لاہور(جدوجہد رپورٹ)بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں عسکری حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔ بدھ (23 اپریل) کی شام سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے کہاکہ ’1960 کا سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک فوری اثر سے معطل کیا جا رہا ہے جب تک کہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت سے مکمل اور قابل اعتبار طور پرباز نہیں آجاتا۔‘
یہ اقدام پہلگام حملے میں 26سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف اٹھائے گئے سفارتی اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اٹاری بارڈر بند کرنے، ویزے رد کرنے اور پاکستانی اہلکاروں کو بھارت چھوڑنے کا حکم بھی دیا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو پاکستان نے غیر قانونی قرار دیا ہے اور پانی روکے جانے کے عمل کو ’ایکٹ آف وار‘ قرار دیا ہے اور اس کا سخت جواب دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
’دی وائر‘ نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی استطاعت پر ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق بھارت دو کام کر سکتا ہے۔
سب سے پہلے بھارتی حکومت مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) کے کنٹرول شدہ پانی کے بہاؤ کو روک سکتی ہے، یعنی ان دریاؤں پر بنائے گئے ڈیموں اور پن بجلی کے منصوبوں سے پانی چھوڑنا بند کر سکتی ہے۔ اگرچہ ان دریاؤں کا قدرتی بہاؤ جاری رہے گا، لیکن کنٹرول شدہ بہاؤ (جو پاکستان کی آبپاشی اور پینے کے پانی کے لیے ضروری ہے) کو روکا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر، چناب پربنا بگلیہار ڈیم پانی کو روک سکتا ہے، جس سے پاکستان کی طرف بہاؤ کم ہو سکتا ہے۔
دوم، بھارت مغربی ندیوں پر پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں جیسے چناب پر پکل ڈل (1000 میگاواٹ) اور ساولکوٹ (1856 میگاواٹ) کو تیزی سے مکمل کرنے کی سمت کام کر سکتا ہے۔ اس سے بھارت مستقبل میں چناب کے پانی کے بہاؤ پر مزید کنٹرول حاصل کر سکے گا۔
اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کے تحت تکنیکی اجلاسوں، ڈیٹا شیئرنگ اور تنازعات کے حل کے عمل کو بھی ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کو اب پاکستان کو پانی کے بہاؤ یا منصوبوں کے ڈیزائن میں تبدیلی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
قدرتی بہاؤ اور کنٹرول شدہ بہاؤ میں کیا فرق ہے؟
سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں، قدرتی بہاؤ اور کنٹرول شدہ بہاؤ میں فرق یہ ہے کہ پانی کا بہاؤ قدرتی طور پر بہہ رہا ہے یا اسے انسانی مداخلت سے کنٹرول کیاگیا ہے؟
قدرتی بہاؤ پانی کی وہ مقدار ہے جو ایک مقررہ وقت میں کسی دریا سے گزرے گی اگر انسان کے بنائے ہوئے ڈیم، ذخائر یا رکاوٹیں نہ ہوں۔ اس میں بارش سے آنے والا پانی، گلیشیئر پگھلنے اور زیر زمین پانی کے ذرائع سے حاصل ہونے والا پانی شامل ہوتا ہے۔
کنٹرول شدہ بہاؤ کا مطلب انسان کے بنائے ہوئے ڈیموں،ذخائر،دروازوں وغیرہ سے پانی کے بہاؤ کوکنٹرول کرناہوتا ہے۔اس میں پانی کو روکنا، وقت پر چھوڑنا، یا اسے بڑھانا یا کم کرنا شامل ہے۔ سندھ طاس معاہدے بھارت کو مغربی دریاؤں پر’رن آف دی ریور‘ہائیڈرو پاور پراجیکٹس بنانے کی اجازت دیتا ہے، یعنی وہ پانی کو عارضی طور پر موڑ سکتا ہے، لیکن اس کی مجموعی مقدار میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کر سکتا۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو کتنا پانی ملتا ہے؟
سندھ،جہلم اور چناب سے ہر سال اوسطاً 135ایم اے ایف (اوسط سالانہ بہاؤ یا سالانہ اوسط پانی کا بہاؤ) پانی پاکستان کو ملتا ہے۔ بھارت ان دریاؤں پر جتنے چاہے رن آف دی ریور پروجیکٹ بنا سکتا ہے، جیسے بگلیہار ڈیم، 7.01 لاکھ ایکڑ رقبہ کی سینچائی کرسکتا ہے، اور زیادہ سے زیادہ 3.6 ایم اے یف پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔
معاہدے کے تحت بھارت کو جموں و کشمیر اور لداخ میں 13.4 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کی اجازت ہے لیکن اب تک صرف 6.42 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، بھارت مشرقی دریاؤں سے 33 ایم اے ایف پانی حاصل کرتا ہے، جس میں سے صرف 90 فیصد استعمال ہو رہا ہے۔ راوی سے 2 ایم اے ایف پانی اور ستلج/بیاس سے 5.5 ایم اے ایف پانی پاکستان کی طرف جاتا ہے کیونکہ بھارت میں اس کے لیے بنیادی ڈھانچے مکمل نہیں ہیں۔
معاہدہ معطل کرنے سے کیا اثر پڑے گا؟
ان دریاؤں کا اوسطاً 135 ایم اے ایف گلیشیئرزکے پگھلنے اور مو ن سون سے آتا ہے، جو معاہدے کی معطلی سے متاثر نہیں ہو گا۔تاہم بھارت کے زیر کنٹرول بہاؤ، جو کہ تقریباً 3.6 ایم اے ایف کے ذخائر سے ہوتا ہے، کو روکا جا سکتا ہے۔
فی الحال بھارت کے پاس جموں کشمیر میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش بہت کم ہے، اس لیے زیادہ پانی ذخیرہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ بگلیہار ڈیم میں صرف 1.5 ایم اے ایف تک ذخیرہ ممکن ہے۔ بھارت صرف اتنا ہی پانی روک سکتا ہے جتنا اس کے پاس ترقی یافتہ ڈھانچے میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اس کے بعد اس پانی کوچھوڑنا ہی پڑے گا۔
اگر بھارت 3.6 ایم اے ایف کی مکمل صلاحیت پیدا کرتا ہے تو وہ پاکستان کو پانی کی فراہمی کو عارضی طور پر کنٹرول کر سکتا ہے، خاص طور پر کھیتی کے سیزن میں، لیکن وہ اس پانی کو مستقل طور پر ذخیرہ یا خود استعمال نہیں کر سکتا۔
پاکستان کو نقصان ہو سکتا ہے؟
مغربی دریاؤں کا60سے70 فیصد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے اور 30سے 40 فیصد مون سون سے آتا ہے، جس پر بھارت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اس لیے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے باوجود پاکستان کو ہر سال سندھ طاس معاہدے کا 131.4فیصد پانی ملتا رہے گا۔
مون سون کے دوران (جولائی تا ستمبر)ان دریاؤں میں پانی کا بہاؤ 5800 کیوبک میٹر فی سیکنڈ سے زیادہ ہوتا ہے، جو بھارت کی مصنوعی رکاوٹ کو ناکام بنا سکتا ہے۔ اس لیے اس کا فوری اثر واضح نہیں ہے، لیکن 2025 کے موسم گرما میں، جب فصلیں بوئی جاتی ہیں، اس کے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
طویل مدت میں اگر بھارت بڑے منصوبے مکمل کرتا ہے اور پاکستان لچک دکھانے سے قاصر رہتا ہے، تو اس سے پاکستان میں پانی کا بحران گہرا ہو سکتا ہے۔
تو ان سب کا کیا مطلب ہے؟
قدرتی جغرافیہ، نامکمل ڈھانچے اور معاہدوں کی شرائط کی وجہ سے بھارت کے لیے پاکستان کو پانی سے محروم کرنا مشکل ہے۔ انڈس سسٹم کا زیادہ تر پانی پاکستان کو ملتا رہے گا۔
بھارت کسی حد تک کنٹرول شدہ بہاؤ (3.6 ایم اے ایف) کو کنٹرول کر سکتا ہے، لیکن 131.4ایم اے ایف قدرتی بہاؤ بھارت کے کنٹرول سے باہر ہے۔ بھارت کے لیے اس وقت تک پانی کے اس بہاؤ کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں جب تک وہ بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر نہیں بنالیتا۔