روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

خفیہ فنڈنگ: امریکی قانون سازوں نے قوانین کمزور کر دیے، دوا ساز انڈسٹری کو اربوں ڈالر کا فائدہ

خفیہ فنڈنگ: امریکی قانون سازوں  نے قوانین کمزور کر دیے، دوا ساز انڈسٹری کو اربوں ڈالر کا فائدہ

لاہور(جدوجہد رپورٹ) امریکی فارماسیوٹیکل لابی کی سب سے بڑی تنظیم کی جانب سے کانگریس کے ری پبلکنز کو خفیہ طور پر کروڑوں ڈالر فراہم کیے جانے کے ایک سال بعد ری پبلکن قانون سازوں نے خاموشی سے ایسے قواعد کو نرم کر دیا،جو جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

ان قوانین کو کمزور کرنے سے فارماسیوٹیکل ریسرچ اینڈ مینوفیکچررز آف امریکہ (PhRMA) کی 4 ملین ڈالر کی ڈارک منی فنڈنگ 8 ارب ڈالر کے منافع میں بدل گئی، جیسا کہ کانگریشنل بجٹ آفس کے تخمینے میں بتایا گیا ہے۔

’جیکوبن‘ کے مطابق سیاسی نگرانی کے ایک گروپ کو حاصل ہونے والے ریکارڈز سے انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ سال PhRMA نے کروڑوں روپے ایک ری پبلکن نواز ڈارک منی گروپ کو دیے جو ملک بھر میں جی او پی امیدواروں کی انتخابی مہمات کو سہارا دیتا ہے۔

Pfizer، Eli Lilly، Bayerسمیت بڑی کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والے PhRMA نے گزشتہ سال 5.6 ملین ڈالر سے زیادہ سیاسی چندوں کی مد میں خرچ کیے، جن میں 4 ملین ڈالر امریکن ایکشن نیٹ ورک (AAN) کو گئے۔2020 سے 2023 کے دوران PhRMA نے اس گروپ کو 17.5 ملین ڈالر منتقل کیے۔

امریکن ایکشن نیٹ ورک نے 2024 میں بیٹل گراؤنڈ ڈسٹرکٹس میں ری پبلکن امیدواروں کی حمایت میں 55 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ اس کی جڑواں تنظیم امریکن ایکشن فورم مریضوں کے حقوق کے نام پر فارماسیوٹیکل صنعت کے مفادات کے لیے لابنگ کرتی رہی ہے۔

رواں سال کانگریس میں ری پبلکن اکثریت نے فارماسیوٹیکل صنعت کو متعدد بڑی کامیابیاں دیں، جن میں بائیڈن دور کے میڈیکیئر ڈرگ پرائس نیگوسی ایشن پروگرام کے اہم حصوں کو کمزور کرنا شامل تھا۔ یہی پروگرام امریکیوں کے لیے ادویات کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ان مراعات میں سب سے اہم’پل پینلٹی‘کو ختم کرنے کی کوشش تھی۔ یہ وہ بائیڈن دور کا قانون تھا جس کے تحت گولی کی شکل میں دی جانے والی ادویات کی قیمتیں زیادہ تیزی سے کم کی جا سکتی تھیں۔PhRMA کے چیلنج کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے وزارت صحت کو کانگریس کے ساتھ مل کر اس قانون کو ہٹانے کا حکم دیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ‘میں فارما کمپنیوں کو کئی بڑی پالیسی رعایتیں ملیں، جن میں میڈیکیئر کی قیمتوں کے تعین کے قوانین سے اورفن ڈرگز تک کی مکمل چھوٹ،متعدد دیگر ادویات کو پروگرام سے الگ کرنا شامل تھا۔اورفن ڈرگز وہ مہنگی اور خصوصی ادویات ہیں جن کے لیے کوئی متبادل نہیں ہوتا، مگر فارما کمپنیاں پہلے ہی ان پر ٹیکس کریڈٹس، فیس معافیاں، مارکیٹ اجارہ داری اور بلند قیمتیں حاصل کرتی ہیں۔

قانون کے تحت دی گئی نئی چھوٹ سے صنعت آئندہ 10سال میں 8.8 ارب ڈالر بچا لے گی، جیسا کہ سی بی او نے تخمینہ لگایا ہے۔یہ چھوٹ کئی بڑی کینسر اور نایاب امراض کی دواؤں پر بھی لاگو ہوتی ہے، جس سے بوڑھوں اور معذور افراد کے لیے اخراجات بڑھیں گے۔

امریکن ایکشن نیٹ ورک نے اس بل کی تشہیر پر چار ملین ڈالر خرچ کیے۔ PhRMA نے رواں سال وفاقی حکومت میں لابنگ کے لیے 34 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے، جو کہ فارماسیوٹیکل لابنگ میں جاری ریکارڈ اضافہ کا حصہ ہے۔

صرف 2025 میں فارما انڈسٹری مجموعی طور پر 150 ملین ڈالر کے قریب لابنگ پر لگا چکی ہے اور سیکڑوں لابی اسٹ بھرتی کیے گئے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں