روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

حکمرانوں کے جادو ٹونے اور عملیات ٹراٹسکی کی نظر میں

حکمرانوں کے جادو ٹونے اور عملیات ٹراٹسکی کی نظر میں

لیون ٹراٹسکی

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف ’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کے باب نمبر4’زار اور زارینہ‘ سے ایک اقتباس قارئین کی دلچسپی کے لیے شائع کیا جا رہا ہے)

زار (روس)نکولس (دوم)اور زارینہ الیگزینڈرا کے پورے دور حکمرانی میں نہ صرف روس بلکہ دوسرے ممالک سے بھی جوتشی اورجنونی قسم کے پیر فقیر دربار میں لائے جاتے تھے۔ قسمت کا حال بتانے والے خصوصی سرکاری نوسرباز پروان چڑھے، جن پر بادشاہ سے منسلک بالائی ایوان تشکیل پا گیا۔بیگمات کا سرکاری درجہ رکھنے والی توہمات سے لبریز بوڑھی عورتوں، کچھ نہ کرنے والے عہدیداروں اور پوری پوری وزارتیں کرائے پر لے لینے والے مالداروں کی کمی نہیں تھی۔اپنے مقابلے میں آنے والے مداریوں اور جادو ٹونا کرنے والوں سے حسد کھانے والے آرتھوڈاکس چرچ کے بڑے پادری بھی سازشوں کے اِس دربار عالیہ تک اپنا مقدس راستہ بنانے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔ وٹّ نے اِس حکمران حلقے، جس کے ساتھ دو بار اُس نے اپنا سر ٹکرایا، کو ’’ درباری مشیروں کا کوڑھ زدہ حلقہ‘‘ قرار دیا۔
بادشاہت جوں جوں تنہا ہوتی گئی، بادشاہ خود کو اسی قدر غیر محفوظ محسوس کرنے لگا اور اُسے دوسرے جہاں سے مدد کی ضرورت زیادہ محسوس ہونے لگی۔کئی جنگلی لوگ اچھے موسم کے لئے دھاگے کے ساتھ کنکر باندھ کر ہوا میں لہراتے ہیں۔ زار اور زارینہ بے شمار مقاصد کے لئے ایسی ہی کنکریوں کا استعمال کرتے تھے۔ زار کی ٹرین میں چھوٹی بڑی تصویروں سے بھرا پورا گرجا گھر اورجادو ٹونے میں استعمال ہونے والی طرح طرح کی چیزیں بھی تھیں، جنہیں پہلے جاپانیوں اور پھر جرمن توپخانے کے خلاف ٹونے کے طور پر استعمال کے لئے رکھا گیا تھا۔
درباری حلقے کا معیار نسل درنسل کچھ خاص نہیں بدلا تھا۔ الیگزینڈر دوم، جسے ’’آزادی دہندہ‘‘کہا جاتا تھا، کے عہد میں شاہی نواب سنجیدگی سے جنوں بھوتوں اور چڑیلوں پر یقین رکھتے تھے۔ الیگزینڈر سوم کے عہد میں بھی حالت کچھ بہتر نہیں تھی، بس ذرا خاموشی تھی۔ ’’درباری مشیروں کا کوڑھ زدہ حلقہ‘‘ ہمیشہ موجود رہا، صرف اِس کے افراد اور طریقہ واردات بدلے۔ نکولس دوم نے جنگلی قرون وسطیٰ کے وحشیوں کا یہ درباری ماحول تخلیق نہیں کیا تھا، بلکہ اُسے اپنے اجداد سے ورثے میں ملا تھا۔ لیکن اِسی دوران کئی دہائیوں سے ملک تبدیل ہو رہا تھا، اِس کے مسائل زیادہ پیچیدہ ہو رہے تھے، اِس کا ثقافتی معیار بلند ہو رہا تھا۔ یوں درباری حلقے بہت پیچھے رہ چکے تھے۔
اگرچہ بادشاہت نے نئی قوتوں کو مجبوراً کچھ رعایات دیں، لیکن اندر سے اپنی تجدید میں یہ مکمل طور پر ناکام رہی۔ اس کے برعکس یہ اپنے ہی اندر دھنستی چلی گئی۔ اس کے اندر قرون وسطیٰ کی روح، خوف اور مخالفت کے دباؤ کے تحت گاڑھی ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ یہ ملک پر مسلط قابل نفرت اور ڈراؤنا خواب بن گئی۔
نومبر 1905ء کے انقلاب کے انتہائی فیصلہ کن لمحات میں زار اپنی ڈائری میں لکھتا ہے: ’’ہمارا تعارف آج خدا کے ایک بندے گریگوری سے ہوا ہے جس کا تعلق صوبہ ٹوبولسک سے ہے۔‘‘ یہ بندہ راسپیوٹن تھا، سائبیریا کا ایک کسان جس کے سر پر گنج کا نشان تھا ،جو گھوڑے چوری کرنے پر پڑنے والی مار کا نتیجہ تھا۔ مناسب موقعے کا فائدہ اٹھا کر یہ ’’خدا کا بندہ‘‘ سرکاری خدمتگاروں سے مل گیا، بلکہ وہ اِس سے مل گئے، یوں ایک نیا حکمران حلقہ تخلیق پایا، جس نے زارینہ کو مضبوطی سے قابو کر لیا اور بعد ازاں اُس کے ذریعے زار کو بھی۔
1913-14ء کے موسم سرما تک پیٹرزبرگ میں مشہور تھا کہ تمام اعلیٰ تعیناتیاں، عہدے اور ٹھیکے راسپیوٹن کے گروہ پر منحصر تھے۔ اِس ’’بزرگ‘‘ نے خود کو رفتہ رفتہ ایک ریاستی ادارے میں تبدیل کر لیا تھا۔ اُسے کڑی حفاظت میں رکھا جاتا تھا اور متحارب وزیر بھی اُس پر ایسی ہی کڑی نظر رکھتے تھے۔ خفیہ پولیس کے جاسوس اُس کے پل پل کی خبر رکھتے تھے اور رپورٹ میں یہ لکھنا بھی نہیں بھولتے تھے کہ کیسے اپنے آبائی دیہات پوکرووسکی کے دورے کے دوران وہ شراب کے نشے میں دھت ہو کر اپنے سگے باپ سے سڑک پر مار پیٹ کرتا تھا۔ جس دن 9 ستمبر 1915ء کو یہ واقعہ ہوا، راسپیوٹن نے دو محبت بھرے تار بھیجے، ایک زارسکوئی سیلو [۴] میں زارینہ کو اور دوسرا صدر دفتر میں زار کو۔ رزمی زبان میں پولیس کے جاسوس اِس ’دوست‘ کی روزمرہ کی رنگ رلیاں درج کرتے تھے۔ ’’وہ آج صبح پانچ بجے شراب کے نشے میں دھت واپس لوٹا۔‘‘’’25 اور 26 کی درمیابی شب اداکارہ ’و‘ نے راسپیوٹن کے ساتھ رات گزاری۔‘‘’’وہ شہزادی ’ڈ‘ (زار کے دربار کی خواب گاہ کے نگران کی بیوی) کے ساتھ اسٹوریا ہوٹل آیا۔‘‘اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی: ’’رات 11بجے زارسکوئی سیلوسے گھر آیا۔‘‘ ’’راسپیوٹن شہزادی ’ش‘ کے ساتھ بہت زیادہ شراب کے نشے میں گھر آیا اور دونوں فوراً ہی اکٹھے باہر چلے گئے۔‘‘ اگلے دن کی صبح یا شام کو زارسکوئی سیلوکا چکر لگایا۔ ایک جاسوس نے ہمدردانہ سوال کیا کہ یہ بزرگ صاحب سوچ میں کیوں ڈوبے رہتے ہیں؟ جواب ملا: ’’سمجھ میں نہیں آ رہی کہ دوما کا اجلاس طلب کریں یا نہ کریں۔‘‘اور پھر دوبارہ: ’’وہ صبح پانچ بجے شراب کے نشے میں دھت گھر آیا۔‘‘ یوں مہینوں اور سالوں تک یہ دھن تین تاروں پر بجتی رہی: ’’شراب کے نشے میں‘‘، ’’بہت زیادہ شراب کے نشے میں‘‘، ’’شراب کے نشے میں دھت‘‘۔ریاستی اہمیت کی یہ خبریں جمع کی جاتی تھیں اور فوجی پولیس کا جنرل گورباچیف اِن پر بطور گواہ دستخط کرتا تھا۔
راسپیوٹن کے اثر و رسوخ کا عروج چھ سال رہا، یہ بادشاہت کے آخری سال تھے۔ شہزادہ یسوپوف، جو کسی حد تک اس معمول کا حصہ تھا اور جس نے بعد ازاں راسپیوٹن کو قتل کروا دیا، کے مطابق ’’پیٹروگراڈ میں اُس کی زندگی ایک مسلسل عیاشی بن چکی تھی۔یہ شراب میں دھت جہاز کے چپو چلانے والے غلام کی عیاشی تھی، جس کی قسمت غیر متوقع طور پر بدل گئی تھی۔‘‘دوما کا صدر روڈزیانکو لکھتا ہے، ’’میرے پاس اُن ماؤں کے خطوط کے انبار لگے ہوئے ہیں جن کی بیٹیوں کی عزت اس گھٹیا اور لچے انسان نے لوٹی۔‘‘ تاہم کم و بیش اَن پڑھ آرچ بشپ ورناوا سے لے کر پیٹروگراڈ کی شہری انتظامیہ کے سربراہ پیٹیرم تک کا عہدہ بھی راسپیوٹن کا مرہون منت تھا۔ کلیسا کی مجلسِ مشائخ کاسربراہ سیبلر بھی اپنے عہدے پر لمبے عرصے تک راسپیٹون کی وجہ سے ہی براجمان رہا؛ ’’بزرگ‘‘ کو قبول نہ کرنے پر وزیر اعظم ککٹسیف کو اُس کی اپنی درخواست پر معزول کر دیا گیا۔ بہت سے دوسرے افراد کے علاوہ راسپیوٹن نے سٹرومر کو وزرا کی کونسل کے صدر، پروٹوپوپوف کو وزیر داخلہ اور رائیف کو کلیسا کی مجلس مشائخ کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا۔ فرانس کے سفیر پیلیولوگ نے اپنے ملک کے مفادات پر زارینہ کو راضی کرنے کے لئے راسپیوٹن سے ملاقات کی، اُسے چوما اور چلّا اُٹھا: ’’یہی خدا سے نور پانے والا سچا آدمی ہے!‘‘ ۔ ایک یہودی سیمانووچ ، جو ’’بزرگ‘‘ کا مالی آلہ کار ، نائٹ کلب کا جواری اور سود خور تھا، نے خفیہ پولیس کی آنکھ تلے راسپیوٹن کے ذریعے وزارت انصاف میں ڈوبرووولسکی جیسا جعلساز آدمی رکھوایا۔
نئی تعیناتیوں کے بارے میں زارینہ زار کو لکھتی ہے، ’’اپنے پاس ایک چھوٹی سی فہرست رکھو۔ ’ہمارے دوست‘ نے کہا ہے کہ تم پروٹوپوپوف سے اِس بارے میں ساری بات کرو۔‘‘ دو دن بعدپھر لکھا: ’’ہمارے دوست نے کہا ہے کہ سٹرومر شاید کچھ مزید دنوں تک وزرا کی کونسل کا صدر رہے۔‘‘اور پھر: ’’پروٹوپوپوف ہمارے دوست کی بڑی عزت کرتا ہے، اُس پر رحمت ہو گی۔‘‘
اُنہی دنوں جب پولیس کے جاسوس شراب کی بوتلوں اور عورتوں کی گنتی کر رہے تھے، زار کو لکھے گئے ایک خط میں زارینہ آہ بھرتی ہے: ’’وہ راسپیوٹن پر عورتوں کے بوسے لینے کا الزام لگاتے ہیں۔ پیغمبر بھی تو ملتے وقت ہر کسی کا بوسہ لیتے تھے۔‘‘پیغمبروں کا یہ حوالہ پولیس کے جاسوسوں کو بہرحال قائل نہیں کر پایا۔ ایک اور خط میں زارینہ اس سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے: ’’شام کی عبادت کے دوران میں نے ’ہمارے دوست‘ کے بارے میں بہت سوچا۔ کیسے پارسائی کا ناٹک کرنے والے اُن یہودیوں اور ریاکاروں نے مسیح کو اذیتیں دی تھیں… واقعی اپنے ملک میں پیغمبر کو کوئی نہیں مانتا۔‘‘
اِن شاہی حلقوں میں راسپیوٹن اور مسیح کا موازنہ کرنا روایت بن گیا تھا۔ یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں تھا۔ شاہی جوڑے کا تاریخ کی ہولناک قوتوں سے خوف اس قدر شدید تھا کہ کسی غیر طبعی خدا اور انجیلی مسیح کے بے اثر سائے سے اُنہیں دلاسہ نہیں ملتا تھا۔ اُنہیں ’’ خدا کے فرزند‘‘ کے دوبارہ نزول کی ضرورت تھی۔ استرداد اور حالت نزاع سے دوچار بادشاہت نے راسپیوٹن کی شکل میں اپنے سے مشابہ مسیح تلاش کر لیا۔
پرانی حکومت کا ایک سنیٹر ٹاگانٹسیف لکھتا ہے، ’’اگر کوئی راسپیوٹن نہ بھی ہوتا تو اُسے پیدا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔‘‘یہ الفاظ لکھاری کی سوچ سے بھی زیادہ معنی خیز ہیں۔ اگر لفظ’غنڈہ گردی‘ کو ہم معاشرے کی تہہ میں موجود سماج دشمن طفیلی عناصر کا انتہائی اظہار سمجھتے ہیں تو ’راسپیوٹن گردی‘ کو معاشرے کی چوٹی کی تاجدار غنڈہ گردی قرار دیا جا سکتا ہے۔

*****

[۳]آخری زارینہ کا نام ’الیگزینڈرا فیوڈوروونا‘(Alexandra Feodorovna)تھا اور وہ جرمن نژاد تھی۔
[۴]زارسکوئی سیلو Tzarskoe Selo) ( کے قصبے میں روس کے شاہی خاندان کی رہائش گاہ تھی۔یہ علاقہ پیٹروگراڈ سے 24 کلومیٹر دور ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں