روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

جموں کشمیر کو پاک بھارت جنگ کا میدان بنانے کا عمل ترک، غیر ملکی افواج کا انخلا کیا جائے: این ایس ایف

جموں کشمیر کو پاک بھارت جنگ کا میدان بنانے کا عمل ترک، غیر ملکی افواج کا انخلا کیا جائے: این ایس ایف

راولاکوٹ (پ ر) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر خلیل بابر نے تحریری بیان میں کہا ہے کہ سیز فائر لائن کے آر پار نہتے کشمیریوں کا قتل عام اس بات کا اظہار ہے کہ دونوں اطراف کے حکمران طبقات کو جموں کشمیر کے دریاؤں اور دیگر قدرتی وسائل پر دلچسپی ہے نہ کہ اس خطے کی پونے دو کروڑ انسانوں کی زندگیوں سے کوئی دلچسپی ہے۔جموں کشمیر محض زمین کا ٹکڑا نہیں ہے جس کے حصول کے لیے یہاں آگ برسائی جائے۔گزشتہ آٹھ دہائیوں سے ان ریاستوں کے حکمرانوں نے ایک طرف جموں کشمیر کے محنت کش عوام کو جبراً تقسیم، غلامی اور محرومیوں کا شکار رکھا ہے، دوسری طرف مسئلہ جموں کشمیر کو بنیاد کر بنا کر ان حکمرانوں نے برصغیر جنوبی ایشیاء کے محنت کشوں پر تین جنگیں مسلط کر کے کروڑوں انسانوں کے وجود کو خطرے سے دوچار کیا ہے۔جموں کشمیر نیشل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان اور ہندوستان کے محنت کشوں سے اپیل کرتی ہے وہ حکمران طبقات کی جانب سے ابھارے جانے والے جنگی جنون کو مسترد کرتے ہوئے جموں کشمیر سے قابض افواج کے انخلاء کا مطالبہ کریں اور براہ راست یا بالواسطہ کاروائیوں سے اجتناب کا مطالبہ کریں جو دونوں ریاستوں کے درمیان جنگ کا مؤجب بن سکتی ہے۔

دونوں ریاستیں مسئلہ کشمیر کو آٹھ دہائیوں سے اپنے داخلی سیاسی و معاشی بحرانوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف رجعتی مذہبی اور قومی تعصبات کو ابھارنے کےلیے استعمال کرتی آئی ہیں۔یہ ریاستیں جموں کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک کو جنگی جنون اور پراکسی وار کے ذریعے بار بار کچلتی رہی ہیں۔پہلگام حملے میں سیاحوں کی ہلاکت اسی مذہبی شدت پسندی اور پراکسی وار کی کڑی ہے جس کی جے کے این ایس ایف بھرپور مذمت کرتی ہے۔ دوسری طرف دہشت گردی کے اس واقعے کو مودی سرکار نے جس طرح جموں کشمیر کے عوام پر جبر و تشدد اور نفرت کے لیے استمعال کر رہی ہے ہم اس کی بھی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ پہلگام کے قتل عام کے بعد جاری کریک ڈاؤن میں جموں کشمیر کے عوام کے گھروں کو مسمار کیا اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور لوگوں کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے جو قابل مذمت ہے۔یہ ریاستیں دہشتگردی کے واقعات کو نوآبادیاتی جبر میں مزید شدت لانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔2019 میں پلوامہ حملے کے بعد ریاستی جبر میں مزید شدت لائی گئی اور ریاست کی نیم خودمختار حثیت کو ختم کر کے ہزاروں ڈومیسائل جاری کرتے ہوئے اسرائیل کی طرز پر جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش کی گئی۔مودی کے امن کے دعوؤں کے برعکس جموں کشمیر میں لاکھوں افواج کی موجودگی میں خوف کے ذریعے وقتی سکوت مسلط کیا گیا ہے لیکن خوف اور جبر کی بنیاد پر ہمیشہ قومی آزادی کی تحریکوں کو نہیں دبایا جا سکتا ہے۔

مسئلہ کشمیر کا حل ان دونوں ریاستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں اور نہ ہی ان کے درمیان جنگ ہے بلکہ ایک آزاد جمہوری اور سوشلسٹ جموں کشمیر کا قیام ہے جو جنوبی ایشیاء کی سوشلسٹ فیڈریشن کا حصہ ہو۔بھارت، پاکستان، جموں کشمیر سمیت تمام مظلوم اقوام کے محنت کشوں کا سرمایہ دارانہ نظام کی نمائندہ ریاستوں کے پیدا کردہ تنازعات میں کوئی مفاد نہیں ہے۔ ان کا حقیقی دشمن یہ نظام ہے جو ان کی تقسیم سے فائدہ اٹھاتا ہے۔مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہم قبضے، جبر اور استحصال سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں