روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

سرما محل پر قبضہ

سرما محل پر قبضہ

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف ’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

محاذ سے اطلاعات لانے والے سٹینکیوچ سے ملتے وقت کیرنسکی شدید ہیجان کی کیفیت میں مبتلا تھا۔ وہ ابھی ابھی ’جمہوریہ کی کونسل‘ سے لوٹا تھا، جہاں اُس نے بالشویکوں کی سرکشی کو فیصلہ کن طور پر بے نقاب کیا تھا۔ سرکشی! کیا تمہیں پتا ہے کہ مسلح سرکشی ہو رہی ہے؟ … سٹینکیوچ مسکرایا: تو پھر سڑکیں اِتنی پرسکون کیوں ہیں؟ سرکشی ایسی تو نہیں ہوتی! بہرحال ہمیں اِس روز روز کی بک بک سے جان چھڑانا ہوگی۔ کیرنسکی نے اِس بات سے مکمل اتفاق کیا، وہ صرف عبوری پارلیمنٹ کی قرارداد کا انتظار کر رہا تھا۔
رات نو بجے بالشویکوں کے ’’مکمل اور حتمی خاتمے‘‘ کا منصوبہ مرتب کرنے کے لئے سرما محل کے مالاشائٹ چیمبر میں حکومت کا اجلاس ہوا۔ سٹینکیوچ ، جسے عبوری پارلیمنٹ کی پیش رفت کو تیز کرنے کے لئے مارینسکی محل بھیجا گیا تھا، نے واپس آ کر حکومت پر نیم عدم اعتماد کی قرارداد کی منظوری کی اطلاع دی۔ حتیٰ کہ سرکشی کے خلاف مزاحمت کی ذمہ داری بھی عبوری پارلیمنٹ نے حکومت کو نہیں بلکہ عوامی تحفظ کی ایک خصوصی کمیٹی کو سونپنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کیرنسکی نے آگ بگولا ہو کر اعلان کیا کہ اِن حالات میں ’’وہ ایک منٹ کے لئے بھی حکومت کی قیادت نہیں کرے گا۔‘‘ مصالحت پسند رہنماؤں کو ٹیلیفون کے ذریعے فوراً سرما محل بلایا گیا۔ کیرنسکی کے استعفے کے امکان نے اُنہیں اتنا ہی حیران کیا جتنا اُن کی قراداد نے کیرنسکی کو کیا تھا۔ ایوکسنٹیف نے اُن کا عذر پیش کیا: آپ تو جانتے ہیں کہ وہ قرارداد کو ’’خالصتاً نظریاتی اور حادثاتی‘‘ سمجھ رہے تھے اور ’’اُن کا یہ خیال نہیں تھا کہ یہ عملی اقدامات پر منتج ہو گی۔‘‘ مزید برآں اب اُن کا اپنا خیال تھا کہ قراداد کو ’’شاید زیادہ خوشگوار الفاظ میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ یہ لوگ اپنی اوقات دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔
پھیلتی ہوئی سرکشی کے پس منظر میں دیکھا جائے تو ریاست کے سربراہ کے ساتھ اِن جمہوری رہنماؤں کی شبینہ بات چیت بالکل ناقابل یقین لگتی ہے۔ فروری حکومت کے کلیدی گورکنوں میں شامل ڈین نے مطالبہ کیا کہ حکومت رات رات میں سارے شہر میں اشتہارات لگائے کہ اِس نے اتحادیوں کو فوری امن مذاکرات کی تجویز پیش کر دی ہے۔ کیرنسکی نے کہا کہ حکومت کو ایسے مشوروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومت ایک گہری تقسیم کو ترجیح دے رہی تھی۔ کیرنسکی کوشش کر رہا تھا کہ سرکشی کی ذمہ داری اپنے اِن ہم سخنوں پر عائد کرے۔ ڈین نے جواب دیا کہ اپنے ’’رجعتی اہلکاروں‘‘ کے زیر اثر حکومت واقعات کو مبالغہ آرائی سے پیش کر رہی تھی۔ بہرحال استعفیٰ دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی: عوام کا مزاج تبدیل کرنے کے لئے اختلافی قرارداد ضروری تھی۔ اگر حکومت ڈین کی تجویز پر عمل کرتی ہے تو بالشویکوں کو ’’کل تک‘‘ اپنا صدر دفتر تحلیل کرنا پڑ جائے گا۔ کیرنسکی بعد ازاں جائز ستم ظریفی سے اِس بات چیت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے، ’’عین اُسی لمحے سرخ محافظ ایک کے بعد ایک حکومتی عمارت پر قبضہ کر رہے تھے۔‘‘
کیرنسکی کی اپنے بائیں بازو کے دوستوں سے یہ بھاری بھرکم ملاقات ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ ’کاسک دستوں کی کونسل‘ کی شکل میں اُس کے دائیں بازو کے دوست نمودار ہوئے۔افسروں نے ایسا تاثر دیا گویا پیٹروگراڈ میں تین کاسک رجمنٹوں کا طرز عمل اُن کی مرضی کے تابع تھا اور کیرنسکی کے سامنے ڈین کی شرائط سے بالکل اُلٹ شرائط رکھیں: سوویتوں کو کوئی رعایت نہ دی جائے؛ جولائی کے برعکس اب کی بار بالشویکوں سے حساب مکمل طور پر چکتا کیا جائے۔ کیرنسکی کو اور بھلا کیا چاہئے تھا! اُس نے اُن کے تمام مطالبات فوراً مان لئے اور اپنے ہم سخنوں سے معذرت کی کہ اُس نے اب صرف احتیاط کی وجہ سے سوویت کے صدر ٹراٹسکی کو گرفتار نہیں کیا تھا۔ مندوبین نے جاتے ہوئے اُسے یقین دلایا کہ کاسک اپنا کام پورا کریں گے ۔ کاسک رجمنٹ کو صدر دفتر سے حکم جاری کیا گیا: ’’وطن کی آزادی، وقار اور عظمت کی خاطر مرکزی مجلس عاملہ اور عبوری حکومت کی مدد کو آؤ اور روس کو تباہی سے بچاؤ۔‘‘ انتہائی رقابت سے مرکزی مجلس عاملہ سے اپنی آزادی کا دفاع کرنے والی یہ ہٹ دھرم حکومت اب خطرے کے وقت اُسی کی پیٹھ پیچھے چھپنے پر مجبور تھی۔ ایسے التجائی احکامات پیٹروگراڈ اور مضافات کے فوجی سکولوں کو بھی بھیجے گئے۔ ریلوے کو ہدایت جاری کی گئی: محاذ سے پیٹروگراڈ کی طرف آنے والے دستوں کو باقی تمام ٹرینوں سے پہلے پہنچایا جائے، اگر ضروری ہو تو مسافر گاڑیوں کو روک دیا جائے۔‘‘
جو کچھ بس میں تھا وہ کر لینے کے بعد جب حکومت کا اجلاس رات دو بجے منتشر ہوا تو محل میں کیرنسکی کے ساتھ اُس کا نائب وزیر، ماسکو کا لبرل تاجر کونووالوف ہی بچا۔ڈسٹرکٹ کمانڈر پولکوونیکوف اُن کے پاس تجویز لایا کہ وفادار سپاہیوں کی مدد سے سمولنی پر قبضے کی فوری مہم منظم کی جائے۔ کیرنسکی نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر یہ قابل ستائش منصوبہ قبول تو کر لیا ، لیکن کمانڈر کے الفاظ سے یہ سمجھنا ناممکن تھا کہ وہ بھلا کن سپاہیوں کی بات کر رہا تھا۔ کیرنسکی کے اپنے اعتراف کے مطابق اُسے اب کہیں جا کر سمجھ آئی کہ پچھلے دس بارہ دنوں کے دوران بالشویکوں سے لڑائی کی ’مکمل تیاری‘ کی پولکوونیکوف کی رپورٹیں ’’سراسر بے بنیاد‘‘ تھیں۔ گویا کیرنسکی کے پاس اِس اوسط درجے کے کرنل، جسے نہ جانے کیوں اُس نے ڈسٹرکٹ کمانڈرلگا دیا تھا، کی دفتری رپورٹوں کے سوا سیاسی اور عسکری صورتحال کو پرکھنے کے کوئی دوسرے ذرائع نہیں تھے۔ جس وقت حکومت کا یہ سربراہ اداس سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا، شہری حکومت کا کمیسار روگووسکی کچھ اطلاعات لایا: بالٹک کے بیڑے کے کئی جہاز لڑاکا انداز سے دریائے نیوا میں داخل ہو چکے ہیں؛ اُن میں کچھ تو نکولائیوسکی پُل تک پہنچ گئے ہیں اور اُس پر قبضہ کر لیا ہے؛ سرکشوں کے دستے دورتسووی پُل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ روگووسکی نے کیرنسکی کی توجہ اِن حالات کی طرف مبذول کروائی کہ ’’بالشویک اپنے منصوبے پر مکمل عملدرآمد کر رہے ہیں اور اُنہیں حکومتی دستوں کی معمولی سی مزاحمت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘ یہ بہرحال واضح نہیں ہے کہ یہ ’’حکومتی دستے‘‘ کون سے تھے!
کیرنسکی اور کونووالوف محل سے صدر دفتر کو بھاگے۔’’ہمیں مزید ایک منٹ ضائع نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ صدر دفتر کی رعب دار سرخ عمارت افسروں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ اپنے دستوں کے معاملات کے لئے نہیں بلکہ اُن سے بھاگ کر یہاں آئے تھے۔ ’’نامعلوم غیر عسکری افراد بھی اِس فوجی ہجوم میں اپنی ٹانگ اڑا رہے تھے۔‘‘ پولکوونیکوف کی ایک نئی رپورٹ نے آخر کار کیرنسکی کو قائل کر دیا کہ کمانڈر اور افسروں پر مزید انحصار کرنا ناممکن تھا۔ چنانچہ حکومت کے سربراہ نے ’’اپنے فرض سے وفادار تمام لوگوں‘‘ کو اپنی ذات کے گرد جمع کرنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے بستر مرگ پر لوگوں کو خدا یاد آ جاتا ہے، کیرنسکی کو بھی آخر کار یاد آگیا کہ وہ ایک پارٹی کا رُکن تھا ۔ اُس نے سوشل انقلابیوں کو ٹیلی فون کئے اور مطالبہ کیا کہ فوراً لڑاکا دستے بھیجے جائیں۔ اِس سے پہلے کہ اپنی پارٹی سے مسلح قوتیں فراہم کرنے کی یہ استدعا کوئی نتائج دیتی (بالفرض ایسا ممکن تھا) اِس نے ملیوکوف کے الفاظ میں ’’کیرنسکی سے دائیں بازو کے تمام عناصر کو دور کر دیا، جو ویسے بھی کافی روکھے تھے۔‘‘ کیرنسکی کی تنہائی، جو پہلے ہی کورنیلوف کی سرکشی کے دوران بالکل آشکار ہو چکی ہے، اب مہلک ہو گئی۔ کیرنسکی اگست والا فقرہ دہراتا ہے، ’’وہ طویل رات بہت اذیت ناک تھی۔‘‘
کہیں سے کمک نہیں آئی۔ کاسک بیٹھے رہے۔ اِن رجمنٹوں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ وہ باہر نکل تو آئیں، لیکن اِس کے لئے مشین گنوں، بکتر بند گاڑیوں اور سب سے بڑھ کر پیادوں کی ضرورت ہے۔ کیرنسکی نے فوراً بکتر بند گاڑیوں، جو اُسے چھوڑنے ہی والی تھیں، اور پیادہ فوج، جو اُس کے پاس تھی ہی نہیں، کا وعدہ کر لیا۔ اُسے جواب دیا گیا کہ کاسک رجمنٹیں جلد ہی تمام سوالوں کو زیر بحث لائیں گی اور ’’اپنے گھوڑوں پر کاٹھیاں ڈالنے کا آغاز کریں گی… ‘‘ دوسری طرف سوشل انقلابیوں کی لڑاکا قوتوں کی زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ کیا وہ واقعی موجود تھیں؟ سپہ سالارِ اعلیٰ اور حکومت کے سربراہ کی طرف صدر دفتر میں موجود افسروں کا رویہ ’’زیادہ سے زیادہ گستاخ‘‘ ہوتا جا رہا تھا۔ کیرنسکی یہاں تک کہتا ہے کہ افسروں کے مابین اُسے گرفتار کرنے کی باتیں ہونے لگی تھیں۔ صدر دفتر کی عمارت پر ابھی تک کوئی پہرہ نہیں تھا۔ باہر والوں کے سامنے ہی سرکاری بات چیت ہو رہی تھی۔ مایوسی اور ٹوٹ پھوٹ کا مزاج صدر دفتر سے سرما محل میں سرایت کر گیا تھا۔ جنکر بے چین ہو رہے تھے۔ نیچے کوئی حمایت نہیں ہے، اوپر کوئی قیادت نہیں ہے۔ اِن حالات میں تباہی کے سوا کیا آ سکتا ہے؟
صبح پانچ بجے کیرنسی نے وزارتِ جنگ کے منتظم اعلیٰ مینیکووسکی کو صدر دفتر بلایا۔ ٹروئٹسکی پُل پر گشت کرنے والے دستوں نے اُسے روکا اور پیولووسکی رجمنٹ کی بیرکوں میں لے گئے، تاہم بعد ازاں مختصر تفتیش کے بعد رہا کر دیا۔ شاید جرنیل نے اُنہیں قائل کیا ہو گا کہ اُس کی گرفتاری سے سارا انتظامی نظام بگڑ جائے گا اور محاذ پر سپاہیوں کو نقصان ہو گا۔ تقریباً اِسی وقت سٹینکیوچ کی موٹر گاڑی کو سرما محل کے نزدیک روکا گیا، لیکن رجمنٹ کمیٹی نے اُسے بھی جانے دیا۔ سٹینکیوچ بتاتا ہے، ’’یہ سرکشی والے تھے، لیکن بڑے متذبذب تھے۔میں نے اِس بارے میں اپنے گھر سے سرما محل ٹیلیفون کیا، لیکن مجھے ٹھنڈا کرنے کے لئے یقین دہانی کروائی گئی کہ غلطی سے ایسا ہوا ہو گا۔‘‘ اصل غلطی سٹینکیوچ کی رہائی تھی: جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ چند ہی گھنٹوں میں وہ بالشویکوں سے ٹیلیفون سٹیشن چھیننے کی کوشش کرے گا۔
کیرنسکی نے موغیلیف کے صدر دفتر اور پسکوف میں شمالی محاذ کی قیادت سے فوراً وفادار دستے بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ڈخونن نے اُسے براہِ راست تار پر یقین دہانی کروائی کہ دستے بھیجنے کے تمام اقدامات کئے جا چکے ہیں اور کچھ یونٹ تو اب تک پہنچ بھی جانے چاہئیں۔ لیکن یونٹ نہیں پہنچ رہے تھے۔ کاسک ابھی تک ’’اپنے گھوڑوں پر کاٹھیاں‘‘ ہی ڈال رہے تھے۔ شہر کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی تھی۔ جب کیرنسکی اور کونووالوف کچھ آرام کے لئے محل واپس آئے تو ایک قاصد نے اُنہیں ہنگامی پیغام دیا: محل کے تمام ٹیلیفون کٹ چکے ہیں؛ کیرنسکی کی کھڑکی کے عین نیچے دورتسووی پُل پر جہازیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ سرما محل کے سامنے کا چوک [پیلس اسکوائر] ابھی تک ویران تھا۔’’کاسکوں کا نام و نشان نہیں تھا۔‘‘ کیرنسکی ایک بار پھر سرما محل بھاگا، لیکن یہاں بھی اُسے ناخوشگوار خبریں ہی ملیں۔ بالشویکوں نے جنکروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سرما محل کو چھوڑ دیں۔بکتر بند گاڑیاں عین وقت پر ضروری پُرزے ’’غائب‘‘ ہو جانے کی وجہ سے بے کار ہو چکی تھیں۔ محاذ سے آنے والے دستوں کی ابھی تک کوئی خبر نہیں تھی۔ محل اور صدر دفتر آنے والے راستے بالکل غیر محفوظ تھے۔ اگر بالشویک ابھی یہاں تک نہیں پہنچے تھے تو ایسا صرف لاعلمی کی وجہ سے تھا۔ عمارت، جو شام سے افسروں سے بھری ہوئی تھی، تیزی سے خالی ہو گئی۔ہر کوئی اپنی جان بچا رہا تھا۔جنکروں کا ایک وفد نمودار ہوا: وہ اپنا کام کرنے کو تیار تھے ’’بشرطیکہ کمک آنے کی کوئی امید ہو۔‘‘ لیکن کمک ہی تو نہیں آ رہی تھی۔
کیرنسکی نے جلدی سے اپنے وزیروں کو صدر دفتر بلایا۔ اُن میں سے زیادہ تر کے پاس موٹر گاڑیاں نہیں تھیں۔ جدید سرکشی کو ایک نئی رفتار دینے والے نقل و حمل کے اِن ذرائع پر یا تو بالشویکوں نے قبضہ کر لیا تھایا پھر سرکشوں کے گھیرے نے وزیروں کی اُن تک رسائی منقطع کر دی تھی۔ صرف کشکن اور کچھ دیر بعد ملیانٹووچ آیا۔ حکومت کا سربراہ کیا کرے؟ فوراً جائے ، محاذ سے آنے والے دستوں سے ملے اور اُنہیں راستے کی تمام رکاوٹیں عبور کروائے: اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں!
کیرنسکی نے اپنی ’’شاندار کھلی سفری گاڑی منگوائی۔‘‘ لیکن یہاں واقعات کی زنجیر میں ایک نیا عنصر داخل ہو گیا۔ ’’مجھے نہیں معلوم کیسے، لیکن میری روانگی کی خبر اتحادی ممالک کے سفارتخانوں تک پہنچ گئی۔‘‘ برطانیہ اور امریکہ کے سفیروں نے فوراً خواہش ظاہر کی کہ دارالحکومت سے بھاگنے والے سربراہِ حکومت کے ساتھ ’’امریکی جھنڈے والی موٹر گاڑی بھی جانی چاہئے۔‘‘ کیرنسکی کے مطابق اُس کا خیال تھا کہ اِس کی کچھ خاص ضرورت نہیں تھی، تاہم اتحادی ممالک کی یکجہتی کے اظہار کے طور پر اُس نے یہ تجویز قبول کر لی۔
امریکی سفیر ڈیوڈ فرانسسایک مختلف روداد سناتا ہے، جو اِس خوشگوار بچگانہ داستان سے مختلف ہے۔اُس کے مطابق ایک موٹر گاڑی، جس میں ایک روسی افسر سوار تھا، امریکی موٹر گاڑی کے پیچھے پیچھے سفارتخانے پہنچی اور افسر نے مطالبہ کیا کہ محاذ تک کے سفر کے لئے سفارتخانے کی موٹر گاڑی کیرنسکی کے حوالے کی جائے۔ایک دوسرے سے مشورے کے بعد سفارتخانے کے اہلکار اِس نتیجے پر پہنے کہ چونکہ موٹر گاڑی پہلے ہی عملی طور پر ’’قبضے‘‘ میں لے لی گئی تھی (جو کہ بالکل جھوٹ ہے) لہٰذا حالات کی قوت کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اُن کے مطابق سفارتی معززین کے احتجاج کے باوجود روسی افسر نے امریکی جھنڈا اتارنے سے انکار کر دیا۔کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے: یہی وہ واحد رنگین چیز تھی جو موٹر گاڑی کو محفوظ بنا رہی تھی۔ فرانسس نے سفارتی اہلکاروں کے عمل کی توثیق کر دی، لیکن اُنہیں کہا کہ ’’اِس بارے کسی کو بتانا نہیں۔‘‘
اِن دونوں بیانات، جو سچائی کی لکیر کو مختلف زاویوں سے منقطع کرتے ہیں، کے موازنے سے ایک واضح تصویر کھینچی جا سکتی ہے۔ اتحادی ممالک نے کیرنسکی پر [اپنے جھنڈے والی] موٹر گاڑی مسلط نہیں کی تھی بلکہ اُس نے خود مانگی تھی: لیکن چونکہ سفارتکاروں نے ’داخلی معاملات میں عدم مداخلت‘ کی منافقت کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے، لہٰذا اِس بات پر اتفاق رائے ہو گیا کہ موٹر گاڑی پر ’’قبضہ‘‘ کر لیا گیا تھا اور یہ کہ سفارتخانے نے جھنڈے کے غلط استعمال کے خلاف ’’احتجاج‘‘ کیا تھا۔یہ نازک معاملہ سلجھ جانے کے بعد کیرنسکی اپنی موٹر گاڑی میں سوار ہوا؛ امریکی گاڑی بوقت ضرورت استعمال کے لئے پیچھے تھی۔ کیرنسکی مزید کہتا ہے، ’’راہگیروں اور سپاہیوں نے مجھے فوراً پہچان لیا۔ میں نے ہمیشہ کی طرح تھوڑی لا پرواہی اور ہلکی سی مسکراہٹ سے سلام کیا۔‘‘ کیسا بے نظیر منظر تھا! فروری حکومت ’’لا پرواہی اور مسکراہٹ‘‘ سے پرچھائیوں کی سلطنت میں غائب ہو رہی تھی۔شہر کے دروازوں پر ہر جگہ مسلح مزدوروں کے ناکے اور گشت کرنے والے دستے تھے۔دیوانہ وار بھاگتی ہوئی گاڑی کو دیکھ کر سرخ محافظ ہائی وے کی طرف بھاگے، لیکن گولی نہیں چلائی۔ بالعموم ابھی تک گولی چلانے سے گریز کیا جا رہا تھا۔ شاید چھوٹے سے امریکی جھنڈے نے بھی اُنہیں روکے رکھا۔ موٹر گاڑی کامیابی سے بھاگ نکلی۔
ملیانٹووچ، جو اب تک قانون کی ابدی سچائیوں کی سلطنت میں رہ رہا تھا، نے حیرانی سے پوچھا، ’’کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ پیٹروگراڈ میں کوئی ایک بھی فوجی دستہ عبوری حکومت کا دفاع کرنے کو تیارنہیں ہے؟‘‘ کونووالوف نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا، ’’مجھے کچھ پتا نہیں۔بڑی بری صورتحال ہے۔‘‘ملیانٹووچ نے پھر پوچھا، ’’اور یہ کون سے دستے ہیں جو راستے میں ہیں؟‘‘ ’’میرے خیال میں ایک سائیکل بٹالین ہے۔‘‘ وزیر نے لمبا سانس لیا۔ پیٹروگراڈ اور اِس کے مضافات میں دو لاکھ سپاہی تھے۔ اگر حکومت کے سربراہ کو امریکی جھنڈا لگا کر سائیکل بٹالین سے ملنے کے لئے بھاگنا پڑا تھا تو اِس کا مطلب تھا کہ حکومت کی حالت بہت پتلی تھی۔
یہ وزیر اور بھی لمبے سانس لیتے اگر اُنہیں یہ پتا ہوتا کہ محاذ سے بھیجی جانے والی یہ تیسری سائیکل بٹالین پیریڈولسکایا کے مقام پر رُک گئی تھی اور پیٹروگراڈ سوویت سے تار کے ذریعے پوچھا تھا کہ اُسے [محاذ سے پیٹروگراڈ] بھیجا کیوں جا رہا تھا۔ عسکری انقلابی کمیٹی نے بٹالین کو برادرانہ سلام بھیجا اور اُنہیں فوراً اپنے نمائندے بھیجنے کو کہا۔ حکام کو یہ سائیکل والے کہیں نہیں مل رہے تھے جن کے نمائندے اُسی دن سمولنی پہنچے تھے۔
ابتدائی منصوبوں کے مطابق 25 تاریخ کی رات کو دارالحکومت کے دوسرے اہم مقامات کے ساتھ ہی سرما محل پر بھی قبضہ کیا جانا تھا۔محل پر قبضے کی قیادت کے لئے 23 تاریخ کو ہی تین لوگوں کی ایک کمیٹی قائم کر دی گئی تھی، جس کے مرکزی افراد پوڈووئسکی اور اینٹونوف تھے۔تیسرا آدمی فوج میں خدمات انجام دینے والا انجینئر سیڈووسکی تھا، جو گیریزن کے معاملات میں شدید مصروف ہو گیا۔ اُس کی جگہ چڈنووسکی کو شامل کیا گیا، جو مئی میں ٹراٹسکی کے ساتھ کینیڈا کے نظر بندی کیمپ سے آیا تھا اور سپاہی کی حیثیت سے محاذ پرتین مہینے گزارے تھے۔ اِس کاروائی میں پرانے بالشویک لاشیوچ کا کردار بھی اہم تھا، جو اپنی طویل فوجی ملازمت میں نان کمیشنڈ افسر بن گیا تھا۔ تین سال بعد سیڈووسکی یاد کرتا ہے کہ کیسے سمولنی میں اُس کے چھوٹے سے کمرے میں پیٹروگراڈ کے نقشے پر جھکے پوڈووئسکی اور چڈنووسکی، محل کے خلاف کاروائی کی بہترین صورت کے موضوع پر بری طرح جھگڑتے تھے۔ آخر کار محل کے گرد بیضوی گھیرا ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کا لمبا محور دریائے نیوا کے گھاٹ کو ہونا تھا۔دریا والی طرف سے اِس گھیرے کو پیٹر اور پال کے قلعے اور ’آرورا ‘ا ور کرونسٹٹ سے بلائے گئے دوسرے جہازوں نے مکمل کرنا تھا۔ کاسکوں یا جنکروں کے دستوں کے ذریعے پچھلی طرف سے ضرب لگانے کی کوششوں کو روکنے یا ناکام بنانے کے لئے انقلابی دستوں پر مشتمل موثر بغلی حصار قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مجموعی طور پر یہ منصوبہ بہت بھاری اور پیچیدہ تھا۔ تیاری کا وقت ناکافی ثابت ہوا۔ ہر قدم پر غیر ہم آہنگی اور غلط اندازے سامنے آ رہے تھے۔ایک جگہ سمت کی نشاندہی غلط کی گئی تھی، ایک دوسری جگہ پر ہدایات کو ٹھیک سے نہ پڑھنے کی وجہ سے رہنما دیر سے آیا، ایک تیسری جگہ پر خطرے سے بچانے والی بکتر بند گاڑی کا انتظار کرنا پڑا۔فوجی یونٹوں کو بلانا، اُنہیں سرخ محافظوں کے ساتھ یکجا کرنا، مورچے سنبھالنا، ایک دوسرے اور صدر دفتر سے رابطے کو یقینی بنانا… اِن ساری چیزوں کے لئے پیٹروگراڈ کے نقشے پر جھک کر لڑنے والے رہنماؤں کی سوچ سے زیادہ وقت درکار تھا۔
عسکری انقلابی کمیٹی نے جب صبح دس بجے حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا تو کاروائی کی کمان کرنے والوں کو بھی اِس تاخیر کی طوالت کا اندازہ نہیں تھا۔پوڈووئسکی نے ’’بارہ بجے تک‘‘ محل پر قبضے کا وعدہ کیا تھا۔ اُس وقت تک سارا کام اِتنی اچھی طرح سے چل رہا تھا کہ کسی کے پاس اِس مقررہ وقت پر شک و شبے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ لیکن دوپہر کو پتا چلا کہ محاصرہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا تھا، کرونسٹٹ والے پہنچے نہیں تھے اور محل کا دفاع مضبوط کر دیا گیا تھا۔جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے کہ وقت کے اِس ضیاں نے مزید تاخیر کو ضروری بنا دیا۔ عسکری انقلابی کمیٹی کے شدید دباؤ کے تحت محل پر قبضے کے لئے اب تین بجے کا ’’قطعی‘‘ وقت مقرر کیا گیا۔اِسی نئے فیصلے کی بنیاد پر عسکری انقلابی کمیٹی کے ترجمان نے سوویت کے دوپہر کے اجلاس میں کہا تھا کہ سرما محل پر اگلے چند منٹوں میں قبضہ ہو جائے گا۔لیکن مزید ایک گھنٹہ گزر گیا اور قبضہ نہیں ہو پایا۔ پوڈووئسکی، جو خود شدید ہیجان میں مبتلا تھا، نے ٹیلیفون پر دوبارہ یقین دلایا کہ چھ بجے تک ہر قیمت پر محل کا قبضہ حاصل کر لیا جائے گا۔تاہم اُس میں پہلے والے اعتماد کی کمی تھی۔ آخر کار چھ بھی بج گئے اور کہانی کا انجام نہیں ہوا۔ سمولنی کے شدید دباؤ سے حواس باختہ ہو کر پوڈووئسکی اور اینٹونوف نے کوئی مقررہ وقت دینے سے انکار کر دیا۔ اِس سے تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ سیاسی طور پر یہ ضروری سمجھا جا رہا تھا کہ کانگریس کے آغاز کے وقت سارا دارالحکومت عسکری انقلابی کمیٹی کے ہاتھوں میں ہو: اِس کا مقصد کانگریس میں مخالفین کے سامنے ایک ’امر واقعہ‘ رکھ کر اُن سے نبٹنے کا کام آسان بنانا تھا۔جس دوران کانگریس کے آغاز کا وقت آیا، موخر ہوا اور دوبارہ آ گیا، سرما محل ابھی تک مزاحمت کر رہا تھا۔یوں محل کا محاصرہ اپنی تاخیر کی بدولت پورے بارہ گھنٹے تک سرکشی کا کلیدی مسئلہ بنا رہا۔
کاروائی کی کلیدی قیادت سمولنی میں رہی، جہاں ساری باگ ڈور لاشیوچ کے ہاتھوں میں تھی۔میدان جنگ کا صدر دفتر پیٹر اور پال کے قلعے میں تھا، جہاں ذمہ داری بلاگنراووف کے پاس تھی۔تین ذیلی صدر دفاتر تھے، پہلا ’آرورا‘ پر، دوسرا پیولوسکی رجمنٹ کی بیرکوں میں، تیسرا جہازیوں کی بیرکوں میں۔ کاروائی کے میدان میں رہنما پوڈووئسکی اور اینٹونوف تھے۔
دوسری طرف فوج کے صدر دفتر میں بھی تین لوگ نقشے پر جھکے ہوئے تھے: ڈسٹرکٹ کمانڈر کرنل پولکوونیکوف، اُس کے عملے کا سربراہ جنرل بگراتونی اور مختارِ اعلیٰ کے طور پر مدعو کردہ جنرل الیگزیف۔ اِس سند یافتہ قیادت کے باوجود دفاع کا منصوبہ، حملے کے منصوبہ کی نسبت کہیں زیادہ مبہم تھا۔یہ درست ہے کہ سرکشی کے سپہ سالاروں کو معلوم نہیں تھا کہ اپنی قوتوں کو تیزی سے مجتمع کرتے ہوئے کاری ضرب کیسے لگائیں۔ لیکن قوتیں تو موجود تھیں۔دوسری طرف دفاع کے سپہ سالاروں کے پاس قوتوں کی بجائے دھندلی امیدیں ہی تھیں: شاید کاسک فیصلہ کر لیں، شاید ہمسایہ گیریزنوں میں کوئی وفادار یونٹ مل جائیں، شاید کیرنسکی محاذ سے دستے لے آئے… پولکوونیکوف کے احساسات کا اندازہ اُن تاروں سے لگایا جا سکتا ہے جو اُس نے رات کو صدر دفتر کو بھیجے تھے: اُس کا خیال تھا کہ کھیل ختم ہو چکا تھا۔اس سے بھی کم پرامید الیگزیف نے جلد ہی ڈوبتے ہوئے جہاز سے چھلانگ لگا دی۔
جنکروں کے سکولوں سے مندوبین کو صدر دفتر بلایا گیا، جہاں یہ یقین دلا کر اُن کے حوصلے بڑھانے کی کوشش کی گئی کہ جلد ہی گاچینا، زارسکوئی اور محاذ سے دستے پہنچنے والے ہیں۔ تاہم اُنہیں اِن دھندلے وعدوں پر کچھ خاص یقین نہیں تھا اور مایوس کن خبریں جلد ہی سکولوں میں پھیلنے لگیں: ’’صدر دفتر میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے، کوئی کچھ بھی نہیں کر رہا ہے۔‘‘ اور ایسا ہی تھا۔ میکائلووسکی گھڑ سوار اکیڈمی میں بکتر بند گاڑیوں پر قبضے کی تجویز صدر دفتر لانے والے کاسک افسروں نے پولکوونیکوف کو کھڑکی کے ساتھ انتہائی مایوسی کی کیفیت میں بیٹھا ہوا پایا۔گھڑسوار اکیڈمی پر قبضہ کر لیں؟ ’’کر لو … میرے پاس کوئی نہیں ہے۔ میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘
جس وقت سرما محل کے دفاع کے لئے سکولوں کو متحرک کرنے کا مجہول عمل جاری تھا، وزرا ایک اجلاس میں جمع ہوئے۔محل اور اس سے ملحقہ سڑکیں ابھی تک سرکشوں سے خالی تھیں۔ مورسکایا اور نیوسکی کے کونے پر مسلح سپاہی گزرنے والی موٹر گاڑیوں کو روک رہے تھے اور مسافروں کو نکال رہے تھے۔ہجوم استفسار کر رہا تھا: ’’یہ حکومت کے سپاہی ہیں یا کہ عسکری انقلابی کمیٹی کے؟‘‘ اِس بار وزیروں کو اپنی غیر مقبولیت کا بھرپور فائدہ ہو رہا تھا: اُن میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اُنہیں بمشکل ہی کوئی پہچانتا تھا۔ سارے جمع ہوئے ، ماسوائے پروکوپووچ کے، جسے ایک ٹیکسی میں اتفاقاً گرفتار کر لیا گیا اور اگلے دن تک دوبارہ چھوڑ بھی دیا گیا ۔
محل میں پرانے نوکر ابھی تک موجود تھے، جو بہت کچھ دیکھ لینے کے بعد اب حیران نہیں ہوتے تھے، اگرچہ خوفزدہ ہو جاتے تھے۔ سرخ کالروں اور سنہری جھالروں والے نیلے لباس میں ملبوس اور انتہائی تربیت یافتہ، ماضی کی یہ باقیات اِس پرشکوہ عمارت میں نظم و نسق اور استحکام کا ماحول برقرار رکھتی تھیں۔ اُس تشویشناک صبح شاید صرف وہی تھے جو اِن وزیروں کو اقتدار کا کھوکھلا تاثر دے رہے تھے۔
صبح گیارہ بجے آخر کار حکومت نے اپنے ایک رکن کو دفاع کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا۔جنرل ازنیکووسکی پہلے ہی یہ اعزاز مسترد کر چکا تھا، جس کی پیش کش اُسے صبح سویرے کیرنسکی نے کی تھی۔ حکومت کا ایک اور فوجی اہلکار، ایڈمرل ورڈیریوسکی بھی راضی نہیں تھا۔ یوں دفاع کا سربراہ ایک سویلین کو بننا پڑا: خیراتی اداروں کا وزیر کشکن۔ اُس کی تعیناتی کا حکم نامہ فوراً مرتب کیا گیا اور سب نے اس پر دستخط کر دئیے۔ اِن لوگوں کے پاس افسرشاہانہ فضولیات میں الجھنے کا بہت وقت تھا۔ لیکن یہ خیال کسی کو نہ آیا کہ کیڈٹ پارٹی کا رکن ہونے کی وجہ سے کشکن سے عقب اور محاذ کے سپاہی دوہری نفرت کرتے تھے۔ کشکن نے پالچنسکی اور روتھنبرگ کو اپنے نائبین کے طور پر منتخب کیا۔سرمایہ داروں کے حمایت یافتہ اور تالہ بندیوں کے پشت پناہ پالچنسکی سے مزدور شدید نفرت کرتے تھے۔انجینئر روتھنبرگ اُس ساونکوف کا معاون رہا تھا جسے سب کو قبول کر لینے والی سوشل انقلابی پارٹی نے بھی کورنیلوفسٹ قرار دے کر نکال دیا تھا۔ غداری کے شک کی بنا پر پولکوونیکوف کو برطرف کر دیا گیا۔ اُس کی جگہ جنرل بگراتونی کو تعینات کیا گیا، جو اُس جیسا ہی تھا۔
اگرچہ سرما محل اور صدر دفتر کے ٹیلیفون کاٹ دئیے گئے تھے، لیکن محل اپنے تار کے ذریعے زیادہ اہم اداروں، بالخصوص وزارتِ جنگ سے رابطے میں رہا۔ عسکری نقطہ نظر سے اِن ٹیلیفون روابط کا حکومت کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اخلاقی نقطہ نظر سے اِس کا الٹا نقصان ہی تھا، کیونکہ اِس نے اُنہیں خوش فہمیوں سے بھی محروم کر دیا۔
صبح سے ہی دفاع کے رہنما مقامی کمک کے متقاضی اور محاذ سے آنے والی کمک کے منتظر تھے۔ شہر میں کچھ لوگوں نے اُن کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ سوشل انقلابی پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا رُکن ڈاکٹر فیٹ، جو اس معاملے میں شریک تھا، کچھ سالوں بعد ایک قانونی کاروائی میں ’’فوجی یونٹوں کے مزاج میں آنے والی برق رفتار اور حیران کن تبدیلی‘‘ کے بارے میں بتاتا ہے۔ اُس نے بتایا کہ انتہائی قابل اعتماد ذرائع سے پتا چلتا تھا کہ فلاں رجمنٹ حکومت کا دفاع کرنے کو تیار ہے، لیکن جیسے ہی بیرکوں میں ٹیلیفون کیا جاتا تھا تو ایک کے بعد دوسرا یونٹ صاف انکار کر دیتا تھا۔ ’’نتیجہ آپ کے سامنے ہے، کوئی مدد کو نہیں آیا اور سرما محل پر قبضہ کر لیا گیا۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ گیریزن میں کوئی برق رفتار تبدیلیاں رونما نہیں ہوئی تھیں، بلکہ یہ حکومتی پارٹیوں کی خوش فہمیاں تھیں جو برق رفتاری سے چھٹ رہی تھیں۔
بکتر بند گاڑیاں، جن سے سرما محل اور صدر دفتر میں خصوصی امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں، دو حصوں میں تقسیم ہو گئیں: بالشویک اور امن پسند۔ دونوں میں سے کوئی بھی حکومت کا حامی نہیں تھا۔ سرما محل کے راستے پر جنکروں کی ایک آدھی کمپنی کا سامنا دو بکتر بند گاڑیوں سے ہوا: یہ دوست ہیں یا دشمن؟ معلوم ہوا کہ وہ غیر جانبدار تھے اور دونوں اطراف کے درمیان تصادموں کو روکنے کے لئے باہر نکلے تھے۔ سرما محل میں موجود چھ بکتر بند گاڑیوں میں سے محل کی حفاظت کے لئے صرف ایک بچی؛ باقی پانچ پر قبضہ کر لیا گیا۔ جوں جوں سرکشی کامیاب ہوتی گئی، بالشویک بکتر بند گاڑیوں کی تعداد بڑھنے لگی اور غیر جانبدار فوج پگھلتی گئی۔کسی بھی سنجیدہ جدوجہد میں امن پسندی کا یہی انجام ہوتا ہے۔
دوپہر ہو رہی ہے۔سرما محل کے سامنے کا وسیع چوک پہلے کی طرح خالی ہے۔ حکومت کے پاس اِسے بھرنے کے لئے کوئی نہیں ہے۔ عسکری انقلابی کمیٹی کے دستے اِس پر قبضہ نہیں کرتے، وہ ضرورت سے زیادہ پیچیدہ منصوبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وسیع محاصرے کے لئے ابھی تک فوجی یونٹ، مزدور دستے اور بکتر بند گاڑیاں جمع ہو رہی ہیں۔ محل کا علاقہ کوئی طاعونی گلٹی لگنے لگتا ہے، جسے دور سے گھیرا جا رہا ہے کہ کہیں ہاتھ سے مس نہ ہو جائے۔
چوک کی طرف کھلنے والے محل کے صحن کو سمولنی کے صحن کی طرح لکڑی کے ٹکڑوں سے بھرا جا رہا ہے۔دائیں اور بائیں طرف چھوٹی توپیں نصب کی جا رہی ہیں۔ مختلف جگہوں پر رائفلیں جوڑی جا رہی ہیں۔محل کا چھوٹا سا حفاظتی دستہ عمارت کے بالکل قریب آ جاتا ہے۔ صحن اور پہلی منزل پر اورانین بام اور پیٹرہاف سے حوالداروں کے دو سکول (جو کسی طور مکمل نہیں ہیں) اور چھ توپوں کے ساتھ کونسٹنٹی نووسکی آرٹلری سکول تعینات ہے۔
دوپہر کے دوران انجینئرنگ سکول سے جنکروں کی ایک بٹالین آئی، جس کی آدھی کمپنی راستے میں ہی کھو گئی تھی۔ جنکروں نے پہنچ کر جو منظر دیکھا وہ کسی طور بھی اُن کا لڑائی کا جذبہ بڑھانے والا نہیں تھا۔ محل کے اندر خوراک کی کمی ہے۔حتیٰ کہ اِس بارے میں بھی کسی نے بروقت نہیں سوچا تھا۔ معلوم ہوا کہ خوراک سے بھرا ایک ٹرک عسکری انقلابی کمیٹی کے دستوں نے قبضے میں لے لیا تھا۔ کچھ جنکر پہرہ دے رہے تھے، باقی غیر یقینی کیفیت اور بھوک سے نڈھال تھے۔ کوئی قیادت موجود نہیں تھی۔ محل کے سامنے چوک اور دوسری طرف دریا کے گھاٹ پر بظاہر پرامن راہگیروں کے چھوٹے چھوٹے گروہ نمودار ہونے لگے۔ وہ جنکروں کو پستولوں سے ڈرا کر اُن سے رائفلیں چھین لیتے تھے۔
جنکروں میں ’’ایجی ٹیٹر‘‘ بھی نمودار ہونے لگے۔ وہ باہر سے آئے تھے؟ نہیں، وہ اندر کے لوگ تھے۔ وہ اورانین بام اور پیٹرہاف کے طلبہ کو بھڑکانے میں کامیاب رہے۔ سکولوں کی کمیٹیوں نے محل کے وائٹ ہال میں اجلاس بلایا اور مطالبہ کیا کہ حکومت کے نمائندے آئیں اور وضاحت پیش کریں۔ کونووالوف کی قیادت میں سارے وزرا آ گئے۔بحث ایک گھنٹہ جاری رہی۔ کونووالوف کو ٹوک دیا گیا اور وہ چپ ہو کر بیٹھ گیا۔ وزیر زراعت مسلوف نے پرانے انقلابی کے طور پر تقریر کی۔ کشکن نے جنکروں کو بتایا کہ حکومت نے آخری وقت تک مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔سٹینکیوچ کے مطابق ایک جنکر ’’حکومت کے لئے مرنے پر اپنی آمادگی‘‘ کا اظہار کرنے ہی والا تھا، لیکن ’’اُس کے باقی ساتھیوں کے روکھے پن نے اُسے بھی روک دیا۔‘‘ دوسرے وزیروں کی تقریر نے جنکروں میں اشتعال پیدا کر دیا، وہ ٹوک رہے تھے، چلّا رہے تھے،حتیٰ کہ سیٹیاں بجا رہے تھے۔اعلیٰ نسل والوں نے جنکروں کی اکثریت کے اِس طرز عمل کی وضاحت اُن کے گھٹیا سماجی مرتبے سے کی: ’’دیہاتی، نیم پڑھے لکھے، جاہل درندے، جانور… ‘‘
تاہم محصور محل میں یہ اجلاس ایک مفاہمت پر ختم ہوا۔ فعال قیادت اور واقعات کی درست معلومات کی فراہمی کی ضمانت پر جنکر رُکنے پر راضی ہو گئے۔انجینئرنگ سکول کے سربراہ، جسے دفاع کا کمانڈر تعینات کر دیا گیا، نے یونٹوں کے نام لکھتے ہوئے محل کے نقشے پر پنسل چلائی ۔دستوں کو مختلف مورچوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ زیادہ تر جنکروں کو پہلی منزل پر تعینات کیا گیا، جہاں کھڑیوں سے وہ سرما محل کے چوک کو نشانہ بنا سکتے تھے۔لیکن اُنہیں پہلے گولی چلانے سے روک دیا گیا۔ توپخانے کو آڑ مہیا کرنے کے لئے انجینئرنگ سکول کی ایک بٹالین کو صحن میں لایا گیا۔کچھ دستوں کو مورچہ بندی کا کام سونپا گیا۔ صفوں میں دراڑ کی صورت میں توپخانے کے دستے کو گیٹ کی حفاظت کی ہدایت کی گئی۔ گیٹ کے سامنے اور صحن میں لکڑیوں کے حصار کھڑے کئے گئے۔ کچھ نظم و نسق قائم ہو گیا۔ سنتری اب زیادہ پراعتماد تھے۔
حقیقی افواج کی تشکیل اور پختگی سے پہلے، اپنی شروعات میں ایک خانہ جنگی اعصاب کی جنگ ہوتی ہے۔ جونہی جنکروں میں کچھ حرکت پیدا ہوئی، حملہ آور کیمپ میں دفاع کی قوتوں اور سامان کو حقیقت سے بہت زیادہ گمان کیا جانے لگا۔ سرخ محافظوں اور سپاہیوں کی بے چینی کے باوجود رہنماؤں نے حملے کو اپنی کمک کو مجتمع کرنے تک موخر کرنے کا فیصلہ کیا؛ وہ بالخصوص کرونسٹٹ سے جہازیوں کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔
یوں ہونے والی چند گھٹنوں کی تاخیر کے دوران محصورین کے لئے کچھ کمک پہنچ گئی۔کیرنسکی کی جانب سے کاسک وفد کو پیادے فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعد کاسک دستوں کی کونسل کا اجلاس ہوا، رجمنٹ کمیٹیوں اور رجمنٹوں کی مجلسِ اعلیٰ کے اجلاس ہوئے۔ فیصلہ: جولائی میں بالشویکوں کو کچلنے کے لئے محاذ سے لائی گئی یورالسکی رجمنٹ کے دو سکواڈرن اور مشین گن عملہ فوراً سرما محل کی طرف پیش قدمی کریں، باقی کیرنسکی کا وعدہ پورا ہونے تک، یعنی پیادہ کمک پہنچنے تک رُکے رہیں۔ لیکن یہ دو سکواڈرن بھی مزاحمت کے بغیر نہیں گئے۔ نوجوان کاسکوں نے اعتراض کیا۔ حتیٰ کہ بوڑھوں کو نوجوانوں کو اصطبل میں بند کرنا پڑا، تاکہ وہ اُنہیں سرما محل کی طرف پیش قدمی کی تیاری سے نہ روکیں۔ یورالسکی رجمنٹ کے یہ بوڑھے شام کے دھندلکے میں محل میں نمودار ہوئے،جب اُن کے آنے کی کوئی امید باقی نہیں تھی۔ اُن کا نجات دہندوں جیسا استقبال کیا گیا۔ لیکن وہ خود روٹھے روٹھے سے لگ رہے تھے۔ وہ محلات کے لئے لڑنے کے عادی نہیں تھے۔ جی ہاں، واضح نہیں تھا کہ کون سی طرف حق پر ہے۔
کچھ دیر بعد ایک مصنوعی ٹانگ والے کپتان کی قیادت میں غیر متوقع طور پر سینٹ جارج بٹالین کے چالیس گھڑسوار بھی آ گئے۔جمہوریت کا آخری سہارا یہ معذور حب الوطن تھے… لیکن محل والوں نے اِسے بھی غنیمت جانا۔جلد ہی خواتین بٹالین ایک یلغاری کمپنی آ ئی۔ اُن کے لئے یہ چیز بہت حوصلہ افزا تھی کہ کمک بغیر کسی لڑائی کے پہنچ رہی تھی۔ محاصرہ کرنے والوں کا گھیرا اُنہیں محل تک جانے سے روک نہیں پایا، یا پھر روکنے کی ہمت نہیں کی۔افسروں نے ایک دوسرے اور جنکروں کو تسلی دیتے ہوئے کہا، ’’خدا کا شکر ہے، سب کچھ ٹھیک ہونے لگا ہے۔‘‘ جو لوگ تھک چکے تھے اُن کی جگہ نئے آنے والوں کو تعینات کر دیا گیا۔ تاہم یورالسکی رجمنٹ والے اِن رائفلوں والی ’’مٹیاروں‘‘ کی آمد سے کچھ خوش نہیں تھے۔ حقیقی پیادے کدھر ہیں؟
وقت محاصرہ کرنے والوں کے ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا۔ کرونسٹٹ والوں کو پہنچنے میں دیر ہو چکی تھی، جس میں اُن کی اپنی کوئی غلطی نہیں تھی۔ اُنہیں بلایا ہی بہت دیر سے گیا تھا۔ تیاری کی تناؤ بھری رات کے بعد وہ صبح جہازوں پر سوار ہوئے تھے۔جنگی جہاز ’آمر‘ اور ’یاستریب‘سیدھے پیٹروگراڈ آ رہے تھے۔ پرانے بکتر بند جہاز ’زاریا سوبوڈی‘ نے جنکروں کو غیر مسلح کرنے کے لئے جہازیوں کو اورانین بام اتارنے کے بعد مورسکوئی نہر پر لنگر انداز ہونا تھا، تاکہ بوقت ضرورت بالٹک ریلوے لائن پر بمباری کی جا سکے۔ پانچ ہزار جہازی اور سپاہی صبح سویرے جزیرہ کوٹلن [۱] سے روانہ ہوئے۔ افسروں کے کیبن میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔اِن افسران کو اُس مقصد کی خاطر لڑنے کے لئے لایا جا رہا ہے جس سے وہ نفرت کرتے تھے۔ دستے کے کمیسار، بالشویک فلیرووسکی نے اُن سے کہا: ’’ہمیں تمہاری ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ تم اپنی جگہوں پر رہو… ہم تمہیں کسی غیر ضروری آزمائش میں نہیں ڈالیں گے۔‘‘ اُسے بحریہ کی زبان میں مختصر جواب ملا: ’’ٹھیک، ٹھیک، جناب!‘‘ سب اپنی جگہوں پر چلے گئے۔ کمانڈر چبوترے پر چڑھ گیا۔
دریائے نیوا پہنچنے پر فاتحانے نعرے بلند ہوئے: جہازی اپنوں سے مل رہے تھے۔ دریا کے وسط میں لنگر انداز ’آرورا‘ پر بینڈ بج رہا تھا۔ اینٹونوف نے نئے آنے والوں سے مختصر استقبالی خطاب کیا: ’’وہ سامنے سرما محل ہے اور ہم نے ہر حال میں اُس پر قبضہ کرنا ہے۔‘‘ کرونسٹٹ کے دستے میں سب سے پرعزم اور بے باک افراد خود بخود آگے آ گئے۔ سیاہ وردیوں میں ملبوس رائفلیں تھامے جہازیوں کو کام کو انجام تک پہنچانا تھا۔ جہاز سے اترنے کا عمل تھوڑی دیر میں مکمل ہو گیا۔جہاز پر صرف ایک پہریدار سپاہی موجود رہا۔
اب کافی قوتیں دستیاب ہو چکی تھیں۔ ایکاٹیریننسکی نہر کے پُل پر مضبوط چوکیاں قائم ہیں اور موئیکا کے پُل پر بکتر بند گاڑیاں اور طیارہ شکن توپیں نصب ہیں، جن کا رُخ سرما محل کی طرف ہے۔ موئیکا کے اِس طرف مزدوروں نے مشین گنیں نصب کر رکھی تھیں۔
مورسکایا پر ایک بکتر بند گاڑی مستعد کھڑی ہے۔ دریائے نیوا اور اس کے پُل حملہ آوروں کے قبضے میں ہیں۔ چڈنووسکی اور حوالدار ڈاشکیوچ کو محافظ رجمٹوں سے کچھ دستے مارس فیلڈ بھیجنے کو کہا جاتا ہے۔ قلعے سے بلاگنراووف نے پُل عبور کر کے مارس فیلڈ والے دستوں سے رابطہ قائم کرنا ہے۔ ابھی ابھی پہنچنے والے جہازیوں نے قلعے اور ’آرورا‘ کے عملے سے رابطے میں رہنا ہے۔ توپخانے کی گولہ باری کے بعد حملہ شروع ہو گا۔
اِسی دوران بالٹک کے بحری بیڑے سے پانچ جنگی جہاز بھی پہنچ گئے۔ فلیرووسکی لکھتا ہے، ’’ ہمیں دستیاب قوتوں سے ہی جیت کا پورا یقین تھا، لیکن بحریہ کے اِس تحفے نے سب کا حوصلہ اور بھی بڑھا دیا۔‘‘ محل کے مالاشائٹ ہال کی کھڑیوں سے باہر جھانکتا ایڈمرل ورڈووسکی شاید یہ رعب دار باغی بحری بیڑا دیکھ سکتا ہو گا، جو نہ صرف محل اور قریبی علاقے بلکہ پیٹروگراڈ کے کلیدی راستوں پر بھی حاوی تھا۔
شام چار بجے کونووالوف نے ٹیلیفون کے ذریعے حکومت کے قریبی سیاسی رہنماؤں کو بلایا۔ محصور وزیروں کو کم از کم کچھ اخلاقی حمایت کی ضرورت تھی۔ صرف نابوکوف آیا۔ باقیوں نے ٹیلیفون کے ذریعے اظہار ہمدردی میں ہی عافیت جانی۔ وزیر ٹریٹیاکوف نے کیرنسکی اور مقدر کا شکوہ کیا: ’’وزیر اعظم اپنے ساتھیوں کو اپنے حال پر چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔‘‘ لیکن شاید کمک پہنچ جائے… شاید! نابوکوف نے چوری سے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے اظہارِ ہمدردی کیا اور جلد ہی الوداع کہہ گیا۔ وہ وقت پر ہی نکل گیا۔ چھ بجے کے تھوڑی ہی دیر بعد سرما محل کو آخر کار ہر طرف سے عسکری انقلابی کمیٹی کے دستوں نے گھیر لیا۔ اب کمک یا افراد کے لئے محل آنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
کونوگوارڈیسکی شاہراہ، ایڈمرلٹی گھاٹ، مورسکایا شاہراہ، نیوسکی شاہراہ، مارس فیلڈ، ملیونی شاہراہ اور دورتسوویگھاٹ والی طرف سے گھیرا تنگ ہونے لگا۔ دریا کے دوسری طرف پیٹر اور پال کا قلعہ دھمکا رہا تھا۔ دریائے نیوا سے ’آرورا‘ اپنی چھ انچی توپوں سے گھور رہا تھا۔ جنگی جہاز دریا میں آگے پیچھے گشت کر رہے تھے۔ اُس وقت سرکشی ایک بڑے پیمانے کی عسکری چال لگ رہی تھی۔
محل کے سامنے والے چوک پر بکتر بند گاڑیاں نمودار ہوئیں اور داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ کر لیا۔ گاڑیوں پر جلدی میں سرخ رنگ سے لکھے گئے ناموں کے نیچے پرانے حب الوطن نام ابھی تک نظر آ رہے تھے۔ اِن فولادی دیووں کے پیچھے حملہ آور خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کر رہے تھے۔ ایک بکتر بند گاڑی محل کے مرکزی داخلی راستے تک گئی، اُس کی حفاظت کرنے والے جنکروں کو غیر مسلح کیا اور کسی دشواری کے بغیر واپس آ گئی۔
اب مکمل ناکہ بندی کے باوجود بھی محصورین ٹیلیفون کے ذریعے باہر کی دنیا سے رابطے میں تھے۔ کیکسگولمسکی رجمنٹ کی ایک کمپنی نے اگرچہ پانچ بجے ہی اُس وزارتِ جنگ پر قبضہ کر لیا تھا جس کے ذریعے سرما محل صدر دفتر کیساتھ رابطے میں تھا۔ لیکن اِس کے بعد بھی ایک افسر کی رسائی کئی گھنٹوں تک جنوب مغربی محاذ کے مواصلاتی نظام تک رہی، جو وزارت کی اُس بالائی عمارت میں نصب تھا جس کی تلاشی کا خیال قبضہ کرنے والوں کو نہیں آیا تھا۔ تاہم پہلے کی طرح اب بھی اِس رابطے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ شمالی محاذ والوں کے جوابات زیادہ سے زیادہ گول مول ہوتے جا رہے تھے۔ کمک نہیں پہنچی۔ پراسرار سائیکل بٹالین نہیں پہنچی۔ خود کیرنسکی بھی کسی غوطہ خور کی طرح غائب ہو گیا تھا۔ شہر کے دوستوں نے خود کو مختصر سے مختصر تر اظہارِ ہمدردی تک محدود کر لیا۔ وزرا ہمت چھوڑ گئے۔ کرنے کو کوئی بات نہیں تھی، کوئی امید نہیں تھی۔ وزرا ایک دوسرے سے اور اپنے آپ سے اختلاف کر رہے تھے۔ اُن میں سے کچھ سکتے کے عالم میں تھے، باقی اوپر نیچے بھاگ رہے تھے۔ جو عمومیت کاری کی طرف مائل تھے وہ ماضی میں قصور وار تلاش کر رہے تھے۔ اُسے ڈھونڈنا مشکل نہیں تھا: جمہوریت!یہ جمہویت تھی جس نے اُنہیں حکومت میں بھیجا تھا، اُن پر اتنا بھاری بوجھ ڈالا تھا اور مشکل کی گھڑی میں اُنہیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ اب کی بار کیڈٹ اور سوشلسٹ بالکل متفق تھے۔ ہاں، سارا قصور جمہوریت کا تھا! زراعت کے وزیر، دائیں بازو کے سوشل انقلابی میسلوف نے ایک نوٹ لکھا، جسے اُس نے اپنا ’اقرار بمطابق نزع‘ قرار دیا۔ اُس نے جمہوریت پر لعنت بھیجتے ہوئے مرنے کا عہد کیا۔ اُس کے ساتھیوں نے فوراً دوما کو اِس تباہ کن ارادے سے ٹیلیفون کے ذریعے آگاہ کیا۔ اُس کی موت تو اپنے ابتدائی مراحل میں ہی رہی، لیکن لعنتوں کی کمی بہرحال نہیں تھی۔
اُوپر کمانڈر کے کمرے کے ساتھ ایک طعام گاہ تھی، جہاں شاہی نوکروں نے معزز افسروں کی تواضع ’’شاندار کھانے اور انگوری شراب‘‘ سے کی۔یوں ساری بدبختی کو کچھ وقت کے لئے فراموش کرنا ممکن تھا۔ افسروں نے اپنے مرتبوں کا تعین کیا، حسد آمیز موازنے کئے اور سست رفتار ترقیوں پر نئے اقتدار کو کوستے رہے۔ کیرنسکی کا ذکر بالخصوص ہوا: کل عبوری پارلیمنٹ میں وہ اپنی جگہ پر مرنے کی قسمیں کھا رہا تھا، آج راہباؤں کا لباس پہنے شہر سے بھاگ گیا ہے۔کچھ افسروں نے حکومت کے اراکین پر واضح کیا کہ مزید مزاحمت سراسر بیوقوفی ہے۔ توانائی سے بھرے پالچنسکی نے ایسے افسروں کو بالشویک قرار دے دیا اور اُنہیں گرفتار کرنے کی کوشش بھی کی۔
جنکر جاننا چاہتے تھے کہ آگے کیا ہو گا، اُنہوں نے حکومت سے وضاحت طلب کی، جو وہ دینے کی حالت میں نہیں تھی۔ اِسی دوران کشکن فوج کے صدر دفتر سے اینٹونوف کے دستخط شدہ الٹی میٹم کے ساتھ آیا، جو پیٹر اور پال کے قلعے سے ایک سائیکل سوار کے ذریعے کوارٹر ماسٹر پوراڈیلوف کو دیا گیا تھا: سرما محل کے تمام محافظین ہتھیار ڈال کر غیر مسلح ہو جائیں، بصورت دیگر قلعے کی توپوں اور جنگی جہازوں سے گولہ باری شروع کر دی جائے گی… سوچنے کے لئے بیس منٹ دئیے جاتے ہیں۔ یہ وقت چونکہ تھوڑا لگ رہا تھا لہٰذا پوراڈیلوف نے دس منٹ مزید مانگ لئے تھے۔ حکومت کے فوجی اراکین مینیکووسکی اور ورڈیریوسکی نے سادہ حل پیش کیا: لڑنا ناممکن ہے، ہمیں ہتھیار ڈالنے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ لیکن سویلین وزرا ڈھیٹ تھے۔ آخر کار اُنہوں نے الیٹی میٹم کا کوئی جواب نہ دینے اور شہر میں موجود واحد قانونی ادارے کے طور پر شہری دوما سے استدعا کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوما سے یہ استدعا جمہوریت کا سویا ہوا ضمیر جگانے کی آخری کوشش تھی۔
مزاحمت ختم کرنے کے حامی پوراڈیلوف نے اپنی سبکدوشی کی درخواست کی: اُسے ’’عبوری حکومت کے منتخب کردہ راستے پر اعتماد‘‘ نہیں تھا۔ تاہم موصوف کا استعفیٰ قبول کئے جانے سے پہلے ہی اُس کا تذبذب دور کر دیا گیا۔ پیولووسکی رجمنٹ کے ایک حوالدار کی قیادت میں سرخ محافظوں، جہازیوں اور سپاہیوں کے ایک دستے نے کسی مزاحمت کے بغیر فوج کے صدر دفتر پر قبضہ کر لیا اور اِس کمزور دل کوارٹر ماسٹر کو بھی گرفتار کر لیا۔ صدر دفتر پر کچھ وقت پہلے ہی قبضہ کیا جا سکتا تھا، کیونکہ اندر سے عمارت کے دفاع کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ لیکن محل کے سامنے والے چوک پر بکتر بند گاڑیوں کے نمودار ہونے سے پہلے تک محاصرہ کرنے والوں کو ڈر تھا کہ محل سے جنکروں کا حملہ اُن میں دراڑ ڈال دے گا۔
صدر دفتر ہاتھ سے نکل جانے کے بعد سرما محل خود کو اور بھی یتیم محسوس کرنے لگا۔ مالاشائٹ ہال، جس کا رُخ دریائے نیوا کی طرف تھا اور ’آرورا‘ کے کچھ گولوں کا طلبگار معلوم ہو رہا تھا، سے بھاگ کر وزرا محل کے دوسرے بے شمار کمروں میں چلے گئے، جن کی کھڑکیاں صحن کی طرف کھلتی تھیں۔ بتیاں بجھا دی گئیں۔ میز پر ایک تنہا لیمپ جل رہا تھا، جس کی روشنی کو اخباروں کے ذریعے کھڑکیوں تک پہنچنے سے روکا گیا تھا۔
اگر ’آرورا‘ نے گولہ باری شروع کر دی تو محل کا کیا بنے گا؟ وزیروں نے اپنے ایک بحری ساتھی سے پوچھا۔ ایڈمرل نے اپنے بحری توپخانے پر فخر محسوس کرتے ہوئے فوراً وضاحت کی، ’’کھنڈر بن جائے گا۔‘‘ ایڈمرل ورڈیریوسکی ہتھیار ڈالنے کے حق میں تھا، لہٰذا بے وقت بہادری دکھانے والے اِن لوگوں کو خوب ڈرا رہا تھا۔ لیکن ’آرورا‘ نے گولہ باری نہیں کی۔ قلعہ بھی خاموش رہا۔ شاید بالشویکوں میں اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کی ہمت نہیں ہے؟
بھرپور ہمت کا مظاہرہ نہ کرنے والے پولکوونیکوف کی جگہ تعینات کئے جانے والے جنرل بگراتونی نے اِس موقع کو مناسب سمجھتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ڈسٹرکٹ کمانڈر کی ذمہ داریاں نبھانے سے انکار کرتا ہے۔ کشکن کے حکم پر اِس جرنیل کو ’’نااہل‘‘ قرار دے کر معزول کر دیا گیا اور فوراً محل سے نکل جانے کو کہا گیا۔ گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے کمانڈر جہازیوں کے ہاتھ لگ گیا، جو اُسے بالٹک کے عملے کی بیرکوں میں لے گیا۔ جرنیل کا حال شاید کافی برا ہوتا، لیکن حتمی حملے سے قبل اپنے محاذ کا دورہ کرنے والے پوڈووئسکی نے اِس نامراد جنگجو کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
ملحقہ سڑکوں اور دریائی گھاٹوں سے بہت سے لوگوں نے دیکھا کیسے کچھ ہی دیر قبل سینکڑوں برقی بتیوں سے جگمگانے والا محل اچانک تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ اِن مشاہدین میں حکومت کے دوست بھی شامل تھے۔ کیرنسکی کے ایک ساتھی ریڈیمیسٹر نے لکھا ہے: ’’محل کی تاریکی ایک تشویشناک گتھی تھی۔‘‘ تاہم اِن دوستوں نے اِس گتھی کو سلجھانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ہمیں ماننا ہو گا کہ ایسے کوئی امکانات موجود بھی نہیں تھے۔
لکڑیوں کے ڈھیروں کے پیچھے چھپے جنکر بے چینی سے محل کے چوک پر بننے والا حصار دیکھ رہے تھے اور دشمن کی ہر حرکت کا جواب رائفلوں اور مشین گنوں کی گولیوں سے دے رہے تھے۔ اُنہیں بھی آگے سے ایسا ہی جواب مل رہا تھا۔ رات تک گولی باری شدت اختیار کر گئی۔ لوگ ہلاک اور زخمی ہونے لگے۔ تاہم اُن کی تعداد محدود تھی۔ چوک، گھاٹوں اور ملیونی شاہراہ پر محاصرہ کرنے والوں نے خود کو صورتحال کے مطابق ڈھال لیا اور عمارتوں کے باہر نکلے ہوئے حصوں کے پیچھے چھپ گئے، خالی جگہوں میں پناہ لے لی یا دیواروں کے ساتھ لگے گئے۔ ریزرو دستوں کے سپاہیوں اور سرخ محافظوں نے شام ڈھلے اپنے کیمپوں میں الاؤ جلا لئے، جن کے گرد اکٹھے ہو کر خود کو گرماتے رہے اور سستی کا مظاہرہ کرنے پر اپنے رہنماؤں کو کوستے رہے۔
محل میں راہداریوں، سیڑھیوں، داخلی راستوں اور صحن میں جنکروں نے پوزیشنیں سنبھالی ہوئی تھیں۔ باہر والے سنتری جنگلے اور دیواروں کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ عمارت میں ہزاروں کی گنجائش تھی، لیکن سینکڑوں موجود تھے۔ دفاعی لکیر کے پیچھے وسیع و عریض کمرے ویران ہو چکے تھے۔ زیادہ تر ملازمین منتشر ہو چکے تھے یا چھپ گئے تھے۔ بہت سے افسروں نے باورچی خانے میں پناہ لے لی، جہاں انہوں نے ابھی تک بھاگ نہ پانے والے نوکروں کو مسلسل شراب پیش کرنے کے کام پر لگا دیا۔ کربناک محل میں افسروں کا یہ غل غپاڑہ زیادہ دیر تک جنکروں، کاسکوں اور خواتین سپاہیوں سے چھپ نہیں پایا۔ کہانی کے انجام کی تیاری صرف باہر ہی نہیں اندر سے بھی ہو رہی تھی۔
توپخانے کے دستے کے ایک افسر نے اچانک دفاع کے کمانڈر کو اطلاع دی: کونسٹنٹی نووسکیسکول کے کمانڈر کے حکم پر جنکر اپنے ہتھیار داخلی راستے پر چھوڑ کر گھروں کو جا رہے ہیں۔کمانڈر نے اعتراض کیا کہ اُس کے سوا کسی کا حکم نہیں چل سکتا۔جنکر اِس بات کو سمجھتے تھے، لیکن اُنہوں نے سکول کے کمانڈر کی بات ماننے کو ترجیحی دی، جو آگے سے عسکری انقلابی کمیٹی کے کمیسار کے دباؤ میں تھا۔ توپخانے والوں کی اکثریت محل سے نکل گئی۔ نیوسکی پر سپاہیوں کے ایک گشت کرنے والے دستے نے روکا تو اُنہوں نے مزاحمت کی، لیکن ایک بکتر بند گاڑی کے ساتھ بروقت پہنچنے والے پیولووسکی رجمنٹ کے ایک دستے نے اُنہیں غیر مسلح کر دیا اور دو توپوں سمیت اپنی بیرکوں میں لے گئے۔ یہ دونوں توپیں موئیکا کے پُل اور نیوسکی پر سرما محل کی طرف نصب کر دی گئیں۔
محل میں موجود یوراسکی رجمنٹ کے دو سکواڈرن اپنے مزید ساتھیوں کی آمد کے منتظر تھے۔ ساونکوف، جو کاسک دستوں کی کونسل کے بہت قریب تھا اور اُس کی جانب سے بطور مندوب عبوری پارلیمنٹ میں بھی بھیجا گیا تھا، نے جنرل الیگزیف کی معاونت سے کاسکوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جیسا کہ ملیوکوف بالکل درست مشاہدہ کرتا ہے کہ کاسک کونسل کا سربراہ ’’کاسک کونسل کو اُتنا ہی کنٹرول کر سکتا تھا جتنا فوجی قیادت گیریزن کے دستوں کو کر سکتی تھی۔‘‘ سوال کے ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد کاسک رجمنٹ نے آخر کار اعلان کیا کہ وہ پیادہ فوج کے بغیر باہر نہیں نکلے گی۔ اِس رجمنٹ نے حکومتی املاک کی حفاظت کے لئے اپنی خدمات عسکری انقلابی کمیٹی کو پیش کر دیں۔ عین اسی وقت یورالسکی رجمنٹ نے سرما محل میں موجود اپنے دو سکواڈرن واپس بلانے کے لئے مندوبین بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا۔ یہ تجویز یورالسکی رجمنٹ کے ’’بوڑھوں‘‘ کے نئے مزاج کے عین مطابق تھی۔ اب اجنبی لوگوں کے سوا کوئی نہیں تھا: جنکر (جن میں کئی یہودی بھی تھے)، معذور افسران اور خواتین کے یلغاری دستے۔ تیوریاں چڑھا کر کاسک اپنا بوریا بستر سمیٹنے لگے۔مزید کوئی دلیل اُنہیں قائل نہیں کر سکتی تھی۔ اب کیرنسکی کی حفاظت کرنے کو کون بچا تھا؟ ’’صرف کچھ یہودی اور خواتین… روسی لوگ تو لینن کے ساتھ تھے۔‘‘ پتا چلا کہ کاسک محاصرہ کرنے والوں سے رابطے میں تھے اور اُنہیں باہر جانے والے ایک ایسے راستے سے بلا روک ٹوک جانے دیا گیا جو ابھی تک محل کے محافظوں کو بھی معلوم نہیں تھا۔ اُنہوں نے ایک مایوسانہ مقصد کے دفاع کے لئے صرف اپنی مشین گنیں چھوڑیں۔
بالشویکوں نے اِس سے پہلے بھی ملیونی شاہراہ کی طرف کھلنے والے اِسی راستے کو محل میں گھس کر دشمن کا حوصلہ پست کرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ راہداریوں میں جنکروں کے آس پاس پراسرار شخصیات نمودار ہونے لگی تھیں۔
مزاحمت بیکار ہے۔ سرکشوں نے شہر اور ریلوے سٹیشنوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ کوئی کمک نہیں ہے۔ اب ہم کیا کریں؟ جنکروں نے پوچھا۔ حکومت نے کوئی براہِ راست احکامات دینے سے انکار کر دیا۔ وزرا اپنے پرانے فیصلے پر قائم رہیں گے؛ باقی جو چاہیں کریں۔ اِس کا مطلب تھا جو جانا چاہتا ہے چلا جائے۔حکومت کے پاس کوئی عزم بچا تھا نہ کوئی سوچ۔ وزرا چپ چاپ اپنے انجام کا انتظار کر رہے تھے۔ ملیانٹووچ بعد ازاں بتاتا ہے: ’’ہم اِس دیوہیکل پنجرے میں اِدھر اُدھر پھرتے رہے، مختصر بات چیت کے لئے سب اکٹھے یا چھوٹے چھوٹے گروہوں میں ایک دوسرے سے ملتے رہے… برباد اور تنہا لوگ، جنہیں سب چھوڑ گئے تھے… ایک خالی پن سے گھرے ہوئے تھے، ہمارے اندر بھی ایک خالی پن تھا اور اِسی خالی پن میں پرسکون بے پرواہی کی بے روح جرات پنپنے لگی۔‘‘
اینٹونوف نے بلاگنراووف سے اتفاق کیا تھا کہ محل کا محاصرہ مکمل ہو جانے کے بعد قلعے کے جھنڈا لہرانے والے بانس پر ایک سرخ لالٹین روشن کی جائے۔ یہ سگنل ملنے پر محل والوں کو ڈرانے کے لئے ’آرورا‘ سے ایک خالی گولہ چلایا جائے گا۔ اگر محصورین نے ہتھیار نہ ڈالے تو قلعے کی ہلکی توپوں سے محل پر حقیقی گولہ باری شروع کر دی جائے گئی۔ اگر محل والوں نے پھر بھی ہتھیار نہ ڈالے تو ’آرورا‘ اپنی چھ انچی توپوں سے گولہ باری شروع کر دے گا۔ اِس ترتیب کا مقصد ہلاکتوں اور نقصان کو کم سے کم کرنا تھا۔ لیکن ایک سادہ مسئلے کے اِس انتہائی پیچیدہ حل سے متضاد نتائج برآمد ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ آغاز ایک سرخ لالٹین سے کیا جانا تھا: پتا چلا کہ سرخ لالٹین ہی موجود نہیں ہے۔ لالٹین ڈھونڈنے میں وقت ضائع ہوتا رہا اور آخر کار مل گئی۔ لیکن ایک لالٹین کو جھنڈے کے بانس سے اِس طرح باندھنا کہ یہ ہر طرف سے نظر آتی ہو، کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایک بار کوشش کی گئی، پھر کوشش کی گئی، بار بار کوشش کی گئی، لیکن حوصلہ افزا نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ اِس دوران قیمتی وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا تھا۔
تاہم کلیدی مسئلہ توپخانے کے معاملے میں پیش آیا۔ بلاگنراووف کی رپورٹ کی مطابق ایک سگنل پر محل پر گولہ باری کی تمام تیاریاں دوپہر سے ہی مکمل تھیں۔ حقیقت بالکل برعکس تھی۔ چونکہ قلعے میں کوئی مستقل توپخانہ نہیں تھا، لہٰذا چھوٹی توپوں کو قلعے کے دیواروں پر چڑھانا ضروری تھا۔ اِتنا کام تو دوپہر تک مکمل ہو چکا تھا۔ لیکن مسئلہ توپچی ڈھونڈے کا تھا۔ یہ پیشگی معلوم تھا کہ توپخانے کی کمپنی، جس نے جولائی میں بھی بالشویکوں کا ساتھ نہیں دیا تھا، بمشکل ہی قابل اعتماد تھی۔ ایک دن پہلے تک صدر دفتر کے احکامات کے تحت یہ ایک پُل کی حفاظت کر رہی تھی۔ اِ س سے پیٹھ پر چھرا گھونپنے کی توقع تو نہیں کی جا سکتی تھی، لیکن سوویتوں کے لئے خطرہ مول لینے کا اِس کمپنی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ جب کاروائی کا وقت آیا تو حوالدار نے اطلاع دی: توپیں زنگ آلود ہیں؛ کمپریسروں میں تیل نہیں ہے؛ گولہ باری ناممکن ہے۔ عین ممکن ہے کہ توپیں واقعی ٹھیک حالت میں نہ ہوں، لیکن مسئلہ یہ نہیں تھا: توپخانے والے بس ذمہ داری سے بھاگ رہے تھے اور ناتجربہ کار کمیساروں کو اپنے پیچھے لگایا ہوا تھا۔ اینٹونوف شدید غصے میں ایک کشتی کے ذریعے قلعے پہنچا۔ منصوبے کو کون سبوتاژ کر رہا ہے؟ بلاگنراووف نے اُسے لالٹین، تیل اور حوالدار کے بارے میں بتایا۔ دونوں اوپر توپوں کی طرف جانے لگے۔ رات، تاریکی، حالیہ بارشوں سے صحن میں بن جانے والے جوہڑ۔ دریا کے دوسری طرف سے رائفلوں کی گولیاں اور مشین گنوں کے کھڑکھڑانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اندھیرے میں بلاگنراووف راستے سے بھٹک گیا۔ جوہڑوں میں چھپ چھپ کرتا، بے چینی سے سلگتا، کیچڑ میں گرتا پڑتا اینٹونوف تاریک صحن میں اِس کمیسار کے پیچھے پیچھے بھٹک رہا تھا۔بلاگونراووف بتاتا ہے، ’’ایک مدھم سی لالٹین کے قریب اینٹونوف اچانک رُک گیا اور میرے بالکل قریب آکر اپنی عینک اوپر کر کے تفتیشی انداز سے مجھے گھورنے لگا۔‘‘ ایک لمحے کے لئے اینٹونوف کو وہاں غداری کا شبہ ہونے لگا تھا جہاں درحقیقت صرف لا پرواہی تھی۔
توپوں والی جگہ آخر کار ڈھونڈ لی گئیں۔ توپچی اپنی بات پر اڑے ہوئے تھے: زنگ… کمپریسر… تیل۔ اینٹونوف نے بحریہ سے توپچی لانے اور دوپہر کا اعلان کرنے والی پرانی توپ سے سگنل دینے کا حکم دیا۔ لیکن توپچی سگنل دینے والی توپ سے مشتبہ انداز میں چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔ وہ واضح طور پر محسوس کر رہے تھے کہ ٹیلی فون سے دور اور اُن کے ساتھ موجود کمانڈروں کا بھی بھاری توپخانے کے استعمال کا کوئی پختہ ارادہ نہیں تھا۔ اِ س سارے منصوبے کے بے ڈھنگے پن کے نیچے بھی یہی خیال پوشیدہ تھا: شاید اِس کے بغیر ہی کام چل جائے۔
صحن کی تاریکی میں کوئی دوڑتا ہوا آرہا ہے۔ جوں ہی وہ قریب پہنچتا ہے ، لڑکھڑاتا ہے اور کیچڑ میں جا گرتا ہے، تھوڑی گالیاں بکتا ہے لیکن غصے سے نہیں، پھر خوشی سے بیٹھی آواز سے چیخنے لگتا ہے: ’’محل پر قبضہ ہو گیا ہے اور ہمارے بندے وہاں ہیں۔‘‘ سب بے خودی کے عالم میں گلے ملنے لگتے ہیں۔ کتنی خوش قسمت تاخیر تھی! ’’ہم نے ایسا ہی سوچا تھا!‘‘ کمپریسروں کا معاملہ فوراً بھلا دیا جاتا ہے۔ لیکن دریا کے دوسری طرف گولی باری کیوں نہیں رکی ہے؟ شاید جنکروں کے کچھ انفرادی گروہ ہتھیار نہیں ڈال رہے تھے۔ شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے؟ یہ غلط فہمی ہی تھی: سرما محل پر نہیں بلکہ صرف صدر دفتر پر قبضہ ہوا تھا۔ محل کا محاصرہ جاری تھا۔
اوریانین بام سکول کے جنکروں سے ایک خفیہ معاہدے کے تحت چڈنووسکی، جو کسی کی نہیں سنتا تھا، مذاکرات کے لئے محل میں گھس گیا تھا: وہ گولیوں کے سامنے آنے کا بہت شوقین تھا۔ پالچنسکی نے اِس سورما کو گرفتار کر لیا، لیکن اورانین بام کے جنکروں کے دباؤ پر نہ صرف چڈنووسکی بلکہ بہت سے جنکروں کو بھی جانے دینے پر مجبور ہو گیا۔ وہ اپنے ساتھ سینٹ جارج بٹالین کے کچھ گھڑسواروں کو بھی لے گئے۔ چوک پر اِن جنکروں کی غیرمتوقع آمد نے محاصرہ کرنے والوں کو تذبذب میں مبتلا کر دیا۔ لیکن جب اُنہیں پتا چلا کہ یہ ہتھیار ڈالنے والے دستے ہیں تو خوشی سے گولیاں چلانے لگے۔ تاہم تھوڑے سے لوگوں نے ہی ہتھیار ڈالے تھے۔ باقی آڑ لے کر مسلسل گولیاں داغ رہے تھے۔ حملہ آوروں کی گولی باری میں بھی شدت آ گئی تھی۔ صحن میں روشن برقی بتی جنکروں کا خوب پتا دے رہی تھی۔ اُنہوں نے بڑی مشکل سے اُسے بجھایا۔ کسی اَن دیکھے ہاتھ نے اُسے پھر سے جلا دیا۔ جنکروں نے بتی کو گولی مار کے توڑ دیا اور پھر الیکٹریشن کو ڈھونڈ کر اُس سے ساری بجلی بند کروا دی۔
خواتین بٹالین نے اچانک محاصرین پر یلغار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اُن کی معلومات کے مطابق [موغیلیف میں] بڑے صدر دفتر کے کلرک لینن سے مل گئے تھے اور کچھ افسروں کو غیر مسلح کرنے کے بعد روس کی نجات کی آخری امید جنرل الیگزیف کو گرفتار کر لیا تھا۔ اُسے ہر قیمت پر چھڑایا جانا چاہئے۔عین اُن کی یلغار کے وقت گیٹ کے دونوں طرف کی بتیاں پھر جل گئیں۔ افسر محل کے نوکروں پر پَل پڑا: زار کے یہ سابقہ خدمت گزار اُسے انقلاب کے ایجنٹ لگ رہے تھے۔ محل کا الیکٹریشن اُس کی نظر میں اور بھی مشکوک تھا: ’’اگر تمہاری ضرورت نہ ہوتی تو میں تمہیں کب کا اگلے جہان بھیج چکا تھا۔‘‘ گولی مار دینے کی دھمکیوں کے باوجود الیکٹریشن کچھ کرنے سے قاصر تھا۔ اُس کا سوئچ بورڈ ہی کاٹا جا چکا تھا۔الیکٹرک سٹیشن پر جہازیوں نے قبضہ کر لیا تھا اور وہی بتیوں کو کنٹرول کر رہے تھے۔ خواتین سپاہی گولیوں کے سامنے ٹِک نہیں پائیں اور اُن کے بڑے حصے نے ہتھیار ڈال دئیے۔کمانڈر نے ایک دفعدار کے ذریعے وزیروں کو اطلاع دی کہ خواتین بٹالین کی یلغار ’’اُن کی تباہی پر منتج‘‘ ہوئی ہے اور سارا محل ایجی ٹیٹروں سے بھرا پڑا ہے۔ اِس یلغار کی ناکامی نے تقریباً دس سے گیارہ بجے تک مکمل سکوت طاری کر دیا۔ اِس دوران محاصرین توپخانے کی گولہ باری کی تیاریاں کر رہے تھے۔
اِس غیر متوقع خاموشی نے محصورین میں کچھ امید بیدار کر دی۔ وزیروں نے ایک بار پھر شہر اور پورے ملک میں اپنے حامیوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی: ’’پروکوپووچ کے سوا ساری حکومت موجود ہے اور ڈٹی ہوئی ہے۔ صورتحال حوصلہ افزا ہے… محل حملے کی زد میں ہے، لیکن صرف رائفل کی گولیاں داغی جا رہی ہیں جن سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا۔ یہ واضح ہے کہ دشمن کمزور ہے۔‘‘ درحقیقت دشمن بہت طاقتور ہے، لیکن اپنی طاقت کے استعمال کا فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔ حکومت پورے ملک میں الٹی میٹم اور’آرورا‘ کے بارے میں معلومات بھیجتی ہے، اور یہ کہ کیسے وہ ، یعنی حکومت، صرف آئین ساز اسمبلی کو ہی اقتدار منتقل کر سکتی ہے، اور یہ کہ کیسے سرما محل پر پہلا حملہ پسپا کر دیا گیا ہے، وغیرہ۔’’فوج اور عوام کو جواب دینے دو۔‘‘ لیکن وہ کیسے جواب دیں، اِس بارے میں یہ وزرا کچھ نہیں بتاتے۔
اِس دوران لاشیوچ دو جہازی توپچیوں کو قلعے بھیج دیتا ہے۔ وہ یقینا زیادہ تجربہ کار تو نہیں ہیں، لیکن کم از کم بالشویک ضرور ہیں اور کمپریسروں میں تیل کے بغیر بھی زنگ آلود توپوں سے گولے داغنے کو تیار ہیں۔اُن سے بس یہی درکار ہے۔ اِس وقت ہدف پر نشانہ لگانے سے زیادہ توپخانے کی آواز اہم ہے۔ اینٹونوف کام شروع کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کاروائی کی طے شدہ ترتیب کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔ فلیرووسکی کے مطابق ’’قلعے کی توپ سے دئیے جانے والے سگنل کے بعد ’آرورا‘ گرجنے لگا۔ بھرے ہوئے گولے کی نسبت خالی گولے کی دھمک اور چمک کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ گھاٹ کی دیوار پر کھڑے تماشائی پیچھے جا گرے اور رینگتے ہوئے بھاگ گئے۔‘‘ چڈنووسکی فوراً سوال اٹھاتا ہے: محصورین کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دینے کے بارے کیا خیال ہے؟ اینٹونوف فوراً اُس سے اتفاق کر تا ہے۔ ایک بار پھر رکاوٹ۔ خواتین اور جنکروں کا ایک گروہ ہتھیار ڈال رہا ہے۔چڈنووسکی اُنہیں ہتھیار ساتھ لے جانے دینا چاہتا ہے، اینٹونوف اِس ضرورت سے زیادہ شرافت کو بروقت ٹوک دیتا ہے۔قیدی اپنی رائفلیں سڑک کنارے رکھ کر ملیونی شاہراہ پر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
قلعہ ابھی تک مزاحمت کر رہا تھا۔ اب معاملے کو ختم کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ حکم دیا جاتا ہے۔ گولہ باری شروع ہوتی ہے، جو لگاتار نہیں ہے اور موثر تو تقریباً بالکل نہیں ہے۔ ڈیڑھ یا دو گھنٹے کے دوران داغے جانے والے 35 گولوں میں سے صرف دو نشانے پر لگتے ہیں، وہ بھی صرف دیواروں کے پلستر کو ہی زخمی کرتے ہیں۔ باقی اوپر نکل جاتے ہیں اور خوش قسمتی سے شہر کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ کیا اِس کی وجہ مہارت کی کمی ہے؟ وہ دریائے نیوا کے اُس طرف سے سرما محل جیسے غیر معمولی ہدف کو نشانہ بنا رہے تھے: اِس کے لیے کچھ زیادہ مہارت کی ضرورت تو نہیں ہے۔ کیا یہ فرض کرنا زیادہ درست نہیں ہو گا کہ لاشیوچ کے توپچی بھی جان بوجھ کر اونچا نشانہ باندھ رہے تھے ، تاکہ تباہی اور موت کے بغیر ہی معاملہ طے پا جا ئے؟ اُن دو گمنام جہازیوں کی نیت کا تعین اب کرنا انتہائی مشکل ہے۔ کیا وہ روس کی لامحدود سرزمین میں کہیں کھو گئے؟ یا اکتوبر کے بے شمار دوسرے سپاہیوں کی طرح اُنہوں نے بھی آنے والے مہینوں اور سالوں کی خانہ جنگی میں اپنی جان قربان کر دی؟
محل کے محافظین کی تعداد بہت کم ہو چکی تھی۔ یورالسکی رجمنٹ والوں، معذوروں اور خواتین بٹالین کی آمد کے وقت یہ ڈیڑھ یا شاید دو ہزار ہو گئی تھی، لیکن اب کم ہو کر ایک ہزار یا شاید اِس سے بھی کم ہو گئی تھی۔ ایک معجزہ ہی کچھ کر سکتا تھا۔ اور اچانک سرما محل کے مایوس کن ماحول میں خود معجزہ تو نہیں لیکن اُس کی آمد کی خبر آئی۔ پالچنسکی نے اعلان کیا: شہری دوما والوں نے ٹیلیفون کیا ہے کہ حکومت کو بچانے کے لئے شہری وہاں سے مارچ کرنے کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔ اُس نے سائنگب کو حکم دیا، ’’سب کو بتا دو کہ لوگ آ رہے ہیں۔‘‘ افسر اِس خوش خبری کے ساتھ اوپر نیچے اور راہداریوں میں بھاگنے لگا۔ اِس دوران اُس کا سامنا شراب کے نشے میں دھت افسروں سے بھی ہوا، جو دو دھاری تلواروں کیساتھ ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے، اگرچہ کوئی خون خرابہ نہیں کر رہے تھے۔ جنکروں نے اپنے سر اٹھا لئے۔ منہ زبانی پھیلتے پھیلتے یہ خبر زیادہ رنگین اور متاثر کن بن گئی۔ محصور قلعے کو آزاد کرانے کے لئے پادریوں کی قیادت میں عوامی لوگ، تاجر اور عوام آ رہے ہیں۔ پادریوں کے ساتھ عوام! ’’یہ سب کتنا خوبصورت ہو گا!‘‘ بچی کھچی توانائی بھڑک اٹھی: ’’آہا! روس زندہ باد!‘‘ اورانین بام کے جنکروں، جنہوں نے اُس وقت تک چلے جانے کا فیصلہ کم و بیش کر ہی لیا تھا، نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا اور رُک گئے۔
لیکن پادریوں کے ساتھ آنے والے عوام بڑے سست رفتار ہیں۔ محل میں ایجی ٹیٹروں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کچھ ہی وقت میں ’آرورا‘ گولہ باری شروع کر دے گا۔ راہداریوں میں سرگوشیاں ہو رہی ہیں۔ یہ سرگوشیاں منہ زبانی پھیل رہی ہیں۔ اچانک دو دھماکے ہوتے ہیں۔ جہازی محل میں گھس چکے ہیں اور دو دستی بم پھینکے ہیں، جن سے دو جنکر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ جہازیوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور کشکن، جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے، زخمیوں کی مرہم پٹی کر دیتا ہے۔
مزدوروں اور جہازیوں کا داخلی عزم عظیم ہے، لیکن یہ ابھی تک تلخ نہیں ہوا ہے۔ وہ کہیں بھڑک نہ اٹھیں، لہٰذا محصورین اپنے محل میں گھسنے والے دشمن کے کارندوں سے زیادہ سختی سے پیش آنے کی جرات نہیں کرتے۔ کسی کو گولی نہیں ماری جاتی۔ بن بلائے مہمان اب ایک ایک کر کے نہیں بلکہ گروہوں میں نمودار ہو رہے ہیں۔ محل اب ایک چھلنی بنتا چلا جا رہا ہے۔جب جنکر اِن گھس بیٹھیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں تو وہ کوئی مزاحمت نہیں کرتے۔ پالچنسکی حقارت سے کہتا ہے، ’’کیسے بزدل بدذات ہیں!‘‘ لیکن نہیں، یہ لوگ بزدل نہیں ہیں۔ افسروں اور جنکروں سے بھرے محل میں گھسنے کے لئے بہت ہمت چاہئے ہوتی ہے۔ اجنبی عمارت کی بھول بھلیوں میں، تاریک راہداریوں میں، بے شمار دروازوں کے بیچوں بیچ یہ جان پر کھیل جانے والے بھلا ہتھیار ڈالنے کے سوا کر بھی کیا سکتے تھے۔ قیدیوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے۔ نئے گروہ اندر گھسنے لگتے ہیں۔ اب پتا نہیں چل رہا کہ کون کس کے سامنے ہتھیار ڈال رہا ہے، کون کسے غیر مسلح کر رہا ہے۔ توپخانہ گولہ باری جاری رکھتا ہے۔
سرما محل سے بالکل متصل علاقے کے سوا، سڑکوں پر زندگی رات گئے تک رواں دواں ہے۔ تھیٹر اور سینما کھلے ہیں۔ دارالحکومت کی معزز اور پڑھی لکھی پرتوں کو بظاہر کوئی فکر نہیں ہے کہ اُن کی حکومت پر بمباری ہو رہی ہے۔ ٹروئٹسکی پُل پر ریڈیمیسٹر نے خاموشی سے آتے راہگیر دیکھے۔ ’’کوئی غیرمعمولی چیز نظر نہیں آ رہی تھی۔‘‘ ایوانِ عام کی طرف سے آنے والے واقف کاروں نے توپوں کی مسلسل گھن گرج میں اُسے بتایا کہ ’ڈان کارلوس‘ میں شلیاپن [۲] نے بے مثال فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزرا اپنے پنجرے میں اِدھر اُدھر بھاگتے رہے۔
’’یہ واضح ہے کہ حملہ آور کمزور ہیں۔‘‘ اگر ہم مزید ایک گھنٹے تک جمے رہیں تو شاید کمک پہنچ جائے؟ رات گئے کشکن نے خزانے کے نائب وزیر خروشچیف، جو کیڈٹ ہی تھا، کو ٹیلیفون پر بلایا اور کیڈٹ پارٹی کے رہنماؤں کو یہ بتانے کی درخواست کی کہ کیرنسکی صبح تک کمک لے کر پہنچ ہی جائے گا اور حکومت کو تب تک جمے رہنے کے لئے کم از کم تھوڑی بہت مدد درکار ہے۔ وہ طیش سے چلّایا، ’’یہ کیسی پارٹی ہے جو تین سو مسلح بندے نہیں بھیج سکتی۔‘‘وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ کیسی پارٹی تھی؟ اِن کیڈٹوں نے پیٹروگراڈ کے انتخابات میں ہزاروں ووٹ لئے تھے، لیکن بورژوا حکومت کو لاحق جان لیوا خطرے کے وقت تین سو بندے لانے سے قاصر تھے۔ اگر اِن وزیروں کو محل کی لائبریری میں مادیت پسند ہابز [۳] کی کتابیں ڈھونڈنے کا خیال ہی آ جاتا تو وہ خانہ جنگی کے بارے میں اُس کے مکالموں میں پڑھ سکتے تھے کہ امیر ہو جانے والے دکانداروں سے جرات کی توقع رکھنا یا مطالبہ کرنا بے سود ہوتا ہے، ’’کیونکہ اُنہیں اپنے وقتی فائدے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا… اور لٹ جانے کے امکان کے خیال سے ہی تھر تھر کانپنے لگتے ہیں۔‘‘ لیکن زار کی لائبریری میں بھلا ہابز کا کیا کام تھا۔ اِن وزیروں کی اوقات بھی تاریخی فلسفہ پڑھنے کی نہیں تھی۔ کشکن کا ٹیلیفون سرما محل سے کی جانے والی آخری کال تھی۔
سمولنی والے معاملہ ختم کرنے کا قطعی مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم محاصرے کو صبح تک نہیں کھینچ سکتے، شہر کو تناؤ میں نہیں رکھ سکتے، کانگریس کو مضطرب نہیں کر سکتے، ساری فتح پر سوالیہ نشان نہیں لگا سکتے۔ لینن برہمی کا اظہار کرتا ہے۔ عسکری انقلابی کمیٹی ٹیلیفون پہ ٹیلیفون کر رہی ہے۔ پوڈووئسکی جواب دیتا ہے۔ عوام کو محل پر چھوڑ دینا ممکن ہے۔ لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ لیکن کتنے لوگ مریں گے اور وزیروں اور جنکروں کا کیا حشر ہو گا؟ لیکن معاملے کو انجام تک پہنچانے کی ضرورت بہت جابر ہے۔ بحری توپخانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ پیٹر اور پال کے قلعے سے ایک جہازی کاغذ کا ایک ٹکڑا ’آرورا‘ لے جاتا ہے۔ محل پر فوراً گولہ باری شروع کر دو۔ لگتا ہے اب سب کچھ صاف ہو جائے گا۔ ’آرورا‘ کے پوپچی کاروائی کے لئے تیار ہیں، لیکن رہنماؤں میں ابھی تک استقلال کی کمی ہے۔ ٹال مٹول کی ایک اور کوشش کی جاتی ہے۔ فلیرووسکی لکھتا ہے، ’’حالات میں تبدیلی کے امکان کو اپنی جبلت سے محسوس کرتے ہوئے ہم نے مزید پندرہ منٹ انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ یہاں ’’جبلت‘‘ کو ایک ڈھٹائی پر مبنی امید کے طور پر سمجھنا ضروری ہے کہ معاملہ محض طاقت کے اظہار سے ہی حل ہو جائے گا۔ لیکن اِس بار ’’جبلت‘‘ نے دھوکہ نہیں دیا۔ پندرہ منٹ ہونے کو تھے کہ سرما محل سے ایک نیا قاصد آیا۔ محل پر قبضہ ہو چکا ہے!
محل نے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ حملہ کر کے اس پر قبضہ کیا گیا، تاہم اُس وقت تک محصورین کی مزاحمت کی طاقت بھی بالکل ہوا ہو چکی تھی۔ سینکڑوں جہازی اور سپاہی راہداری میں گھس گئے، اب کی بار کسی خفیہ راستے سے نہیں بلکہ اُس دروازے سے جس کا بھرپور دفاع کیا جا رہا تھا، ہمت ہار چکے محافظوں نے اُنہیں دوما کا وفد سمجھ لیا تھا۔ جنکروں کی ایک بڑی تعداد بھاگ گئی۔ باقی مزاحمت کرتے رہے۔ تاہم حملہ آوروں اور محافظوں کے درمیان سنگینوں اور گولیوں کی دیوار آخر کار ٹوٹ گئی۔
محل کا ’ہجرے‘سے متصل حصہ حملہ آوروں سے بھر چکا تھا۔ جنکروں نے اُن پر پیچھے سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ راہداریوں میں ہونے والے تصادم اور مقابلے کسی خواب کے منظر جیسے تھے۔ ہر کوئی خوفناک حد تک مسلح تھا۔ ہاتھوں میں پستول تھے۔ پیٹیوں سے دستی بم لٹک رہے تھے۔ لیکن کسی نے گولی چلائی نہ بم پھینکا۔ کیونکہ وہ اور اُن کے دشمن اِس حد تک گھلے ملے ہوئے تھے کہ خود کو الگ نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم محل کے مقدر کا فیصلہ بہرحال ہو چکا تھا۔
مزدوروں، جہازیوں اور سپاہیوں کے گروہ اندر گھس رہے ہیں، جنکروں کو مورچوں سے زمین پر گرا رہے ہیں، صحن میں سے اپنا راستہ بنا رہے ہیں، سیڑھیوں پر جنکروں سے ٹکرا رہے ہیں، اُنہیں پیچھے دھکیل رہے ہیں، اُن پر چڑھائی کر رہے ہیں، اُنہیں اوپر چڑھ جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ پیچھے سے ایک نئی لہر آتی ہے۔ سارا چوک صحن میں امڈ آتا ہے۔ صحن محل میں امڈ آتا ہے اور سیڑھیوں کے اوپر نیچے اور راہداریوں میں سیلاب کی طرح پھیل جاتا ہے۔ لکڑی کے میلے فرش پر بستروں اور روٹی کے ٹکڑوں کے درمیان لوگ، رائفلیں اور دستی بم پڑے ہیں۔ فاتحین کو پتا چلتا ہے کہ کیرنسکی یہاں موجود نہیں ہے، اُن کی غضبناک خوشی میں مایوسی کا ایک مختصر کرب خلل ڈال دیتا ہے۔اینٹونوف اور چڈنووسکی اب محل میں ہیں۔ حکومت کہاں ہے؟ وہ سامنے دروازہ ہے، جہاں مزاحمت کا آخری مظاہرہ کرتے ہوئے جنکر جمے کھڑے ہیں۔ سنتریوں کا سربراہ بھاگ کر وزیروں کے پاس جاتا ہے: کیا ہمیں آخر تک مزاحمت کرنے کا حکم ہے؟ نہیں، نہیں، وزرا یہ حکم نہیں دیتے ہیں۔ آخر کار محل پر قبضہ ہو گیا ہے۔ کوئی خون نہیں بہا ہے۔ ہمیں طاقت کے سامنے جھکنا ہو گا۔ وزرا عزت و وقار سے ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں اور حکومت کے ایک اجلاس کی نقالی کرتے ہوئے میز پر بیٹھے ہیں۔ کیڈٹوں کی زندگیاں، جنہیں لینے کی کوشش ویسے بھی کسی نے نہیں کی تھی، بخش دینے کی ضمانت پر کمانڈر پہلے ہی ہتھیار ڈال چکا ہے۔ جہاں تک وزیروں کے انجام کا سوال ہے تو اینٹونوف اِس بارے میں کسی قسم کے مذاکرات سے یکسر انکار کر دیتا ہے۔
آخری محفوظ دروازے پر کھڑے جنکروں کو بھی غیر مسلح کر دیا گیا۔ فاتحین وزیروں کے کمرے میں گھس گئے۔ ’’ہجوم کے سامنے ایک قدرے چھوٹا اور عام سا آدمی لمبے لمبے قدم بڑھا رہا تھا اور آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والوں کو روک رہا تھا۔ اُس کے کپڑے تتر بتر تھے، ٹوپی ٹیڑھی تھی، ناک پر عینک کا توازن بھی ٹھیک نہیں تھا۔ لیکن اُس کی چھوٹی آنکھوں میں فتح کی خوشی اور مفتوحین سے بغض کی چمک تھی۔‘‘ مفتوحین نے اِس تحقیر آمیز انداز سے اینٹونوف کی تصویر کشی کی ہے۔ اُس کی ٹوپی اور کپڑے واقعی تتربتر ہوں گے: قلعے کے جوہڑوں میں سے اُس کے رات کے سفر کو یاد رکھنا ہی کافی ہے۔اُس کی آنکھوں میں فتح کی خوشی بھی جھلک رہی ہو گی، لیکن مفتوحین سے بغض بمشکل ہی ہو گا۔ عسکری انقلابی کمیٹی کی طرف سے اینٹونوف نے اعلان کیا: ’’میں تمہیں، عبوری حکومت کے اراکین کو مطلع کرتا ہوں کہ تم زیر حراست ہو۔‘‘ اس وقت گھڑی پر رات کے 2:10 بج رہے تھے اور 26 تاریخ شروع ہو چکی تھی۔ عبوری حکومت کے اراکین نے خون خرابے سے بچنے کے لئے چپ چاپ گرفتاری دے دی۔یوں رسم کا سب سے اہم حصہ انجام دیا گیا۔
اینٹونوف نے محل میں گھسنے والے پہلے دستوں میں سے پچیس آدمی منتخب کئے اور وزیروں کو اُن کی تحویل میں دے دیا۔ ایک منٹ کی کاروائی کے بعد گرفتار شدگان کو باہر چوک میں لایا گیا۔ ہجوم، جس کے لوگ ہلاک و زخمی ہوئے تھے، واقعی بپھرا ہوا تھا۔ ’’اِنہیں گولی مار دو! یہ موت کے مستحق ہیں!‘‘ کچھ سپاہیوں نے وزیروں کو مارنے کی کوشش کی۔ سرخ محافظوں نے شدت پسندوں کو خاموش کروایا: پرولتاری فتح کو داغدار نہ کرو! مسلح مزدوروں نے قیدیوں اور اُنہیں لے جانے والوں کے گرد مضبوط گھیرا بنا لیا۔ ’’آگے بڑھو!‘‘ اُنہیں زیادہ دور نہیں بلکہ ملیونی شاہراہ پر سے ٹروئٹسکی پُل کے اُس پار ہی جانا تھا۔ لیکن ہجوم کے اشتعال نے اِس مختصر سفر کو بھی طویل اور خطرات سے بھرپور بنا دیا۔ وزیر نکیٹن نے بعد ازاں بالکل درست لکھا کہ اینٹونوف کی بھرپور مداخلت کے بغیر مضمرات ’’انتہائی سنجیدہ‘‘ ہو سکتے تھے۔ رہی سہی کسر پوری کرنے کے لئے پُل پر سے گزرتے ہوئے اِس جلوس پر کسی نے غلطی سے گولی چلا دی۔ قیدیوں اور اُنہیں لے جانے والوں کو نیچے لیٹنا پڑا۔ لیکن یہاں بھی کوئی زخمی نہیں ہوا۔ کوئی آدمی تنبیہ کے لئے ہوا میں گولیاں چلا رہا ہے۔
یہ چالیس پچاس لوگ قلعے کے گیریزن کلب کے تنگ سے کمرے میں جمع ہیں، جو اُس رات بجلی کے خلل کی وجہ سے تیل والے دھواں دار لیمپ سے روشن تھا۔ قلعے کے کمیسار کی موجودگی میں اینٹونوف وزیروں کی حاضری لگاتا ہے۔ اعلیٰ ترین معاونین سمیت یہ کُل اٹھارہ لوگ ہیں۔ آخری رسومات ختم ہوتی ہے اور قیدیوں کو تاریخی قلعے کے تاریخی ٹروبٹسکوئیقید خانے کے مختلف کمروں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ قلعے کے محافظوں میں سے کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا: افسروں اور جنکروں کو اِس عہد پر چھوڑ دیا گیا تھا کہ وہ سوویت اقتدار کے خلاف کسی سرگرمی میں شریک نہیں ہوں گے۔ اُن میں سے چند ایک ہی اپنی زبان پر قائم رہے۔
سرما محل پر قبضے کے فوراً بعد بورژوا حلقوں میں جنکروں کے قتل، خواتین بٹالین کے ساتھ جنسی زیادتی اور محل کے خزانوں کی لوٹ مار کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ اِن تمام من گھڑت کہانیوں کی تردید عرصہ قبل ہی ہو گئی تھی، جب ملیوکوف نے اپنی تاریخ میں لکھا تھا: ’’خواتین بٹالین میں سے جو گولیوں سے بچ گئیں اُنہیں بالشویکوں نے حراست میں لے لیا اور اُس شام اور رات کے دوران سپاہیوں کے خوفناک سلوک، تشدد اور گولیوں کا نشانہ بنایا۔‘‘ درحقیقت کسی کو گولی نہیں ماری گئی اور اُس وقت دونوں اطراف کے مزاج کے پیش نظر کسی کو گولی ماری بھی نہیں جا سکتی تھی۔تشدد کے اقدامات کا امکان تو اِس سے بھی کم تھا، بالخصوص محل میں، جہاں بے شمار حادثاتی عناصر کے ساتھ ساتھ سینکڑوں مسلح مزدور بھی آگئے تھے۔
لوٹ مار کی کوششیں واقعی کی گئیں ، لیکن یہ کوششیں ہی تھیں جنہوں نے فاتحین کے ڈسپلن کو آشکار کیا۔ جان ریڈ، جو انقلاب کا ایک بھی ڈرامائی واقعہ دیکھنے سے محروم نہیں رہا تھا اور جو پہلے دستوں کے پیچھے پیچھے محل میں داخل ہوا، بتاتا ہے کہ کیسے تہہ خانے کے گوداموں میں سپاہیوں کا ایک گروہ اپنی بندوقوں کے دستوں سے دراز توڑ رہا تھا اور قالین، چینی کے برتن اور شیشے کی اشیا نکال رہا تھا۔ یہ عین ممکن ہے کہ سپاہیوں کے بہروپ میں باقاعدہ ڈاکو سرگرم ہوں، جیسا کہ وہ جنگ کے آخری سالوں میں اپنی شناخت کو فوجی کوٹوں میں چھپا کر اکثر و بیشتر کاروائیاں کرتے تھے۔ لوٹ مار ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ کوئی چلّایا: ’’کامریڈ، کسی چیز کو نہ چھیڑیں، یہ سب کچھ عوام کی ملکیت ہے۔‘‘ داخلی راستے پر ایک سپاہی میز پر قلم کاغذ لے کر بیٹھ گیا، اُس کے پیچھے پستولوں سے مسلح دو سرخ محافظ کھڑے تھے۔ باہر جانے والے ہر شخص کی تلاشی لی جاتی تھی اور چوری کی ہر شے واپس لے کر درج کر لی جاتی تھی۔ اِس طرح سے مجسمے، سیاہی کی بوتلیں، صابن اور تلواریں وغیرہ برآمد کی گئیں۔ جنکروں کی بھی اچھی طرح سے تلاشی لی گئی اور اُن کی جیبیں چوری کی چیزوں سے بھری ہوئی تھیں۔ سپاہیوں نے جنکروں کو گالیاں اور دھمکیاں دیں، لیکن اِ س سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔ اِس دوران جہازی پریخوڈکو کی قیادت میں محل کا حفاظتی دستہ تشکیل دیا گیا۔ ہر جگہ سنتری تعینات کر دئیے گئے۔ محل کو باہر والوں سے خالی کرا لیا گیا۔ اگلے کچھ گھنٹوں میں چڈنووسکی کو سرما محل کا کمیسار تعینات کر دیا گیا۔
لیکن پادریوں کی قیادت میں محل کو آزاد کروانے کے لئے آنے والے ’’عوام‘‘ کا کیا بنا؟ اِس بہادرانہ کوشش کے بارے میں بتانا ضروری ہے جس کی خبر ایک لمحے کے لئے جنکروں کے دلوں کو لگی تھی۔
شہری دوما بالشویک مخالف قوتوں کا گڑھ تھی۔ نیوسکی شاہراہ پر اس کی عمارت میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ پارٹیاں، دھڑے، ذیلی دھڑے، گروہ، باقیات اور بااثر افراد بالشویکوں کی مجرمانہ مہم پر بحث کر رہے تھے۔ وقتاً فوقتاً وہ محل میں دم توڑتی حکومت کو ٹیلیفون کرتے تھے اور اُنہیں تسلی دیتے تھے ہمہ گیر لعنت ملامت کے بوجھ تلے سرکشی اپنی موت آپ مر جائے گی۔ کئی گھنٹے بالشویکوں کی اخلاقی تنہائی کے بارے گفتگو ہوتی رہی۔ اِس دوران توپخانہ بولنے لگا۔ وزیر پروکوپووچ، جسے صبح گرفتار کر کے جلد ہی چھوڑ دیا گیا تھا، نے سسکیاں لیتے ہوئے دوما سے شکایت کی کہ اُس سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جینے مرنے کا حق بھی چھین لیا گیا تھا۔اُس نے سب میں غمگساری اور ہمدردی کے جذبات بیدا کر دئیے، لیکن اِس اظہار ہمدردی میں کافی وقت ضائع ہوا۔
تقاریر اور خیالات کے اِس عمومی تذبذب سے آخر کار ایک عملی منصوبہ برآمد ہوا، جسے سارے اجلاس کی بھرپور ستائش ملی۔ ساری دوما ایک جلوس کی شکل میں سرما محل جائے گی، تاکہ بوقت ضرورت وہاں حکومت کے ساتھ ہی مر سکے۔ سوشل انقلابی، منشویک، کوآپریٹو تنظیموں والے، سب کے سب وزیروں کو بچانے یا اُن کے ساتھ مرنے کو تیار ہو گئے۔ عام طور پر خطروں میں نہ پڑنے والے کیڈٹوں نے بھی اب کی بار اپنی جان حاضر کر دی۔ہال میں اتفاقاً موجود کچھ صوبائی لوگوں، دوما کے صحافیوں اور ایک عام آدمی نے بھی کم وبیش خوش گفتار زبان میں دوما کے ساتھ جینے مرنے کی اجازت چاہی۔ اجازت دے دی گئی۔
بالشویک دھڑے نے ایک بدمزہ مشورہ دینے کی کوشش کی: موت کی تلاش میں تاریک سڑکوں پر بھٹکنے کا کیا فائدہ؟ بہتر ہے کہ وزیروں کو ٹیلیفون کرو اور اُنہیں خون خرابے سے پہلے ہتھیار ڈالنے پر مائل کرو۔ لیکن جمہوریت پسند خوب برہم تھے: سرکشی کے یہ ایجنٹ ہمیں نہ صرف اقتدار بلکہ بہادرانہ موت سے بھی محروم کر دینا چاہتے ہیں! اِس دوران اراکین نے تاریخ کے مفاد میں سب کے نام پکار کر ووٹ لینے کا فیصلہ کیا۔ دوما کے باسٹھ اراکین نے فیصلے کی توثیق کی:جی ہاں، وہ سرما محل کی بربادی میں مرنے کو تیار ہیں۔ اِس پر چودہ بالشویکوں نے جواب دیا کہ سرما محل میں مرنے سے بہتر ہے کہ سمولنی کے ساتھ لڑا جائے۔ وہ فوراً سوویت کانگریس کے اجلاس کے لئے نکل گئے۔ صرف تین منشویک انٹرنیشنلسٹوں نے دوما کی عمارت میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا: اُن کے پاس جانے کی کوئی جگہ تھی نہ مرنے کا کوئی مقصد۔
دوما کے اراکین ابھی اپنے آخری سفر پر روانہ ہونے ہی والے تھے کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی اور خبر ملی کی کسانوں کے نمائندگان کی ساری مجلس عاملہ بھی اُن کے ساتھ شامل ہونے آ رہی ہے۔مسلسل تالیاں اور نعرے! اب تصویر مکمل اور واضح ہو گئی تھی: شہری آبادی کے تمام طبقات کے نمائندوں کے ساتھ کروڑوں کسانوں کے نمائندے بھی بدمعاشوں کے ایک معمولی گینگ کے ہاتھوں مرنے جا رہے ہیں۔ تقاریر اور تالیوں کی کوئی کمی نہ تھی۔
کسانوں کے نمائندوں کی آمد کے بعد یہ سارا جلوس آخر کار نیوسکی شاہراہ پر روانہ ہو گیا۔ سب سے آگے بلدیہ کا صدر شرائیڈر اور وزیر پروکوپووچ تھے۔ مارچ کرنے والوں میں جان ریڈ نے کسان مجلس عاملہ کے صدر ایوکسنٹیف اور منشویک رہنماؤں خنچک اور ابرامووچ کو بھی دیکھا، جن میں سے پہلا دائیں بازو کا جبکہ دوسرا بائیں بازو کا سمجھا جاتا تھا۔ پروکوپووچ اور شرائیڈر نے ایک ایک لالٹین اٹھا رکھی تھی: ایسا ٹیلیفون پر وزیروں کے ساتھ طے ہوا تھا، تاکہ جنکر کہیں اِن دوستوں کو دشمن نہ سمجھ لیں۔کئی دوسروں کی طرح پروکوپووچ نے بھی چھتری اٹھا رکھی تھی۔ پادری موجود نہیں تھے۔ یہ پادریوں والی بات مادرِ وطن کی تاریخ کے غبار آلود ٹکڑوں کو جوڑ کر جنکروں کے بھدّے تخیل نے تخلیق کی تھی۔ عوام بھی موجود نہیں تھے۔ اُن کی غیر موجودگی اِس سارے منصوبے کے کردار کا تعین کرتی تھی۔ تین چار سو ’’نمائندے‘‘ ہیں اور جن کی نمائندگی ہو رہی ہے اُن میں سے ایک بھی نہیں! سوشل انقلابی زینزینوف یاد کرتا ہے، ’’یہ ایک تاریک رات تھی اور نیوسکی شاہراہ پر بتیاں نہیں جل رہی تھیں۔ ہم ایک باقاعدہ جلوس کی شکل میں آگے بڑھ رہے تھے… دور سے توپوں کی گھن گھرج سنائی دے رہی تھی۔یہ بالشویک تھے جو سرما محل پر مسلسل بمباری کر رہے تھے۔‘‘
ایکاٹیریننسکی نہر پر مسلح جہازیوں کے ایک دستے نے جمہوریت کے اِس جلوس کا راستہ روک لیا۔ قسمت کے مارے یہ لوگ چلّانے لگے، ’’ہم آگے جائیں گے۔تم ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہو؟‘‘ جہازیوں نے بے تکلفی سے جواب دیا کہ وہ طاقت کا استعمال کریں گے: ’’اپنے گھروں کو چلے جاؤ اور دوبارہ نظر نہ آنا۔‘‘ جلوس والوں میں سے کسی نے تجویز پیش کی کہ یہاں موقع پر ہی جان دے دی جائے۔ لیکن دوما کے ووٹ میں اِس مختلف صورتحال کی پیش بینی نہیں کی گئی تھی۔ وزیر پروکوپووچ کسی اونچی جگہ پر چڑھ گیا اور ’’اپنی چھتری لہرا تے ہوئے‘‘ مظاہرین کی منت سماجت کرنے لگا کہ اِن جاہل اور گمراہ لوگوں کو غصہ نہ دلایا جائے جو واقعی ہتھیاروں کے استعمال پر اتر سکتے ہیں۔ ’’آؤ واپس دوما چلیں اور ملک اور انقلاب کو بچانے کے طریقوں پر غور کریں۔‘‘
یہ واقعی ایک معقول تجویز تھی۔ حقیقی منصوبہ یقینا نامکمل رہے گا۔ لیکن اِن مسلح بدمعاشوں کا کیا کیا جا سکتا ہے جو جمہوریت کے رہنماؤں کو ایک بہادرانہ موت بھی مرنے نہیں دے رہے ہیں؟ سٹینکیوچ،جو خود بھی اِس جلوس میں شریک تھا، غمناک انداز سے لکھتا ہے، ’’وہ تھوڑی دیر وہاں کھڑے رہے، سردی لگی تو واپس جانے کا فیصلہ کیا۔‘‘ نیوسکی شاہراہ پر جلوس واپس دوما کی عمارت کی طرف چلا گیا۔ وہاں آخر کار اُسے ’’ملک اور انقلاب کو بچانے کے طریقے‘‘ مل ہی گئے ہوں گے۔
سرما محل پر قبضے کے بعد دارالحکومت مکمل طور پر عسکری انقلابی کمیٹی کے تسلط میں آ گیا۔ لیکن جیسے موت کے بعد بھی ناخنوں اور بالوں کی نشونما جاری رہتی ہے، ویسے ہی معزول حکومت اپنی سرکاری پریس کے ذریعے زندگی کے آثار دکھاتی رہی۔ عبوری حکومت کا جریدہ 25 تاریخ کو اچانک غائب ہو گیا تھا،اِس واقعے پر کسی نے کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔ لیکن 26 تاریخ کو یہ اچانک نمودار ہو گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ اِس کے پہلے صفحے پر ایک سرخی لگی ہوئی تھی: ’’بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے 25 اکتوبر کا شمارہ نہیں نکل پایا۔‘‘ گویا بجلی کے سوا باقی ہر لحاظ سے حکومت کا کاروبارِ زندگی رواں دواں تھا اور اِس حکومتی جریدے، جس کا ٹھکانہ اب ٹروبٹسکوئے کا قید خانہ تھا، نے ایک درجن نئے سنیٹروں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔’’انتظامی معلومات‘‘ والے کالم میں وزیر داخلہ نکیٹن کا مراسلہ صوبائی کمیساروں کو ہدایت دے رہا تھا کہ ’’پیٹروگراڈ میں واقعات کی جھوٹی خبروں پر یقین نہ کیا جائے، یہاں سب ٹھیک ہے۔‘‘ ویسے یہ وزیر کچھ زیادہ غلط بھی نہیں تھا۔ انقلاب کے دن کافی امن و امان سے گزر گئے تھے، ماسوائے توپوں کی گھن گرج کے، جو صرف صوتی اثرات تک ہی محدود رہی۔ لیکن تاریخ دان یہ کہنے میں غلطی پر نہیں ہو گا کہ 25 اکتوبر کو صرف حکومتی چھاپہ خانے کی بجلی ہی منقطع نہیں ہوئی تھی، بلکہ انسانیت کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا تھا۔

*****

[۱] کرونسٹٹ کا قلعہ اِسی جزیرے پر واقع ہے۔
[۲] ڈان کارلوس ایک مشہور گرینڈ اوپرا (موسیقی پر ترتیب دیا ہوا ڈراما) ہے۔ شلیاپن اُس زمانے کا مشہور اوپرا اداکار تھا۔
[۳] تھامس ہابز (1588-1679ء) ۔ برطانوی فلاسفر، جسے جدید سیاسی فلسفے کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں