حارث قدیر
بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے ایک عسکری حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے مابین بننے والی جنگی صورتحال اور تصادم آرائی امریکی صدر کے اعلان کے بعد تھم چکی ہے۔ دونوں اطراف جنگ کی فتح کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ جنگی جنون میں مبتلا مین سٹریم میڈیا پر فوجی تکنیک اور صلاحیتوں کی تشہیر کے ساتھ ساتھ اگر کہیں نقصانات کا ذکر ہو بھی رہا ہے تو وہ ’مین لینڈ‘ یعنی بین الاقوامی سرحد کے آر پار ہونے والے نقصانات کا تذکرہ ہو رہا ہے۔
اس جنگی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطے کو تھوڑی بہت اگرجگہ مل بھی رہی ہے تو وہ عالمی میڈیا میں مل رہی ہے۔ جموں کشمیر ایسا خطہ ہے جو ہمیشہ کی طرح اس جنگی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار وں کے مطابق یہ جنگ نہیں تھی، بلکہ ایک ٹینشن یا معمولی تصادم آرائی تھی۔ تاہم جموں کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے مابین تقسیم کرنے والی سیز فائر لائن(لائن آف کنٹرول، ایل او سی)کے دونوں اطراف 740کلومیٹر کی پٹی پر بسنے والے انسانوں کے لیے یہ4روز قیامت تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر بھر میں 6مئی سے 10کی رات تک شدید گولہ باری کے نتیجے میں 32لوگوں کی جان گئی، جن میں 10خواتین اور 5بچے شامل ہیں۔زخمی ہونے والے 126افراد میں 40خواتین اور 22بچے شامل ہیں۔ اس گولہ باری کے نتیجے میں 528مکانات اور 26دکانیں تباہ ہوئیں، 45مویشی ہلاک ہوئے، جبکہ 1262خاندانوں کو جزوقتی ہجرت کرنا پڑی۔
سیز فائر لائن کی دوسری جانب بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں تاحال سرکاری سطح پر متاثرین کے کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے جا سکے ہیں۔ میڈیا اور حکومتیں جھوٹی کہانیاں گھڑنے اور سنانے میں مصروف ہیں۔ غیر حتمی اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 26افراد کی جان ان چار دنوں میں گئی ہے، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ شمالی کشمیر کے اضلاع اور جموں کے اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ پونچھ، مینڈھر، سانبہ، راجوری، بارہمولہ، کپواڑہ، اوڑی سمیت دیگر مقامات پر شدید شیلنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں سینکڑوں مکانات تباہ ہو ئے ہیں۔ پونچھ شہر کا 90فیصد حصہ خالی کر کے مکین محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ گولہ باری کے نتیجے میں پونچھ شہر میں سینکڑوں مکانات اور دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی اس خونی لکیر کے اردگرد بسنے والے انسانوں پر یہ جنگ مسلط ہوئی ہے، بلکہ 1947ء سے یہ ان کے لیے ایک معمول رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین یوں تو 3بڑی جنگیں اور ایک مختصر علاقے تک محدود جنگ ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ مواقع پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگی صورتحال بنی ہے۔ تاہم دونوں ریاستوں کی افواج جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی سیز فائر لائن پر ہمیشہ سے ہی تصادم میں رہی ہیں۔ جب بھی یہ ریاستیں بڑے تصادم کے دہانے پر پہنچی ہیں، تب عالمی سامراجی طاقتوں کی مداخلت پر کچھ عرصہ امن کا بھی قائم ہوتا رہا ہے۔ اس نام نہاد امن کے دو، چار سالوں کے دوران جموں کشمیر کے لوگوں کو بھی وقتی طور پر اس خوف سے نجات ملتی رہی ہے۔
درحقیقت برصغیر کی سامراجی تقسیم کے بعد قائم ہونے والی مصنوعی ریاستوں کے مابین جموں کشمیر کو ایک ایسے رستے زخم کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے، جو اس تقسیم کو جواز فراہم کرتا رہے۔ جب تقسیم پر سوالات اٹھیں، دونوں اطراف بھاری فوجی اخراجات پربات ہو، ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی زندگیوں کو بہتر کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے دباؤ بڑھنا شروع ہو، یا پھر حکمرانوں کو کسی بھی نوعیت کی مشکل کا سامنا ہو، اس زخم کو کرید کر تمام تر توجہ اس جانب مبذول کروا دی جاتی ہے۔ اکثر انتخابات میں فتح و شکست بھی جموں کشمیر کے لوگوں کے خون سے ہی لکھی جاتی ہے۔
جموں کشمیر میں بسنے والے پونے دو کروڑ انسانوں کو آج تک کسی فورم پر سنا ہی نہیں گیا ہے۔ کبھی یہ دو طرفہ تنازعہ بن جاتا ہے اور کبھی عالمی مسئلہ، لیکن جموں کشمیر کی نمائندگی ہر دو صورتوں میں نہیں ہو پاتی۔جموں کشمیر کے لوگوں سے کبھی نہیں پوچھا گیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
ہر جنگ یا جنگی صورتحال میں بھی خون کشمیریوں کا ہی بہتا ہے، امن کے ادوار بھی کشمیریوں کے خون سے ہی تعمیر ہوتے ہیں۔ ہر جنگ اور جنگی صورتحال میں بھارت اور پاکستان کے حکمران اور فوجی اشرافیہ کی جیت ہوتی ہے، شکست ہر بار جموں کشمیر کے لوگوں کا مقدر بنتی ہے۔
