(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
اِس لمحے کے بعد سے تحریک کی براہِ راست قیادت فیصلہ کن طور پر پارٹی کی پیٹروگراڈ کمیٹی کے ہاتھ آگئی، جس کی کلیدی قوت ایک ایجی ٹیٹر وولوڈارسکی[۱] تھا۔ گیریزن کی صف بندی کا کام فوجی تنظیم کو سونپ دیا گیا۔ مارچ کے بعد سے اِس تنظیم کی باگ ڈور دو پرانے بالشویکوں کے ہاتھ میں تھی۔ اپنی آگے کی بڑھوتری میں تنظیم کو اِن دونوں کا انتہائی ممنون ہونا تھا۔بالشویزم کی صفوں میں پوڈووئسکی ایک نمایاں اور انوکھی شخصیت کا مالک تھا، جس کی خصلتیں مذہبی درسگاہوں کا پس منظر رکھنے والے پرانی قسم کے روسی انقلابی کی تھیں، ایک عظیم لیکن غیرمنظم توانائی والا آدمی،جس کا تخیل بڑا تخلیقی تھا، تاہم ماننا پڑے گا کہ یہ تخیل اُسے اکثر خوابی دنیا تک لے جاتا تھا۔ بعد ازاں لینن کے ہونٹوں پر لفظ ’’پوڈووئسکی ازم‘‘ نے دوستانہ مگر طنزیہ اور انتباہی چاشنی اختیار کر لی تھی۔ لیکن اِس جوشیلی طبیعت کے کمزور پہلوؤں نے اپنا اظہار بالخصوص اقتدار پر قبضے کے بعد کرنا تھا، جب مواقع اور ذرائع کی بہتات نے پوڈووئسکی کی فضول خرچ توانائی اور زیبائشی مہمات کے شوق کو کچھ زیادہ ہی بیدار کر دیا۔ تاہم اقتدار کے لئے انقلابی جدوجہد کے حالات میں اُس کے کردار کی رجائیت بھری قطعیت، خاکساری اور انتھک پن نے اُسے بیدار ہوتے ہوئے سپاہیوں کا ناقابل تبدیل رہنما بنا دیا تھا۔ بالشویکوں کی فوجی تنظیم کا دوسرا رہنما نیوسکی ماضی میں ایک یونیورسٹی کا استاد تھا، پوڈووئسکی سے زیادہ بے لطف سانچے میں ڈھلا ہوا تھا، لیکن پارٹی سے کم وفادار نہ تھا، کسی طور بھی ایک منتظم نہیں تھا اور ایک سال بعد صرف ایک بدقسمت اتفاق کے تحت ہی مواصلات کا سوویت وزیر بنا۔ اُس نے سادگی، ملنساری اور سرگرم ہمدردی سے سپاہیوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ اِن دو رہنماؤں کے گرد قریبی معاونین، سپاہیوں اور نوجوان افسروں کا ایک گروہ موجود تھا، جن میں کئی ایک نے مستقبل میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔ پوڈووئسکی نے آسانی سے کمان کے امور پر عبور حاصل کر لیا تھا، اُس کے تحت ایک برجستہ عسکری قیادت تشکیل پا گئی تھی۔ گیریزن کے تمام دستوں کو مختصر استدعائیں اور ہدایات جاری کی جاتی تھیں۔ حملے سے مظاہرے کی حفاظت کے لئے مضافات سے دارالحکومت آنے والے پُلوں اور اہم شاہراہوں کے مرکزی چوراہوں پر بکتر بند گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں۔ مشین گن والوں نے پہلے ہی رات کے دوران پیٹر اور پال کے قلعے پر اپنے پہرے دار تعینات کر دئیے تھے۔ اوریانین بام، پیٹرہاف، کراسنوئی سیلو اور دوسری جگہوں کے گیریزنوں کو ٹیلی فون اور خصوصی قاصدوں کے ذریعے کل کے مظاہرے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔ عمومی سیاسی قیادت بدستور پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ہاتھوں میں تھی۔
تھکے ہارے اور جولائی کے موسم میں بھی کانپتے مشین گن والے صبح کے وقت اپنی بیرکوں میں واپس پہنچے۔ رات کی بارش نے پیوٹیلوف کے مزدوروں کو بھی شرابور کر دیا تھا۔ صبح سات بجے تک مظاہرین اکٹھے نہیں ہو سکے۔ سپاہی تو اس کے بھی بعد وہاں پہنچے۔ آج پہلی مشین گن رجمنٹ کا ہر بندہ سڑک پر تھا۔ لیکن اِس نے اب کل کی طرح آغاز کنندہ کا کردار ادا نہیں کرنا تھا۔ اگلی صفوں میں فیکٹریاں آ چکی تھیں۔ مزید برآں وہ پلانٹ بھی اب تحریک میں شامل ہو چکے تھے جو کل تک ایک طرف کھڑے ہوئے تھے۔ جہاں کہیں رہنما لڑکھڑائے یا مزاحمت کی، وہاں مزدوروں نے فیکٹری کمیٹی کے ڈیوٹی پر موجود اراکین کو کام روکنے کی سیٹی بجانے پر مجبور کر دیا۔ بالٹک فیکٹر ی ، جہاں منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کا غلبہ تھا، کے پانچ میں سے تقریباً چار ہزار مزدور باہر نکلے۔ لمبے عرصے سے سوشل انقلابیوں کا گڑھ سمجھی جانے والی سکوروخوڈ جوتا ساز فیکٹری میں مزاج اتنی تیزی سے تبدیل ہوا کہ اس فیکٹری کے ایک پرانے سوشل انقلابی نمائندے نے کئی دنوں تک اپنا چہرہ دکھانے کی جرات نہ کی۔ تمام فیکٹریوں نے ہڑتال کی اور جلسے منعقد کئے۔ اُنہوں نے مظاہرے کے لئے رہنما اور مجلس عاملہ کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرنے کے لئے مندوبین منتخب کئے۔ ایک بار پھر لاکھوں لوگ رداسوں میں ٹاؤراڈ محل کی طرف پیش قدمی کرنے لگے اور ایک بار پھر دسیوں ہزار لوگ راستے میں سے ہی کشیسنسکایا کے محل کی طرف مڑ گئے۔ کل کی نسبت آج کی تحریک زیادہ منظم اور متاثر کن تھی؛ پارٹی کی رہنمائی واضح تھی۔ لیکن آج جذبات بھی زیادہ بھڑکے ہوئے تھے۔ بحران کے کسی حل کے لئے سپاہی اور مزدور باہر نکلے تھے۔ حکومت مایوسی میں گھری ہوئی تھی، کیونکہ مظاہر ے کے دوسرے دن اُس کا خصی پن پہلے دن سے بھی زیادہ عیاں ہو رہا تھا۔ مجلس عاملہ وفادار دستوں کا انتظار کر رہی تھی اور ہر طرف سے اطلاعات موصول کر رہی تھی کہ مخالف دستے دارالحکومت کی طرف آ رہے تھے۔ کرونسٹٹ، نیو پیٹرہاف، کراسنوئی سیلو، کراسنایا گورکا اور تمام قریبی مراکز سے زمینی اور سمندری راستوں پر موسیقی، ہتھیاروں اور سب سے بڑھ کر بالشویک پرچموں کے ساتھ سپاہی اور جہازی آگے بڑھ رہے تھے۔ کئی رجمنٹیں اپنے افسروں کو بھی ساتھ لا رہی تھیں اور بالکل فروری کے دنوں کی طرح اُن کی کمان میں ہونے کا ناٹک کر رہی تھیں۔
ملیوکوف بیان کرتا ہے، ’’حکومت کا اجلاس ابھی ختم نہیں ہوا تھا جب افسروں کی طرف سے خبر آئی کہ نیوسکی شاہراہ پر گولی چل گئی تھی۔ اجلاس کو فوجی صدر دفتر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شہزادہ لووف، سریتیلی، وزیر انصاف پیریورزیف اور وزارت جنگ سے دو نائبین وہاں موجود تھے۔ ایک لمحے کو تو حکومت کی صورتحال مایوس کن محسوس ہونے لگی۔ پریوبرازنسکی، سیمینووسکی اور ازمائلووسکی رجمنٹ والے ابھی بالشویکوں میں شامل نہیں ہوئے تھے، اُنہوں نے حکومت کو بتایا کہ وہ ’غیرجانبدار‘ رہیں گے۔ پیلس اسکوائر پر صدر دفتر کی حفاظت کے لئے جنگی معذور اور چند سو کاسک ہی موجود تھے۔‘‘ جنرل پولووٹسیف نے 4 جولائی کی صبح اعلان کیا کہ وہ پیٹروگراڈ سے مسلح گروہوں کا صفایا کرنے والا تھا۔ شہریوں کو سختی سے نصیحت کی گئی کہ اپنے دروازے بند کر لیں اور انتہائی مجبوری کے سوا باہر نہ نکلیں۔ اس دھمکی آمیز حکم پر کسی نے کان نہیں دھرے۔ ڈسٹرکٹ کی تمام فوج کا یہ کمانڈر مظاہرین کے خلاف کاسکوں اور جنکروں کے صرف معمولی سے دستوں کو ہی باہر لا سکا۔ سارے دن کے دوران اُن کی وجہ سے کچھ بے معنی سی گولی باری اور کچھ خونریز تصادم ہی ہوئے۔ سرما محل کی حفاظت کرنے والی پہلی ڈان رجمنٹ کے ایک عہدیدار نے بعد میں ایک تفتیشی کمیشن کو بتایا: ’’ہمیں قریب سے گزرنے والے تمام لوگوں اور مسلح موٹر گاڑیوں کو غیرمسلح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔اس حکم پر عملدرآمد کے لئے ہم وقتاً فوقتاً پیدل بھاگ کر محل سے باہر جاتے تھے اور لوگوں کو غیرمسلح کرتے تھے… ‘‘ اس کاسک عہدیدار کی یہ معصومانہ داستان بالکل درست انداز میں طاقتوں کے توازن کی غمازی کرتی ہے اور جدوجہد کا منظر پیش کرتی ہے۔ ’’باغی‘‘ دستے کمپنیوں اور بٹالینوں میں بیرکوں سے باہر آئے تھے اور سڑکوں اور چوراہوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ حکومتی دستے گھات لگا کر حملے کر رہے تھے یا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں چھاپہ مار کاروائیاں کر رہے تھے، یعنی ان کا طرز عمل بالکل ویسا تھا جیسا کہ باغی دستوں کا ہونا چاہئے تھا۔ کرداروں کے اس تبادلے کی وضاحت اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ حکومت کی ساری مسلح قوت اُس کے خلاف یا غیرجانبدار تھی۔ حکومت صرف مجلس عاملہ کی اجازت سے زندہ تھی؛ آگے سے مجلس عاملہ کی قوت کا ماخذ عوام کی امید تھی کہ شاید یہ اپنے حواس میں آجائے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لے۔
پیٹروگراڈ کے میدان میں کرونسٹٹ کے جہازی نمودار ہونے کے بعد مظاہرہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس سے ایک دن پہلے اِس بحری قلعے کے گیریزن میں مشین گن والوں کے مندوبین سرگرم تھے۔ کرونسٹٹ کے یاکورنیچوک پر ایک جلسہ منعقد ہوا تھا، جس کا آغاز مقامی بالشویک تنظیم کے لئے غیرمتوقع طور پر پیٹروگراڈ سے جانے والے کچھ انارکسٹوں نے کیا تھا۔مقررین نے جہازیوں سے استدعا کی تھی کہ پیٹروگراڈ کی مدد کو آئیں۔ طب کے ایک طالب علم روشال ، جو کرونسٹٹ کے نوجوان سورماؤں میں شامل تھا اور یاکورنی چوک کی پسندیدہ شخصیت تھا، نے اپنی تقریر میں میانہ روی کا مشورہ دینے کی کوشش کی۔ ہزاروں آوازوں نے اُسے ٹوک دیا۔ روشال، جو ایک مختلف قسم کے استقبال کا عادی تھا، چبوترہ چھوڑنے پر مجبور ہو گیا ۔ رات کے وقت معلوم ہوا کہ پیٹروگراڈ میں بالشویک عوام کو سڑکوں پر بلا رہے تھے۔ اِس سے معاملہ حل ہو گیا۔ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں (کرونسٹٹ میں دائیں بازو والے ہو ہی نہیں سکتے تھے) نے اعلان کیا کہ وہ مظاہرے میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتے تھے۔ یہ اُس کیرنسکی کی پارٹی کے لوگ تھے جو عین اسی وقت محاذوں پر جاکر مظاہرے کو کچلنے کے لئے دستے جمع کر رہا تھا۔ کرونسٹٹ کی تنظیم کے رات کے اجلاس کا مزاج ایسا تھا کہ عبوری حکومت کے ڈرپوک کمیسار پارچیوسکی نے بھی پیٹروگراڈ کی طرف مارچ کے حق میں ووٹ دے دیا۔ ایک منصوبہ تیار کیا گیا؛ ٹرانسپورٹ کو متحرک کیا گیا۔ اس سیاسی محاصرے کی ضروریات پوری کرنے کے لئے گوداموں سے ڈھائی ٹن ہتھیار اور گولا بارود فراہم کئے گئے۔ بحری جہازوں اور مسافر کشتوں پر چڑھ کر تقریباً 10 ہزار مسلح جہازی، سپاہی اور مزدور دوپہر بارہ بجے دریائے نیوا کے آبنائے پہنچے۔ دریا کے دونوں طرف اتر کر اُنہوں نے جلوس کی شکل اختیار کر لی، بینڈ بج رہے تھے اور رائفلیں اُن کے کندھوں پر لٹکی ہوئی تھیں۔ جہازیوں اور سپاہیوں کی ٹولیوں کے پیچھے پیٹروگراڈ اور جزیرہ ویسیلیوسکی کے مزدور صف آرا تھے، اُن کے درمیان میں بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ سرخ محافظ دستے پھیلے ہوئے تھے، جن کے اوپر بے شمار پرچم اور بینر سربلند تھے۔
کشیسنسکایا کا محل چند قدموں کی دوری پر تھا۔ ایک دبلا پتلا اور تارکول جیسی سیاہ رنگت والا آدمی سویڈلوف [۲]، جو اپریل کے اجلاس میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی میں منتخب ہونے والے بنیادی منتظمین میں شامل تھا، بالکونی میں کھڑا تھا اور ہمیشہ کی طرح سنجیدہ انداز میں اپنی طاقتور گہری آواز میں ہدایات جاری کر رہا تھا: ’’مظاہرے کا قائد آگے بڑھے… صفوں کو ساتھ ملاؤ… پچھلی صفیں آگے آ جائیں۔‘‘ مظاہرین کا استقبال لیوناچارسکی نے کیا، ایک ایسا آدمی تھا جو آسانی سے اپنے ارد گرد والوں کے مزاج کا اثر قبول کر لیتا تھا، وضع قطع اور آواز رعب دار تھی، جوشیلے انداز میں خوش بیان تھا، زیادہ قابل بھروسہ نہیں تھا، لیکن اکثر اُس کے بغیر کام بھی نہیں چلتا تھا۔ اُس کے لئے نیچے سے خوب تالیاں بجائی گئیں اور نعرے بلند ہوئے۔ لیکن مظاہرین سب سے زیادہ خود لینن کو سننے کے خواہش مند تھے۔اُسے فِن لینڈ کی عارضی پناہ گاہ سے صبح کے وقت بلایا گیا تھا۔ جہازیوں نے اِتنا اصرار کیا کہ خراب صحت کے باوجود لینن انکار نہیں کر سکا۔ بے خودی کی ایک ناقابل مزاحمت لہر، ایک حقیقی کرونسٹٹ لہر نے بالکونی پر اپنے رہنما کا استقبال کیا۔ لینن ہمیشہ کی طرح کچھ شرماتے ہوئے بے صبری سے استقبال ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا اور شور ختم ہونے سے پہلے ہی بات شروع کر دی۔ اُس کی تقریر، جسے مخالف پریس کئی ہفتوں تک ہر ممکنہ طریقے سے توڑ مروڑ کر پیش کرتی رہی، چند سادہ جملوں پر مشتمل تھی: مظاہرین کو سلام؛ اعتماد کا اظہار کہ ’’سارا اقتدار سوویتوں کے پاس!‘‘ کا نعرہ فتح یاب ہو گا؛ پختگی اور خود پر قابو رکھنے کی استدعا۔تازہ دم نعرے لگاتا ہوا مظاہرہ بینڈ کی موسیقی کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔
اِس تہوار جیسی ابتدا ور کاروائیوں کے اگلے مرحلے ، جب خون بہنے لگا، کے درمیان ایک دلچسپ واقعہ بھی در آیا۔ مارس فیلڈ پہنچنے پر کرونسٹٹ کے بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کے رہنماؤں نے بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی کا ایک بہت بڑا پرچم دیکھا، جو کشیسنسکایا کے محل پر پڑاؤ کے بعد سے جلوس کے آگے نمودار ہوا تھا۔ پارٹی رقابت سے جل کر انہوں نے اِسے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ بالشویکوں نے انکار کر دیا۔ اس پر سوشل انقلابیوں نے اعلان کیا کہ وہ سب علیحدہ ہو جائیں گے۔ تاہم جہازیوں اور سپاہیوں میں سے کسی نے بھی سوشل انقلابی رہنماؤں کی پیروی نہیں کی۔ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کی ساری حکمت عملی اِس طرح کے متلون مزاج تذبذب پر مبنی ہوتی تھی، جو کبھی مضحکہ خیز تو کبھی المیہ انگیز ہوتا تھا۔
نیوسکی اور لٹینی شاہراہ کے کونے پر مظاہرے کے عقبی محافظین پر اچانک گولی چلائی گئی، کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ اِس سے زیادہ وحشی گولی باری لٹینی اور پینٹی لیمونووف شاہراہ کے کونے پر ہوئی۔ کرونسٹٹ والوں کا رہنما راشکولنیکوف بتاتا ہے کہ کیسے ’’مظاہرین کے لئے یہ غیر یقینی کیفیت کسی گہرے درد کی طرح تھی کہ دشمن کا ٹھکانہ کہاں تھا اور وہ کہاں سے گولی چلا رہا تھا۔‘‘ سپاہیوں نے اپنی رائفلیں تھام لیں۔ بے ترتیب انداز میں تمام سمتوں میں گولیاں چلانے لگے۔ کئی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ بڑی مشکل سے صفوں میں نظم و ضبط بحال ہوا۔ مظاہرہ ایک بار پھر موسیقی کے ساتھ آگے بڑھنے لگا، لیکن تہوار کی کیفیت اب باقی نہ رہی۔ ’’یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہر طرف دشمن چھپا ہوا تھا۔ رائفلیں اب پرامن انداز میں کندھوں پر نہیں لٹکی ہوئی تھیں، بلکہ استعمال کے لئے تیار کر لی گئی تھیں۔‘‘
اُس روز شہر کے مختلف علاقوں میں خونریز تصادموں کی کمی نہ تھی۔ اُن میں کچھ تو بلاشبہ غلط فہمی، تذبذب، بے سمت گولی باری اور خوف کی وجہ سے تھے۔ ایسے المناک حادثات انقلاب کے ناگزیر اضافی اخراجات ہوتے ہیں، جو بذات خود تاریخی ترقی کے اضافی اخراجات میں سے ایک ہوتا ہے۔ لیکن جولائی کے واقعات میں خونریز اشتعال انگیزی کا ایک عنصر بھی مسلمہ تھا۔ یہ اُن دنوں ہی واضح ہو گیا تھا اور بعدازاں اِس کی تصدیق بھی ہوگئی۔ پوڈووئسکی کہتا ہے: ’’جب مظاہرے میں شریک سپاہی نیوسکی شاہراہ اور نواحی علاقوں، جو زیادہ تر بورژوازی کا مسکن تھے، سے گزرنے لگے تو ایک تصادم کی بدشگون علامتیں ظاہر ہونے لگیں: عجیب گولیاں چلائی گئیں، کسی کو نہیں پتا کہ کون کہاں سے گولی چلا رہا تھا… صفوں میں پہلے تذبذب پھیل گیا اور پھر سب سے کم ثابت قدم اور خود لگام سپاہیوں نے بے ضابطہ انداز میں گولیاں چلانا شروع کر دیں۔‘‘ ’ازوستیا‘ میں منشویک کینٹورووچ نے مزدوروں کی ایک صف پر چلنے والی گولی کو اِن الفاظ میں بیان کیا: ’’کئی فیکٹریوں سے ساٹھ ہزار کا ایک ہجوم سیڈووایا شاہراہ پر مارچ کر رہا تھا۔ جب وہ ایک گرجے کے پاس سے گزر رہے تھے تو مینار میں گھنٹی بجنے لگی اور گویا کسی اشارے پر گھروں کی چھتوں پر سے مشین گنیں اور رائفلیں گولیاں برسانے لگیں۔جب مزدوروں کا ہجوم بھاگ کر سڑک کی دوسری طرف گیا تو مخالف سمت والی چھتوں سے گولیاں آنے لگیں۔‘‘ اِن چوباروں اور چھتوں پر فروری میں پروٹوپوپوف کے ’’فرعون‘‘ چھپے ہوئے تھے، اب افسروں کی تنظیموں کے اراکین وہاں سے اپنا کام دکھا رہے تھے۔ وہ مظاہرین پر گولی باری کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے اور مختلف فوجی یونٹوں کے درمیان تصادم کروانے کی کوشش کر رہے تھے، اِس میں اُنہیں کچھ کامیابی بھی مل رہی تھی۔ جن گھروں سے گولیاں آ رہی تھیں جب اُن کی تلاشی لی گئی تو مشین گنیں اور بعض اوقات اُنہیں چلانے والے بھی ملے۔
تاہم خونریزی کا کلیدی محرک حکومتی دستے تھے، جو تحریک کو کچلنے میں تو بے بس تھے لیکن اشتعال انگیزی کے مقصد کے لئے کافی تھے۔ رات آٹھ بجے کے قریب، جب مظاہرہ اپنے جوبن پر تھا، گھڑسوار توپخانے کے ساتھ ٹاؤرائڈ محل کے محافظوں کے طور پر دو کاسک سکوارڈن پہنچے۔ راستے میں اُنہوں نے مظاہرین سے بات چیت کرنے سے سختی سے انکار کر دیا، یہ بذات خود ایک بری علامت تھی۔ جہاں کہیں ہو سکا کاسکوں نے بکتر بند گاڑیاں اپنے قبضے میں لے لیں اور چھوٹے گروہوں کو غیرمسلح کر دیا۔ مزدوروں اور سپاہیوں کے زیرتسلط سڑکوں پر کاسکوں کے ہتھیار ناقابل برداشت للکار معلوم ہونے لگے۔ ہر چیز ایک تصادم کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ لٹینی پل کے قریب کاسک اپنے دشمن کے ایک کسے ہوئے ہجوم کے قریب آ گئے، جس نے ٹاؤرائڈ محل کی طرف جانے والی سڑک پر وہاں ایک طرح کی رکاوٹ کھڑی کر دی تھی۔اس بدشگون لمحے کی خاموشی کو قریبی گھروں سے چلنے والی گولیوں کی آواز نے توڑ دیا۔ لڑائی شروع ہو گئی۔ مزدور میٹیلیف لکھتا ہے، ’’کاسکوں نے ڈبوں کے حساب سے گولیاں چلائیں۔پناہ کی تلاش میں بھاگنے والے یا سڑک کے کنارے لیٹ جانے والے مزدوروں اور سپاہیوں نے بھی اِسی انداز میں جواب دیا۔‘‘ سپاہیوں کی گولیوں نے کاسکوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔
لڑائی کے دوران دریائے نیوا کے گھاٹ پر پہنچ کر اُنہوں نے تین بار توپ کے گولوں کی بوچھاڑ کی، ’ازوستیا‘ نے بھی اِس گولہ باری کا ذکر کیا ہے، لیکن رائفلوں کی دورمار گولیوں کی زد میں آکر وہ ٹاؤرائڈ محل کی طرف پسپا ہوگئے۔ مزدوروں کی ایک اور صف کے ساتھ تصادم میں کاسکوں کو کاری ضرب لگی۔ اپنی توپ، گھوڑے اور رائفلیں چھوڑ کر اُنہوں نے بورژوا گھروں کی ڈیوڑھیوں میں پناہ تلاش کی یا بالکل غائب ہو گئے۔
لٹینی شاہراہ پر تصادم، جو درحقیقت ایک چھوٹی جنگ تھی، جولائی کے دنوں کا سب سے بڑا فوجی واقعہ تھا، جس کی کہانیاں کئی مظاہرین کی یادداشتوں میں ملتی ہیں۔ مشین گن والوں کے ساتھ آنے والی اریکسن فیکٹری کا ایک مزدور برسن بتاتا ہے کہ کیسے اُن کے سامنے آتے ہی ’’کاسکوں نے اپنی رائفلوں سے گولیاں چلا دیں۔ کئی مزدور ہلاک ہو گئے، مجھے بھی گولی لگی، جو ایک ٹانگ سے گزر کر دوسری میں جا کر رکی…میری بیساکھی اور ایک ناکارہ ٹانگ جولائی کے دنوں کی ہی نشانی ہے۔‘‘ لٹینی شاہراہ پر تصادم میں دس کاسک ہلاک اور انیس زخمی ہوئے یا گولوں کے دھماکوں میں بیہوش ہو گئے۔‘‘ مظاہرین میں سے چھ ہلاک اور تقریباً بیس زخمی ہوئے۔ ہر طرف گھوڑوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔
ہمارے پاس مخالف کیمپ میں سے ایک دلچسپ گواہی موجود ہے۔اویرن (Averin) ، وہی حوالدار جس نے باغیوں کے دستوں پر چھاپہ مار حملے کئے تھے، لکھتا ہے: ’’رات آٹھ بجے ہمیں دو کمپنیوں میں توپوں کے ساتھ ٹاؤرائڈ محل جانے کا حکم جنرل پولووٹسیف نے دیا… ہم لٹینی پُل تک پہنچے تو مجھے مسلح مزدور، سپاہی اور جہازی نظر آئے… اپنے اگلے دستے کے ساتھ میں اُن کے پاس گیا اور ہتھیار ڈال دینے کو کہا، لیکن انہوں نے میری بات نہیں مانی اور سارا گینگ واپس مڑ گیا اور پُل پر سے بھاگتا ہوا وائبورگ والی طرف نکل گیا۔ میں ابھی اُن کے پیچھے نہیں بھاگا تھا کہ کندھے پر پٹیوں کے بغیر درمیانی قدامت کا ایک سپاہی واپس مڑا اور مجھ پر گولی چلائی،لیکن اُس کا نشانہ خطا گیا۔اِس گولی نے ایک اشارے کا کام کیا اور ہم پر ہر طرف سے بے ضابطہ گولیاں چلنے لگیں۔ ہجوم نے بلند آواز میں کہا: ’کاسک ہم پر گولیاں چلا رہے ہیں۔‘ یہ حقیقت تھی: کاسک اپنے گھوڑوں سے اتر آئے اور گولیاں چلانے لگے۔ اُنہوں نے توپ کے گولے بھی چلانے کی کوشش کی، لیکن سپاہیوں نے گولیوں کی ایسی بوچھاڑ کی کہ کاسک پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے اور علاقے میں منتشر ہو گئے۔‘‘ یہ بالکل بھی ناممکن نہیں ہے کسی سپاہی نے اِس حوالدار پر گولی چلائی ہو؛ جولائی کے اِس ہجوم سے ایک کاسک افسر سلام دعا کی بجائے گولی کی زیادہ توقع کر سکتا تھا۔ لیکن اس حقیقت کے بارے میں کثیر شہادتوں کو ماننا زیادہ آسان ہے کہ پہلی گولیاں سڑکوں پر سے نہیں بلکہ حملہ آوروں کی جانب سے چلائی گئیں۔ اسی حوالدار والے سکواڈرن کے ہی ایک عام کاسک نے پورے یقین کے ساتھ گواہی دی کہ کاسکوں پر ضلعی عدالت والی سمت سے اور بعد ازاں سامرسکی اور لٹینی شاہراہ کے دوسرے گھروں سے بھی گولی چلائی گئی تھی ۔ سوویت کے سرکاری جریدے میں بتایا گیا کہ لٹینی پُل پر پہنچے سے پہلے کاسکوں پر مشین گن کے ساتھ پتھر کے ایک گھر سے گولی چلائی گئی۔ مزدور میٹیلیف واضح کرتا ہے کہ جب سپاہیوں نے اِس گھر کی تلاشی لی تو اُنہیں وہاں رہنے والے ایک جرنیل کے کمرے سے ہتھیاروں کا زخیرہ ملا، جن میں گولیوں کے ساتھ دو مشین گنیں بھی شامل تھیں۔ اِس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ جنگ کے دوران جائز یا ناجائز طریقے سے ہر طرح کے ہتھیار افسروں کے ہاتھ لگ گئے تھے۔ اور اِس ’’بھِیڑ‘‘ پر سیسے کی بارش کر دینے کی اُن کی خواہش بھی بڑی شدید ہو گی۔ گولیاں یقینا کاسکوں کے درمیان جا گریں لیکن جولائی کے مظاہرین کو پورا یقین تھا کہ ردِ انقلابی عناصر جان بوجھ کر حکومتی دستوں پر گولی چلا رہے تھے تاکہ اُنہیں بے رحم کاروائی پر اُکسا سکیں۔ جب خانہ جنگی آتی ہے تو کل تک لامحدود طاقتیں رکھنے والے افسروں کے فریب اور بے رحمی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ افسروں کی ایسی خفیہ اور نیم خفیہ تنظیموں سے پیٹروگراڈ بھرا ہوا تھا جنہیں سرپرستی اور خطیر امداد حاصل تھی۔ جولائی کے دنوں سے تقریباً ایک مہینہ پہلے منشویک لائبر کی ایک خفیہ رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ سازشی افسران فرانسیسی سفیر بچانن کے ساتھ رابطے میں تھے۔ جی ہاں، اتحادی ممالک کے سفارتکار بھلا روس میں ایک مضبوط طاقت کے جلد قیام کی کوشش کئے بغیر کیسے رہ سکتے تھے؟
شدت پسندی کے تمام اقدامات میں لبرلوں اور مصالحت پسندوں کو ’’انارکو – بالشویکوں‘‘ اور جرمن ایجنٹوں کا ہاتھ نظر آتا تھا۔دوسری طرف مزدوروں اور سپاہوں نے پورے اعتماد سے جولائی کے تصادموں اور ہلاکتوں کا ذمہ دار حب الوطن تخریب کاروں کو ٹھہرایا۔اِن میں سے کون ٹھیک تھا؟ عوام کا فیصلہ بے خطا نہیں ہوتا۔ لیکن یہ سوچنا فاش غلطی ہو گی کہ ہجوم اندھا اور بھولا ہوتا ہے۔ جب اِسے چھیڑا جاتا ہے تو یہ ہزاروں آنکھوں اور کانوں سے حقائق اور آرا اکٹھی کرتا ہے، اپنے تجربے کی کسوٹی پر افواہوں کو پرکھتا ہے، کچھ کو مان لیتا ہے اور باقیوں کو رد کر دیتا ہے۔جب ایک عوامی تحریک سے متعلق بیانات متضاد ہوں تو سچ کے قریب ترین بیانات وہی ہوتے ہیں جنہیں خود عوام درست سمجھتے ہیں۔اسی وجہ سے ہیپولیٹ ٹین [۳]جیسے کاسہ لیس سائنس کے لئے بالکل بیکار ہیں، کیونکہ وہ عظیم عوامی تحریک کے مطالعے میں سڑک کی آواز کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور دیوان خانوں کی تنہائی اور خوف سے پیدا ہونے والی کھوکھلی بکواس کو بڑی احتیاط سے اکٹھا کرنے میں وقت ضائع کرتے ہیں۔
مظاہرین نے ایک بار پھر ٹاؤرائڈ محل کو گھیر لیا اور اُن سے جواب کا مطالبہ کیا۔ جب کرونسٹٹ والے پہنچے تو کوئی گروہ وزیر زراعت چرنوف کو اُن کے پاس لے گیا۔ ہجوم کے مزاج کا مشاہدہ کرتے ہوئے باتونی وزیر نے اِس موقع پر بہت مختصر سی تقریر کی۔ اقتدار کے بحران پر بات کرتے ہوئے اُس نے حقارت آمیز انداز میں کیڈٹوں کا ذکر کیا، جو حکومت سے الگ ہو گئے تھے۔ وہ چیخ کر بولا، ’’اچھا ہوا جان چھوٹ گئی!‘‘ بلند آوازوں نے اُسے ٹوک دیا: ’’تو تم نے پہلے ایسا کیوں نہیں کہا؟‘‘ ملیوکوف تو یہاں تک بتاتا ہے کہ کیسے ’’وزیر کے منہ کے سامنے اپنا مکّا لہرانے والا ایک اکھڑ مزاج مزدور غصے سے چلّایا: ’کتی کے بچے ،جب ا قتدار مل رہا ہے تو لے لو۔‘‘‘ اگرچہ یہ ایک لطیفہ ہے لیکن انتہائی درست طور پر جولائی کی صورتحال کی اساس بیان کرتا ہے۔ چرنوف کے جوابوں میں کسی کو دلچسپی نہیں تھی؛ اُن کے ذریعے وہ کسی طور پر کرونسٹٹ والوں کے دل نہیں جیت سکا… تقریباً دو یا تین منٹ بعد ہی کوئی بھاگ کر ہال میں گیا، جہاں مجلس عاملہ کا اجلاس جاری تھا، اور چلّایا کہ جہازیوں نے چرنوف کو گرفتار کر لیا ہے اور اُس کا خاتمہ کرنے والے ہیں۔ ناقابل بیان گھبراہٹ کے ساتھ مجلس عاملہ نے اپنے کئی نمایاں اراکین کا وفد، جو صرف انٹرنیشنلسٹوں اور بالشویکوں پر مبنی تھا، وزیر کو بچانے کے لئے روانہ کیا۔ بعد ازاں ایک حکومتی کمیشن کو چرنوف نے بتایا کہ جب وہ چبوترے سے نیچے اتر رہا تھا تو اُس نے صفوں سے پیچھے داخلی راستے پر کئی لوگوں کی مشکوک حرکت محسوس کی۔ ’’انہوں نے مجھے گھیر لیا اور دروازے میں سے گزرنے نہیں دے رہے تھے… مجھے پکڑنے والے جہازیوں کی قیادت کرنے والا ایک مشکوک شخص مسلسل قریب کھڑی موٹر گاڑی کی طرف اشارہ کر رہا تھا… اِسی لمحے ٹاؤرائڈ محل میں سے ٹراٹسکی نمودار ہوا اور جس موٹرگاڑی میں مجھے ڈال دیا گیا تھا اُس کے سامنے کھڑے ہو کر ایک مختصر تقریر کی۔‘‘ ٹراٹسکی نے چرنوف کو رہا کرنے کی سفارش کی اور مخالفت کرنے والوں کو ہاتھ کھڑا کرنے کو کہا۔ ’’ایک بھی ہاتھ نہیں اٹھا۔ مجھے موٹر گاڑی تک کا راستہ دکھانے والا گروہ برہم انداز سے ایک طرف ہو گیا۔ مجھے یاد ہے کہ ٹراٹسکی نے کہا: ’جناب چرنوف، کوئی بھی آپ کو واپس جانے سے نہیں روک رہا ہے۔‘… اس سارے واقعے کا عمومی منظر میرے دماغ میں کوئی شک و شبہ نہیں چھوڑتا کہ یہ مزدوروں اور سپاہیوں کے عمومی ہجوم سے بالا کاروائی کرنے والے سیاہ عناصر کا منصوبہ تھا کہ مجھے باہر بلا کر گرفتار کیا جائے۔‘‘
خود اپنی گرفتاری سے ایک ہفتہ پہلے ٹراٹسکی نے مجالس عاملہ کے ایک مشترکہ اجلاس میں کہا، ’’یہ حقائق تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں اور ہم اِنہیں ایسے ہی بیان کریں گے جیسے یہ تھے… میں نے دیکھا کہ داخلی راستے پر بدمعاشوں کا ایک گروہ کھڑا تھا۔ میں نے لیوناچارسکی اور ریازانوف کو بتایا کہ وہ ’اوخرانا‘ [۴]کے لوگ تھے اور ٹاؤرائڈ محل میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے (اپنی نشست سے لیونا چارسکی: ’ٹھیک کہہ رہا ہے۔‘)… میں نے کہا کہ میں دس ہزار کے ہجوم میں بھی اُن کو پہچان سکتا ہوں۔‘‘ کریسٹی جیل میں قید تنہائی کے دوران اپنی 24 جولائی کی گواہی میں ٹراٹسکی نے لکھا: ’’سب سے پہلے مجھے یہ خیال آیا کہ چرنوف اور جو لوگ اُسے گرفتار کرنا چاہتے تھے اُن کے ساتھ موٹرگاڑی پر ہجوم میں سے نکل جاؤں، تاکہ ہجوم میں تصادم اور خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ لیکن انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں بھاگتے ہوئے راشکولنیکوف نے مجھے کہا: ’یہ ناممکن ہے… اگر تم چرنوف کے ساتھ گاڑی میں چلے گئے تو کل کو کہا جائے گا کہ کرونسٹٹ والوں نے اُسے گرفتار کیا ہے۔ چرنوف کو فوراً رہا کیا جانا چاہئے۔‘ ترمچی نے ہجوم کو خاموش ہو جانے کو کہا اور مجھے مختصر تقریر کرنے کا موقع دیا، جو اِس سوال پر ختم ہوئی: ’جو لوگ یہاں تشدد کے حق میں ہیں، ہاتھ کھڑا کریں‘، اِتنے میں چرنوف کو موقع مل گیا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر فوراً واپس محل میں چلا جائے۔‘‘ اِن دو گواہان، جو اس مہم کے کلیدی شریک بھی تھے، کی گواہی سچ کو بالکل درست بیان کر دیتی ہے۔ تاہم اِس کے باوجود بھی بالشویک مخالف پریس چرنوف والے اِس واقعے کو کیرنسکی کو گرفتار کرنے کی ’’کوشش‘‘ کے ساتھ جوڑ کر بالشویکوں کی جانب سے ایک مسلح سرکشی منظم کرنے کی کوشش کے انتہائی معقول ثبوتوں کے طور پر پیش کرنے سے باز نہیں آئی۔ خاص کر زبانی الزام تراشی میں ایسے حوالوں کی بھی کمی نہ تھی کہ ٹراٹسکی نے چرنوف کی گرفتاری کی ہدایت جاری کی تھیں۔ یہ قصہ حتیٰ کہ ٹاؤرائڈ محل تک بھی پہنچ گیا۔ خود چرنوف نے تفتیشی کمیشن کے سامنے خفیہ دستاویز میں کافی درستی کے ساتھ اپنی آدھ گھنٹے کی گرفتاری کے حالات بیان کئے، تاہم سرعام کوئی بیان دینے سے اجتناب کیا، تاکہ بالشویکوں کے خلاف اشتعال پیدا کرنے میں اُس کی پارٹی کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید برآں چرنوف اُسی حکومت کا رکن تھا جس نے ٹراٹسکی کو جیل میں ڈالا تھا [۵]۔ مصالحت پسند شاید یہ بھی کہتے کہ سیاہ سازشیوں کا ایک گروہ دن دہاڑے ایک ہجوم کے بیچوں بیچ ایک وزیر کو گرفتار کرنے کی گستاخی نہیں کر سکتا تھا، اگر اُنہیں یہ توقع نہ ہوتی کہ ہجوم کی ’’متاثرہ وزیر‘‘ سے نفرت گرفتار کرنے والوں کا تحفظ بن جائے گی۔ درحقیقت کسی حد تک ایسا ہی تھا۔ موٹرگاڑی کے ارد گرد کسی نے بھی چرنوف کو رہا کروانے کی ذرا سی کوشش بھی نہیں کی۔ ساتھ ہی کہیں کوئی کیرنسکی کو بھی گرفتار کرتا تو مزدوروں اور سپاہیوں کو اِس کا بھی کوئی افسوس نہ ہوتا۔ اس لحاظ سے سوشلسٹ وزرا کے خلاف حقیقی اور خیالی کاروائیوں کو عوام کی اخلاقی ہمدردی حاصل تھی۔ لیکن مصالحت پسندوں نے اس لئے یہ سادہ سا نتیجہ اخذ نہیں کیا کہ اُنہیں اپنی جمہوری نیک نامی کی باقیات کی فکر لاحق تھی۔ زیر محاصرہ ٹاؤرائڈ محل میں مظاہرین کی نفرت سے اپنی جان بچاتے ہوئے بھی وہ مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں کی سوویتوں کے نظام کے سربراہ بنے ہوئے تھے۔
رات آٹھ بجے جنرل پولووٹسیف نے ٹیلیفون پر مجلس عاملہ کی امیدیں بحال کیں: ٹاؤرائڈ محل کی طرف گھڑسوار توپخانے کے ساتھ دو کاسک سکواڈرن روانہ کر دئیے گئے ہیں۔ آخر کار! لیکن اِس مرتبہ بھی وہ نامراد ہی رہے۔ تمام اطراف کی جانے والی ٹیلی فون کالوں نے اُن کے خوف کو مزید گہرا ہی کیا: کاسک جیسے بخارات بن کر غائب ہو گئے تھے اور ان کے ساتھ ان کے گھوڑے، کاٹھیاں اور توپخانہ بھی۔ ملیوکوف لکھتا ہے کہ شام تک ’’سپاہیوں سے حکومتی استدعا کے پہلے نتائج‘‘ نمودار ہونے لگے تھے۔ وہ مزید بتاتا ہے کہ 176ویں رجمنٹ ٹاؤرائڈ محل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ یہ تبصرہ، جو بڑا درست معلوم ہوتا ہے، ایسے مغالطوں کی خاصیت ہے جو ناگزیر طور پر خانہ جنگی کے ابتدائی عرصے میں پیدا ہوتے ہیں، جب دو کیمپ ابھی تقسیم ہونا شروع ہی ہوتے ہیں۔ ایک رجمنٹ واقعی مہماتی صف بندی کے ساتھ ٹاؤرائڈ محل پہنچی: سفری تھیلے اور تہہ کئے ہوئے کوٹ اُن کی کمروں پر بندھے تھے، پانی کی بوتلیں اور کیتلیاں اُن کی پیٹیوں پر لٹکی تھیں۔ راستے میں سپاہی گیلے ہو چکے تھے اور تھکے ہوئے تھے؛ وہ کراسنوئی سیلو [۶] سے آئے تھے۔ یہ 176ویں رجمنٹ ہی تھی۔ لیکن حکومت کی حفاظت کرنے کا اُن کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ مزھرایونٹسی سے وابستہ یہ رجمنٹ دوبالشویک سپاہیوں لیونسن اور میڈویڈیف کی قیادت میں اقتدار پر سوویتوں کے قبضے کے لئے آئی تھی۔ سوئیوں اور کانٹوں پر بیٹھے مجلس عاملہ کے رہنماؤں کو فوراً اطلاع دی گئی کہ اپنے افسروں کے ساتھ ایک رجمنٹ آئی ہے اور محل کی کھڑکیوں کے نیچے محنت سے کمایا ہوا آرام کر رہی ہے۔ فوجی ڈاکٹر کی وردی میں ملبوس ڈین محل کی حفاظت کے لئے سنتری فراہم کرنے کی درخواست لے کر رجمنٹ کے کمانڈر کے پاس گیا۔جلد ہی سنتری فراہم کر دئیے گئے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ڈین نے یہ بات صدارتی انتظامیہ کو بتائی ہو گی اور وہاں سے یہ اخباروں تک پہنچ گئی۔ اپنی یادداشتوں میں سوخانوف اُس اطاعت کا مذاق اڑاتا ہے کہ جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بالشویک رجمنٹ نے ایک منشویک رہنما کی ہدایات پر عمل کیا۔اُس کے خیال میں یہ جولائی کے مظاہرے کے ’’بے تکے پن‘‘ کا ایک مزید ثبوت ہے۔ درحقیقت معاملہ سادہ بھی تھا اور پیچیدہ بھی۔ سنتریوں کی درخواست ملنے کے بعد رجمنٹ کا کمانڈر محل میں ڈیوٹی پر موجود ایک نائب کمانڈر کے پاس گیا، جو نوجوان لیفٹنٹ پریگورووسکی تھا۔اب نہ جانے یہ اچھا تھا یا برا کہ پریگورووسکی ایک بالشویک تھا اور مزھرایونٹسی تنظیم کا ایک رکن تھا۔ وہ فوراً ہدایت لینے ٹراٹسکی کے پاس آیا، جو بالشویکوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے ساتھ محل کے ایک بغلی کمرے میں مشاہدے کی جگہ پر کھڑا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پریگورووسکی کو فوراً سنتری تعینات کرنے کو کہا گیا: محل کے داخلی اور خارجی راستوں پر دشمنوں کی نسبت دوستوں کا ہونا کہیں بہتر تھا! یوں حکومت کے خلاف مظاہرے کے لئے نکلنے والی 176ویں رجمنٹ نے مظاہرین سے حکومت کی حفاظت کی۔ اگر سرکشی کا سوال ہوتا تو لیفٹنٹ پریگورووسکی اپنے ساتھ چار سپاہی لے جا کر ساری مجلس عاملہ کو با آسانی گرفتار کر سکتا تھا۔ لیکن کسی کا کسی کو گرفتار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بالشویک رجمنٹ کے سپاہیوں نے دیانت داری سے سنتریوں کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔
کاسک سکواڈرنوں، جو ٹاؤرائڈ محل تک کے راستے کی واحد رکاوٹ تھے، کے ہٹ جانے کے بعد کئی مظاہرین کو یہ محسوس ہونے لگا کہ فتح یقینی تھی۔ لیکن کلیدی رکاوٹ تو درحقیقت خود محل کے اندر موجود تھی۔ شام چھ بجے شروع ہونے والے مجالس عاملہ کے مشترکہ اجلاس میں 54 کارخانوں اور فیکٹریوں کے 90 نمائندے موجود تھے۔ پانچ مندوبین، جنہیں متفقہ طور پر بولنے کا موقع دیا گیا، نے مجلس عاملہ کے اعلانات میں مظاہرین پر ردِ انقلابی ہونے کی الزام تراشی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔ ایک مندوب نے کہا، ’’ذرا دیکھیں کہ ہمارے جھنڈوں پر کیا لکھا ہوا ہے۔ یہ وہ فیصلے ہیں جو مزدوروں نے کئے ہیں… ہم دس سرمایہ دار وزرا کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں سوویت پر اعتماد ہے، لیکن اُن لوگوں پر نہیں جن پر سوویت کو اعتماد ہے… ہمارا مطالبہ ہے کہ زمین کو فوری قبضے میں لیا جائے، صنعت پر فوری کنٹرول قائم کیا جائے۔ ہم اُس قحط کے خلاف جدوجہد کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا خطرہ ہمیں لاحق ہے…‘‘ ایک دوسرے مندوب نے کہا: ’’یہ جلوس نہیں بلکہ مکمل طور پر منظم مظاہرہ ہے۔ ہم کسانوں کو زمین کی منتقلی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم انقلابی فوج کے خلاف جاری کئے گئے احکامات کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں… اِس وقت جب کیڈٹوں نے تمہارے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے، ہم تم سے پوچھتے ہیں کہ تم کس کے ساتھ مزید مول تول کرنا چاہتے ہو؟ ہمارا مطالبہ ہے کہ اقتدار سوویتوں کو منتقل کیا جائے۔‘‘ 18 جون کے مظاہرے کے پراپیگنڈا نعرے اب عوام کی مسلح دھمکی میں تبدیل ہو چکے تھے۔ لیکن مصالحت پسند ابھی تک ملکیتی طبقات کی رتھ سے بندھی بھاری زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ اقتدار سوویتوں کے پاس؟ لیکن اِس کا مطلب تو سب سے پہلے امن کی جرات مندانہ پالیسی، اتحادی ممالک سے علیحدگی، بورژوازی سے علیحدگی، مکمل تنہائی اور کچھ ہفتوں میں تباہی تھا۔ نہیں! ایک ذمہ دار جمہوریت ایسی ’مہم جوئی‘ کے راستے پر نہیں جا ئے گی! سریتیلی نے کہا، ’’پیٹروگراڈ کے ماحول میں موجودہ حالات کسی نئے فیصلے کی اجازت بالکل نہیں دیتے۔‘‘ لہٰذا ضروری ہے کہ ’’[کیڈٹوں کے استعفوں کے بعد] جو عہدیدار باقی بچے ہیں اُنہی کے ساتھ حکومت کو تسلیم کیا جائے… دو ہفتوں میں سوویتوں کا غیرمعمولی اجلاس بلایا جائے … کسی ایسی جگہ جہاں یہ بغیر کسی مداخلت کے اپنا کام کر سکے، سب سے بہتر ہے کہ ماسکو میں بلایا جائے ۔‘‘
لیکن اجلاس کا تسلسل مسلسل ٹوٹتا رہا۔ پیوٹیلوف فیکٹری والے محل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے: وہ شام کے وقت ہی پہنچے تھے، تھکے ہوئے، مشتعل اور انتہائی بے قرار تھے۔ ’’سریتیلی! ہمیں سریتیلی چاہئے!‘‘ تیس ہزار کے اِس ہجوم نے محل میں اپنے نمائندے بھیجے،اُن کے پیچھے کوئی چلّا رہا تھا کہ اگر سریتیلی خود باہر نہیں آتا تو اُسے باہر نکالو۔ دھمکی سے عمل تک ایک طویل فاصلہ تھا، لیکن چیزیں اب تیزی سے بدل رہی تھیں اور بالشویکوں نے جلدی سے مداخلت کی۔ زینوویف بعد ازاں بتاتا ہے: ’’ہمارے کامریڈوں نے تجویز پیش کی کہ میں پیوٹیلوف والوں کے پاس باہر جاؤں… سروں کا ایک ایسا سمندر تھا جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ دسیوں ہزار لوگ جمع تھے۔ ’سریتیلی!‘ کی چیخ و پکار جاری رہی… میں نے بات شروع کی: ’سریتیلی کی جگہ میں آپ کے پاس آیا ہوں۔‘ قہقہہ لگا۔ اِس سے مزاج بدل گیا۔ میں نے کافی لمبی تقریر کی… بات ختم کرتے ہوئے میں نے سامعین سے استدعا کی کہ پرامن انداز میں فوراً منتشر ہو جائیں، مکمل نظم و ضبط برقرار رکھیں اور کسی صورت بھی کسی کو جارحانہ کاروائی پر اکسانے نہ دیں۔ مزدوروں نے طوفانی انداز میں تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے، صفیں سیدھی کیں اور منتشر ہونے لگے۔‘‘ یہ واقعہ عوام کی گہری بے چینی، اُن کی جانب سے جارحیت کے کسی منصوبے کی عدم موجودگی اور جولائی کے واقعات میں بالشویک پارٹی کے کردار کی بہترین غمازی کرتا ہے۔
جس وقت زینوویف باہر پیوٹیلوف والوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہا تھا، اُن کے مندوبین کا ایک بڑا گروہ، جس میں کئی ایک کے پاس رائفلیں بھی تھیں، تیزی سے اُس ہال میں گھس گیا جہاں مجالس عاملہ کا اجلاس جاری تھا۔ مجالس کے اراکین ڈر کے مارے اپنی نشستوں پر چڑھ گئے۔ اِس ڈرامائی لمحے کی واضح منظر کشی کرتے ہوئے سوخانوف کہتا ہے، ’’اُن میں سے کئی لوگوں نے تو تھوڑی بہت جرات اور خود پر قابو کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔‘‘ ایک مزدور، ’’ٹوپی اور بغیر پیٹی کے نیلے رنگ کے چھوٹے کرتے میں ملبوس ایک کلاسیکی انقلابی، جس نے ہاتھ میں رائفل تھام رکھی تھی،‘‘ چبوترے پر چڑھ گیا اور اشتعال اور قہر سے کانپتے ہوئے بولا: ’’ ’کامریڈ! ہم مزدور کب تک اِس فریب کاری کو برداشت کریں گے؟ تم لوگ بورژوازی اور زمینداروں سے مول تول کر رہے ہو… پیوٹیلوف کے تیس ہزار مزدور یہاں کھڑے ہیں… ہم اپنی بات منوا کر دم لیں گے!‘ شکائدز، جس کی ناک کے سامنے رائفل منڈلا رہی تھی، نے کمال حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا۔ اِطمینان سے جھکتے ہوئے اُس نے مزدور کے مرتعش ہاتھ میں ایک تحریری اعلان تھما دیا: ’یہ لو کامریڈ، برائے مہربانی اِسے پڑھو۔ اس میں لکھا ہے کہ پیوٹیلوف کے کامریڈوں کو کیا کرنا چاہئے… ‘‘‘ منشور میں کچھ بھی نہیں لکھا تھا ماسوائے یہ کہ مظاہرین کو گھر جانا چاہئے، وگرنہ وہ انقلاب کے غدار ہوں گے۔ منشویکوں کے پاس اِس کے سوا کہنے کو بچا ہی کیا تھا؟
اُس زمانے میں ہر جگہ کے شورش انگیز گرد باد کی طرح ٹاؤرائڈ محل کی دیواروں تلے جاری ایجی ٹیشن میں بھی زینوویف کو اہم مقام حاصل تھا۔ وہ غیرمعمولی قوت کا حامل مقرر تھا۔ اُس کی اونچے سُر والی آواز پہلے حیران کرتی تھی، لیکن پھر اپنی انوکھی موسیقی سے محو کر دیتی تھی۔ زینوویف ایک پیدائشی ایجی ٹیٹر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ عوام کے مزاج کو خود میں کیسے سرایت کروانا ہے، اُن کے جذبات کے ساتھ خود کو کیسے بھڑکانا ہے اور اُن کے خیالات اور احساسات کے لئے قدرے باتونی مگر جکڑ لینے والا اظہار کیسے تلاش کرنا ہے۔ دشمن زینوویف کو بالشویکوں میں سب سے فتنہ انگیز مقرر قرار دیتے تھے۔ یہ اُس کی سب سے مضبوط خاصیت، یعنی عوام کے دِلوں میں اتر کراُن کے تاروں سے کھیلنے کی صلاحیت کو خراج تحسین پیش کرنے کا دشمنوں کا روایتی طریقہ تھا۔تاہم اِس بات سے انکار ناممکن ہے کہ ایک نظریہ دان یا انقلابی منصوبہ ساز ہونے کی بجائے صرف ایک ایجی ٹیٹر ہونے کی وجہ سے زینوویف پر جب کسی بیرونی ڈسپلن کی پابندی نہیں ہوتی تھی تو وہ باآسانی جذباتی تقریروں کی سیاست کی جانب پھسل جاتا تھا۔ یعنی وہ دور رس مفادات کو وقتی کامیابی پر قربان کر دینے کی جانب جھکاؤ رکھتا تھا۔ جب کبھی سیاسی صورتحال کو پرکھنے کا سوال ہوتا تھا تو زینوویف کی ایجی ٹیٹر والی تیز حس اُسے انتہائی اہم صلاح کار بنا دیتی تھی، لیکن اِس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مزدوروں اور سپاہیوں کی امیدوں اور نفرتوں سے بھرپور اور عوامی جلسوں میں آزمائے ہوئے ایک تیار شدہ سیاسی خیال کے ساتھ جب کبھی وہ پارٹی اجلاسوں میں آتا تھا تو جیتنے، قائل کرنے اور موہ لینے کے قابل ہوتا تھا۔ دوسری طرف ایک مخالف اجلاس میں، حتیٰ کہ اُن دنوں کی مجلس عاملہ میں بھی زنیوویف انتہائی شدید اور دھماکہ خیز خیالات کو ایک پوشیدہ اور جاذب شکل دینے کے قابل ہوتا تھا اور اُن لوگوں کو بھی قائل کر لیتا تھا جو اُس سے پیشگی بدظنی کے ساتھ ملے ہوتے تھے۔ اِن انمول نتائج کو حاصل کرنے کے لئے اُسے اپنے درست ہونے کے شعور سے بڑھ کر بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تھی؛ اُسے اِس سکون بخش یقین کی ضرورت ہوتی تھی کہ ایک بااعتماد اور مضبوط ہاتھ نے اُسے سیاسی ذمہ داری سے مبرا کر دیا ہے۔ یہ ہاتھ لینن کا ہوتا تھا۔ کسی معاملے کی اساس کے حامل ایک تیار شدہ تذویراتی کلیے سے مسلح ہو کر زینوویف بڑی مہارت اور ہوشیاری سے اُس میں تازہ جذبات، احتجاجوں اور مطالبات کا اضافہ کر دیتا تھا، جو اُس نے ابھی ابھی سڑک پر یا فیکٹری اور بیرک میں سنے ہوتے تھے۔ اِن لمحات میں وہ لینن اور عوام اور بعض اوقات عوام اور لینن کے درمیان رابطے کا مثالی ذریعہ بن جاتا تھا۔ کچھ انتہائی محدود صورتوں کے سوا زینوویف ہمیشہ اپنے استاد کی پیروی کرتا تھا۔ لیکن استاد سے اختلاف کا لمحہ ہی وہ لمحہ ہوتا تھا جب پارٹی، طبقے اور ملک کے مقدر کا فیصلہ ہونا ہوتا تھا۔ انقلاب کے اِس ایجی ٹیٹر میں انقلابی کردار کی کمی تھی۔ جب دلوں اور دماغوں کو جیتنے کا سوال ہوتا تھا تو زینوویف ایک انتھک لڑاکا تھا، لیکن عمل کی ضرورت سے آمنا سامنا ہو جانے پر وہ اچانک اپنا لڑاکا اعتماد کھو دیتا تھا۔ یہاں وہ عوام اور لینن سے بھی پیچھے ہٹ جاتا تھا، صرف تذبذب کی آوازوں کا جواب دیتا تھا، ہر طرح کے شک و شبے میں مبتلا ہو جاتا تھا اور رکاوٹوں کے سوا کچھ نہیں دیکھتا تھا۔ اُس کی جاذب اور تقریباً نسوانی آواز اپنا اعتماد کھو کر اُس کی اندرونی کمزوری کو عیاں کر دیتی تھی۔جولائی کے دنوں میں ٹاؤرائڈ محل کی دیواروں تلے زینوویف انتہائی متحرک، ہوشیار اور مضبوط تھا۔ وہ عوام کے جوش کو اُس کی بلند ترین سطح پر لے گیا، اُنہیں فیصلہ کن کاروائی کی طرف بلانے کے لئے نہیں بلکہ اِس کے برعکس انہیں روکنے کے لئے۔ یہ پارٹی کی ضرورت اور حکمت عملی کے عین مطابق تھا۔یہی زینویوف کے لیے موزوں ترین ماحول تھا۔
لٹینی شاہراہ پر لڑائی نے مظاہرے کی بڑھوتری کو تیزی سے منقطع کر دیا۔اب کوئی بھی کھڑکی یا بالکونی سے مظاہرے کو نہیں دیکھ رہا تھا۔ آبادی کا زیادہ امیر حصہ ریلوے سٹیشنوں کو گھیرے ہوئے تھا اور شہر چھوڑ رہا تھا۔ سڑکوں پر جدوجہد کسی واضح مقصد سے عاری بکھری ہوئی جھڑپوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔ رات بھر مظاہرین اور حب الوطنوں کے درمیان ہاتھا پائی، غیرمنظم انداز میں ہتھیاروں کی چھینا چھپٹی اور ایک سے دوسرے ہاتھ تک رائفلوں کا تبادلہ جاری رہا۔ بکھری ہوئی رجمنٹوں کے سپاہی منتشر اور متذبذب انداز میں سرگرم رہے۔ پوڈووئسکی بتاتا ہے، ’’مشتبہ اور تخریب کار عناصر خود کو سپاہیوں میں شامل کر کے انہیں پر انتشار سرگرمیوں پر اکساتے رہے۔‘‘ چھتوں پر سے گولیاں چلانے والوں کو پکڑنے کے لئے سپاہیوں اور جہازیوں نے گوداموں کی تلاشیاں لیں۔ مختلف جگہوں پر تلاشی کے بہانے لوٹ مار بھی ہوئی۔ مخالف طرف سے بلوے کے کردار کی حامل سرگرمیوں کا ارتکاب کیا گیا۔ تاجر جن علاقوں میں خود کو مضبوط محسوس کرتے تھے وہاں اُنہوں نے مزدوروں پر وحشیانہ حملے کئے اور اُنہیں بے دردی سے مارا پیٹا۔ نیو لسنر فیکٹری کا ایک مزدور افاناسیف کہتا ہے: ’’’یہودیوں اور بالشویکوں کو مارو! اِنہیں غرق کر دو!‘ کی چیخ و پکار کے ساتھ مجمع ہم پر پل پڑا اور ہمیں خوب مارا۔‘‘ متاثرین میں سے ایک ہسپتال میں چل بسا۔ خود افاناسیف کو جہازیوں نے لہو لہان اور شدید زخمی حالت میں ایکاٹیرننسکی نہر سے نکالا۔
جھڑپوں، ہلاکتوں، جدوجہد کی بے ثمری اور کسی عملی مقصد کے ابہام کی کیفیت سے تحریک دوچار ہو چکی تھی۔ بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی نے قرارداد منظور کی: مزدوروں اور سپاہیوں سے مظاہرہ ختم کرنے کو کہا جائے۔ اب کی بار اِس استدعا، جس کی طرف مجلس عاملہ کی توجہ فوراً مبذول کرائی گئی، کو نچلی صفوں سے بہت کم مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام واپس مضافات میں پسپا ہو گئے اور اگلے دن جدوجہد دوبارہ شروع کرنے کا اُن کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ ’’اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ کا مسئلہ اِس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھا جتنا کہ نظر آتا تھا۔
ٹاؤرائڈ محل کا محاصر حتمی طور پر ختم کر دیا گیا۔ نواحی سڑکیں اب خالی پڑی تھیں۔ لیکن وقفوں اور لمبی چوڑی بے معنی و بے ثمر تقاریرکے ساتھ مجالس عاملہ کی شب بیداری اب بھی جاری تھی۔ بعد میں واضح ہوا کہ مصالحت پسند کسی چیز کے انتظار میں تھے۔ساتھ والے کمروں میں فیکٹریوں اور رجمنٹوں کے مندوبین نڈھال پڑے تھے۔ میٹیلیف بتاتا ہے، ’’آدھی رات گزر چکی تھی اور ہم ابھی تک کسی ’فیصلے‘ کا انتظار کر رہے تھے۔ تھکاوٹ اور بھوک سے تنگ آ کر ہم الیگزینڈرووسکی ہال میں چہل قدمی کر رہے تھے… 5 جولائی کی صبح چار بجے ہمارا انتظار ختم ہوا… محل کے مرکزی داخلی راستے کے کھلے دروازوں میں سے افسروں اور سپاہیوں کا شور مچاتا ہوا ہجوم اندر داخل ہوا۔ ‘‘ ساری عمارت میں انقلابِ فرانس کے ترانے کی بلند آوازیں گونجنے لگیں۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے کی اِن گھڑیوں میں پیروں کی دھمک اور بینڈ کی گرج نے اجلاس والے ہال میں غیرمعمولی ہیجان پیدا کر دیا۔ سوویت کے نمائندے اپنی نشستوں پر پھر سے کود پڑے۔ ایک نیا خطرہ؟ لیکن چبوترے پر ڈین کھڑا تھا۔ وہ چلّایا، ’’کامریڈ، پریشان نہ ہوں۔ کوئی خطرے کی بات نہیں۔ انقلاب کی وفادار رجمنٹیں پہنچ چکی ہیں۔‘‘جی ہاں، قابل اعتماد دستے آخر کار پہنچ چکے تھے۔ اُنہوں نے برآمدوں پر قبضہ کر لیا، ابھی تک محل میں موجود تھوڑے بہت مزدوروں پر وحشیانہ انداز میں پل پڑے، جن کے پاس ہتھیار تھے اُن سے چھین لئے اور اُنہیں گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔وردی میں ملبوس مشہور منشویک لیفٹنٹ کاچن چبوترے پر چڑھ گیا۔ بینڈ کی فاتحانہ دُھن بج رہی تھی، چیئرمین ڈین گلے لگاکر اُس کا استقبال کر رہا تھا۔ خوشی سے پاگل ہوکر فاتحانہ نظروں سے بائیں بازو والوں کو جلاتے ہوئے مصالحت پسندوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام لئے، اپنے منہ کھول لئے اور انقلابی ترانہ پڑھ کر اپنے جوش و جذبے کا اظہار کرنے لگے۔ مارٹوف، جو کئی چیزوں کو دیکھنا اور سمجھنا جانتا تھا، غصے سے بڑبڑایا، ’’یہ ردِ انقلاب کے آغاز کا کلاسیکی منظر ہے۔‘‘ اِس منظر کے سیاسی معنی اور بھی واضح ہوجاتے ہیں اگر آپ یاد کریں گے کہ مارٹوف کا تعلق اُسی ڈین کی پارٹی سے تھا جس کی نظر میں یہ منظر انقلاب کی بلند ترین فتح کی غمازی کر رہا تھا۔
اصلاح پسند اکثریت کی فوارے کی طرح پھوٹتی خوشی کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہی سوویت کے بائیں بازو کو واضح طور پر اندازہ ہونے لگا کہ حقیقی جمہوریت کے سڑکوں پر آ جانے سے سرکاری جمہوریت کا یہ بلند ترین ادارہ کس قدر تنہا ہو گیا تھا۔ چھتیس گھنٹوں تک یہ لوگ ایک ایک کر کے منظر سے غائب ہو کر ٹیلی فون بوتھ کی طرف بھاگ رہے تھے، تاکہ صدر دفتر یا محاذ پر کیرنسکی سے رابطہ کریں، استدعا کریں، منت سماجت کریں، زور ڈالیں، مسلسل ایجی ٹیٹر روانہ کریں اور پھر دوبارہ واپس آ کر انتظار کریں۔ خطرہ تو گزر گیا تھا لیکن خوف ابھی باقی تھا۔ اِس لئے صبح پانچ بجے ’’وفاداروں‘‘ کے پیروں کی دھمک اُن کے کانوں کو نجات کی دُھن معلوم ہو رہی تھی۔ آخر کار چبوترے سے مسلح بغاوت کو خوش قسمتی سے کچلنے اور بالشویکوں کے ساتھ حساب چکتا کرنے کی ضرورت کے بارے میں بے تکلف تقاریر ہونے لگیں۔ تاہم ٹاؤرائڈ محل میں داخل ہونے والادستہ محاذ سے نہیں آیا تھا، جیسا کہ اُس وقت بعض لوگوں کا خیال تھا۔ اُسے پیٹروگراڈ گیریزن کی تین سب سے پسماندہ محافظ بٹالینوں پریوبرازنسکی، سیمینووسکی اور ازمائیلووسکی میں سے چنا گیا تھا۔ 3 جون کو اِن رجمنٹوں نے خود کو غیرجانبدار قرار دے دیا تھا اور انہیں حکومت اور مجلس عاملہ کی عملداری سے قابو کرنے کی ناکام کوششیں کی گئی تھیں۔ اِن رجمنٹوں کے سپاہی افسردگی سے اپنی بیرکوں میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔ 4 جولائی کو کہیں جا کر حکام نے آخر کار اُنہیں متاثر کرنے کا موثر طریقہ دریافت کیا۔ اُنہوں نے پریوبرازنسکی کے سپاہیوں کو ایسی دستاویزات دکھائیں جو 2+2=4 کی طرح واضح انداز میں لینن کو ایک جرمن جاسوس ثابت کرتی تھیں۔ اِس سے وہ قائل ہو گئے۔ یہ خبر دوسری رجمنٹوں میں بھی پھیل گئی۔ افسران، رجمنٹ کمیٹی کے اراکین اور مجلس عاملہ کے ایجی ٹیٹر ہر جگہ متحرک تھے۔ یوں غیر جانبدار بٹالینوں کا مزاج بدل گیا۔ صبح تک، جب اُن کی ضرورت ہی باقی نہیں بچی تھی، اُنہیں اکٹھا کرنا اور ویران سڑکوں پر سے خالی ٹاؤرائڈ محل تک لانا ممکن ہو گیا۔ اُس رات ازمائیلووسکی رجمنٹ کا بینڈ ترانہ بجا رہا تھا، یہ وہی رجعتی رجمنٹ تھی جسے 3 دسمبر 1905ء کو مزدور نمائندگان کی پہلی پیٹروگراڈ سوویت،جس کا اجلاس ٹراٹسکی کی صدارت میں جاری تھا، کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ تاریخی ڈرامے کا اندھا ہدایتکار ہر قدم پر کسی کوشش کے بغیر حیران کن ڈرامائی نتائج حاصل کرتا ہے؛ اُسے بس واقعات کی منطق کی لگام ڈھیلی کرنا ہوتی ہے۔
*****
جب سڑکیں عوام سے خالی ہو گئیں تو انقلاب کی نوجوان حکومت نے اپنے سڑے ہوئے ہاتھ پاؤں پھیلائے۔ مزدوروں کے نمائندوں کو گرفتار کر لیا گیا، ہتھیار چھین لئے گئے، شہر کے ایک علاقے کو دوسرے سے کاٹ دیا گیا۔ صبح تقریباً چھ بجے بالشویک پرچے ’پراودا‘ کے ادارتی دفتر کے باہر ایک موٹر گاڑی آ رُکی۔ یہ جنکروں اور سپاہیوں سے بھری ہوئی تھی، جن کے پاس ایک مشین گن تھی جسے فوراً کھڑی گاڑی پر نصب کر دیا گیا۔ ان بن بلائے مہمانوں کے جانے کے بعد دفتر مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا: دراز توڑ دئیے گئے تھے، فرش پر پھٹے ہوئے مسودوں کا ڈھیر لگا تھا، ٹیلی فون اکھاڑ دئیے گئے تھے۔ دفتر کے سنتریوں اور ملازمین کو مار پیٹ کر گرفتار کر لیا گیا۔ اِس سے بھی زیادہ وحشیانہ حملہ پارٹی کے چھاپہ خانے پر کیا گیا، جس کی خریداری کے لئے مزدور پچھلے تین ماہ سے پیسے اکٹھے کر رہے تھے۔ گردشی چھاپہ مشینیں تباہ کر دی گئیں، مونوٹائپ مشینیں برباد کر دی گئیں اور لینوٹائپ مشینوں کے ٹکڑے کر دئیے گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بالشویکوں نے کیرنسکی حکومت پر توانائی کی کمی کا الزام غلط لگایا تھا!
سوخانوف لکھتا ہے، ’’بالعموم بات کریں تو سڑکیں اب معمول پر آ چکی تھیں۔ کم و بیش کوئی ہجوم یا جلسے نہیں ہو رہے تھے، تقریباً تمام دکانیں کھلی تھیں۔‘‘ صبح کے وقت مظاہرہ روکنے کی بالشویکوں کی استدعا، جو تباہ شدہ چھاپہ خانے کی آخری پیداوار تھی، تقسیم کی گئی۔ کاسک اور جنکر سڑکوں پر جہازیوں، سپاہیوں اور مزدوروں کو گرفتار کر رہے تھے اور اُنہیں جیل یا جنگی قیدیوں کے پاس بھیج رہے تھے۔ دکانوں اور پگڈنڈیوں پر جرمن پیسے کی بات ہو رہی تھی۔ جس کسی نے بالشویکوں کے حق میں ذرا سی بھی بات کی، اُسے گرفتار کر لیا گیا۔ ’’لینن کو ایک ایماندار آدمی قرار دینا اب ممکن نہیں تھا، آپ کو تھانے بھیج دیا جاتا تھا۔‘‘سوخانوف ہمیشہ کی طرح ایک متوجہ شاہد کی طرح بورژوازی، پڑھے لکھے لوگوں اور شہری باشندوں کی سڑکوں کا حال بیان کرتا ہے۔ لیکن مزدوروں کے علاقوں میں صورتحال مختلف تھی۔ فیکٹریاں اور کارخانے ابھی تک بند تھے۔ مزاج چوکنا تھا۔ افواہیں پھیل رہی تھیں کہ محاذ سے دستے پہنچ چکے تھے۔ وائبورگ کے علاقے کی سڑکیں ایسے گروہوں سے بھری ہوئی تھیں جو بحث کر رہے تھے کہ حملے کی صورت میں کیا کیا جائے۔ میٹیلیف کہتا ہے، ’’سرخ محافظ دستے اور فیکٹریوں کے نوجوان پیٹر اور پال کے قلعے میں گھسنے اور وہاں محصور سپاہیوں کی مدد کرنے کی تیاری کر رہے تھے، اپنی جیبوں اور جوتوں میں اور کوٹوں کے نیچے دستی بم چھپا رہے تھے۔ اُنہوں نے چپو والی کشتیوں اور پلوں کے ذریعے دریا عبور کیا۔‘‘ کولومنسکی علاقے کا طباعت نگار سمرنوف یاد کرتا ہے: ’’میں نے ایک کشتی دیکھی جس پر بحری کیڈٹ دریائے نیوا کے راستے اوریانین بام اور ڈیوڈرہاف سے آ رہے تھے۔ دو بجے تک ایک منفی انداز میں صورتحال واضح ہونے لگی… میں نے دیکھا کہ کیسے ایک ایک کر کے پچھلی سڑکوں سے جہازی کرونسٹٹ واپس آ رہے تھے… یہ کہانی پھیلائی جا رہی تھی کہ سارے بالشویک جرمن جاسوس ہیں۔ ایک مکروہ شور شرابہ برپا تھا…‘‘ تاریخ دان ملیوکوف اطمینان سے ساری بات سمیٹتا ہے: ’’سڑکوں پر مزاج اور افراد بالکل تبدیل ہو چکے تھے۔ شام تک پیٹروگراڈ بالکل پرسکون تھا۔‘‘
جب تک محاذ سے دستے نہیں پہنچے تھے، مصالحت پسندوں کی معاونت سے پیٹروگراڈ کا صدر دفتر اپنے ارادے چھپاتا رہا۔ دوپہر کو مجلس عاملہ کے کچھ اراکین لائبر کی سربراہی میں بالشویک رہنماؤں سے ملاقات کے لئے کشیسنسکایا کے محل آئے۔اُن کا یہ دورہ ہی امن پسندی کے احساس کی علامت تھا۔ اُس وقت جو معاہدہ طے پایا اس کے مطابق بالشویکوں نے جہازیوں کو واپس کرونسٹٹ جانے پر قائل کرنا تھا، پیٹر اور پال کے قلعے سے مشین گن کمپنی کو واپس بلانا تھا اور گشت کرنے والے دستوں اور بکتر بند گاڑیوں کو اپنی جگہوں سے ہٹانا تھا۔ اپنی طرف سے حکومت نے بالشویکوں کے خلاف کسی بلوے یا جبر کی اجازت نہ دینے اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے سوا تمام گرفتار شدگان کو رہا کرنے کا وعدہ کیا۔
لیکن یہ معاہدہ زیادہ دیر نہیں چل سکا۔ جوں جوں جرمن پیسے اور محاذ سے آنے والے دستوں کی افواہ پھیلتی گئی، گیریزن میں حکومت اور کیرنسکی کی وفادار زیادہ سے زیادہ ٹولیاں اور چھوٹے گروہ سر اٹھانے لگے۔ اُنہوں نے ٹاؤرائڈ محل یا فوجی ڈسٹرکٹ کی قیادت کے پاس مندوبین بھیجے۔ آخر کار محاذ سے فوجی دستے واقعی پہنچنے لگے۔ مصالحت پسند حلقوں کا مزاج وقت کے ساتھ سخت سے سخت ہوتا چلا جا رہا تھا۔ محاذ سے آنے والے دستے دارالحکومت کو ’جرمن بادشاہ کے ایجنٹوں‘ سے خونی ہاتھوں کے ساتھ چھین لینے کو تیار تھے۔ خود کسی شک و شبے کی زد سے بچنے کے لئے مصالحت پسندوں نے کمانڈروں کے سامنے یہ ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی کہ منشویک اور سوشل انقلابی اُنہی کی طرف ہیں اور بالشویک اُن سب کے مشترک دشمن ہیں۔ جب کامینیف نے مجلس عاملہ کی صدارتی انتظامیہ کو کچھ گھنٹے قبل طے پانے والا معاہدہ یاد دلانے کی کوشش کی تو لائبر نے ایک پتھر دل سیاست کار کے لہجے میں جواب دیا: ’’طاقتوں کا توازن اب بدل چکا ہے۔‘‘ لائبر نے لسال [۷] کی مشہور تقاریر سے سیکھا تھا کہ کسی بھی معاہدے کا ایک اہم جزو بندوق ہوتی ہے۔ راشکولنیکوف کی قیادت میں کرونسٹٹ والوں کے ایک وفد کو کئی مرتبہ مجلس عاملہ کے فوجی کمیشن کے سامنے طلب کیا گیا، جہاں ہر لمحہ بڑھتے ہوئے مطالبات آخر کار لائبر کی اِس دھمکی پر منتج ہوئے کہ وہ فوراً کرونسٹٹ کے جہازیوں کو غیرمسلح کرنے پر راضی ہو جائیں۔ راشکولنیکوف بتاتا ہے، ’’فوجی کمیشن کے اجلاس سے نکل کر ہم ٹراٹسکی اور کامینیف سے ملے۔ لئیو ڈاویڈووچ (ٹراٹسکی) نے مشورہ دیا کہ ہم فوری اور خفیہ طور پر کرونسٹٹ والوں کو واپس بھیج دیں۔ فیصلہ کیا گیا کہ کامریڈوں کو بھیج کر کرونسٹٹ والوں کو تنبیہ کی جائے کہ اُنہیں زبردستی غیرمسلح کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔‘‘ کرونسٹٹ والوں کی اکثریت وقت پر نکل گئی۔ صرف چند ایک دستے ہی کشیسنسکایا کے محل اور پیٹر اور پال کے قلعے میں باقی بچے۔
سوشلسٹ وزرا کی مرضی اور علم سے شہزادہ لووف نے 4 جولائی کو ہی جنرل پولووسٹیف کو ایک تحریری حکم دیا تھا کہ ’’کشیسنسکایا کے گھر پر قابض بالشویکوں کو گرفتار کیا جائے، گھر کو خالی کرایا جائے اور اس میں سپاہی تعینات کئے جائیں۔‘‘ ادارتی دفتر اور چھاپہ خانے کی تباہی کے بعد بالشویکوں کے صدر دفتر کے مقدر کا سوال انتہائی اہمیت اختیار کر چکا تھا۔ رہائش گاہ کو دفاعی حالت میں لانا ضروری تھا۔ بالشویکوں کی فوجی تنظیم نے راشکولنیکوف کو عمارت کا کمانڈر تعینات کر دیا۔ اُس نے اپنی ذمہ داریاں وسیع تر انداز میں، بلکہ کرونسٹٹ کے انداز میں سنبھالیں، توپخانہ طلب کر لیا اور ایک چھوٹا جنگی جہاز بھی دریائے نیوا کے دہانے پر لانے کا حکم دے دیا۔ راشکولنیکوف نے بعد ازاں اِس اقدام کی وضاحت کچھ یوں کی: ’’میں نے یہ فوجی تیاریاں صرف دفاعی مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں کی تھیں، کیونکہ فضا میں صرف بارود کی نہیں بلکہ بلووں کی بو بھی آ رہی تھی… میرا خیال ہے میری یہ سوچ بے بنیاد نہیں تھی کہ عبوری حکومت کے ارادے کو اچھی طرح ڈگمگانے کے لئے دریائے نیوا میں ایک زبردست جنگی جہاز کافی ہو گا۔‘‘ یہ سب کچھ کافی غیر واضح ہے اور زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 5 جولائی کی شام پانچ بجے راشکولنیکوف سمیت فوجی تنظیم کے رہنماؤں نے صورتحال میں آنے والی تبدیلیوں کی شدت کا اندازہ نہیں لگایا تھا، یوں اُس وقت جب مسلح مظاہرہ ایک فوری پسپائی پر مجبور ہو چکا تھا، کچھ فوجی رہنماؤں نے بغیر سمجھ بوجھ کے حادثاتی اقدامات اٹھائے۔ کرونسٹٹ کے یہ نوجوان رہنما اس پہلی کاروائی میں واقعی اپنی حد سے تجاوز کر رہے تھے۔ لیکن کیا حد سے تجاوز کرنے والوں کے بغیر بھی بھلا انقلاب ہو سکتا ہے؟ کیا تمام عظیم انسانی کارناموں میں غیرسنجیدگی کا مخصوص عمل دخل نہیں ہوتا ہے؟ اِس بار یہ غیر سنجیدگی ہدایات سے زیادہ نہیں تھی اور خود راشکولنیکوف نے ہی جلد اِن ہدایات کو منسوخ کر دیا۔ اس سارے وقت کے دوران زیادہ سے زیادہ تشویشناک خبریں موصول ہو رہی تھیں۔ ایک آدمی نے دریائے نیوا کے مخالف کنارے پر ایک گھر کی کھڑکیوں میں مشین گنیں دیکھی تھیں، جن کا رخ کشیسنسکایا کے محل کی جانب تھا؛ ایک اور آدمی نے اِسی سمت میں سفر کرتی ہوئی بکتربند گاڑیوں کی قطار دیکھی تھی؛ ایک تیسرا آدمی کاسکوں کے ایک دستے کی آمد کی خبر لایا۔ فوجی تنظیم کے دو اراکین کو ڈسٹرکٹ کمانڈر سے مذاکرات کے لئے بھیجا گیا۔ پولووسٹیف نے اُنہیں یقین دہانی کروائی کہ ’پراودا ‘ کے دفتر پر چھاپہ اُس کے علم کے بغیر مارا گیا تھا اور فوجی تنظیم کے خلاف کسی جبر کی تیاری نہیں کی جا رہی تھی۔ درحقیقت وہ صرف محاذ سے کافی کمک پہنچ جانے کا انتظار کر رہا تھا۔
اس وقت جب کرونسٹٹ پسپائی اختیار کر رہا تھا، بالٹک کا بیڑا مجموعی طور پر پیش قدمی کی تیاری ہی کر رہا تھا۔تقریباً 70 ہزار جہازیوں کے ساتھ بیڑے کا کلیدی حصہ فن لینڈ کے پانیوں میں تھا۔ ایک فوجی کور بھی فن لینڈ میں موجود تھی اور دس ہزار روسی مزدور ہلسنگفورس کی ساحلی فیکٹریوں میں تھے۔ یہ انقلاب کا بھاری بھرکم مُکّا تھا۔ جہازیوں اور سپاہیوں کا دباؤ اتنا ناقابل برداشت تھا کہ سوشل انقلابیوں کی ہلسنگفورس کمیٹی بھی مخلوط حکومت کے خلاف نکل آئی تھی، نتیجتاً فن لینڈ میں بیڑے اور فوج کے تمام سوویت اداروں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا تھا کہ مجلس عاملہ اقتدار پر قبضہ کرے۔ اپنے مطالبے کے حق میں بالٹک والے کسی بھی لمحے دریائے نیوا کے دہانے تک جانے کو تیار تھے۔ تاہم بحری دفاع کے کمزور ہو جانے اور جرمن بیڑے کے لئے کرونسٹٹ اور پیٹروگراڈ پر حملہ آسان بن جانے کے خطرے کے پیش نظر وہ رکے ہوئے تھے۔
لیکن یہاں ایک بالکل غیرمتوقع چیز رونما ہوئی۔ بالٹک کے بیڑے کی مرکزی کمیٹی،جسے ’سینٹروبالٹ‘ کہا جاتا تھا، نے 4 جولائی کو ایک غیرمعمولی اجلاس طلب کیا، جس میں صدر ڈائبینکو نے [ حکومت کے] دو خفیہ احکامات پڑھ کر سنائے، جو ابھی ابھی بیڑے کے کمانڈر کو ملے تھے اور اُن پر بحریہ کے نائب وزیر ڈیوڈاریف کے دستخط موجود تھے۔ پہلے میں ایڈمرل ورڈیریوسکی کو چار تباہ کن جہاز پیٹروگراڈ بھیجنے کو کہا گیا تھا تا کہ کرونسٹٹ کی طرف سے جہازیوں کے اترنے کو بزور طاقت روکا جا ئے؛ دوسرے میں بیڑے کے کمانڈر سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ کسی صورت بھی جہازوں کو ہلسنگفورس سے کرونسٹٹ جانے کی اجازت نہ دی جائے اور حکم عدولی کرنے والے جہازوں کو آبدوزوں کے ذریعے ڈبونے سے بھی نہ ہچکچائے۔ دونوں طرف سے آگ میں گھرے اور سب سے بڑھ اپنی جان بچانے کی پریشانی میں مبتلا ایڈمرل نے اِس اعلان کے ساتھ یہ ٹیلی گرام سینٹرو بالٹ کے حوالے کر دیا کہ اگر سینٹروبالٹ اِن احکامات پر ستخط کر دے تو بھی وہ اِن پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔ ٹیلی گرام کو پڑھ کے جہازی ششدر رہ گئے۔ وہ کیرنسکی اور مصالحت پسندوں کو کسی بھی بہانے گالیاں دینے کو تو پہلے ہی تیار تھے۔ لیکن اب تک یہ اُن کی نظروں میں سوویت کی داخلی لڑائی تھی۔سینٹرو بالٹ میں بھی انہی پارٹیوں کی اکثریت تھی جو ایک سوویت حکومت کی حمایت کرنے والی فن لینڈ کی علاقائی کمیٹی میں اکثریت میں تھیں ۔ بالکل واضح لگ رہا تھا کہ نہ تو منشویک اور نہ ہی سوشل انقلابی اُن جہازیوں کی ڈبونے کی اجازت دے سکتے تھے جو مجلس عاملہ کے اقتدار کے لئے نکلے تھے۔بحریہ کے نائب وزیر ڈیوڈاریف جیسا پرانا بحری افسر بھلا سوویتوں کے آپسی جھگڑے میں گھس کر اسے بحری جنگ میں کیسے بدل سکتا تھا؟ کل تک تو بڑے جنگی جہازوں کو سرکاری طور پر انقلاب کا قلعہ قرار دیا جا رہا تھا، وہ بھی اُن پسماندہ جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے برعکس جن تک انقلابی پراپیگنڈا بمشکل ہی پہنچا تھا۔کیا ایسا ہو سکتا تھا کہ اب حکومت اِنہی جنگی جہازوں کو آبدوزوں کی مدد سے ڈبونا چاہتی تھی؟
یہ حقائق جہازیوں کی ضدی کھوپڑیوں میں نہیں گھس پا رہے تھے۔ حکومت کا یہ حکم، جو اُنہیں بجا طور پر ڈراؤنا خواب لگ رہا تھا، بہرحال جولائی میں اُس فصل کی جائز کٹائی تھی جو مارچ میں کاشت کی گئی تھی۔ اپریل میں ہی منشویکوں اور سوشل انقلابیوں نے پیٹروگراڈ کے خلاف صوبوں سے، مزدوروں کے خلاف سپاہیوں سے اور مشین گن والوں کے خلاف گھڑ سواروں سے استدعائیں شروع کر دی تھیں۔ اُنہوں نے سوویتوں میں سپاہیوں کی نمائندگی کو فیکٹریوں پر فوقیت دی تھی؛ اُنہوں نے دھات کی صنعت کی دیو ہیکل فیکٹریوں کے خلاف چھوٹے اور بکھرے ہوئے صنعتی اداروں کی طرفداری کی تھی۔ خود ماضی کے نمائندے ہونے کی وجہ سے اُنہوں نے ہر طرح کی پسماندگی میں اپنی حمایت تلاش کی تھی۔ اب جبکہ زمین اُن کے پیروں کے نیچے سے پھسل رہی تھی، وہ ہراول پرتوں کے خلاف پسماندہ پرتوں کو ابھار رہے تھے۔ خاص کر انقلاب کے وقتوں میں سیاست کی اپنی ہی منطق ہوتی ہے۔ہر طرف سے پٹ کر مصالحت پسندوں نے خودکو اتنا مجبور پایا کہ ایڈمرل ورڈیریوسکی کو زیادہ ہراول جنگی جہازوں کو ڈبونے کی ہدایت جاری کریں۔لیکن مصالحت پسندوں کی بدقسمتی تھی کہ جن پسماندہ پرتوں پر وہ انحصار کر رہے تھے وہ ہراول پرتوں کے ساتھ ملنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کر رہی تھیں۔ ڈیوڈاریف کے اِن احکامات نے آبدوزوں کی کمان کو بھی جنگی جہازوں کے کمانڈروں کی نسبت کچھ کم خفا نہیں کیا۔
سینٹروبالٹ کی قیادت میں بیٹھے لوگ دیہاتی پسماندگی کا شکار نہیں تھے۔ اُنہوں نے وقت ضائع کئے بنا جہاز کمیٹیوں کے اراکین کے ساتھ مل کر قرارداد پاس کی کہ تباہ کن جہاز آرفیس کو صورتحال کی معلومات حاصل کرنے اور ساتھ ہی ’’بحریہ کے نائب وزیر ڈیوڈاریف کو گرفتار کرنے‘‘ کے لئے فوراً پیٹروگراڈ روانہ کیا جائے۔ یہ فیصلہ جتنا بھی غیرمتوقع لگے، لیکن واضح کرتا ہے کہ بالٹک کے جہازی اگر مصالحت پسندوں کو ذاتی دشمن سمجھتے تھے تو ڈیوڈاریف جیسوں کو عوامی دشمن سمجھتے تھے۔[مظاہرے کے لئے] مسلح کرونسٹٹ والوں کے لنگر انداز ہونے کے چوبیس گھنٹے بعد دریائے نیوا کے دہانے میں بحری جہاز آرفیس داخل ہوا۔ لیکن ’’طاقتوں کا توازن بدل چکا تھا۔‘‘ ایک پورا دن عملے کو جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شام کو کہیں جا کر سینٹروبالٹ کے 67 جہازیوں پر مشتمل وفد اور جہاز کے عملے کو مجالس عاملہ کے مشترکہ اجلاس میں آنے کی اجازت دی گئی، جو اُس وقت جولائی کے دنوں کی ابتدائی میزان تیار کر رہا تھا۔ فاتحین اپنی تازہ فتح کے نشے میں مست تھے۔ ووئٹنسکی بڑے اطمینان سے اپنی کمزوری اور ذلت کے وقت کے بارے میں بتا رہا تھا، تاکہ اِس کے بعد کی فتح کا نقشہ زیادہ واضح انداز میں کھینچ سکے۔ اُس نے کہا، ’’پہلا یونٹ جو ہماری مدد کو آیا وہ بکتر بند گاڑیوں کا یونٹ تھا۔مسلح مظاہرین کی طرف سے کسی تشدد کی صورت میں ہمارا بھی گولی چلانے کا پکا ارادہ تھا… انقلاب کو لاحق خطرے کی شدت کے پیش نظر ہم نے (محاذ پر) کچھ یونٹوں کو حکم جاری کیا کہ ٹرین میں سوار ہو کر دارالحکومت پہنچیں… ‘‘ اِس بلند ایوان کی اکثریت بالشویکوں اور بالخصوص جہازیوں کے خلاف بھڑاس نکال رہی تھی۔ اسی ماحول میں ڈیوڈاریف کی گرفتاری کے احکامات کے ساتھ بالٹک والوں کا وفد پہنچا۔ فاتحین نے اونچی آوازوں میں بھونک کر، میزوں پر مکے مار کر اور پیروں کو پٹخ کر بالٹک کے بیڑے کی قرارداد پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا۔ ڈیوڈاریف کو گرفتار کرنا ہے؟ ہیں؟ کیوں؟ پہلے درجے کا یہ بہادر کپتان تو اُس انقلاب کا مقدس فرض ادا کر رہا تھا جس کی پیٹھ میں جہازی، باغی اور ردِ انقلابی چھرا گھونپ رہے تھے! مشترکہ اجلاس نے متفقہ طور پر ڈیوڈاریف کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ جہازیوں نے حیرت بھری نظروں سے پہلے مقررین کو اور پھر ایک دوسرے کو دیکھا۔ اگلے دن سارے وفد کو گرفتار کر لیا گیا اور جیل میں اُن کی سیاسی تربیت کی تکمیل کی گئی!اِس کے فوراً بعد وفد کے پیچھے آنے والے سینٹروبالٹ کے صدر ، نان کمیشنڈ بحری افسر ڈائبنکو کو گرفتار کر لیا گیا، اور اُس کے بعد ایڈمرل ورڈیریوسکی کو بھی، جسے معاملات کی وضاحت کے لئے دارالحکومت بلایا گیا تھا۔
6 تاریخ کی صبح مزدور کام پر واپس آ گئے۔ اب صرف محاذ سے بلائے گئے دستے ہی سڑکوں پر مظاہرہ کر رہے تھے۔ خفیہ پولیس کے ایجنٹ پاسپورٹ دیکھ رہے تھے اور ہر طرف گرفتاریاں کر رہے تھے۔ ایک نوجوان مزدور ووئنوف، جو تباہ شدہ بالشویک پرچے کی جگہ شائع کیاجانے والا ’پراودا‘ کا لیف لیٹ تقسیم کر رہا تھا، کو سڑک پر ایک رجعتی گروہ نے قتل کر دیا، جو شاید اِنہی خفیہ پولیس والوں پر مشتمل تھا۔ بلیک ہنڈرڈ عناصر بغاوتیں کچلنے کا مزہ لے رہے تھے۔لوٹ مار، تشدد اور کچھ جگہوں پر گولی باری شہر کے مختلف حصوں میں ابھی تک جاری تھی۔[مظاہرے کے بعد کے] دن محاذ سے ایک کے بعد دوسرا دستہ پہنچ رہا تھا، گھڑسوار ڈویژن، ڈان کاسک ڈویژن، اُہلان ڈویژن، ازبورسکی، میلوروسزکی، گھڑسوار پیادہ رجمنٹ، وغیرہ۔ گورکی کا پرچہ لکھتا ہے، ’’بڑی تعداد میں آنے والے کاسک ڈویژن بڑے جارحانہ مزاج میں تھے۔‘‘ نئی آنے والی ازبورسکی رجمنٹ پر شہر کے دو حصوں میں گولیاں برسائی گئیں۔ دونوں صورتوں میں مشین گنیں چوباروں سے ملیں؛ گولیاں چلانے والے نہیں مل سکے۔ دوسری جگہوں پر بھی آنے والے دستوں پر گولیاں چلائی گئیں۔ اس گولی باری کے دانستہ پاگل پن نے مزدوروں کو بہت پریشان کر دیا۔ یہ واضح تھا کہ سپاہیوں پر تجربہ کار تخریب کار گولیاں برسا رہے تھے، تاکہ بالشویکوں پر الزام دھر کر سپاہیوں کو بالشویکوں کے خلاف کیا جا ئے ۔مزدور یہ بات آنے والے سپاہیوں کو سمجھانا چاہتے تھے، لیکن اُنہیں اُن سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ فروری کے دنوں کے بعد پہلی مرتبہ مزدور اور سپاہی کے درمیان جنکر یا افسر حائل ہو چکا تھا۔
مصالحت پسندوں نے آنے والی رجمنٹوں کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ دستوں کے نمائندوں کے ایک اجلاس میں، افسران اور جنکروں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں ووئٹنسکی نے نرم خوئی سے وضاحت کی: ’’اب ملیونی شاہراہ پر دستے اور بکتربند گاڑیاں پیلس اسکوائر کی طرف گامزن ہیں، تاکہ خود کو جنرل پولووسٹیف کے اختیار میں دے سکیں، یہ ہماری حقیقی قوت ہے، جس پر ہم بھروسہ کر سکتے ہیں۔‘‘ سیاسی لبادہ فراہم کرنے کے لئے چار سوشلسٹ معاونین بھی ڈسٹرکٹ کمانڈر کے ساتھ تعینات کئے گئے: مجلس عاملہ سے ایوکسینٹیف اور گوٹز، عبوری حکومت سے سکوبیلیف اور چرنوف۔ لیکن اِس سے یہ کمانڈر بچ نہیں پایا۔ کیرنسکی نے بعدازاں سفید فوج والوں کے سامنے شیخی بگھاری کہ جولائی کے دنوں میں محاذ سے واپس آ کر اُس نے جنرل پولووسٹیف کو ’’متزلزل‘‘ ہونے پر فارغ کر دیا تھا۔
اب آخر کار لمبے عرصے سے ملتوی مسئلے کا حل ممکن تھا: کشیسنسکایا کے گھر سے بالشویک بھِڑوں کے چھتے کا صفایا۔ بالعموم سماجی زندگی میں اور بالخصوص انقلاب کے وقتوں میں تخیل پر اثر انداز ہونے والے ثانوی حقائق بعض اوقات اپنے علامتی کردار کی وجہ سے انتہائی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ یوں بالشویکوں کے خلاف مزاحمت میں ایک غیر متناسب طور پر اہم مقام کشیسنسکایا کے محل پر لینن کے ’’قبضے‘‘ کے سوال نے حاصل کر لیا تھا۔ کشیسنسکایا ایک درباری رقاصہ تھی، جو اپنے فن سے زیادہ رومانوف شاہی سلسلے کے مرد حضرات کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے مشہور تھی۔ اُس کا نجی محل اِنہی تعلقات کا ثمر تھا، جس کی بنیاد شاید نکولس دوم نے اُس وقت رکھی تھی جب وہ ابھی تخت کا جانشین ہی تھا۔ جنگ سے پہلے ایک حاسدانہ تمیز داری سے لوگ عیش و عشرت، آرائش اور ہیروں کی اِس آماجگاہ کے بارے میں سرگوشیاں کرتے تھے جو سرما محل کے سامنے واقع تھی۔لیکن جنگ کے دوران وہ کثرت سے تبصرہ کرنے لگے تھے: ’’سب چوری کا مال ہے۔‘‘ سپاہی اِس سے بھی زیادہ درستی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ نازک عمر کو پہنچنے کے بعد رقاصہ نے حب الوطنی کو اپنا پیشہ بنا لیا تھا۔اِس موضوع پر منہ پھٹ روڈزیانکو کا کہنا تھا: ’’سپہ سالارِ اعلیٰ (اعلیٰ نواب نکولائی نکولائیوچ) نے بتایا کہ وہ توپخانے کے معاملات میں رقاصہ کشیسنسکایا کی شمولیت اور اثرو رسوخ سے واقف تھا، جس کے ذریعے کئی فرموں نے آرڈر حاصل کئے تھے۔‘‘ لہٰذا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ کشیسنسکایا کے خالی محل نے انقلاب کے بعد عوام میں کوئی خیراندیش جذبات بیدار نہیں کئے تھے۔ اُن وقتوں میں جب انقلاب کو مسلسل عمارات کی ضرورت تھی، عبوری حکومت نے کسی ایک نجی رہائش گاہ پر ہاتھ ڈالنے کی جرات بھی نہیں کی تھی۔ جنگ کے لئے کسانوں کے گھوڑوں پر قبضہ ایک چیز ہے؛ انقلاب کے لئے خالی محلات پر قبضہ تو بالکل مختلف چیز ہے نا! لیکن عوام اِس کے برعکس دیکھ رہے تھے۔
مناسب عمارت کی تلاش میں [بالشویکوں کے ہمدرد] بکتربند گاڑی ڈویژن کا سامنا مارچ کے ابتدائی دنوں میں کشیسنسکایا کی رہائش گاہ سے ہوا۔ اُنہوں نے اِس پر قبضہ کر لیا: رقاصہ کا گیراج بہت شاندار تھا۔ ڈویژن نے عمارت کی بالائی منزل بڑی خوشی سے بالشویکوں کی پیٹروگراڈ کمیٹی کے حوالے کر دی۔لینن کی آمد سے کچھ ہفتے قبل محل پر کئے گئے اِس قبضہ پر پہلے پہل کسی نے توجہ نہ دی۔ لیکن بالشویکوں کے اثر و رسوخ میں جوں جوں اضافہ ہوتا گیا، اُن کے قبضے کے خلاف دشمنوں کا غصہ بھی بڑھتا چلا گیا۔ اخباروں میں چھپنے والی یہ بیہودہ کہانیاں بالکل جھوٹ تھیں کہ رقاصہ کے زنان خانے میں لینن رہ رہا تھا اور محل کی ساری آرائشی اشیا توڑ پھوڑ دی گئی تھیں۔ رقاصہ کے سارے سامانِ آرائش کو عمارت کے کمانڈر نے ہٹا دیا تھا اور محفوظ کر لیا تھا۔ سوخانوف نے لینن کی آمد کے وقت محل کا دورہ کیا تھا اور عمارت کی دلچسپ کیفیت بیان کی تھی۔ ’’مشہور رقاصہ کے کمروں کا منظر کافی عجیب اور نامناسب تھا؛ نفیس چھتیں اور دیواریں کسی طور بھی وہاں پڑے بے تکلف سازوسامان اور اُن پرانے میزوں، کرسیوں اور بینچوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں جنہیں کام کی ضرورت کے مطابق یونہی اِدھر اُدھر رکھ دیا گیا تھا۔ بالعموم بہت کم فرنیچر تھا۔ کشیسنسکایا کی منقولہ جائیداد کو کہیں اور رکھ دیا گیا تھا… ‘‘ محتاط انداز میں بکتر بند گاڑی ڈویژن کے ذکر سے اجتناب برتتے ہوئے پریس نے لینن کو فن کی ایک بے یارومددگار مداح سے اسلحے کے زور پر گھر چھین لینے کا قصور وار بنا کر پیش کیا! اداریوں اور اخباری افسانوں میں یہی کہانی سنائی گئی۔ مخمل اور ریشم اور خوبصورت قالینوں کے درمیان بھلا پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس مزدوروں اور سپاہیوں کا کیا کام! اخلاقی برہمی سے دارالحکومت کے سارے دیوان خانے لرز اٹھے۔ جیسے ایک بار گیرونڈسٹوں نے جیکوبنوں کو ستمبر کے قتال، بیرکوں سے بستروں کی گمشدگی اور زرعی قانون کے لئے مہم چلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، اسی طرح اب انسانی اخلاقیات کے ستون ہلا دینے اور کشیسنسکایا کے محل کے پالش شدہ فرشوں پر تھوکنے کا الزام بالشویکوں پر کیڈٹ لگا رہے تھے۔ شاہی رقاصہ تہذیب کی ایسی علامت بن چکی تھی جسے بربریت کے قدم روند رہے تھے۔ اِس تقدیس نے خاتون کو بھی پر لگا دئیے اور اُس نے عدالت میں شکایت داخل کر دی۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بالشویکوں کو عمارت سے ہٹایا جانا چاہئے۔لیکن ایسا کرنا آسان نہیں تھا۔ زالزھسکی، جو اُس وقت بالشویکوں کی پیٹروگراڈ کمیٹی کا رکن تھا، یاد کرتا ہے، ’’صحن میں ڈیوٹی پر معمور بکتر بند گاڑیاں بڑی رعب دار معلوم ہوتی تھیں۔ ‘‘مزید برآں مشین گن رجمنٹ اور دوسرے یونٹ بھی ضرورت کے وقت بکتر بند گاڑی یونٹ کی مدد کے لئے تیار تھے۔ 25 مئی کو مجلس عاملہ کے بیورو نے رقاصہ کے وکیل کی شکایت سے اتفاق کیا کہ ’’انقلاب کے مفادات کا تقاضا ہے کہ عدالت کا فیصلہ تسلیم کیا جائے۔‘‘ تاہم اس افلاطونی لفاظی سے آگے بڑھنے کی جرات مصالحت پسندوں نے بھی نہیں کی۔ رقاصہ، جو فطرتاً افلاطونیت کی طرف مائل نہیں تھی، بڑی پریشان ہوئی۔
بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی، پیٹروگراڈ کمیٹی اور فوجی تنظیم نے محل میں اپنا کام جاری رکھا۔ راشکولنیکوف بتاتا ہے، ’’عوام کا ہجوم مسلسل کشیسنسکایا کے گھر جمع رہتا تھا۔ کچھ لوگ کسی سیکرٹریٹ سے کام کے سلسلے میں آتے تھے، کچھ شعبہ ادب کے پاس، کچھ ’پراودا‘ کے ادارتی دفتروں میں اور کچھ لوگ کسی اجلاس وغیرہ کے سلسلے میں آتے رہتے تھے۔ اکثر اوقات اجلاس مسلسل جاری رہتے تھے، یا تو نیچے والے بڑے ہال میں، یا پھر اوپر والے بڑے میز والے کمرے میں، جو شاید رقاصہ کا کھانے کا کمرہ تھا۔‘‘ محل کی بالکونی، جس کے اوپر مرکزی کمیٹی کا دل نشین پرچم لہرا رہا ہوتا تھا، سے مقررین نہ صرف دن بلکہ رات کو بھی جلسوں سے مسلسل خطاب کرتے رہتے تھے۔ اکثر اوقات رات کے وقت سپاہیوں کی کوئی ٹولی یا مزدوروں کا کوئی مجمع عمارت کے سامنے اکٹھا ہو جاتا تھا اور کسی مقرر کا مطالبہ کرتا تھا۔ اخباروں کی پھیلائی گئی سنسنی سے تجسس میں مبتلا ہو کر شہریوں کے گروہ بھی کبھی بالکونی کے سامنے رک جاتے تھے۔ نازک دنوں میں مخالف مظاہرے وقتی طور پر عمارت کے قریب آتے تھے اور لینن کی گرفتاری اور بالشویکوں کو باہر نکالنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ محل کے سامنے سے گزرنے والے لوگوں کے دھارے کے نیچے انقلاب کی مچلتی ہوئی گہرائیاں محسوس کی جا سکتی تھیں۔ جولائی کے دنوں میں کشیسنسکایا کا گھر اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ ملیوکوف کہتا ہے، ’’تحریک کا کلیدی صدر دفتر ٹاؤرائڈ محل نہیں بلکہ لینن کا وہ چھوٹا سا قلعہ، کلاسیکی بالکونی والا کشیسنسکایا کا وہ گھر تھا۔‘‘ مظاہرے کے کچلنے جانے سے بالشویکوں کا یہ صدر دفتر بھی ناگزیر تباہی سے دو چار ہو گیا۔
رات تین بجے کشیسنسکایا کے گھر اور پیٹر اور پال کے قلعے (ان کے درمیان میں صرف ایک آبی راستہ ہے) کی طرف پیٹروگراڈ رجمنٹ کی ریزرو بٹالین، ایک مشین گن رجمنٹ، سیمینووسکی اور پریوبرازنسکی رجمنٹ کی ایک ایک کمپنی، وولائنسکی رجمنٹ کا تربیتی سکواڈ، دو توپیں اور آٹھ بکتر بند گاڑیاں بڑھنے لگیں۔ ضلع کمانڈر کے نائب، سوشل انقلابی کزمن نے مطالبہ کیا کہ گھر خالی کیا جائے۔ کرونسٹٹ والے، جن میں سے صرف ایک سو بیس ہی محل میں باقی بچے تھے، ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں تھے اور اُس پار پیٹر اور پال کے قلعے میں چلے گئے۔ حکومتی دستوں نے جب گھر پر قبضہ کیا تو چند ایک ملازمین کے سوا کوئی نہیں ملا۔ پیٹر اور پال کے قلعے کا مسئلہ ابھی باقی تھا۔ جیسا کہ ہمیں یاد ہے کہ وائبورگ کے علاقے سے نوجوان سرخ محافظین وہاں چلے گئے تھے، تاکہ بوقت ضرورت جہازیوں کی مدد کر سکیں۔ اُن میں سے ایک بتاتا ہے، ’’قلعے کی دیواروں پر کئی توپیں نصب تھیں، جو جہازیوں نے بوقت ضرورت استعمال کے لئے لگائی تھیں… یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے خونریز کاروائی ہو گی۔‘‘ لیکن سفارتی مذاکرات نے مسئلے کو پرامن طور پر حل کر دیا۔ مرکزی کمیٹی کی ہدایت پر سٹالن نے مصالحت پسند رہنماؤں کو تجویز پیش کی کہ کرونسٹٹ والوں کی کاروائی کو پرامن طریقے سے ختم کرنے کے لئے مشترکہ اقدامات کئے جائیں۔ منشویک بوگڈانوف کے ساتھ مل کر اُسے جہازیوں کو اِس بات پر قائل کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی کہ وہ لائبر کے ایک دن پہلے کے الٹی میٹم کو تسلیم کر لیں۔ جب حکومت کی بکتر بند گاڑیاں قلعے تک پہنچیں تو ایک وفد اِس کے دروازوں سے باہر آیا اور اعلان کیا کہ قلعے کی فوج مجلس عاملہ کے سامنے ہتھیار ڈال دے گی۔ جہازیوں اور سپاہیوں کے ڈالے گئے ہتھیار ٹرکوں میں لاد کر لے جائے گئے۔ غیرمسلح جہازیوں کو کرونسٹٹ واپس لے جانے کے لئے کشتیوں میں بھیج دیا گیا۔ قلعے کی شکست کو جولائی کی تحریک کا اختتامی واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ محاذ سے آئے ہوئے ایک سائیکل سوار بریگیڈ نے کشیسنسکایا کے گھر اور پیٹر اور پال کے قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اکتوبر انقلاب سے قبل یہ بریگیڈ بھی بالشویکوں کے ساتھ مل جائے گا۔
*****
[۱] وولوڈارسکی ایک شاندار ایجی ٹیٹر تھا۔ وہ پہلے منشویک تھا۔ 1911ء کے بعد ریاستی جبر کے پیش نظر وہ امریکہ چلا گیا جہاں وہ سوشلسٹ پارٹی میں متحرک رہا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران وہ منشویکوں کے انٹرنیشنلسٹ دھڑے میں شامل تھا۔ مئی 1917ء میں وہ روس واپس آیا اور مزھرایونٹسی گروپ کا حصہ بن گیا۔ جولائی 1917ء میں یہ پورا گروپ بالشویکوں میں شامل ہو گیا۔ وولوڈارسکی کو جون 1918ء میں ایک سوشل انقلابی نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
[۲] ’یاکوف سویڈلوف‘ (Yakov Sverdlov) پارٹی کے کلیدی منتظمین میں سے ایک تھا۔ وہ 1902ء میں پارٹی میں شامل ہوا تھا اور شروع سے بالشویک تھا۔ انقلاب کے بعد وہ پارٹی اور سوویت ریاست کے کلیدی عہدوں پر فائز رہا۔ اُسے سوویت ریاست کا پہلا انتظامی سربراہ بھی گردانا جاتا ہے۔ مارچ 1919ء میں کالے بخار کی وجہ سے وہ وفات پا گیا۔
[۳] ایک فرانسیسی تاریخ دان۔
[۴] اوخرانا (Okhrana) زارشاہی کی بدنامِ زمانہ خفیہ پولیس کا نام تھا۔
[۵] ٹراٹسکی کو 7 اگست 1917ء کو عبوری حکومت نے گرفتار کر لیا تھا۔ اِس کا ذکر آگے آئے گا۔
[۶] پیٹروگراڈ سے تیس کلومیٹر دور ایک علاقہ۔
[۷] فرڈیننڈ لسال (Ferdinand Lassalle) انیسویں صدی میں جرمنی کا مشہور قانون دان اور سوشلسٹ سیاستدان تھا۔