دیپالپور (پ ر)پاکستان آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے 17 اپریل کو کسانوں کی عالمی جدوجہد کے دن کے موقع پر پنجاب کے شہر دیپالپور میں کارپوریٹ فارمنگ، 6 نہروں کے خلاف، اور گندم کی قیمت 4000 روپے فی من مقرر کروانے کے مطالبے پر جلسہ منعقد کیا گیا تھا، جس کی اجازت پنجاب حکومت نے نہ دی۔ مقامی منتظم کارکنوں کو انتظامیہ کی طرف سے ہراساں کیا گیا، انہیں اسٹیڈیم جانے سے روکا گیا اور راستے بند کیے گئے۔
پنجاب حکومت کے اس غیرجمہوری عمل کے خلاف پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے سیکریٹری فاروق طارق، عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکریٹری امداد قاضی، پاکستان انقلابی پارٹی کے رہنما صابر حیدر، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی رہنما ڈاکٹر دلدار لغاری، عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عاصم سجاد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔
رہنماؤں نے کہا کہ ہم نے گندم کی قیمت 4000 روپے فی من مقرر کرنے، کارپوریٹ فارمنگ اور چھ نئی نہروں کے خلاف کسانوں کا جلسہ منعقد کیا، جسے پنجاب حکومت نے مقامی انتظامیہ کے ذریعے رکوا دیا۔ جمہوری دور اور آئین کی موجودگی کے باوجود کسانوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کا یہ آمرانہ طرز عمل کسی صورت قابل قبول نہیں، ہم دوبارہ دیپالپور میں ہزاروں کسانوں کا جلسہ کریں گے۔
رہنماؤں نے کہا کہ پیکا ایکٹ اور 26ویں آئینی ترمیم جیسے کالے قوانین کارپوریٹ فارمنگ کے لیے منظور کیے گئے ہیں۔ حکمران مقامی کسانوں کو زمین دینے کے بجائے لاکھوں ایکڑ زمین عرب ممالک اور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دے رہے ہیں۔ کارپوریٹ فارمنگ کرنے والی کمپنیوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے دریائے سندھ سے غیر قانونی طور پر چھ نئی نہریں نکالی جا رہی ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ حکمران موسمیاتی تبدیلی کے نام پر عالمی اداروں سے فنڈز لیتے ہیں، ان فنڈز کا حساب دیا جائے کہ وہ کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ، دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کے خلاف اور گندم کی قیمت کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
پریس کانفرنس میں عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتھیار، پنجاب کسان اتحاد عوامی پارٹی کے رہنما میاں شوکت علی، این ایس ایف کے رہنما عبدالرشید شاد، حقوق خلق پارٹی کے مدبر علی، انجمن مزارعین پنجاب کے مختیار، مزدور کسان پارٹی کے کامریڈ عرفان علی، کامریڈ پرویز عارف، سندھی ہاری کمیٹی کے کامریڈ اقبال، سندھی شاگرد تحریک کے ایاز صالح، وسند ارشی، تحریک بیداری کے ایڈووکیٹ نعیم اجمل خان، حسین جمیل اور میاں شوکت نے شرکت کی۔