روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

دو کشمیری بھائی: ایک باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا، دوسرا 26 سال بعد فوج کے ہاتھوں - روزنامہ جدوجہد

دو کشمیری بھائی: ایک باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا، دوسرا 26 سال بعد فوج کے ہاتھوں - روزنامہ جدوجہد

لاہور(جدوجہد رپورٹ)بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع گاندربل کے گاؤں چنت ولیوار کی مغل فیملی گزشتہ26 برس سے ایسے درد سے گزر رہی ہے جو مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ جنوری 2000 کی ایک سرد رات میں مسلح افراد نے ان کے گھر پر یلغار کی اور 23 سالہ اشفاق احمد مغل کو بھاگنے کی کوشش کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔وہ مبینہ طور پر بھارتی فوج کے لیے کام کرتا تھا۔ حملہ آور اس کی لاش اپنے ساتھ لے گئے، اور خاندان آج تک اس کی تدفین کی خواہش دل میں لیے بیٹھا ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق دو دہائیاں گزرنے کے بعد مارچ 2026 میں یہ زخم ایک نئی تکلیف کے ساتھ دوبارہ کھل گئے۔ 31 مارچ کو اشفاق کے چھوٹے بھائی 32 سالہ رشید احمد مغل کو بھارتی فوج نے ایک ”انکاؤنٹر“ میں مارنے کا دعویٰ کیا۔ فوج کے مطابق انہیں ”دہشت گردوں“ کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی، مگر مقامی لوگ اور مغل خاندان اس کارروائی کو ”فرضی مقابلہ“ قرار دیتے ہیں۔

رشید اپنے گاؤں کا واحد گریجویٹ تھا اور روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کے ضروری سرکاری کاغذات تیار کرنے میں مدد کرتا تھا۔ جس روز وہ مارا گیا،اس روز بھی وہ کچھ لوگوں کی دستاویزات لے کر گھر سے نکلا تھا مگر واپس نہ آیا۔ اگلی صبح گاؤں کے قریب جنگل میں فوجی کارروائی کی خبر پھیلی اور تب ہی اہل علاقہ کو معلوم ہوا کہ رشید مارا جا چکا ہے۔

رشید کے بھائی اعجاز کے مطابق جب انہیں پولیس نے بلایا، تو انہیں سری نگر لے جاکر ایک ایمبولینس میں موجود لاش دکھائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ”چہرہ مسخ تھا، شاید شناخت چھپانے کے لیے۔ میں نے اسے پاؤں سے پہچانا۔“ خاندان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ رشید کی لاش پر جو کپڑے تھے وہ اس کے نہیں تھے۔

مزید تکلیف دہ بات یہ کہ رشید کی تدفین کپواڑہ میں اس قبرستان میں کی گئی جہاں مبینہ جنگجوؤں کو دفن کیا جاتا ہے، اور خاندان میں سے صرف اعجاز کو ہی جنازے میں شرکت کی اجازت ملی۔

مغل خاندان گوجر برادری سے تعلق رکھتا ہے، جو ماضی میں بھارتی حکومت کے قریب تصور کی جاتی تھی۔ تاہم 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد حالات بدل گئے اور اس برادری کے کئی افراد ماورائے عدالت ہلاکتوں، کنٹرول کے سخت اقدامات اور پالیسیوں کی زد میں آئے۔

رشید کے قتل کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا، اور انتظامیہ نے مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا، جس کی رپورٹ ایک ماہ گزرنے کے باوجود جاری نہیں کی گئی۔ پولیس کے مطابق رشید کے خلاف کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

مغل خاندان کہتا ہے کہ پچیس 25سال پرانا درد آج پھر تازہ ہو گیا ہے۔ رشید کی بہن نسیمہ کی ایک ہی خواہش ہے کہ ”ہم نے اس کے لیے قبر تیار کر رکھی ہے۔ بس اس کی میت واپس مل جائے تاکہ ہم اسے اپنے پاس دفن کر سکیں۔“

ماخذ: jeddojehad.com

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں