روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

راوی کا انتقام: سیلاب، ماحولیاتی تباہی اور رئیل اسٹیٹ کی ناکام پالیسی…(آخری قسط)

راوی کا انتقام: سیلاب، ماحولیاتی تباہی اور رئیل اسٹیٹ کی ناکام پالیسی…(آخری قسط)

سیف الرحمان رانا
پاکستان کے بڑے شہروں میں پینے کے صاف پانی کا سب سے بڑا ذریعہ زیرزمین موجود آبی ذخائر ہیں۔ 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زیر زمین پانی کے ذخائر میں 5.66 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔تاہم میرے نزدیک یہ شرح اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ شمسی توانائی کا استعمال جس تیزی سے بڑھا اسی تناسب سے زیر زمین پانی نکالا جارہا ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ اسی طرح شہروں میں تو 90 فیصد لوگ زیر زمین پانی کو ہی استعمال کررہے ہیں۔ لاہور میں علامہ اقبال ٹاون میں ٹیوب ویل کے لیے 800 فٹ کی گہرائی سے پینے کے لائق پانی ملتا ہے۔ بڑھتی آبادی اور کاشتکاری پانی کی کھپت کو مسلسل بڑھا رہی ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ہمیں بارشی اور قدرتی پانی کو جمع کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ آبی ذخائر بنانے چاہئیں تو اس سمت میں حکومتی سطح پر سب سے اہم اور قابل ذکر منصوبہ راوی پر جھیلیں اور اس کے اردگرد جنگل کا قیام ہے۔ اگر اس منصوبہ پر اس کی روح کے عین مطابق عمل کیا جائے تو لاہور جیسے شہر کی صاف پانی کی ضرورت باآسانی بارشی پانی سے پوری کی جاسکتی ہے۔ اس منصوبہ کو پرویز الٰہی کے دور میں جیسے ڈیزائن کیا گیا تھا اس کی بنیاد پر میں یہ تجویز آپ کے سامنے رکھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ پاکستان میں دنیا کا سب بہترین نہری نظام پایا جاتا ہے۔ یہ نہری نظام کم و بیش تمام بڑے و چھوٹے شہروں میں بھی موجود ہے۔ شہروں اور دیہاتوں کی آبادی بڑھنے سے بہت سارے رقبہ سے کاشتکاری ختم چکی ہے۔ مثلاً اس وقت ملتان شہر کے اردگرد بہنے والے متعدد راجباہ ختم ہو چکے ہیں ،یہی حال فیصل آباد اور حیدرآباد کا ہے۔ جن علاقوں کی نہریں آبادی کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں یا ان کا قابل کاشت رقبہ کم ہو چکا ہے۔ ان نہروں کا بچ جانے والا پانی انہی علاقوں میں صاف کرکے شہریوں کو مہیا کیا جائے تاکہ زیرزمین پانی کا استعمال کم ہوسکے۔ اسی طرح سیلاب کی صورت میں آنے والے اضافی پانی کو نہری نظام کی موجودہ صلاحیت کو بڑھا کر زیر زمین پانی کو ریچارج کرنے کی منصوبہ بندی کرنے سے بھی قدرتی و بارشی پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں خراب ماحول، پانی اور جنگلات کی کمی کی سب سے بڑی وجہ بے ہنگم اور بلا سوچے سمجھے وجود میں آنے والی آبادیاں ہیں۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے وفاق، چاروں صوبوں اور زیر انتظام جموں کشمیرو گلگت بلتستان کی حکومتیں فوری طور پر نئی آبادیوں کے قیام کے لیے ماسٹر پلان بنا کر نہ صرف نافذ کریں بلکہ سختی سے ان پر عملدرآمد بھی کروائیں۔

اس کے علاوہ اس وقت ہاؤسنگ کالونیوں کی منظوری دینے کے لیے متعدد محکمے کام کر رہے ہیں۔ نئی ہاؤسنگ کالونیوں کی منظوری دینے کے لیے سب اداروں کو ختم کرکے ایک نئی و خودمختار اتھارٹی قائم کی جانے چاہیے۔ اسی طرح ماسٹر پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے۔

کیا ایسا ممکن ہے؟

پاکستانی افسر شاہی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اوپر کی کمائی کے لیے پیدا ہونے والے ہر امکان کو وہ دل و جان سے قبول کرتے ہوئے پراجیکٹ فوری تیار کرلیں گے ۔جیسا کہ حالیہ دنوں میں محکمہ تعلیم سکولز نے ورلڈ بینک سے ٹیچرز کی پیشہ وارانہ تعلیمی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے لاکھوں ڈالر کی گرانٹ لی اور ساتھ ہی یہ ڈرامہ بھی جاری ہے کہ سکولوں کو پرائیویٹ بھی کیا جارہا ہے۔ یہی کچھ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے کیا۔ ریور راوی فرنٹ سٹی پراجیکٹ کے ذریعہ اوورسیز پاکستانیوں سے رقم اکٹھا کرنے کے لیے اس قدر تیزی سے لانچ کیا گیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس تیزی کے باعث اس منصوبے کی بنیادی اساس ہی گمشدہ داستان بن گئی۔ ان دنوں شاید عمران خان وزیراعظم پاکستان کو بھی غلط فہمی تھی کہ میں آواز دوں گا تو اوورسیز پاکستانی پیسوں کے ڈھیر لگادیں اور پھر انقلاب آیا کہ آیا۔

بدقسمتی سے عمران خان کی توقعات پوری نہ ہوسکیں لیکن اس وقت کے حکمرانوں ،افسر شاہی اور کچھ ریٹائرڈ لوگوں کی موجیں لگ گئیں۔۔راوی کے انتقام کے باوجود افسروں کی موج تو اب تک جاری ہے …!

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں