روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

دنیا بھر کے انقلابی جنگ بندی کا مطالبہ اور ایرانی محنت کشوں کی حمایت کریں: ایرانی تنظیمیں

دنیا بھر کے انقلابی جنگ بندی کا مطالبہ اور ایرانی محنت کشوں کی حمایت کریں: ایرانی تنظیمیں

لاہور(جدوجہد رپورٹ) ایران میں محنت کش طبقے کی خودمختار تنظیموں نے ایران پر مسلط جنگ کے خلاف ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ ان تنظیموں میں تہران و مضافات کی بس کمپنی مزدو یونین،ہفت تپّہ شوگر کمپنی مزدوریونین، خوزستان کے ریٹائرڈ مزدور، پنشنرز کا اتحاد، مزدور تنظیموں کی کوآرڈی نیٹنگ کمیٹی ، اور ریٹائرڈ افراد کا اتحاد گروپ شامل ہیں۔

’لنکس‘ کے مطابق مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور خطے کی موجودہ غیر مستحکم اور خطرناک صورتحال کے پیش نظریہ تنظیمیں سمجھتی ہیں کہ ان پر لازم ہے کہ وہ اجتماعی طور پر ایک واضح موقف اختیار کریں۔

ایران کے مزدوروں، اساتذہ، نرسوں، پنشنرز، اور دیگر اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں نے کبھی جنگ، عسکریت، ملک پر بمباری، یا تسلط و استحصال پر مبنی پالیسیوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا، نہ کوئی فائدہ حاصل کر رہے ہیں ہیں، اور نہ کریں گے۔

اسرائیل کے فوجی حملے اور ایران کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں اہداف پر بمباری ایک جنگ پسندی کے منصوبے کا حصہ ہے، جس کی قیمت عام عوام، خاص طور پر محنت کش طبقہ اپنی جان، روزگار اور فلاح و بہبود کی صورت میں ادا کرتا ہے۔اب تک بنیادی ڈھانچے، کارخانوں، ریفائنریوں اور رہائشی علاقوں کے سیکڑوں اہداف پر بمباری کی جا چکی ہے۔

اسرائیل کا یہ دعویٰ کہ وہ ایرانی عوام کے خلاف دشمنی نہیں رکھتا، ایک سفید جھوٹ اور سیاسی پروپیگنڈہ ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی اسرائیلی وزیر دفاع نے تہران کو ’جلا کر راکھ کرنے‘کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام کی بارہا دھمکیاں، اور ان اقدامات کے لیے مغربی حکومتوں کی مکمل حمایت، خطے میں کشیدگی، عدم تحفظ، اور تباہی کو مزید بڑھاوا دے رہی ہیں۔

اسرائیل اور امریکہ کی حکومتیں نہ صرف غزہ میں جاری نسل کشی کی مجرم ہیں، بلکہ وہ خطے اور دنیا میں دیگر بے شمار جرائم میں بھی ملوث ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور وہ بین الاقوامی ادارے بظاہر امن کے علمبردار بننے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان جرائم پر خاموش رہتے ہیں، اوراسی تسلط پسند ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد منافع خوری اور سامراجی طاقتوں پر ہے ، یہ نظام جنگ، انسانی المیے، اور ماحولیاتی تباہی کے بڑے اسباب میں سے ہے۔

ایرانی محنت کش طبقہ نہ صرف جنگ سے کچھ حاصل نہیں کرتا، بلکہ وہ اس کا پہلا اور بڑا شکار ہے۔ اقتصادی پابندیوں کا تسلسل، فوجی مقاصد کے لیے بڑے بجٹ مختص کرنا، اور آزادیوں پر قدغنیں غربت، جبر، بھوک، موت، اور لاکھوں افراد کی بے دخلی کو مزید گہرا کریں گی۔

ہم ایران کے خودمختار محنت کش اور عوامی کارکنان کسی خوش فہمی میں نہیں کہ امریکہ یا اسرائیل ہمیں آزادی، مساوات، اور انصاف دینے آئے ہیں، بالکل اسی طرح ہمیں اسلامی جمہوریہ کے جابرانہ، مداخلت پسند، مہم جو، اور محنت کش دشمن کردار سے بھی کوئی خوش فہمی نہیں۔

ہم نے اپنے بنیادی حقوق اور کم سے کم زندگی کی سہولیات کے لیے برسوں جدوجہد کی ہے، جس کی قیمت قید، تشدد، پھانسیاں، نوکریوں سے برطرفیاں، دھمکیاں، اور مارپیٹ کی صورت میں چکائی ہے۔ ہم آج بھی تنظیم سازی، اجتماع، اور اظہار کی آزادی جیسے حقوق سے محروم ہیں۔ محنت کش طبقہ اور وسیع تر عوامی آبادی اسلامی جمہوریہ کے حاکم طبقے اور سرمایہ داروں سے شدید ناراض اور بیزار ہیں، جنہوں نے 40برسوں سے زیادہ عرصے میں ہماری محرومی اور عدم تحفظ کی قیمت پر بے پناہ دولت جمع کی ہے۔ وہ تمام حکام اور ادارے جو محنت کشوں، خواتین، نوجوانوں، اور ایران کے مظلوم عوام کے قتل و جبر میں شریک ہیں، انہیں عوام کے ہاتھوں جوابدہ اور سزاوار ہونا چاہیے۔

ہماری جدوجہد ایک سماجی اور طبقاتی جدوجہد ہے۔ حالیہ ’روٹی، کام، آزادی‘اور ’عورت، زندگی، آزادی‘ جیسی تحریکوں کے تسلسل کے طور پر، اور دنیا بھر کے محنت کش طبقے اور انسان دوست، آزادی پسند، برابری کے خواہاں قوتوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر یہ جدوجہد ہماری اپنی قوت پر انحصار کرتے ہوئے جاری رہے گی۔

موجودہ جنگ کا تسلسل صرف مزید تباہی، ماحولیات کے ناقابل تلافی نقصان، اور نئے انسانی المیوں کو جنم دے گا۔ ایران کا محنت کش طبقہ، غریب عوام،اور خطے کے دیگر ممالک کے مظلوم اس صورتحال کے اصل اور بنیادی متاثرین ہیں۔

ہم دنیا بھر کی تمام ٹریڈ یونینوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، امن پسند گروہوں، ماحولیاتی کارکنوں، اور جنگ مخالف تحریکوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر جنگ ، بمباری، معصوم لوگوں کے قتل اور فطرت کی تباہی کے خاتمے کا مطالبہ کریں۔ ایران اور خطے کے عوام کی نسل کشی، عسکریت پسندی اور جبر کے خاتمے کے لیے جاری جدوجہد کی حمایت کریں۔

مشرق وسطیٰ کے عوام کو خطے اور دنیا کی طاقتوں کے درمیان جاری تباہ کن تنازعات کے خاتمے اور ایک پائیدار امن کی ضرورت ہے ۔ایسا امن جس میں عوام اپنی تقدیر کا فیصلہ خود تنظیم سازی، عوامی تحریکوں، اور وسیع عوامی شرکت کے ذریعے کریں۔

جنگ نامنظور، عسکری پالیسیاں نامنظور!
فوری جنگ بندی ہمارا ہنگامی مطالبہ

(بشکریہ: ’دی لنکس‘)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں