روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

ریاست عوام کو ہربار مایوس کیوں کرتی ہے؟

ریاست عوام کو ہربار مایوس کیوں کرتی ہے؟

طاہر کامران

17ویں صدی کے اوائل میں جب مون سون کا پانی دریائے چناب میں طغیانی کا باعث بنا تو ملتان شہر ایک ایسے سیلاب کے دہانے پر تھا جو اسے نقشے سے مٹا سکتا تھا۔ تاہم مغل انجینئروں نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے پہلے ہی ایک نہر تعمیر کر لی تھی جو دریا کے بہاؤ کو شہر سے ہٹا دیتی تھی۔ دیہاتی گھبراہٹ کے ساتھ پانی کے شور کو دیکھتے رہے، مگر نہر نے اپنا کام کیا۔ گھروں، اناج کے گوداموں اور انسانی جانوں کو بچا لیا گیا۔ یہ پیش بینی اور حکمرانی کا ایک مظہر تھا، جو ثابت کرتا ہے کہ انسانی ذہانت قدرتی آفات کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔آج400 سال بعد پاکستان کے دریا دوبارہ بپھرے ہوئے ہیں، لیکن اب نہریں اور بند ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، منصوبہ بندی ردعمل پر مبنی ہے اور کروڑوں شہری ایک ایسے المیے میں گھرے ہوئے ہیں جو روکا جا سکتا تھا۔

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی نے فرنٹ لائن تباہی کا شکار ملک میں بدل دیا ہے۔ لیکن تاریخی اسباق سے سیکھنے کی بجائے ہمارے حکمران بدعنوانی، انکار اور وقتی سیاست کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں، یوں عوام ایک نہ ختم ہونے والے آفات کے چکر میں پھنستے جا رہے ہیں۔ یہ غفلت نئی نہیں ہے۔ 1950 سے 2024 تک پاکستان کو بار بار تباہ کن سیلابوں نے گھیر ا۔ ہر بار اصلاحات کے وعدے کیے گئے، اورہر بار نئی بربادی سامنے آئی۔

موسمیاتی تبدیلی کی سب سے بڑی ناانصافی عالمی ہے۔ پاکستان دنیا کی کل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن یہ دنیا کے سب سے زیادہ خطرے میں مبتلا ممالک میں شامل ہے۔

جرمن واچ کے’کلائمٹ رسک انڈیکس 2025‘ کے مطابق پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہے۔ صرف 2022 کے سیلاب ہی نے 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ محض دو سال بعد 2024 میں پنجاب میں آنے والا سیلاب لاکھوں کو بے گھر کر گیا اور فصلیں برباد کر دیں۔ سیلاب نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ ریاست اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ این ڈی گین انڈیکس بھی یہی عدم توازن دکھاتا ہے، جس کے مطابق پاکستان 41واں سب سے زیادہ کمزور ملک ہے، لیکن تیاری کے اعتبار سے 150ویں نمبر پرہے، یعنی خطرے اور تیاری میں بہت بڑا فرق موجود ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نے 2022 کے مون سون کو اس قدر بڑھا دیا کہ بارشیں اس سے 50 سے 75 فیصد زیادہ ہوئیں ،جتنی کہ ایک غیر گرم ہوتی دنیا میں ہوتیں۔ آئی پی سی سی خبردار کرتا ہے کہ اگر درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا تو جنوبی ایشیا میں مزید تباہ کن سیلاب، خشک سالیاں اور ہیٹ ویوز آئیں گی۔ یوں پاکستان کا معاملہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ گہرا سیاسی ہے۔ یہ عالمی موسمیاتی ناانصافی اور مقامی بدانتظامی کی علامت بن چکا ہے، جہاں سب سے کم ذمہ دار لوگ سب سے زیادہ قیمت چکاتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ادارے انہی کے سامنے گر جاتے ہیں۔

یہ غفلت نئی نہیں ہے۔ آزادی کے بعد سے پاکستان کی تاریخ تباہ کن سیلابوں سے بھری پڑی ہے۔ 1973، 1992، 2010، 2011، 2014، 2022 اور 2024کے سیلاب ہر بار تباہی کے ساتھ ساتھ ٹوٹے ہوئے وعدے چھوڑ گئے۔ یہ سلسلہ تکلیف دہ طور پر مانوس ہے۔ آفت آتی ہے، حکمران اصلاحات کے وعدے کرتے ہیں، امدادی ادارے پہنچتے ہیں، لیکن چند مہینوں بعد ساری سنجیدگی غائب ہو جاتی ہے۔ شہری اگلے مون سون کے انتظار میں رہ جاتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ کچھ نہیں بدلا۔

2022 کے سیلاب اس تسلسل کی سب سے بڑی یاد دہانی تھے۔ جب ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا، تو بربادی کسی عذاب سے کم نہ تھی۔ بستیاں نقشے سے مٹ گئیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے، کھیت اور مویشی ختم ہو گئے۔ سندھ کے ایک کسان نے بتایاکہ’ہم اپنے گھروں میں سوئے اور دریا میں جاگے۔خاندان ہفتوں تک سڑک کے کنارے بندوں پر بیٹھے رہے، نہ چھت تھی نہ صفائی، اور بچے آلودہ پانی سے بیمار ہوتے گئے۔‘

بہت سوں کے لیے یہ صرف قدرتی آفت نہ تھی، بلکہ ریاست کی بے حسی تھی۔ اسلام آباد میں انتخابی مہم اور ٹی وی مباحثے غالب رہے جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں لوگ زہریلے پانی میں کمر تک ڈوبے بغیر کسی ریاستی مدد کے گزر بسر کرتے رہے۔

اس کے بعد حکومت نے اقوام متحدہ، عالمی بینک، یورپی یونین اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے’ریزیلینٹ ریکوری، ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ریکنسٹرکشن فریم ورک (4RF)‘ کا اعلان کیا۔ اس میں بڑے پیمانے پر نقصانات کی تفصیل تھی، جس کے مطابق 14.9 ارب ڈالر کے ڈیمیجز، 15.2 ارب ڈالر کے معاشی نقصان ہوئے اور 90 لاکھ لوگ نئے غریب ہوئے۔ کاغذ پر یہ منصوبہ مضبوط اور ہوشمند تعمیر نو کا وعدہ کرتا تھا، لیکن دو سال بعد زمینی حقیقت کچھ اور بتاتی ہے۔

نازک بند اب بھی دریا کے کنارے کھڑے ہیں جو صرف جھوٹی تسلی دیتے ہیں۔ خطرناک مقامات پر پھر گھر بن رہے ہیں۔ راجن پور میں ایک بیوہ 2022 میں تباہ شدہ جگہ پر دوبارہ گھر بنا رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اور کہاں جاؤں؟ میرے پاس اور کچھ نہیں ہے ۔‘ مقامی حکومتیں، جنہیں اصل میں دفاع کی پہلی صف ہونا چاہیے، مسلسل کم فنڈنگ اور سیاسی مداخلت سے کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ بلوچستان کے ایک کمیونٹی لیڈر کا کہنا تھاکہ ’ہم سب سے پہلے ڈوبتے ہیں اور سب سے آخر میں سنے جاتے ہیں۔‘

اس خلا میں عام لوگوں نے غیرمعمولی ہمت دکھائی ہے۔ دادو میں عورتوں نے عارضی اسکول قائم کیے تاکہ بے گھر بچوں کی تعلیم جاری رہے۔ جنوبی پنجاب میں کسانوں نے اس وقت وسائل اکٹھے کر کے آبپاشی کے نہروں کو دوبارہ بنایا ،جب سرکاری وعدے ٹھپ ہو گئے۔ یہ یکجہتی کے عمل ظاہر کرتے ہیں کہ لچک موجود ہے، لیکن یہ بوجھ کمزور عوام کے کندھوں پر ہے، ریاست کی طرف سے نہیں کوئی مدد نہیں ہے۔

اصل مسئلہ صرف ماحولیاتی خطرہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی کمزوری ہے۔ یہ ایک ایسا نظامِ حکمرانی ہے جو ایک بحران سے دوسرے میں لڑکھڑاتا ہے، تیاری کی بجائے ردعمل دکھاتا ہے اور نتائج کی بجائے ظاہری تاثر کو ترجیح دیتا ہے۔ 1950 سے ہر سیلاب کا سبق یہی ہے لیکن کبھی نہیں سیکھا گیاکہ بغیر نظامی اصلاحات کے عوام اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جئیں گے اور حکومت لاپرواہی کے چکر میں پھنسی رہے گی۔

2005کے زلزلے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)بنائی گئی تھی،جو ناکارہ ہو چکی ہے۔ 2023-2024 میں آڈیٹرز نے 28.6 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ظاہر کیں جن میں سے بہت کم رقم واپس ملی۔ عوامی سروے بتاتے ہیں کہ 84 فیصد شہری مطمئن نہیں ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں زیادہ تر رہائشیوں کو نہ پیشگی انتباہ ملا، نہ انخلا کی تربیت، اور نہ بعد ازاں کوئی مددملی۔ علاقائی نگرانی بھی غیر متوازن ہے۔ پنجاب اور اسلام آباد میں درجنوں موسمیاتی اسٹیشن ہیں، جبکہ زیر انتظام گلگت بلتستان اور جموں کشمیرانتہائی کم نگرانی میں ہیں،جہاں پگھلتے گلیشیئر خطرناک دریا بناتے ہیں۔ یہ صرف نااہلی نہیں بلکہ ڈھانچے کی سطح پر لاپرواہی ہے۔

اس خلا کو بین الاقوامی عطیہ دہندگان پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یو این ڈی پی کا 90 ملین ڈالر کا فلڈ ریکوری پروگرام گھروں کی تعمیر، عورتوں کی قیادت میں اقدامات اور روزگار بحالی کے لیے نقد امداد فراہم کر رہا ہے۔ سندھ میں ایک ماں بتاتی ہے کہ کس طرح نقد گرانٹ نے اس کے بچوں کے لیے کھانا اور دوائیں مہیا کیں۔ بلوچستان میں ایک کسان بتاتا ہے کہ کمیونٹی پروگرام کے ذریعے اپنا گاؤں دوبارہ بنانے میں اسے کس قدر وقار محسوس ہوا۔ یہ کہانیاں متاثر کن ہیں لیکن ساتھ ہی الزام بھی عائد کرتی ہیں۔ پاکستانی اپنی ریاست کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے باوجود زندہ ہیں۔ کوئی قوم اپنی بقا دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

اس چکر کو توڑنے کے لیے محض عطیہ دہندگان پر انحصار کافی نہیں۔ این ڈی ایم اے کو دوبارہ قائم کرنا ہوگا، اس کے بجٹ کو محفوظ بنانا ہوگا، آزاد آڈٹ سے مشروط کرنا ہوگا اور صوبوں کے ساتھ حقیقی ہم آہنگی کا اختیار دینا ہوگا۔ ابتدائی انتباہی نظاموں کو مبہم اعلانات سے آگے بڑھا کر دیہاتی سطح پر انخلا کے احکامات دینے چاہئیں، جو ایس ایم ایس، ریڈیو، مساجد، اسکولوں اور خواتین کے نیٹ ورکس کے ذریعے پہنچیں۔ فلڈ پلین قوانین کو سختی سے لاگو کرنا ہوگا تاکہ بغیر سوچے سمجھے تعمیرات رکی رہیں۔ سرمایہ کاری کو محفوظ مکانات، مینگرووز اور دلدلی علاقوں کی بحالی اور آئی پی سی سی کی پیشگوئیوں کے مطابق ڈھانچوں پر لگانا ہوگا۔

سب سے بڑھ حوصلہ مندی کو کمیونٹی کی جڑوں میں پروان چڑھنا چاہیے۔ شہری بے بس متاثرین نہیں بلکہ پہلے مددگار ہیں۔اکثر وہی اپنے ہمسایوں کو کشتیوں سے بچاتے ہیں یا گھروں کو دوبارہ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں۔ انہیں تربیت، وسائل اور فیصلوں میں اختیار دینا ہوگا۔ عطیہ دہندگان مدد کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان کو اپنی بقا ء کی ذمہ داری خود اٹھانی ہوگی۔

موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کو ایک تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، لیکن بے بسی مقدر نہیں ہے ۔ مغل انجینئروں نے صدیوں پہلے ملتان کو بچا کر ثابت کیا کہ حکمرانی اور دور اندیشی قدرتی آفات کے ساتھ چل سکتی ہے۔ آج بھی یہ سچائی قائم ہے کہ پانی اتر جائے گا، مگر دوبارہ اٹھے گا۔ اور سب سے بڑا المیہ خود سیلاب نہیں ہو گا بلکہ وہ ریاست ہوگی جو جانتی ہے کہ خطرہ آ رہا ہے، پھر بھی تیاری سے انکار کرتی ہے۔

(بشکریہ: ’دی نیوز‘، ترجمہ حارث قدیر)

Tahir Kamran

طاہر کامران بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، لاہور میں لبرل آرٹس کی فیکلٹی میں پروفیسر ہیں۔ تاریخ پر نصف درجن کتابوں کے علاوہ وہ کئی تحقیقی مقالات شائع کر چکے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں