوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اس جدوجہد میں ایکشن کمیٹیوں اور متحدہ محاذوں کے قیام کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا۔
یوں یہ سلسلہ پوسٹ کووڈ بہت سے مرحلوں سے گزرتے ہوئے ’عوامی حقوق تحریک‘ کے نام سے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پر کسی حد تک مرتکز ہونا شروع ہوا۔ اگست 2022میں شروع ہونے والی یہ تحریک پھر 9مئی2023ء کو ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ طویل ترین احتجاجی دھرنوں ، احتجاجی مظاہروں، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتالوں کے نتیجے میں بالآخر یہ ستمبر2023ء میں ریاست گیر تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ مرکزی قیادت کے طور پر ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے نام سے 30رکنی کمیٹی قائم کی گئی اور پھر وارڈ سطح پر عوامی ایکشن کمیٹیاں بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔
اس تحریک کے بنیادی مطالبے بجلی کے وسائل پر اختیار، جموں کشمیر میں پیدا ہونے والی ہائیڈل بجلی کو پیداواری نرخوں پر فراہم کرنے اور بے جا ٹیکسوں کے خاتمے پر مبنی تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ آٹے پر سبسڈی کی فراہمی اور حکمران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے جیسے مطالبے بھی اس تحریک کے بنیادی مطالبوں میں شامل تھے۔ اس چارٹر آف ڈیمانڈ پر تحریک منظم کرنے کے مقاصد بھی یہی تھے کہ بتدریج حق حکمرانی اوروسائل پر حق ملکیت کے حصول کی جانب بڑھا جائے اور طبقاتی بنیادوں پر قومی آزادی کی جدوجہد کو از سرنو استوار کیا جائے۔
تاہم تحریکوں میں جہاں بائیں بازو کی مداخلت ہوتی ہے،وہاں دائیں بازو کی رجعتی قوتوں او ر ریاست کی مداخلت کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ ہنگامی سطح پر بننے والی مرکزی قیادت کی کمیٹی میں بھی تاجروں اور قوم پرست عناصر کی دوسرے درجے کی قیادت سے لوگوں کی غالب اکثریت شامل تھی، اس کے علاوہ وکلاء، ٹرانسپورٹرز اور اصلاح پسند سول سوسائٹی کی بھی ایک قلیل نمائندگی موجود تھی۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ تحریک کی شدت اور اجتماعی شعور کی سطح کا درست ادراک کرنے میں وہ ناکام رہے۔ دائیں بازو کی قیادتوں کی جانب سے ریاست کے ساتھ ساز باز کر کے تحریک کے اینٹی کلونیل کردار کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت نے اینٹی کلونیل اور اینٹی نیو لبرل کردار کی حامل تحریک کو ’غیر سیاسی‘ رکھنے کے لیے اوپر سے فیصلے مسلط کرنے، ایس او پیز کے ذریعے نظریات اور پروگرام پر بات کرنے اوریہاں تک کہ نوآبادیاتی ڈھانچے پر تنقید کا راستہ بھی بند کر نا شروع کر دیا۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے یہ تحریک اب دو حصوں میں آگے بڑھ رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تحریک کے اندر ایک تحریک بھی موجود ہے۔
مختصراً یہ تحریک ماضی کی تمام تر تحریکوں کا نہ صرف تسلسل ہے، بلکہ قیادت کے ظاہری بیانات اور مطالبات سے کہیں زیادہ آگے کھڑی ہے ۔
اس 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز کے اہم نکات یا بنیادی مطالبات کیا ہیں؟
حارث قدیر:29ستمبر2025ء کو اس تحریک کے دوسرے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ تیسرے مرحلے میں 38نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے لاک ڈاؤن ، احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچ جیسے اقدامات اٹھائے گئے۔ گزشتہ سال مئی2024ء میں لانگ مارچ کے نتیجے میں بجلی کی قیمتیں 3سے 6روپے فی یونٹ مقرر کی گئی تھیں اور آٹے کی قیمتوں میں فی 40کلوایک ہزار روپے سے زائد کی کمی کی گئی تھی۔ تاہم دیگر مطالبات پر معاہدہ تو کیا گیا لیکن اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔
دسمبر2024ء میں بھی احتجاج کے نتیجے میں ایک اور معاہدہ کیا گیا، لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ معاہدے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد مئی2025میں مظفرآباد میں منعقدہ ایک بڑے جلسے میں چارٹر آف ڈیمانڈ میں اضافہ کیا گیا۔ مظفرآباد کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے لیے رکھی گئی 12نشستوں کا خاتمہ، مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے لیے ملازمتوں میں مختص19فیصد کوٹے کا خاتمہ، تعلیم و صحت کی مفت فراہمی، حکمران اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ اور اسی نوعیت کے دیگربنیادی مطالبات شامل تھے۔
ہائیڈل منصوبہ جات کے مقامی حکومت سے معاہدے کرنے، سرکاری امور میں شفافیت لانا، کرپشن کا خاتمہ کرنا، طلبہ یونین کی بحالی، بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات فراہم کرنا، سفری سہولیات کے لیے کچھ ٹنلز(سرنگوں) ، پلوں اور سڑکوں کی تعمیر سمیت دیگر مطالبات بھی شامل تھے۔
حق حکمرانی اور حق ملکیت کے عنوان سے دیہی سطح پر کانفرنسیں منعقد کی جا رہی تھیں۔ اس وجہ سے مجموعی طور تاثر یہ دیا جا رہا تھا کہ نوآبادیاتی نظام کو تبدیل کر کے اس خطے کے حق حکمرانی کو بحال کیا جائے گا۔ تاہم عملی طو رپر ایسا کوئی مطالبہ چاٹر آف ڈیمانڈ میں شامل نہیں تھا۔
کیا آپ موجودہ جدوجہد کی نوعیت بیان کر سکتے ہیں؟ اس وقت کی صورتِ حال کیسی ہے؟کیا گرفتاریوں، تشدد یا دھمکیوں کے واقعات پیش آئے ہیں؟
حارث قدیر:میرا خیال ہے گزشتہ چند روز کے دوران اس خطے میں غیر معمولی واقعات ہوئے ہیں۔ یہ واقعات کسی طور پر نیپال، بنگلہ دیش ، یا سری لنکا سے کم نہیں تھے، بلکہ عوامی مداخلت اور سیاسی بلوغت کے حوالے سے ان واقعات سے کئی درجے بلند تھے۔ مثال کے طور پر جموں کشمیر کے ان 10اضلاع میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے، 5روز تک تمام کاروبار زندگی معطل رکھا گیا، رضاکارانہ طور پر لوگوں نے سڑکوں پر گاڑیاں نکالنے سے انکار کر دیا، تمام شہروں میں ہر طرح کا کاروبار رضاکارانہ طور پر بند کیا گیا، تمام چھوٹے بڑے شہروں میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے احتجاج ریکارڈ کروایا۔
پاکستان سے پولیس اور نیم فوجی دستے بڑی تعداد میں احتجاج کو روکنے کے لیے طلب کیے گئے تھے۔ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے فورسز نے جبر اور تشدد کا راستہ اختیار کیا، لیکن مظاہرین نے فورسز کو ہتھیار پھینکنے پر نہ صرف مجبور کیا، بلکہ ہتھیار پھینکنے کے بعد انہیں واپسی کا محفوظ راستہ بھی دیا گیا۔ ریاست کی ہی ایماء پر امن مارچ کے نام پر حکمران جماعتوں کے غنڈوں کے ذریعے پولیس کی سرپرستی میں مظفرآباد میں مظاہرین پر مسلح حملہ کروایا گیا۔ فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے، لیکن اس کے باوجود مظاہرین نے کہیں بھی توڑ پھوڑ نہیں کی، بلکہ اپنے احتجاج پر توجہ مرکوز رکھی۔
ان 5ایام میں صرف ایک واقعہ ایسا ہوا جسے پرتشدد کہا جا سکتا ہے اور جہاں مظاہرین نے بے قابو ہو کر فورسز کو انتقام کا نشانہ بنایا۔ پونچھ کو مظفرآباد سے ملانے والی ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ میں مظاہرین کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس نے فائرنگ اور شیلنگ کی۔اس تصادم میں 5ہلاکتیں ہوئی اور 150سے زائد افراد بری طرح زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعدادپولیس اہلکاروں کی تھی۔ اسی مقام پر پولیس کی گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا۔
ان 5ایام کے دوران مجموعی طور پر 10ہلاکتیں ہوئیں، 300سے زائد لوگ زخمی ہوئے، تاہم اس سب کے باوجود احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار نہیں کیا اور ہزاروں مظاہرین دارالحکومت مظفرآباد کے داخلی راستے پر جمع ہو کر دھرنے میں بیٹھ گئے۔ یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہا، جب 4اکتوبر کو مطالبات تسلیم ہونے کا اعلان جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت کی جانب سے کیا گیا۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے خمیر میں یہ ایک اینٹی کلونیل اور اینٹی نیو لبرل تحریک ہے، جو معاشرے میں انتہائی گراس روٹ لیول تک پھیلی ہوئی ہے۔ تاہم اس کی قیادت کو تحریک کے کردار کا اس طرح سے ادراک اس لیے بھی نہیں ہے کہ وہ محض روایتی ٹریڈ یونین قیادتوں کی طرح ہر احتجاج میں چند حاصلات حاصل کر کے دوبارہ نئے احتجاج کی تیاریوں میں مشغول ہوجاتی ہے۔
کن سماجی طبقات (محنت کش، طلبہ، خواتین، کسان، بیروزگار نوجوان وغیرہ) کی شرکت سب سے زیادہ ہے؟ حکومت نے موجودہ جدوجہد کے خلاف کیا ردِعمل ظاہر کیا؟
حارث قدیر:اس سلسلے میں اس خطے کی آبادیاتی اور معاشی کمپوزیشن کو سمجھنا پڑے گا۔ اس تحریک میں مجموعی طور پرسماج کی تمام پرتیں شامل ہیں۔ بہرحال جموں کشمیر کا یہ حصہ مجموعی طور پر ایک کنزیومر سوسائٹی کی طرز کا ہے۔ آمدن کا انحصار بیرون ملک ،یورپ، امریکہ، افریقہ، مشرق وسطیٰ وغیرہ، میں موجود اوورسیز محنت کشوں کے بھیجے گئے ترسیلات زر پر ہے، جو 45لاکھ آبادی کے 15سے 18لاکھ محنت کشوں پر مشتمل ہے۔ ایک لاکھ سرکاری ملازمین ہیں ، کسان نہ ہونے کے برابر ہیں اور فیکٹریاں کارخانے نہ ہونے کی وجہ سے اندرون ریاست منظم محنت کش طبقے کی کوئی شکل موجود نہیں ہے۔ نجی کاروبار ، بینکوں اور نجی سکولوں اور ہسپتالوں میں 3لاکھ کے قریب افراد روزگار سے منسلک ہیں۔ نجی شعبے میں ملازمتیں کرنے والے یہ محنت کش کم از کم بنیادی تنخواہ سے بھی کئی گنا کم تنخواہوں پر گزارہ کر رہے ہیں۔ ٹریڈ یونین کا حق موجود نہیں ہے، سرکاری شعبے کے محنت کشوں کو بھی ٹریڈ یونین کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس لیے اس معاشرے کے مجموعی کمپوزیشن بیرون ملک کے ترسیلات زر کی وجہ سے ایک درمیانے طبقے کی نفسیات پر مبنی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کی نوعیت بھی عوامی ہے۔ دیہاتوں میں موجود عام لوگوں کی اس تحریک میں شمولیت زیادہ ہے۔ بڑی تعداد میں نوجوان بیروزگار ہیں، تاہم ان کے گھروں سے کسی نہ کسی فرد کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے کسی حد تک ان کے پاس یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ سیاسی عمل میں کل وقتی شریک ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ان نوجوانوں اور طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد اس تحریک کا حصہ ہے۔
پسماندگی اور قبائلی نفسیات کے غلبے کی وجہ سے خواتین کو اس طرح سے پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ گو کہ خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، ابتدائی عرصے میں خواتین نے الگ سے احتجاجی مظاہرے منعقد کیے تھے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اس تحریک میں ایک سرگرم کردار خواتین کا موجود ہے، تاہم عملی طور پر مظاہروں میں خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہی رہتی ہے۔لانگ مارچوں کے دوران خواتین کی ایک بڑی تعداد مختلف بازاروں میں چھتوں سے ہو کر قافلوں کے استقبال میں بھی شریک رہی ہے، جبکہ جہاں جہاں عارضی پڑاؤ رہے، وہاں شرکاء لانگ مارچ کو کھانا، پانی اور ضروریات کی اشیاء فراہم کرتے ہوئے خواتین یکجہتی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔
حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔ 500سے زائد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ پاکستانی خفیہ اداروں کا عمل دخل بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے تحریک کو ڈیل کرنے کا زیادہ عمل خفیہ اداروں کے افسران کی ہدایت پر ہی کیا جا رہا ہے۔اس سلسلہ میں سرکاری طور پر ذہن سازی کرنے کا عمل بھی بتدریج جاری ہے۔ تحریک کی قیادت کے عمل اور حکمت عملی سے بھی یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ قیادت کے ہراول حصوں کو بھی مجبور کیا گیا ہے کہ وہ بائیں بازو کی قیادتوں ، بالخصوص قوم پرست قیادتوں کو تحریکی سرگرمیوں سے دور رکھیں، تاکہ تحریک کے اینٹی کلونیل کردار کو زائل کیا جا سکے۔
کیا آپ چند الفاظ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟
حارث قدیر:جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کمپوزیشن اور اس کے قیام کے حوالے سے ہم اوپر تذکرہ کر چکے ہیں۔ یہ کمیٹی مجموعی طور پر تحریک کی قیادت کے طور پر کام کر رہی ہے۔ 10اضلاع سے 3، 3ممبران اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔ اس کی سرگرمیاں زیادہ تر دیہی سطح کی چھوٹی چھوٹی کانفرنسوں کے انعقاد پر مشتمل ہیں۔ یہ کانفرنسیں گزشتہ 2سال کے دوران 200سے زائد کی تعداد دمیں منعقد کی جا چکی ہیں، جن میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ ابھی تک اس کمیٹی کی کال پر 3بڑے احتجاج ہو چکے ہیں، جبکہ کئی چھوٹے بڑے احتجاج، شٹر ڈاؤن ، پہیہ جام ہڑتالیں بھی کی جا چکی ہیں۔
مہاجر نشستوں کے خلاف احتجاج کیوں کیا جا رہا ہے؟
حارث قدیر:پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں قائم قانون ساز اسمبلی 53نشستوں پر مشتمل ہے۔ ان نشستوں میں 12نشستیں جموں کشمیر کے ان مہاجرین کے لیے مختص ہیں، جو 1947ء میں جموں کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف صوبوں میں آباد ہوگئے۔ 4لاکھ50ہزار کے قریب ووٹروں پر مشتمل ان 12نشستوں کا انتخاب حکومت پاکستان کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان مہاجرین کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 19فیصد کوٹہ بھی مختص کیا گیا ہے۔
احتجاج کی مختلف وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ نشستیں مظفرآباد حکومت پر نوآبادیاتی کنٹرول کو پختہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ ان ممبران اسمبلی کو استعمال کر کے ان ہاؤس تبدیلیاں کرنا، حکومتیں بنانا اور گرانا حکومت پاکستان کے لیے انتہائی آسان ہوجاتا ہے۔ ماضی میں یہ عمل کئی مرتبہ کیا گیا ہے۔
28اپریل1949ء کو حکومت پاکستان اور مظفرآباد حکومت کے مابین ایک معاہدہ کیا گیا، جسے معاہدہ کراچی کہتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں مظفرآباد حکومت کے اختیارات وضع کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت مہاجرین کی بحالی اور آباد کاری کا سبجیکٹ حکومت پاکستان نے اپنے پاس رکھا تھا، اسی طرح گلگت بلتستان کا انتظام بھی حکومت پاکستان نے اپنے پاس رکھا تھا، دیگر انتظامی اور سیاسی اختیارات بھی حکومت پاکستان نے اپنے پاس رکھ لیے تھے۔
اس کے بعد ان مہاجرین کو پاکستان کی سٹیزن شپ دی گئی اور ساتھ ہی مرحلہ وارزمینیں بھی الاٹ کی گئیں۔ ان مہاجرین جموں کشمیر کو پاکستان میں حق نمائندگی بھی حاصل ہے اور ٹیکس بھی یہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں دیتے ہیں۔
اس وجہ سے ایک بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ جموں کشمیر سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کی رقم ان مہاجرین کے نام پر یہ ممبران اسمبلی ہڑپ کر جاتے ہیں، جو اس حکومت کو ٹیکس ہی نہیں دیتے، نہ اس کے قانونی اور آئینی دائرہ کار میں آتے ہیں۔ یہ اعتراض بھی ہے کہ یہ ممبران اسمبلی جو قانون سازی کرتے ہیں وہ قوانین خود ان پر لاگو نہیں ہوتے، کیونکہ مظفرآباد حکومت کی آئینی حدود صرف پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے 10اضلاع تک محدود ہیں۔
اسی طرح یہ اعتراض بھی ہے کہ جو لوگ اس خطے میں ٹیکس نہیں دیتے، انہیں ملازمتوں میں 19فیصد کوٹہ دیا جاتا ہے، جو اس خطے کے لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔
موجودہ جدوجہد میں بائیں بازو کا کیا کردار ہے؟
حارث قدیر:اس تحریک کا آغاز بنیادی طو رپر بائیں بازو کی قوتوں نے ہی کیا تھا۔ تاہم اس خطے میں بایاں بازو مختلف حصوں میں تقسیم بھی ہے اور انتہائی کمزور بھی ہے۔ ایک بڑی تعداد سٹالنسٹ قوم پرست بائیں بازو کی ہے، جو مہاراجہ کے شخصی راج کی ترویج کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ اسی طرح بائیں بازو کا ایک انتہائی چھوٹا لیکن موقع پرست گروہ ایسا بھی ہے، جو قومی مسئلے سے ہی یکسر انکاری ہے۔ اس خطے کی اولین بائیں بازو کی طلبہ تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹودنٹس فیڈریشن اور اس سے فارغ التحصیل بائیں بازو کا ایک حلقہ بھی موجود ہے، جس نے اس تحریک کی بنیادیں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم مرکزی قیادت میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والا صرف ایک نمائندہ ہے، جبکہ مقامی سطح پر مختلف حلقوں اور ضلعوں کی سطح پر بائیں بازو کے انتہائی متحرک رہنما بھی اس تحریک میں کافی مقبول ہیں۔
ریاستی دباؤ کی وجہ سے مرکزی قیادت بائیں بازو کے پروگرام کو اپنانے سے اجتناب کر رہی ہے۔ تاہم بائیں بازو کا پروگرام نیچے عام عوام میں کافی مقبول ہے۔ بالخصوص آئین ساز اسمبلی کے قیام، وسائل پر عوامی ملکیت تسلیم کیے جانے، پاکستان کے لینٹ افسران کے انخلاء اور نوآبادیاتی ڈھانچے کو تقویت دینے والے عبوری آئین ،ایکٹ 1974، کے خاتمے کے مطالبات اس تحریک کے مقبول ترین مطالبات ہیں۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ علاقائی یا عالمی احتجاجی تحریکوں کا اس جدوجہد پر کوئی اثر پڑا ہے؟
حارث قدیر:بالکل علاقائی احتجاجی تحریکوں اور عالمی سطح پر احتجاجی تحریکوں کا اس تحریک پر کافی اثر موجود ہے۔ انقلاب اور آزادی کے نعرے اس تحریک کے مقبول نعرے ہیں۔ بالخصوص سری لنکا کے واقعات اور پاکستان کی پیریفریز میں جاری تحریکوں نے اس تحریک پر کافی اثر ڈالا تھا۔ حالیہ نیپال کی تحریک کے اثرات نے بھی 29ستمبرسے4اکتوبر تک کے واقعات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ نیپال کی تحریک کے اثرات ہی تھے کہ لوگوں نے ماضی کی نسبت زیادہ بڑے پیمانے پر احتجاج میں حصہ لیا اور ریاست جبر اور گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے سینے تان کر کھڑے ہو گئے۔
آپ کے خیال میں اس تحریک کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ طویل المدتی طور پر اس کا جموں کشمیر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟
حارث قدیر:اس تحریک نے بنیادی طور پر نوآبادیاتی ڈھانچے پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مستقبل میں اس خطے کی آئینی ، سیاسی اور مالیاتی حیثیت کو مروجہ طریقے پر ہی بحال رکھنا پاکستانی ریاستی اداروں کے لیے ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ سٹیٹس کو بری طرح سے مفلوج ہو چکا ہے۔ روایتی سیاسی جماعتیں اور بالخصوص پاکستانی سیاسی جماعتوں کی فرنچائزیں بری طرح سے عوام میں اپنی پذیرائی کھو چکی ہیں۔موجودہ اور سابق ممبران اسمبلی عوام کے سامنے قابل نفرت اور قابل حقارت بن چکے ہیں۔
ایسے حالات میں مستقبل میں اگر یہ تحریک آگے نہیں بھی بڑھتی تو اس سیاسی ڈھانچے کو مستحکم کرنا اتنا آسان نہیں رہے گا۔ البتہ تحریک کو ناگزیر طور پر آگے بڑھنا ہوگا اور اس نوآبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کیے بغیر آگے بڑھنے کا راستہ ممکن نہیں ہے۔
آپ پاکستان، بھارت یا بین الاقوامی گروہوں کی یکجہتی کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ آپ ان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟
حارث قدیر:جموں کشمیر کا یہ خطہ پاکستان کی پیریفریز میں سے ایک ہے اور جموں کشمیر کے لارجر ایشو کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ ایسی کیفیت میں انتہائی جاندار تحریک ہونے کے باوجود اس تحریک کی مکمل فتح یابی یا سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی طرف بڑھنے کا راستہ پھر پاکستان کے محنت کشوں اور محکوم قوموں کے متحرک ہونے سے مشروط ہے۔ اس کیفیت میں بالخصوص پاکستان اور بالعموم بھارت اور جنوب ایشیا سے بائیں بازو کی قوتوں اور محنت کش طبقے کی ہر اول پرتوں کا اس تحریک کے ساتھ یکجہتی کرنا انتہائی اہم ہے۔
عالمی طور پر بھی بائیں بازو کی قوتوں اور محنت کش طبقے کی ہر اول پرتوں کے ساتھ ساتھ محکوم قوموں کی تحریکوں سے اس تحریک کے لیے یکجہتی حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ نوآبادیاتی قبضے کے خاتمے اور نیو لبرل سامراجی پالیسیوں سے نجات کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کو شکست دینا ناگزیر ہے۔ جموں کشمیر کی آزادی بھی پاکستان اور بھارت کی سرمایہ دارانہ ریاستوں کی موجودہ حیثیت میں موجودگی میں ممکن نہیں ہے، نہ ہی ایسی کیفیت میں برصغیر کی دیگر محکوم قوموں کو نجات مل سکتی ہے۔ برصغیر کی اس مصنوعی تقسیم کے خاتمے اور آزاد اقوام کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے ذریعے ہی نہ صرف اس خطے میں قومی محکومی اور نوآبادیاتی جبر کو ختم کیا جا سکتا ہے، بلکہ حقیقی معنوں میں ایک انسانی معاشرے کی بنیادیں قائم کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے یہ جدوجہد تنہاء اور ٹکڑوں میں منظم کر کے مکمل فتح یاب ہونا ممکن نہیں ہے۔
اس لیے ہمیں نہ صرف یہ توقع اور امید رکھنی ہے بلکہ اس عملی جدوجہد کو بھی آگے بڑھانے کے لیے متبادل انقلابی قوتوں کی تعمیر کا فریضہ سرانجام دینا ہوگا۔ آج اس خطے میں موجود تحریکوں میں جو سب سے بڑا فقدان نظر آرہا ہے وہ سائنسی سوشلزم سے لیس منظم انقلابی قیادتوں کا فقدان ہے۔ اس لیے اس خطے کے انقلابیوں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ انقلابی قیادت کی تعمیر کے سلسلے کو تیز کریں، تاکہ ان تحریکوں کو آپس میں جوڑتے ہوئے سرمایہ دارانہ جبر کے ہر بندھن کو توڑا جائے اور انسانیت کے عظیم مستقبل کا آغاز کیا جا سکے۔