روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

راولاکوٹ میں پاکستان مخالف نعرے لگانے کے الزام میں 35 سے زائد نوجوان گرفتار، آج احتجاج ہو گا

راولاکوٹ میں پاکستان مخالف نعرے لگانے کے الزام میں 35 سے زائد نوجوان گرفتار، آج احتجاج ہو گا

راولاکوٹ(نامہ نگار) پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں پاکستان مخالف نعرے لگانے اور دہشت گردی کے الزام میں 35سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مزید نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے لیے گھروں پر چھاپے مارنے اور ویڈیوز کے ذریعے شناخت کرنے کا عمل جاری ہے۔ پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔

ابھی تک سامنے آنے والے دو مقدمات 23معلوم اور 200سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف درج کیے گئے ہیں۔ 6نوجوانوں کو مقامی عدالت نے 90روز کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ گرفتار ہونے والے 30سے زائد نوجوانوں کے خلاف ابھی کوئی مقدمہ سامنے نہیں آیا ہے۔ گرفتار کیے گئے نوجوانوں میں دو والی بال کے کھلاڑی اور ایک نابالغ لڑکا بھی شامل ہے۔

نوجوانوں کی گرفتاریوں اور پولیس کی چھاپہ مار کارروائیوں کے خلاف آزادی پسند اور ترقی پسند سیاسی قوتوں کا ایک اجلاس اور علامتی احتجاج جمعہ کے روز منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی اور مقدمات کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ گرفتار نوجوانوں کو فوری غیر مشروط رہا کرنے اور چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ آج ہفتے کے روز دن ایک بجے تک حکومت اور انتظامیہ کو ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ دن ایک بجے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے اختتام پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

سامنے آنے والی دو ایف آئی آروں میں نامزد کیے گئے نوجوانوں میں آزادی پسند اور ترقی پسند طلبہ تنظیموں کے کارکنوں کے علاوہ عام طالبعلم اور نوجوان بھی شامل ہیں۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی ذیلی طلبہ تنظیم پی ایس ایف کا ایک ضلعی عہدیدار بھی ان دونوں مقدمات میں نامزد ہے۔ تاہم گرفتار ہونے والے اکثریتی نوجوانوں کا کسی سیاسی تنظیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک ہی وقوعے میں دو ایف آئی آریں درج کی گئی ہیں۔ دونوں ایف آئی آروں میں نامزد افراد کے نام ، تعداد اور ترتیب بھی ایک ہی جیسی ہے، محض واقعات کی ترتیب کو الگ کر کے دفعات میں تبدیلی کی گئی ہے۔

مقدمات میں 123 اے، 123بی، 124 اے، 121اے، 6 اے ٹی ہے سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمات میں ان نوجوانوں پر پاکستان اور الحاق پاکستان مخالف نعرے لگانے، یوم آزادی پاکستان کا پروگرام خراب کرنے، پاکستانی پرچم پھاڑنے، پولیس گاڑیاں توڑنے اور دہشت گردی کے پیچھے وردی والے نعرے لگانے، اور کشمیری پرچم اٹھانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔مقدمات میں شامل دفعات غداری، بغاوت، انسداد دہشت گردی، کارسرکار میں مداخلت سمیت دیگر جرائم کے خلاف عائد کی جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ راولاکوٹ کے خان اشرف خان سپورٹس کمپلیکس میں 13اگست کی شام کو سرکاری طور پر میلے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میلے میں والی بال کے سٹار کھلاڑیوں کے مابین ایک میچ بھی رکھا گیا تھا۔ میچ کے اختتام پر آتش بازی، ثقافتی شو اور دیگر سرگرمیاں منعقد کی جانی تھیں۔ تاہم میچ کے دوران ہی سٹیج پر سے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے جانے کے بعد تماشائیوں میں شامل نوجوانوں اور طالبعلموں نے جموں کشمیر کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دیے۔

سٹیج پر موجود ایک مقامی کونسلر کی جانب سے نعرے لگانے والے نوجوانوں کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا اور ساتھی ہی نوجوانوں سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کا جھنڈا بھی مبینہ طور پر چھیننے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد صورتحال خراب ہو گئی۔ نوجوانوں نے جموں کشمیر کی آزادی ، خودمختاری کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دیے۔ موقع پر موجود سابق وزیر حکومت نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ نوجوانوں کو گرفتار کریں۔ پولیس نے نعرے بازی کرنے والے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا اور درجنوں کو موقع سے گرفتار کر لیا۔ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ 14اور 15اگست کو بھی جاری رکھا گیا۔

نوجوانوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کی جموں کشمیر بھر میں مذمت کی جا رہی ہے اور مقدمات ختم کر کے غیر مشروط رہا کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ آج ہفتے کے روز سے راولاکوٹ سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ بتدریج جموں کشمیر بھر سمیت بیرون ملک بھی پھیلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں