روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

سوشلزم کے نام پر برطانیہ کی سب سے بڑی پارٹی کا قیام

سوشلزم کے نام پر برطانیہ کی سب سے بڑی پارٹی کا قیام

حارث قدیر

برطانیہ میں زارہ سلطانہ اور جیرمی کوربن کی قیادت میں سوشلزم کے نام پر نئی پارٹی کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ ’یور پارٹی‘ کے نام سے بننے والی اس نئے ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی کی تاسیسی کانفرنس29اور30نومبر کو برطانیہ کے شہر لیور پول میں منعقد کی گئی۔

کانفرنس میں اراکین نے معمولی اکثریت سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کی قیادت اجتماعی ہوگی۔ ارکین کی اکثریت نے ہی پارٹی کی تاسیسی کانفرنس میں شرکت سے روکے جانے والے دیگر فارلیفٹ پارٹیوں کے اراکین کی شرکت کے حق میں بھی ووٹ کیا۔ اس ووٹنگ کو زارہ سلطانہ کی جیت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے سوشلسٹ ورکرز پارٹی اور دیگر فار لیفٹ پارٹیوں کے اراکین کو کانفرنس میں شرکت سے روکے جانے پر احتجاج کیا تھا اور کانفرنس کے پہلے دن کا بائیکاٹ کیا تھا۔

زارہ سلطانہ کا ہی موقف تھا کہ پارٹی کا ایک لیڈرنہیں ہونا چاہیے،بلکہ پارٹی کو اجتماعی قیادت کے ماڈل پر چلایا جانا چاہیے۔ دوسری طرف جیرمی کوربن اور ان کے ساتھیوں کاموقف تھا کہ پارٹی کا ایک لیڈر ہونا چاہیے۔ پارٹی کے عبوری آئینی ڈھانچے پر ووٹنگ کے نتائج سے پہلے کوربن نے کہا تھا کہ ’’عوام کے لیے یہ بات سمجھنا کافی مشکل ہے کہ کوئی 10 افراد ہوں گے جو سب کچھ چلائیں گے۔‘‘

تاہم ارکان نے 51.6 فیصد بمقابلہ 48.6 فیصد ووٹوں سے فیصلہ کیا کہ پارٹی اجتماعی قیادت کے ماڈل پر چلائی جائے گی۔اراکین پر مشتمل منتخب ایگزیکٹو کمیٹی پارٹی کے انتظام اور حکمت عملی کے بڑے فیصلے کرے گی، جب کہ ایک چیئرپرسن، ڈپٹی چیئرپرسن اور ترجمان عوامی سطح پر جماعت کی نمائندگی کریں گے۔ان تمام عہدوں پر بھی وہ تجاویز منظور ہوئیں جن کی حمایت زارہ سلطانہ نے کر رکھی تھیں، جن میں یہ شق بھی شامل ہے کہ ارکان کو دیگر سیاسی گروہوں کی دوہری رکنیت رکھنے کی اجازت ہو۔

جیرمی کوربن نے ہفتے کے دن صحافیوں کو بتایا تھا کہ یور پارٹی میں شمولیت کی شرط یہ ہے کہ ارکان کسی ایسی جماعت کے ساتھ منسلک نہ ہوں، جو الیکٹورل کمیشن میں رجسٹرڈ ہو۔

سابق لیبر رہنما جیرمی کوربن اور ان کے اتحادی اراکین پارلیمنٹ نے سابق لیبر ایم پی اور موجودہ وقت آزاد حیثیت سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے والی زارہ سلطانہ کے ساتھ مل کر جولائی میں نئی بائیں بازو کی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ابتدا ہی سے نئی پارٹی کے حامی دو گروپوں میں بٹے ہوئے تھے ۔ ایک گروپ جیرمی کوربن، جبکہ دوسرا گروپ زارہ سلطانہ کی قیادت میں تھا۔ تاہم برطانیہ بھر میں نئی پارٹی کو بے حد پذیرائی ملی۔ آن لائن ممبرشپ کے دوران 8لاکھ سے زائد لوگوں نے ویب سائٹ پر نئی پارٹی میں شمولیت کی حامی بھری۔

باضابطہ ممبرشپ کے آغاز پر بھی دونوں گروپوں کے درمیان تضادات ابھر کرسامنے آئے۔ اسی دوران جیرمی کاربن کے حامی اراکین پارلیمنٹ نے اس پراجیکٹ سے علیحدگی کا بھی اعلان کیا۔ انہی تضادات کی ہی وجہ سے تاسیسی کانفرنس کے انعقاد میں بھی تاخیر ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ کانفرنس کے آغاز پر بھی جیرمی کوربن نے اتحاد کی اپیل کی اور اعتراف کیا کہ پارٹی کی بنیاد رکھنے کے عمل میں غلطیاں ہوئی ہیں۔

تمام تر مسائل کے باوجود 55ہزار اراکین نے باضابطہ ممبرشپ حاصل کی ہے اورپارٹی کی تاسیسی کانفرنس میں ووٹنگ میں حصہ لیا۔ تاسیسی کانفرنس میں شرکت البتہ توقعات سے کم ہوئی، تاہم ووٹنگ کے عمل میں اراکین نے بھرپور حصہ لیا۔ تاسیسی کانفرنس میں 2500افراد نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کے دوران زارہ سلطان نے پہلے دن شرکت نہ کرنے کی وجہ بتائی اور وِچ ہنٹنگ کوزہریلی ثقافت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سفر کر کے کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے، ان پر کانفرنس کے دروازے بند کرنا ناقابل قبول عمل ہے۔ اس وجہ سے پارٹی کی بنیاد اور تنظیم سازی کے عمل کو بدنامکیا گیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اور ان کی ٹیم ’ممبر ڈیموکریسی‘ چاہتے ہیں۔ پارٹی اس اصول پر ہونی چاہیے کہ پارٹی اراکین کی ہو، ممبران پارلیمنٹ کی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد سیاست کے معنی تبدیل کرنا ہے۔ ماضی کی سیاست اور اس کے اندازکو تبدیل کرنا ہے۔ نئی پارٹی لیبر پارٹی کی طرح اندرونی دھڑے بندی، بیک روم ڈیلز اور دائیں و بائیں کے سیاسی کھیل کی نقل نہ ہو۔

انہوں نے برطانیہ کے رائل خاندان اور بادشاہت پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہیں پیراسائٹ(طفیلی) قراردیتے ہوئے بادشاہت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بادشاہت اور رائل فیملی کے لیے عوامی فنڈز اور رائج نظام ظالمانہ اور استحصالی ہے۔

انہوں نے کھل کر امیگرنٹس ، ایل جی بی ٹی اور دیگر مظلوم طبقات کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے خود کو انٹرنیشنل اسٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا بھر میں مظلوموں کے لیے آواز اٹھائیں گے، سوڈان سے کانگو اور فلسطین تک مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور، محنت کش، معذور،امیگرنٹس، ٹرانس اور سوشل رائٹس ایکٹوسٹس کے حقوق کا مل کر دفاع کریں گے۔ ہم سب ایک ہیں اور ہماری جدوجہد ایک ہے۔ بالادست طاقتور ایک پر حملہ کریں گے تو انہیں ہم سب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کھل کر صیہونیت مخالفت کا اعلان کیا اور اعلان کیا کہ وہ آزاد، سیکولر فلسطین کی حمایت جاری رکھیں گی۔ انہوں نے اپنی مہاجر ہونے پر بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے سے انکار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے باپ دادا کے وطن کو برطانوی سامراج نے لوٹا اور دولت کو یہاں منتقل کیا اور آج ہم اسی حق سے برطانیہ میں آباد ہیں۔

انہوں نے ارن دھتی رائے کے ایک فقرے سے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک اور دنیا محض ممکن ہی نہیں، بلکہ وہ آرہی ہے۔ ایک پرسکون دن میں ، میں اسے سانس لیتا ہوا محسوس کرتی ہو۔‘‘

آخر میں انہوں نے پارٹی کے قیام اور تنظیم سازی میں ہونے والی کچھ ’ہک آپس‘(غلطیوں) پر معذرت کی اور اعلان کیا کہ وہ خود ان خامیوں کا اعتراف کرتی ہیں تاکہ پارٹی بہتر انداز سے آگے بڑھے۔

جیرمی کوربن نے کہا کہ ان کی نئی پارٹی کو برطانیہ کی سیاست کے سہ فریقی نظام کے خلاف ایک حقیقی نیا متبادل بنانا چاہیے۔ انہوں نے غریب، مزدور، بے گھر، کمزور طبقوں کے لیے حق مساوات اور سماجی انصاف کا عزم دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں لوگ رات گزارنے کی جگہ نہیں پاتے، لوگ کرایہ ادا کرنے کے لیے اپنی تنخواہوں کا بڑا حصہ خرچ کرتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف بڑی بڑی عمارتیں بنی ہوئی اور خالی پڑی ہیں، ان سے سرمایہ کمایا جا رہا ہے۔ یہ نظام غلط ہے، اور تبدیلی لانا ہو گی۔

انہوں نے سرمایہ دارانہ معاشی نظام اور پالیسیوں کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم ایک ایسی معیشت اور سماج تعمیر کر سکتے ہیں جو منافع خوری، امیر و غریب کے فرق، سرمایہ داروں کی دولت کے انبار، عدم مساوات اور غربت پر مبنی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو لوگوں کی پارٹی بنانے کے عہد پر قائم ہیں۔صرف جذبات یا احتجاج نہیں بلکہ مستحکم تنظیم، یکجہتی اور فعال سیاسی کام کی ضرورت ہے۔

سوشلزم کے نام پر برطانیہ میں ’یورپارٹی‘ کا قیام ایک غیر معمولی اقدام ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سرمایہ داری کے موجودہ زوال کے عہد میں اصلاحات کی گنجائش بھی اب موجود نہیں ہے۔ ایسے میں اس نظام کے اندر رہ کر اصلاحات ممکن نہیں ہیں۔ سوشلزم کے خلاف البتہ عالم گیر پروپیگنڈے اور اس کے اختتام کے اعلانات کے باوجود آج ایک بار پھر مغرب کے دروازے پر سوشلزم کا بھوت منڈلا رہا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ سمیت لاطینی امریکہ میں اس نظام کے متبادل کے طور پر سوشلزم کی بحث کا اتنے بڑے پیمانے آغاز مستقبل کی نئی بحثوں کے آغاز کا باعث بن سکتا ہے ۔اس نظام کے اندر اگر سوشلسٹ اصلاحات کی گنجائش نہیں ،تو سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اس نظام کو تبدیل کر کے نسل انسان کے مقدر بدلنے کی گنجائش اورصلاحیت محنت کش طبقے میں ضرور موجود ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں