سیف الرحمان رانا
بھارت نے 1960 میں طے پانیوالے معاہدہ سندھ طاس کو معطل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس معاہدہ پر ازسرنو غور کیا جائے۔اس کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لاکر اپنی شرائط منوانے گا،لیکن پاکستان نے دو ٹوک اعلان کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو اسے اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ اسی کش مکش میں دونوں ممالک کے درمیان لڑائی بھی ہوئی۔
سندھ طاس معاہدہ کے تحت تین دریاؤں راوی،بیاس اور ستلج کے پانی بھارت کا حق قرار پائے،جبکہ چناب، جہلم اور سندھ کے پانیوں پر پاکستان کا حق ملکیت تسلیم کیا گیا۔ بھارت نے دریائے بیاس اور ستلج کو ہریکے کے مقام پر نیا بیراج تعمیر کرکے آپس میں ملا دیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے اپنے حصہ میں آنیوالے راوی پر تھین، بیاس پر پونگ اور ستلج پر بھاکڑا کے مقام پر ڈیم تعمیر کرکے ان کا سارا پانی روک لیا۔ اسی طرح بعد میں پاکستانی حکام کی نالائقی اور نااہلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دریائے چناب پر بھی سلال اور بگلیہار ڈیم تعمیر کرلیے۔
گزشتہ چار دہائیوں میں بھارت نے راوی اور ستلج کا پانی صر ف اسی صورت پاکستان کی طرف بہنے دیا جب اس کے پاس پانی کو روکنے کا کوئی چارہ نہ رہا۔ 1988 کے بعد راوی میں 2025 اور ستلج میں 2023 اور 2025 میں سیلابی کیفیت پیدا ہوئی۔ عرصہ دراز سے ان دریاوں میں پانی نہ آنے کی وجہ سے ان دریاؤں کے متعلق یہ غلط فہمی عام ہوئی کہ یہ دریا سوکھ چکے ہیں اور ان میں صرف وہی پانی بہتا ہے جو پاکستانی علاقوں میں ہونے والی بارشوں کے بعد ان کا رخ کرتا ہے۔
بہنے والا پانی غائب ہوا تو حکام بھی اس خوش فہمی کا شکار ہوئے کہ کیوں نہ لاہور جیسے شہر میں راوی کے بیلٹ میں موجود زمین کو مالی منفعت کا ذریعہ بنایا جائے۔ دیہاتی علاقوں میں تو صدیوں سے رواج چلا آرہا تھا کہ دریا کے بیلٹ میں جونہی پانی اترے تو اس زرخیز ترین زمین پر کاشتکاری شروع کر دیں۔ راوی کنارے موجود علاقوں شکرگڑھ، نارووال، نارنگ منڈی، شیخوپورہ، لاہور، پھول نگر، پتوکی، ننکانہ صاحب، جڑانوالہ، تاندلیانوالہ، کمالیہ پیر محل،رینالہ خورد، اوکاڑہ، ساہیوال، چیچہ وطنی،میاں چنوں،اور کبیروالہ،جبکہ ستلج کے علاقوں قصور، دیپالپور، حویلی لکھا، پاک پتن، عارف والہ، بہاولنگر، چشتیاں، بورے والا،میلسی، خیر پور ٹامیوالی، کہروڑ پکا، لودھراں،جلال پور،پیروالہ، اچ شریف اور علی پور کے سینکڑوں کلومیٹر لمبے و چوڑے دریائی بیلٹ 95 فیصد آباد ہوگئے اور متعدد مقامات پر مستقل اور پختہ بستیاں بھی آباد کر لی گئیں۔
اتنے وسیع و عریض علاقہ میں لاکھوں لوگ معاشی استحکام کی منزل پاگئے لیکن بھارت سمیت ہم سب یہ بھول گئے کہ اس نظام کا ایک حصہ موسم بھی ہے۔ بھارت نے پاکستان کے حصہ کا ایک ایک قطرہ روکنے کی بات کی تو موسم نے ایسا رنگ دکھایا کہ آج بھارت کے تین صوبے ہماچل پردیش، ہریانہ اور پنجاب صرف تین دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں سے مکمل طور ڈوب چکے ہیں، جبکہ پاکستان میں ان دریاؤں کے علاقوں میں تاریخ کا سب سے بدترین سیلاب تباہی و بربادی کی داستان پھیلائے بحیرہ عرب کا رخ کررہا ہے۔ صرف راوی میں اتنا پانی آیا ہے کہ اگر اسے سٹور کر لیا جاتا تو لاہور جیسے گنجان آباد شہر کی ایک سال کی آبی ضروریات کو باآسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔ ہر سال آنیوالے تھوڑے سے سیلابی پانی کو قابو کرنے کے لیے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سٹوریج کے لیے جھیل بنانے کی آڑ میں ریور راوی فرنٹ سٹی پراجیکٹ شروع کیا ہے جبکہ امسال 1988 جتنا پانی آیا تو پتہ چلا کہ روڈا تو پانی پر عکس بنائے بیٹھا ہے۔
