روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

سرحد پر فرینکنسٹائن: پاکستان، طالبان اور خطے کے زخم

سرحد پر فرینکنسٹائن: پاکستان، طالبان اور خطے کے زخم

(’الٹرنیٹو ویوپوائنٹ ‘نے مدیر ’جدوجہد ‘فاروق سلہریاکا پاک افغان صورتحال پر ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے۔ یہ انٹرویو الٹرنیٹو ویوپوائنٹ کے علاوہ ’دی لنکس‘ میں بھی شائع ہوا ہے، جبکہ انگریزی کے علاوہ تین مختلف زبانوں میں بھی اس کا ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ اس انٹرویو کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے)

جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں ایک بار پھر بھڑک اٹھتی ہیں تو جنوبی ایشیا کے بعد از نائن الیون عالمی و علاقائی انتظام کی دراڑیں نہایت واضح ہو کر سامنے آتی ہیں۔ جو تعلق کبھی اسلام آباد کی اپنے منظور نظر طالبان کے ذریعے’’سٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ (تذویراتی گہرائی) حاصل کرنے کی دیرینہ خواہش کے طور پر سرپرستی کی شکل میں دکھائی دیتا تھا، وہ اب کھلی دشمنی میں بدل چکا ہے۔ پاکستان کی معاشی گراوٹ، عسکری ادارے کی کم ہوتی ہوئی ساکھ، اور طالبان کی نئی سفارتی خود اعتمادی نے ایک نہایت نازک صورتحال پیدا کر دی ہے جو پورے خطے کی سیاست کو نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس تفصیلی گفتگو میں لکھاری، محقق اور جنوبی ایشیائی سیاست کے دیرینہ مبصرفاروق سلہریا ’آلٹرنیٹو ویو پوائنٹ‘ کے ساتھ افغانستان پاکستان سرحدی بحران، پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کی غلط فہمیوں اور بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی طاقت کے توازن پر روشنی ڈالتے ہیں۔

فاروق سلہریا 1980 کے عشرے کی سی آئی اے کی سرپرستی میں ہونے والے’’افغان جہاد‘‘سے لے کر آج کے اس تصادم تک کی تاریخی کہانی بیان کرتے ہیں، جہاں افغانستان میں ایک مضبوط طالبان حکومت کے سامنے ایک کمزور پاکستانی ریاست کھڑی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی عسکری پراکسی گروہوں کی پرورش کی طویل المدتی پالیسی آخرکار الٹی پڑی ہے۔ ایک ایسا’’فرینکنسٹائن مونسٹر‘‘تیار ہو گیا ہے جو اب بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے اور اپنے سابق سرپرست کو للکار رہا ہے۔

یہ گفتگو کئی موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ پاکستانی عسکریت پسندی کے داخلی اثرات، امریکہ چین رقابت کی بدلتی ہوئی جہتیں، افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہوا کردار، اور افغان پناہ گزینوں کی المناک حالت جو ناکام ریاستوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ فاروق سلہریا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس صورت حال کا واحد حقیقی متبادل ایک سوشلسٹ، سیکولر اور بین الاقوامی یکجہتی پر مبنی جنوبی ایشیا ہے ۔ ایک ایسا خطہ جو عسکری سرحدوں اور نوآبادیاتی طاقت کے کھیل سے بالاتر ہو۔

آپ طالبان کو پاکستان کا’’فرینکنسٹائن مونسٹر‘‘کہتے ہیں۔ موجودہ حالات ، خاص طور پر حالیہ سرحدی جھڑپوں کے تناظر میں اس استعارے کی وضاحت کریں۔

فاروق سلہریا:1980 کی دہائی سے پاکستانی ریاست نے مسلح مذہبی گروہوں کی پرورش اور سرپرستی کی ہے۔ ابتدا میں یہ تعاون امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ طور پر ہوا، جس کا فریم ورک نام نہاد افغان جہادتھا۔ تاہم جب 1988-89 میں سوویت فوجیں افغانستان سے نکل گئیں اور 1993 میں کابل کی بائیں بازو کی حکومت ختم ہوگئی، تب بھی مذہبی عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کی پالیسی برقرار رہی۔ صرف توجہ افغانستان سے ہٹ کر بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر پر منتقل ہو گیا۔ ان گروہوں کو اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی شہری حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھی استعمال کیا۔

نائن الیون کے بعد جب پاکستان بظاہر کابل میں موجود طالبان کے خلاف واشنگٹن کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا تو انہی گروہوں کے کچھ حصے ریاستی پالیسی سے ناراض ہوگئے۔ نتیجتاً اگلے 15سال پاکستان دہشت گردی کی شدید لہر کا شکار رہا۔ اسی دوران افغان طالبان کو 20برس تک پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جاتی رہیں۔

پاکستان تسلسل کے ساتھ امریکہ پر انحصار کی بدولت ایک کلائنٹ اسٹیٹ کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ یہ حکمت عملی نہایت خطرناک ثابت ہوئی۔

اسلام آباد نے کابل پر طالبان کا کنٹرول بحال کرانے اور افغانستان کو ’’اسٹریٹجک بیک یارڈ‘‘ بنانے کے لیے امریکی سرپرستی حاصل کرنے کو ترجیح دی، جہاں بھارت کا کوئی اثرورسوخ نہ ہو۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جن طالبان کو ریاست اور معاشرے نے بھاری قیمت پر پال پوس کر مسلح کیا، وہی اب پاکستان کے بنیادی حریف بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ’فریکنسٹائن مونسٹر‘ کی تمثیل پوری طرح صادق آتی ہے۔

کیا ہم پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان حقیقی بگاڑ دیکھ رہے ہیں، یا یہ محض ایک طویل، بے سکون اتحاد کی از سرنو گفت و شنید ہے؟

فاروق سلہریا:یہ بتانا مشکل ہے کہ آیا پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان واقعی ایک بنیادی ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے، یا یہ صرف ایک پرانے اور بے قرار اتحاد کی نئی بارگیننگ ہے۔ دونوں فریق اصولوں سے محروم ہیں اور موقع پرستی دونوں ، یعنی طالبان اور پاکستانی اشرافیہ کا بنیادی طرزعمل ہے۔ یہ موقع پرستانہ طرزعمل صرف انہی تک محدود نہیں، بلکہ دنیا بھر کی حکمران اشرافیہ اکثر ایسے ہی رویے اپناتی ہے۔تاہم میرے خیال میں موجودہ بگاڑ حقیقی ہے۔ امیر خان متقی کا نئی دہلی کا دورہ ایک ایسی سرخ لکیر عبور کرنا ہے جسے اسلام آباد سفارتی لحاظ سے ناقابل قبول سمجھتا ہے۔

پاکستان کے موجودہ داخلی بحران ، معاشی تباہی، آئی ایم ایف پر انحصار، اور سیاسی انتشار ، افغانستان کے خلاف اس نئی جارحیت کو کس طرح بڑھاوادیتے ہیں؟

فاروق سلہریا:درحقیقت افغانستان کے خلاف یہ جارحانہ رویہ ایک نئے اعتماد کا اظہار ہے۔ چونکہ بھارت کے خلاف ’’جنگ جیتنے‘‘ کی کہانی ہائبرڈ رژیم کوجواز فراہم کرنے کا اہم ذریعہ بنائی گئی تھی، اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل تعریف و تحسین، نیز ہر قسم کی مخالفت اور اختلاف کو دبانے سے حکمران طبقہ طاقت کے نشے میں چور ہو گیا تھا۔

تاہم اسلام آباد اب بھی بلوچستان میں عسکریت پسندی اور پاکستانی طالبان یعنی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی شورش کا سامنا کر رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کے حملے افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں کی بدولت ممکن ہوتے ہیں،اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے سخت پریشان کن ہیں۔ شاید اسلام آباد کسی خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ کابل پر دباؤ ڈال کر اسے جھکا سکتا ہے۔مختصراً میں کابل کے خلاف اس جارحانہ پالیسی کو کسی داخلی بحران کا اظہار نہیں سمجھتا، بلکہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔

کس حد تک حالیہ عسکری کارروائیاں پاکستانی فوج کی داخلی ساکھ بحال کرنے کی کوشش ہیں؟

فاروق سلہریا:پاکستان میں افغان دشمنی یا ’’افغان فوبیا‘‘موجود ہے، جسے مختلف میڈیا اور پروپیگنڈہ ذرائع کے ذریعے پھیلایا گیا ہے۔ یہ رجحان نائن الیون کے بعد سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بھارت کے علاوہ افغانستان بھی پاکستان کے لیے ایک نئے ’’پرائے‘‘کے طور پر سامنے آیا ہے۔نتیجتاً افغانستان کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے سماجی طور پر یا تو حمایت پائی جاتی ہے یا کم از کم بڑے حلقوں میں لاتعلقی دیکھی جاتی ہے۔

آپ نے پہلے لکھا تھا کہ پاکستان کی ریاستی پالیسی دہائیوں سے ’’ہرن کے ساتھ دوڑنا اور کتے کے ذریعے اس کاشکار بھی کرنا‘‘ جیسی دوغلی حکمت عملی رہی ہے۔ یہ پالیسی سول اور فوجی دونوں حکومتوں میں کیوں برقرار رہی؟
فاروق سلہریا:انٹرنیشنل سیاست کے اس دائرے میں ، جہاں بھارت، افغانستان، چین اور امریکہ جیسے بڑے طاقتور کردار موجود ہیں ، اصل کنٹرول فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ نام نہاد سول قیادت کو ان معاملات میں بہت کم اختیار حاصل ہوتا ہے۔

آپ کے مطابق طالبان نے حالیہ جھڑپوں میں مذہبی کی بجائے قومی و حب الوطنی پر مبنی زبان استعمال کی۔ کیا یہ ان کی نظریاتی سمت میں کوئی تبدیلی ہے، یا محض حکمت عملی؟

فاروق سلہریا:یہ صورتحال کسی حد تک ایران سے مشابہ ہے، جہاں آیت اللہ نے عراق کے خلاف جنگ کے دوران اپنے مذہبی نظریے کے ساتھ ساتھ قوم پرستانہ جذبات بھی استعمال کیے۔ طالبان اپنی بنیادی مذہبی نظریاتی شناخت سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ اگر وہ ایسا کریں تو طالبان نہیں رہیں گے۔تاہم وہ موقع کے مطابق جذباتی قوم پرستانہ بیانیہ ضرور شامل کرتے ہیں۔

عام افغان آج پاکستان کو کیسے دیکھتے ہیں، اور کیا یہ عوامی تاثر کابل پر اسلام آباد کے اثر و رسوخ کو محدود کرتا ہے؟

فاروق سلہریا:موجودہ کشیدگی سے بہت پہلے بھی پاکستان افغان عوام کی ہمدردی کھو چکا تھا۔ بہت سے افغان ، اور بڑی حد تک درست طور پر، پاکستان کو اپنی طویل مشکلات اور مصائب کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

طالبان کے اندرونی دھڑے بندی ، خاص طور پر حقانی گروپ بمقابلہ قندھاری قیادت ، اس بگڑتی صورتحال میں کیا کردار ادا کر رہی ہے؟

فاروق سلہریا:اس حوالے سے بے شمار افواہیں گردش کر رہی ہیں، لیکن کوئی ٹھوس معلومات دستیاب نہیں۔ اس لیے کسی حتمی بیان سے گریز ضروری ہے۔ تاہم جو لوگ افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ، چاہے وہ افغان شہری ہوں، ڈایاسپورا ہو، یا میڈیا میں تجزیہ کار ، وہ مسلسل اندرونی اختلافات کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔

آپ نے امریکہ چین رقابت کا ذکر کیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ واشنگٹن نے افغانستان پر پاکستان کے حملوں کو اس لیے منظوری دی ہو کہ وہ دوبارہ بگرام پر اثر قائم کرے یا چین کا مقابلہ کرے؟

فاروق سلہریا:یہ معاملہ زیادہ تر قیاس آرائیوں پر مبنی ہے اور اس کی تائید میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات ضرور کچھ پس منظر فراہم کرتے ہیں، جن کے مطابق امریکہ کا مقصد بگرام ایئربیس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا تھا تاکہ چین کو گھیر سکے۔تاہم یہ بھی اہم ہے کہ پاکستان چین کو ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

چونکہ پاکستان کی معیشت گہرے طور پر چین پر انحصار کرتی ہے، تو پاکستانی حکمران طبقہ امریکہ کو خوش کرنے اور چین پر انحصار کے درمیان اس تضاد کو کیسے سنبھال رہا ہے؟

فاروق سلہریا:پاکستانی اسٹیبلشمنٹ یہ توازن 1960 کی دہائی سے سنبھالتی آ رہی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ بیجنگ اور واشنگٹن دونوں کو کیسے خوش رکھے گی، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے دو سرپرست ہیں ، اور یہ دوہری سرپرستی پاکستان میں جمہوریت کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اکثر مواقع پر دونوں سرپرستوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں، اور پاکستان انہی مشترکہ مفادات کو بیک وقت پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

کیا پاکستان،امریکہ،چین کی یہ مثلثی کشمکش ’’وار آن ٹیرر کے بعد‘‘کے علاقائی نظام کے بڑے بحران کی نشاندہی کرتی ہے؟

فاروق سلہریا:جی ہاں یہ صورتحال کو پیچیدہ ضرور بناتی ہے۔ تاہم یہ مثلثی تعلق پورے منظرنامے کا صرف ایک پہلو ہے۔ بھارت ایک اور بنیادی عنصر ہے۔سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کا یہ کھلا اعتراف کہ’پاکستان، چین کا اسرائیل ہے‘،ایک غیر معمولی فکری لغزش تھی، جو پاکستان میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔تاہم خطے میں امریکہ کے اثر کو محدود رکھنے کے لیے بھارت چین مفاہمت نہایت اہم ہو سکتی ہے، مگر موجودہ حالات میں ، خصوصاً بھارت میں بی جے پی کی نظریاتی گرفت کے تناظر میں ،ایسی مفاہمت زیادہ تر ایک سراب محسوس ہوتی ہے۔

افغان وزیرخارجہ کا نئی دہلی کا دورہ اسلام آباد کے لیے باعث شرمندگی بنا۔ بھارت افغانستان قربت کو کیسے سمجھا جائے؟

فاروق سلہریا:میری رائے میں کابل میں کوئی بھی حکومت ہو، وہ نئی دہلی کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔ طالبان حکومت مستقبل میں اسلام آباد کے ساتھ مفاہمت بھی کر سکتی ہے، مگر وہ بھارت کے ساتھ ابھرتے ہوئے اس نئے تعلق کو قربان نہیں کرے گی۔ وہ سفاک ہو سکتے ہیں، مگر بیوقوف نہیں۔ وہ یہ غلطی نہیں کریں گے کہ اپنے تمام کارڈ پاکستان کے ہاتھ میں رکھ دیں۔

کیا نئی دہلی امریکہ کے انخلا سے پیدا ہونے والا خلا پر کرنا چاہتی ہے ، یا یہ زیادہ تر مودی حکومت کے قوم پرستانہ ایجنڈے کے تحت علاقائی غلبہ قائم کرنے کی کوشش ہے؟

فاروق سلہریا:میں اس سوال کا تجزیہ بھارتی نقطہ نظر سے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ تاہم میرا نہیں خیال کہ بھارت امریکہ کے چھوڑے ہوئے خلا کو موثر طور پر پر کر سکتا ہے۔

پاکستان کے ’’عدم استحکام‘‘سے متعلق بھارتی میڈیا اور پالیسی بیانیے کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ فارن پالیسی سے باہر اندرون ملک کسی حکمت عملی کے مقصد کوبھی پورا کرتا ہے؟

فاروق سلہریا:ماضی میں بھارتی میڈیا ، خصوصاً اس دور میں جب پرنٹ میڈیا غالب تھا ، پاکستان سمیت خطے میں خاصا معتبر سمجھا جاتا تھا۔ تاہم آج بھارتی میڈیا، چند متبادل اداروں کے سوا، اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ میں چند بلاگرز، جیسے شیکھر گپتا (دی پرنٹ) اور پروین سوا می کو فالو کرتا ہوں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کیا سوچ رہی ہے۔رویش کمار کو بھی ایک قابل ذکر استثنا ئی حیثیت حاصل ہے، اگرچہ وہ زیادہ تر اندرونی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر بھی پاکستان کے بارے میں معیاری صحافت کی شدید کمی دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان کی جانب سے تقریباً 10 لاکھ افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ یہ پاکستان کی عسکریت زدہ اور زینوفوبک سمت کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟

فاروق سلہریا:یہ صرف زینوفوبیا ہی نہیں بلکہ موقع پرستی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں میڈیا افغان مہاجرین کی تعریف کرتا تھا، انہیں ’مسلمان بھائی‘ قرار دیتا تھا جو ’کافر سوویت‘ کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے۔ افغان جہاد کو دراصل سوویت یونین کو بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچنے سے روکنے کے نام پر’پاکستانی جہاد‘ بنا کر پیش کیا گیا ۔میرا خیال ہے کہ ان مہاجرین کی جبری ملک بدری طالبان پر دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ بھی تھی۔

تاہم یہ امر بھی اہم ہے کہ طالبان افغانوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کر رہے ہیں جیسا پاکستان نے افغان مہاجرین کے ساتھ کیا۔یہ رجحان عصر حاضر کے ’ٹرمپ ازم‘ والے عالمی ماحول میں بھی سمجھا جانا چاہیے ، جب نام نہاد لبرل جمہوریتیں پناہ گزینوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو بری مثالیں معمول بن جاتی ہیں۔ایران نے بھی افغان مہاجرین کو بہت سفاکی کے ساتھ نکالا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان اور ایران دونوں ’امت‘ کے حقوق کے دعویدار بھی بنتے ہیں۔

یہ عسکریت پسندی پاکستان اور افغانستان، دونوں میں مزدور طبقے کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟ کیا نچلی سطح پر کوئی مزاحمت، یکجہتی یا اختلاف نظر آ رہا ہے؟

فاروق سلہریا:افغانستان میں شاید کوئی بھی مزید مسائل نہیں چاہتا۔ لوگ پہلے ہی زندگی اور موت کے درمیان جکڑے ہوئے ہیں، اور سول سوسائٹی تقریباً تباہ ہو چکی ہے۔پاکستان میں بایاں بازو اور بلوچستان و خیبر پختونخوا کے کچھ ترقی پسند قوم پرست اس کشیدگی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، مگر وہ شدید طور پر حاشیے پر دھکیل دیے گئے ہیں۔

آپ نے اپنے حالیہ مضمون کے اختتام پر لکھا کہ’’جب دہشت کا عفریت مسلط کرنے والے قابض ہوں ،توفرینکنسٹائن امن سے نہیں رہ سکتے۔‘‘کیا کوئی سیاسی قوت ، ریاستوں کے اندر یا باہر، اس تباہ کن چکر کو توڑ سکتی ہے؟

فاروق سلہریا:فی الحال صورتحال بہت مایوس کن ہے۔ مگر امید ہمیشہ جدوجہد کی صورت میں موجود رہتی ہے۔افغانستان اور پاکستان کے خطے میں رہنے والوں کے لیے، چاہے وہ سرحد کے اس طرح ہوں یا دوسری طرف، اندھیروں کی ان طاقتوں کے خلاف خود کومنظم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔ہمیں جنوبی ایشیا کی سطح پر بین الاقوامی یکجہتی درکار ہے۔

آج ایک ترقی پسند، سامراج مخالف علاقائی فریم ورک کیسے بن سکتا ہے، ایسا فریم ورک جو طالبان کی رجعت اور پاکستان و بھارت کی عسکری قوم پرستی، دونوں کا متبادل بن سکے؟

فاروق سلہریا:میرے خیال میں ایسا فریم ورک لازماً سوشلسٹ، سیکولر، بین الاقوامیت پر یقین رکھنے والا اور سامراج مخالف ہونا چاہیے۔اہم بات یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے بائیں بازو کے کچھ حلقوں کو چین کے بارے میں بہت غلط فہمیاں ہیں۔ بائیں بازو کو سمجھنا ہو گا کہ چین ایک نئی شکل کے سامراج کی نمائندگی کرتا ہے۔اسی طرح ’’کثیر قطبی دنیا‘‘کو ایک بڑے موقع کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ، مگر یہ موقع حکمران طبقات کے لیے ہے، مزدور طبقے کے لیے نہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کا کچھ بایاں بازو سیکولرازم پر بھی سمجھوتہ کر رہا ہے، بین الاقوامیت اور اصولی سامراج دشمنی تو دور کی بات ہے۔مارکسسٹ ہونے کے ناطے ہم مزدور طبقے کے مفاد کو سب سے اوپر رکھتے ہیں۔

آخر میں بھارتی بائیں بازو کو پاکستان کے’’اسٹریٹیجک ڈیپتھ‘‘کے تجربے اور اس کے تباہ کن نتائج سے کیا سبق سیکھنا چاہیے؟

فاروق سلہریا:میرے خیال میں سب سے بنیادی سبق یہ ہے کہ ملک سے باہر سامراجی طرز کے ایلیٹ مہم جوئیوں کی حمایت نہ کریں۔ان کے نتائج مزدور طبقات اور پسے ہوئے عوام ہی کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں