روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

سوویت کانگریس اور جون کا مظاہرہ

سوویت کانگریس اور جون کا مظاہرہ

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

سوویتوں کی پہلی کانگریس، جس نے کیرنسکی کو حملے کی منظوری دی، 3 جون کو پیٹروگراڈ میں کیڈٹ کور کی عمارت میں جمع ہوئی۔ 820 مندوبین کو ووٹ ڈالنے اور 268 کو بات رکھنے کا حق حاصل تھا۔ وہ 305 مقامی سوویتوں،محاذ کی 53 ضلعی اور علاقائی تنظیموں، عقب کے فوجی اداروں اور کچھ کسان تنظیموں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ کم از کم 25000 افراد پر مشتمل سوویتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا تھا۔ 10000 سے 25000 کے درمیان کی سوویتوں کو صرف بولنے کا حق حاصل تھا۔ اِس اصول،جس پر اگرچہ سختی سے عملدرآمد نہیں کیا گیا، کی بنیاد پر ہم یہ فرض کر سکتے ہیں 2 کروڑ افراد سوویتوں کے پیچھے کھڑے تھے۔ اپنی پارٹی وابستگی کی معلومات دینے والے کُل 777 مندوبین میں سے 285 سوشل انقلابی ، 248 منشویک اور 105بالشویک تھے؛ کچھ کا تعلق کم اہم گروہوں سے تھا۔ بایاں بازو، یعنی بالشویک اور ان کے ساتھ وابستہ انٹرنیشنلسٹ، مندوبین کا 1/5 حصہ تھا۔ کانگریس زیادہ تر ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو مارچ میں سوشلسٹ بنے تھے لیکن جون تک انقلاب سے تھک چکے تھے۔ پیٹروگراڈ یقینا اُنہیں ایک ایسا شہر لگتا ہو گا جو پاگل ہو چکا تھا۔
کانگریس کا آغاز گرمّ کو ملک سے نکالنے کی منظوری سے ہوا۔ وہ سوئٹزرلینڈ کا ایک ناخوش سوشلسٹ تھا جو انقلابِ روس اور جرمن سوشل ڈیموکریسی کو جرمن بادشاہت کے سفارتکاروں سے پس پردہ مذاکرات کے ذریعے بچانے کی کوشش کر رہا تھا [۱]۔ بائیں بازو کے اس مطالبے کو وسیع اکثریت نے مسترد کر دیا کہ آنے والے حملے کے سوال پر بحث کی جائے۔ بالشویک ایک چھوٹے سے گروہ کی طرح نظر آ رہے تھے۔ تاہم عین اسی دن اور شاید اسی لمحے، پیٹروگراڈ کی فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کے ایک اجلاس نے بھی وسیع اکثریت کے ساتھ یہ قرارداد منظور کی کہ صرف سوویتوں کی حکومت ہی ملک کو بچا سکتی ہے۔
مصالحت پسند چاہے جتنے بھی کوتاہ بین تھے لیکن وہ دیکھ سکتے تھے کہ ہر روز اُن کے آس پاس کیا ہو رہا تھا۔ 4 جون کے اجلاس میں بالشویکوں سے نفرت کرنے والے لائبر نے بظاہر صوبائی مندوبین کے زیر اثر، حکومت کے اُن نکمّے کمیساروں کو برا بھلا کہا جن کے ہاتھ صوبوں کا اقتدار آیا ہی نہیں تھا۔ ’’اِس کے نتیجے میں حکومتی اداروں کے بہت سے امور سوویتوں کے ہاتھ آ گئے ہیں، حالانکہ سوویتیں اِن امور کو ادا کرنا بھی نہیں چاہتیں۔‘‘ ان لوگوں نے بھی کسی کے خلاف تو شکایت کرنا تھی، چاہے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
ایک مندوب، جو سکول کا ایک استاد تھا، نے کانگریس سے شکایت کی کہ انقلاب کے چار مہینے بعد بھی تعلیم کے میدان میں ذرا سی بھی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ سارے پرانے اساتذہ، معائنہ کار، ناظم، ضلعوں کے نگران، جن میں سے بیشتر بلیک ہنڈرڈ کے سابقہ اراکین ہیں، سارے پرانے سکول پروگرام، رجعتی کتابیں، حتیٰ کہ پرانے نائب وزرا تک اپنی جگہوں پر بدستور موجود تھے۔ صرف چوباروں سے زار کی تصاویر اتاری گئی تھیں، شاید وہ بھی کسی دن دوبارہ لگا دی جاتیں۔
ریاستی دومایا ریاستی کونسل پر ہاتھ اٹھانے کا فیصلہ کانگریس نہیں کر پائی۔ رجعت کے سامنے اس کی بزدلی کو منشویک مقرر بوگڈانوف نے اس تبصرے کے ذریعے چھپایا کہ دوما اور سوویت ’’ویسے بھی معدوم تنظیمیں ہیں۔‘‘مارٹوف نے اپنی حجتی حاضر جوابی سے جواب دیا: ’’بوگڈانوف کا خیال ہے کہ ہمیں دوما کو مردار قرار دے دینا چاہئے لیکن اس کے خاتمے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔‘‘
حکومت کے حمایتیوں کی ٹھوس اکثریت کے باوجود تشویش اور غیر یقینی کیفیت میں کانگریس کی کاروائی آگے بڑھی۔ حب الوطنی بڑی بجھ سی گئی تھی اور صرف مدھم سی چمک دے رہی تھی۔ یہ واضح تھا کہ عوام بے چین تھے اور کانگریس کی نسبت پورے ملک اور خصوصاً دارالحکومت میں بالشویک انتہائی مضبوط تھے۔ بالشویکوں اور مصالحت پسندوں کے درمیان لڑائی بنیادی طور پر اِس سوال کے گرد گھوم رہی تھی: جمہوریت پسندوں کو کس کا ساتھ دینا چاہئے، سامراجیوں کا یا مزدوروں کا؟ کانگریس پر اتحادی ممالک کا سایہ منڈلا رہا تھا۔ حملے کا سوال پہلے سے طے شدہ تھا؛ جمہوریت پسند اسے منظور کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
سریتیلی نے تبلیغ شروع کر دی،’’ اس نازک لمحے میں کسی بھی سیاسی قوت کو اس وقت تک میزان سے خارج نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ عوام کے نصب العین کے لئے فائدہ مند ہے۔‘‘ بورژوازی سے اتحاد کا جواز کچھ ایسا ہی تھا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ پرولتاریہ، فوج اور کسان ہر قدم پر اُن کے منصوبوں کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں، جمہوریت پسندوں کو بالشویکوں کے خلاف جنگ کے لبادے میں عوام کے خلاف جنگ کھولنا پڑ گئی۔ اسی لئے سریتیلی نے کرونسٹٹ کے جہازیوں کو منحرف قرار دیا تھا تاکہ کیڈٹ پیپلائیف سے تعلقات نہ بگڑیں۔ 126 کے خلاف 543 ووٹوں سے مخلوط حکومت کی توثیق کر دی گئی، 52 مندوبین نے ووٹ نہیں دیا۔
اعلانات کے معاملے میں جاہ و جلال اور عملی فرائض میں تھڑ دلا پن اس کیڈٹ کور کی عمارت میں ہونے والے اجتماع کا خاصہ تھا۔ اس نے اپنے تمام فیصلوں پر مایوسی اور منافقت کی مہر ثبت کی۔ کانگریس نے تمام روسی قومیتوں کے حق خود ارادیت کے حق کو تسلیم کیا، لیکن اِس مشتبہ حق کے استعمال کی کنجی خود محکوم قومیتوں کو نہیں بلکہ مستقبل کی ایک آئین ساز اسمبلی کو تھما دی، جس میں مصالحت پسندوں کو اکثریت میں ہونے اور سامراجیوں کی گماشتگی کرنے کی توقع تھی، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے حکومت میں کی تھی۔
کانگریس نے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کا حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔سریتیلی نے اِس انحراف کی وضاحت آبادی کی مختلف پرتوں کے مفادات کی مصالحت میں درپیش مشکلات کی بنیاد پر کی۔ گویا رجعتی مفادات پر ترقی پسندانہ مفادات کی فتح کی بجائے تاریخ میں کوئی ایک بھی عظیم کام ’’مفادات کی مصالحت‘‘ کے ذریعے بھی مکمل ہوا تھا!
ایک سوویت معیشت دان گروہمین نے ناگہانی معاشی تباہی اور حکومتی ریگولیشن کی ضرورت پر کانگریس کے اواخر میں اپنی ناگزیر قرارداد پیش کی۔ کانگریس نے اس رسمی قرارداد کو منظور کر لیا، لیکن صرف اس لئے کہ ہر چیز پہلے کی طرح ہی رہے۔
ٹراٹسکی نے 7 جون کو لکھا، ’’گرمّ کو ملک سے نکالنے کے بعد کانگریس اصل معاملات کی طرف متوجہ ہوئی۔ لیکن سکوبیلیف اور اس کے ساتھیوں کے لئے سرمایہ دارانہ منافعے پہلے کی طرح ہی قابلِ احترام رہے۔ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ خوراک کا بحران شدید ہو رہا ہے۔سفارتی میدان میں حکومت پر ایک کے بعد دوسری ضرب لگ رہی ہے۔ اور آخر میں جس حملے کے بگل پاگلوں کی طرح بجائے جا رہے ہیں وہ قوم سے انتقام لینے کے لئے تیار ہے، یہ ایک خوفناک مہم جوئی ہے… لووف، ترشچینکو اور سریتیلی، ہمیں ان وزرا کی مقدس قرار دی گئی سرگرمیوں پر امن سے کئی مہینوں تک نظر رکھنے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ ہمیں خود اپنی تیاریوں کے لئے وقت درکار ہے۔ لیکن زیر زمین چھچھوندر بڑی تیزی سے کھدائی کرتی ہے۔ ’سوشلسٹ‘ وزرا کے ذریعے اقتدار کا مسئلہ اس کانگریس کے اراکین کے سامنے شاید ہماری توقعات سے بھی بہت پہلے کھڑا ہو جائے۔‘‘
خود کو بڑے عہدوں کے رعب کے زور پر عوام سے بچانے کی کوشش میں مصالحت پسند رہنماؤں نے کانگریس کو تمام موجودہ تنازعات میں گھسیٹ لیا، جس سے پیٹروگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں کی نظروں میں اس کی ساکھ بری طرح سے گر گئی۔ ایک بوڑھا زار پرست افسر ڈرنووو، جس نے 1905 ء کا انقلاب کچل کر خود کو مشہور بنایا تھا، کے گرمیوں کے گھر کا معاملہ اس نوعیت کا سب سے گونجدار واقعہ تھا۔اس قابل نفرت اور بدنام زمانہ افسر کے خالی گھر پر وائبورگ کے علاقے کی مزدور تنظیموں نے قبضہ کر لیا تھا۔ بنیادی وجہ اس گھر کے وسیع باغات تھے جو بچوں کے لئے کھیلنے کی پسندیدہ جگہ بن گئے تھے۔ بورژوا پریس نے اس جگہ کو کرونسٹٹ اور وائبورگ کے علاقے کے فسادیوں اور ڈکیتوں کا گڑھ بنا کر پیش کیا۔ کسی نے حقائق جاننے کی زحمت گوارا نہ کی۔ تمام اہم سوالات کو بڑی احتیاط سے پس پشت ڈال کر حکومت نے نئے جوش و جذبے سے اس گھر کی بازیابی کا بیڑا اٹھا لیا۔ اُنہوں نے اس جرات مندانہ اقدام پر پابندی کا مطالبہ کیا، ظاہر ہے کہ سریتیلی کہاں انکار کرنے والا تھا۔ سرکاری وکیل نے انارکسٹوں کے گروہ کو چوبیس گھنٹے کے اندر وہاں سے نکالنے کا حکم جاری کر دیا۔ فوجی سرگرمیوں کی تیاری کی خبر سن کر مزدوروں نے بھی گھنٹی بجا دی۔ انارکسٹوں نے مسلح مزاحمت کی دھمکی دی۔ چوبیس فیکٹریوں نے احتجاجی ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ مجلس عاملہ نے وائبورگ کے مزدوروں پر ردِ انقلاب کی مدد کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ اِن تمام تمہیدوں کے بعد وزارت انصاف کا ایک نمائندہ اور پولیس والے اس شیروں کی کچھار میں گھس گئے۔ اُنہوں نے مکمل نظم و نسق کا راج دیکھا؛ گھر پر مزدوروں کی کچھ تعلیمی تنظیموں نے قبضہ کیا ہوا تھا۔ وہ شرم سے واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔ تاہم تاریخ میں ایک مزید پیش رفت ہوئی۔
9 جون کو کانگریس میں ایک بم دھماکہ ہوا: ’پراودا‘ کے صبح کے شمارے میں اگلے دن مظاہرے کی کال شائع ہوئی۔ شکائدز، جو جانتا تھا کہ ڈرنا کیسے ہے اور اسی لئے دوسروں کو بھی ڈراتا تھا، نے مری ہوئی آواز میں اعلان کیا: ’’اگر اقدامات نہ کئے گئے تو کل کا دن مہلک ثابت ہو گا۔‘‘ مندوبین نے تشویش کے ساتھ سر اٹھائے۔
پیٹروگراڈ کے مزدوروں سپاہیوں اور کانگریس کے درمیان کھلا مقابلہ اِس صورتحال میں ناگزیر تھا۔ بالشویکوں پر عوام زور دے رہے تھے۔ گیریزن خاص طور پر اس وجہ سے اضطراب میں مچل رہا تھا کہ حملے کے ساتھ ہی اُنہیں رجمنٹوں میں تقسیم کر دیا جائے گا اور محاذ پر بکھیر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ’سپاہی کے حقوق کے اعلامیے‘ پر شدید عدم اطمینان بھی شامل ہو گیا جو ’فرمان نمبر 1 ‘ کے مقابلے میں پیچھے کی طرف بہت بڑا قدم تھا۔ بالشویکوں کی فوجی تنظیم نے مظاہرے میں پیش قدمی کی۔واقعات نے اِس کے رہنماؤں کے اِس دعوے کو بالکل درست ثابت کیا کہ اگر رہنمائی کی ذمہ داری پارٹی نہیں اٹھاتی تو سپاہی خود سڑکوں پر آ جائیں گے۔ عوام کے مزاج میں تیز تبدیلی کو سمجھنا آسان نہ تھا اور اس لئے خود بالشویکوں کی صفوں میں بھی کچھ تذبذب موجود تھا۔بالشویک رہنما وولوڈارسکی کو پوری طرح یقین نہیں تھا کہ مزدور سڑک پر آئیں گے۔ مظاہرے کے ممکنہ کردار کے بارے میں بھی خوف موجود تھا۔ فوجی تنظیم کے نمائندگان نے واضح کیا کہ حملوں اور تعزیری کاروائیوں کے خوف کی وجہ سے سپاہی ہتھیاروں کے بغیر نہیں آئیں گے۔’’مظاہرے میں سے کیا برآمد ہو گا؟‘‘محتاط ٹامسکی نے پوچھا اور مزید سوچ بچار کا مطالبہ کیا۔ سٹالن کا خیال تھا کہ ’’سپاہیوں میں ہیجان ایک حقیقت ہے؛ مزدوروں میں ایسا کوئی واضح مزاج نہیں ہے‘‘، تاہم اُس نے حکومت کے سامنے مزاحمت کے اظہار کو ضروری سمجھا۔کالینن، جو ہمیشہ لڑائی سے اجتناب برتنے پر مائل ہوتا تھا، نے بالخصوص مزدوروں میں کسی واضح محرک کی عدم موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرے کی پرزور مخالفت کی: ’’مظاہرہ بالکل مصنوعی ہو گا۔‘‘ 8 جون کو مزدور نمائندوں کے ساتھ ایک اجلاس میں تمہیدی ووٹوں کے ایک سلسلے کے بعد 6 کے مقابلے میں 131 ہاتھ مظاہرے کے حق میں کھڑے ہوئے، 22 نے ووٹ نہیں دیا۔
تیاری کا کام آخری لمحے تک خفیہ طور پر کیا گیا تاکہ سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کو جوابی ایجی ٹیشن کا موقع نہ ملے۔ احتیاط کے اس جائز اقدام کو بعد میں فوجی سازش کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کی مرکزی کونسل بھی مظاہرے منعقد کرنے کے فیصلے میں شامل ہو گئی۔ یوگوف لکھتا ہے، ’’ٹراٹسکی کے اصرار پر اور لیوناچارسکی کے اعتراض کے برخلاف مزھرایونٹسی کی کمیٹی نے مظاہرے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔‘‘ گرمجوش توانائی سے تیاریاں کی گئیں۔
’’اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ کا بینر اٹھانے کا ارادہ تھا۔لڑاکا نعرہ کچھ یوں تھا: ’’دس سرمایہ دار وزیر مردہ باد۔‘‘ بورژوازی سے اتحاد توڑنے کا یہ ممکنہ طور پر سب سے سادہ اظہار تھا۔ جلوس کو کیڈٹ کور تک مارچ کرنا تھا، جہاں کانگریس منعقد ہو رہی تھی۔ یہ اس بات پر زور دینے کے لئے تھا کہ سوال حکومت کو اکھاڑنے کا نہیں بلکہ سوویت رہنماؤں پر دباؤ ڈالنے کا تھا۔
بالشویکوں کے اجلاسوں میں یقینا دوسرے خیالات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا۔سملگا، جو اُس وقت مرکزی کمیٹی کا نوجوان رکن تھا، نے تجویز پیش کی کہ ’’اگر واقعات ایک تصادم کی نہج تک پہنچتے ہیں تو ڈاکخانے، ٹیلی گراف اور اسلحہ خانے پر قبضہ کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہئے۔‘‘ اجلاس میں شریک پیٹروگراڈ کمیٹی کا رکن لاٹسس اپنی ڈائری میں سملگا کی تجویز کو مسترد کئے جانے پر لکھتا ہے: ’’میں خود کو قائل نہیں کر سکتا… میں کامریڈ سیماشکواور راخیا کے ساتھ مل کر بوقت ضرورت مکمل طور پر مسلح ہونے اور مشین گن رجمنٹ کی مدد سے ریلوے ٹرمینلوں، اسلحہ خانوں، بینکوں اور ڈاک اور ٹیلی گراف دفاترپر قبضے کا بندوبست کرتا ہوں۔‘‘ سیماشکو ایک مشین گن رجمنٹ کا افسر تھا۔ راخیا ایک مزدور تھا اور لڑاکا بالشویکوں میں شمار ہوتا تھا۔
اس طرح کے مزاج قابلِ فہم ہیں۔ پارٹی کی ساری روش اقتدار پر قبضے کی طرف تھی اور سوال صرف موجودہ صورتحال کو پرکھنے کا تھا۔ پیٹروگراڈ میں بالشویکوں کی حمایت میں واضح تبدیلی پیدا ہو رہی تھی، صوبوں میں یہی عمل سست روی سے جاری تھا۔ مزید برآں بالشویکوں پر عدم اعتماد کو جھٹکنے کے لئے محاذ کو پیش قدمی کا ایک سبق درکار تھا۔ اس لئے لینن اپنے اپریل کے موقف پر مضبوطی سے قائم تھا: ’’صبر کے ساتھ وضاحت کرو۔‘‘
اپنی یادداشتوں میں سوخانوف 10 جون کے مظاہرے کے منصوبے کو لینن کی جانب سے اقتدارپر قبضے کی براہ راست تدبیر قرار دیتا ہے۔درحقیقت صرف انفرادی بالشویک ہی معاملے کو اس طرح سے دیکھ رہے تھے، لینن کے طنزیہ اندازِبیان کے مطابق وہ ’’ذرا زیادہ بائیں جانب‘‘ کا ہدف متعین کر رہے تھے۔ بڑے حیران کن طور پر سوخانوف اپنے اِن من مانے اندازوں کا موازنہ لینن کی بے شمار تقاریر اور مضامین میں پیش کی گئی سیاسی حکمت عملی سے نہیں کرتا۔
مجلس عاملہ کے بیورو نے بالشویکوں سے فوراً مظاہرے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ کن بنیادوں پر؟ ظاہر ہے کہ صرف ریاستی طاقت ہی باقاعدہ طور پر مظاہرے سے منع کر سکتی تھی؛ لیکن ریاستی طاقت ایسا سوچنے کی جرات بھی نہیں کر سکتی تھی۔ سوویت، جو خود ایک ’’نجی تنظیم‘‘ تھی اور جس کی قیادت دو سیاسی پارٹیوں کا ایک الحاق کر رہا تھا، بھلا ایک تیسری پارٹی کو مظاہرہ کرنے سے کیسے روک سکتی تھی؟ بالشویک مرکزی کمیٹی نے مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا، لیکن زیادہ شدت سے مظاہرے کے پرامن کردار پر زور دینے کا فیصلہ کیا۔ 9 جون کو مزدوروں کے علاقوں میں ایک بالشویک اعلانِ عام چسپاں کیا گیا۔ ’’ہم آزاد شہری ہیں، ہم احتجاج کرنے کا حق رکھتے ہیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ہمیں یہ حق استعمال کرنا چاہئے۔ایک پرامن مظاہرہ کرنے کا حق ہمارا ہے!‘‘
مصالحت پسند اِس سوال کو کانگریس کے سامنے لے گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب شکائدز نے جان لیوا نتائج کی بات کی تھی اور کہا کہ کانگریس کے لئے تمام رات بیٹھنا ضروری ہوگا۔ صدارتی انتظامیہ کے ایک رکن گیجکوری نے بالشویکوں کی طرف چیختے ہوئے اپنی تقریر ختم کی: ’’ایک عظیم الشان نصب العین پر سے اپنے گندے ہاتھ ہٹا لو۔‘‘ انہوں نے بالشویکوں کو اپنے دھڑے کے اجلاس میں اس سوال کو زیر بحث لانے کا وقت نہیں دیا، اگرچہ اس کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کانگریس نے تین دنوں تک تمام مظاہروں پر پابندی کی قرارداد منظور کر لی۔ بالشویکوں کے خلاف تشدد کے اقدام کے ساتھ ساتھ یہ حکومت کے خلاف دست درازی کا اقدام بھی تھا۔ سوویتوں نے اپنے ہی تکیے کے نیچے سے اقتدار کی چوری جاری رکھی۔
اس وقت کاسکوں کے ایک اجلاس سے ملیوکوف خطاب کر رہا تھا۔ اُس نے بالشویکوں کو ’’انقلابِ روس کے سب سے بڑے دشمن‘‘ قرار دیا۔ انقلاب کا سب سے بڑا دوست تو یہ ملیوکوف تھا، جو فروری سے پہلے تک روسی عوام سے انقلاب قبول کرنے کی بجائے جرمنوں سے شکست قبول کرنے پر آمادہ تھا۔ لینن اسٹوں کی طرف رویے پر کاسکوں کے سوال کا ملیوکوف نے جواب دیا: ’’اِن لوگوں کا خاتمہ کرنے کا وقت آچکا ہے۔‘‘ بورژوازی کا یہ رہنما بڑی جلدی میں تھا۔ تاہم وہ وقت کے ضیاں کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا تھا۔
اسی دوران فیکٹریوں میں جلسے ہو رہے تھے، اگلے دن ’’سارا اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ کے نعرے کے ساتھ سڑکوں پر آنے کی قراردادیں منظور ہو رہی تھیں۔ سوویت اور کاسک کانگریسوں کے شور شرابے میں کسی نے اس حقیقت پر توجہ نہیں دی کہ وائبورگ کے علاقے کی دوما میں 37 بالشویک منتخب ہوئے تھے، اُن کے مقابلے میں سوشل انقلابی -منشویک اتحاد میں سے صرف 22 اور کیڈٹوں کے 4 نمائندے منتخب ہوئے تھے۔
کانگریس کی قطعی قرارداد اور دائیں طرف سے خطرناک ضرب کے پراسرار حوالے سے بالشویکوں نے مظاہرے کے سوال پر دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کوئی سرکشی نہیں بلکہ پرامن مظاہرہ چاہتے تھے اور ایک ممنوع مظاہرے کو نیم سرکشی میں تبدیل کرنے کا اُن کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اپنی طرف سے کانگریس نے بھی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ سینکڑوں مندوبین کو دس دس کے گروہ بنا کر مزدور علاقوں اور بیرکوں میں مظاہرہ رکوانے کے لئے بھیجا گیا۔ اُنہوں نے اگلی صبح ٹاؤرائڈ محل میں ملنا تھا اور اطلاعات کا موازنہ کرنا تھا۔ کسان نمائندگان کی مجلس عاملہ بھی اپنے 70 اراکین کو تعینات کر کے اِس مہم میں شامل ہو گئی۔
یوں غیرمتوقع انداز میں ہی سہی لیکن بالشویکوں کا مقصد پورا ہو گیا۔ کانگریس کے مندوبین نے دارالحکومت کے مزدوروں اور سپاہیوں سے واقفیت حاصل کرنے پر خود کو مجبور پایا۔ اگر پہاڑ کو موسیٰ کے پاس نہیں آنے دیا گیا تو موسیٰ ہی پہاڑ تک چلا گیا۔ یہ میل جول انتہائی معلوماتی ثابت ہوا۔ ماسکو سوویت کے جریدے ’ازوستیا ‘ میں ایک منشویک نامہ نگار کچھ ایسی تصویر کشی کرتا ہے: ’’ساری رات ایک لمحہ بھی سوئے بغیر 500 سے زیادہ اراکین پر مشتمل کانگریس کی اکثریت نے خود کو دس دس میں تقسیم کر کے ہر کسی پر مظاہرے سے دور رہنے کا زور دیتے ہوئے پیٹروگراڈ کی فیکٹریوں اور کارخانوں اور فوجی یونٹوں کا دورہ کیا… بہت سی فیکٹریوں اور کارخانوں اور گیریزن کی کئی رجمنٹوں میں بھی کانگریس کی کوئی عملداری نہیں تھی… اراکین کا استقبال زیادہ دوستانہ انداز میں نہیں ہوا، بعض اوقات معاندانہ انداز میں ہوا اور اکثر و بیشتر اُنہیں حقارت سے پرے ہٹا دیا گیا۔‘‘ اس باضابطہ سوویت جریدے نے کم از کم مبالغہ آرائی نہیں کی۔ بلکہ اس نے دو مختلف دنیاؤں کے درمیان رات کی اس ملاقات کی بہت نرم تصویر کشی کی ہے۔
پیٹروگراڈ کے عوام نے اِن مندوبین میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑی کہ اب کے بعد کون مظاہرہ بلانے یا منسوخ کرنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ پیوٹیلوف فیکٹری کے مزدور صرف تب ہی مظاہرے کے خلاف کانگریس کا اعلان چسپاں کرنے پر راضی ہوئے جب انہیں ’پراودا‘ کے ذریعے معلوم پڑ گیا کہ یہ بالشویکوں کے فیصلے سے متصادم نہیں تھا۔ پہلی مشین گن رجمنٹ، جس نے گیریزن میں ویسا ہی رہنما کردار ادا کیا تھا جیسا مزدوروں میں پیوٹیلوف فیکٹری نے کیا تھا، نے دو مجالس عاملہ کی نمائندگی کرنے والے شکائدز اور ایوکسنٹیف کی تقاریر سننے کے بعد یہ قرارداد منظورکی: ’’بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی اور اُن کی فوجی تنظیم کے ساتھ اتفاقِ رائے سے رجمنٹ اپنی کاروائی کو موخر کرتی ہے۔‘‘
صلح کاروں کا یہ ٹولہ اپنی بے خوابی کی رات کے بعد مکمل بد دلی کے عالم میں ٹاؤرائڈ محل پہنچا۔ وہ سمجھتے تھے کہ کانگریس کی عملداری لازوال تھی لیکن وہ عدم اعتماد اور مخالفت کی پتھریلی دیوار سے ٹکرا گئے تھے۔ ’’عوام بالشویکوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔‘‘ ’’منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کی طرف اُن کا رویہ مخالفانہ ہے۔‘‘ ’’وہ صرف ’پراودا‘ پر یقین کرتے ہیں۔‘‘ ’’کچھ جگہوں پر تو وہ چلّا رہے تھے: ’ہم تمہارے کامریڈ نہیں ہیں۔‘ ‘‘ ایک کے بعد ایک مندوب نے اطلاع دی کہ کیسے اُنہوں نے لڑائی ٹال تو دی تھی لیکن وہ ہار چکے تھے۔
عوام نے مظاہرہ منسوخ کرنے کا بالشویکوں کا فیصلہ مان لیا، لیکن احتجاج اور غیض و غضب کے بغیر نہیں۔ کئی فیکٹریوں میں بالشویک مرکزی کمیٹی کی سرزنش کی قراردادیں منظور ہوئیں۔ پارٹی کے زیادہ آگ بگولہ اراکین نے اپنے پارٹی کارڈ پھاڑ دئیے۔ یہ ایک سنجیدہ تنبیہ تھی۔
مصالحت پسندوں نے مظاہروں پر تین دن کی پابندی کا جواز پیش کرنے کے لئے ایک ایسے شاہ پرست خفیہ منصوبے کے حوالے دئیے جو بالشویکوں کے اقدام کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا؛ انہوں نے اِس خفیہ منصوبے میں کاسک کانگریس کے ایک حصے کی شمولیت اور پیٹروگراڈ میں ردِ انقلابی فوجی دستوں کی آمد کا ذکر بھی کیا۔
حیرت کی بات نہیں ہے کہ مظاہرہ منسوخ کرنے کے بعد بالشویکوں نے اِس سازش کی وضاحت طلب کی۔ جواب کی بجائے کانگریس کے رہنماؤں نے بالشویکوں پر ہی سازش کا الزام لگا دیا۔اُنہوں نے اِس صورتحال سے نکلنے کا یہ آسان راستہ ڈھونڈ لیا۔
یہ ماننا پڑے گا کہ 10 جون کی رات مصالحت پسندوں نے واقعی ایک سازش دریافت کی تھی، ایک ایسی سازش جس نے اُنہیں بری طرح جھنجوڑ دیا تھا، بالشویکوں کیساتھ مل کر عوام کی مصالحت پسندوں کے خلاف سازش۔ تاہم بالشویکوں کی جانب سے سوویت کی قرارداد کی اطاعت نے مصالحت پسندوں کو شہ دے دی اور اُن کی گھبراہٹ کو پاگل پن میں تبدیل کر دیا۔ منشویکوں اور سوشل انقلابیوں نے آہنی توانائی دکھانے کا فیصلہ کیا۔ 10 جون کو منشویک پرچے نے لکھا: ’’لینن اسٹوں کو انقلاب کے غدار اور دغاباز قرار دینے کا وقت آ چکا ہے۔‘‘مجلس عاملہ کا ایک نمائندہ کاسک کانگریس میں نمودار ہوا اور بالشویکوں کے خلاف سوویت کی حمایت کرنے کی درخواست کی۔ یورال کے علاقے کے کاسک سردار اور کاسک کانگریس کے صدر ڈیوٹوف نے اُسے جواب دیا: ’’ہم کاسک، سوویت کے خلاف نہیں جائیں گے۔‘‘ بالشویکوں کے خلاف تو رجعتی بھی سوویت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کو تیار تھے، تاکہ بعد میں سوویت کا گلہ بھی گھونٹ سکیں۔
11 جون کو انصاف کی ایک خوفناک عدالت سجائی گئی: مجلس عاملہ، کانگریس کی صدارتی انتظامیہ کے اراکین اور دھڑوں کے رہنما، کُل ملا کے تقریباً سو لوگ تھے۔ سریتیلی حسب معمول سرکاری وکیل کے طور پر نمودار ہوا۔ غصے میں آگ بگولا ہوتے ہوئے اُس نے مہلک اقدامات کا مطالبہ کیا اور حقارت سے ڈین کو بھی جھٹک دیا، جو بالشویکوں کو لعن طعن کرنے کو تو ہمیشہ تیار ہوتا تھا لیکن ابھی تک اُنہیں تباہ و برباد کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ ’’بالشویک اس وقت جو کر رہے ہیں وہ نظریاتی پراپیگنڈا نہیں بلکہ سازش ہے۔ بالشویک ہمیں معاف ہی رکھیں۔ ہم اب جدوجہد کے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں… ہمیں بالشویکوں کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔ ہم دو بڑے ہتھیاروں کو ان کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑ سکتے جو اب تک ان کے پاس رہے ہیں۔ ہم ان کے ہاتھوں میں مشین گنیں اور رائفلیں نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم سازشوں کو برداشت نہیں کریں گے۔‘‘ یہ ایک نیا پیغام تھا۔ بالشویکوں کو غیر مسلح کرنے کا کیا مطلب تھا؟ سوخانوف اس موضوع پر لکھتا ہے: ’’بالشویکوں کے پاس ہتھیاروں کے کوئی خصوصی ذخائر نہیں تھے۔ تمام ہتھیار درحقیقت سپاہیوں اور مزدوروں کے ہاتھوں میں تھے، جن کی بہت بڑی تعداد بالشویکوں کی پیروی کر رہی تھی۔ بالشویکوں کو غیرمسلح کرنے کا مطلب پرولتاریہ کو غیرمسلح کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر اس کا مطلب سپاہیوں کو غیرمسلح کرنا تھا۔‘‘
دوسرے الفاظ میں انقلاب کا کلاسیکی لمحہ تب آیا جب رجعت کے مطالبے پر بورژوا جمہوریت نے اُن مزدوروں کو ہی غیرمسلح کرنے کا ارادہ کیا جو انقلابی فتح کے ضامن بنے تھے۔ جہاں تک پرانی کتابیں پڑھنے کا سوال تھا تو اِن جمہوری معززین، جن میں بڑے پڑھے لکھے لوگ بھی شامل تھے، نے اپنی ہمدردی غیرمسلح کرنے والوں کی بجائے غیرمسلح ہونے والوں کو دی تھی۔ لیکن جب یہی سوال حقیقت میں ابھرا تو اُنہوں نے اسے پہنچانا ہی نہیں۔لوگ صرف اس حقیقت کو ہی تسلیم نہیں کر پا رہے تھے کہ سریتیلی جیسا انقلابی، ایک ایسا آدمی جس نے کئی سال سخت مشقت کی سزا کاٹی تھی، جو کل تک زمروالڈ کانفرنس کا حمایتی تھا، اب مزدوروں کو غیرمسلح کرنے کی بات کر رہا تھا۔ صدمے سے دوچار ہال پر گہری خاموشی چھا گئی۔ صوبائی مندوبین نے بہرحال محسوس کیا کہ کوئی اُنہیں پاتال میں دھکا دے رہا تھا۔ ایک افسر فرط جذبات سے بے قابو ہو گیا۔
کامینیف، جو سریتیلی سے کم لال پیلا نہیں تھا، اپنی نشست پر کھڑا ہوا اور ایسے وقار سے گرجا جس کی قوت کو سامعین نے محسوس کیا: ’’جنابِ وزیر، اگر تم صرف ہوائی باتیں نہیں کر رہے ہو تو تمہیں صرف تقریر تک خود کو محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ مجھے گرفتار کرو اور انقلاب کے خلاف سازش کا مقدمہ مجھ پر چلاؤ۔‘‘ اپنی پارٹی کے اِس تمسخر میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے بالشویک احتجاجاً ہال سے باہر چلے گئے۔ہال میں تناؤ تقریباً ناقابل برداشت تھا۔ لائبر جلدی سے سریتیلی کی مدد کو آیا۔ دبے ہوئے غصے کی جگہ اب پاگل پن پر مبنی طیش نے لے لی۔ لائبر نے بے رحم اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ’’اگر آپ ان عوام کو جیتنا چاہتے ہیں جو بالشویکوں کی پیروی کر رہے ہیں تو بالشویزم سے قطع تعلق کر لو۔‘‘ لیکن اُسے کسی ہمدردی کے بغیر، بلکہ نیم مخالفت کے ساتھ سنا گیا۔
ہمیشہ کی طرح متاثر ہو جانے والے لیوناچارسکی نے فوراً اکثریت کے ساتھ مشترک بات ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بالشویکوں نے اُسے یقین دلایا تھا کہ اُن کا ارادہ صرف ایک پرامن مظاہرہ کرنے کا تھا، پھر بھی اُس کے اپنے تجربے نے اُسے قائل کر لیا تھا کہ ’’مظاہرہ منعقد کرنا ایک غلطی تھی… بہرکیف ہمیں اختلافات کو شدید نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ لیوناچارسکی اپنے دشمنوں کو تو ٹھنڈا نہ کر سکا لیکن اپنے دوستوں کو خفا ضرور کر دیا۔
’’ہم بائیں بازو کے رجحان کے ساتھ نہیں لڑ رہے ہیں‘‘، ڈین نے ریاکاری سے کہا، وہ انتہائی تجربہ کار ہونے کے باجود اس دلدل کے سب سے بیکار رہنماؤں میں بھی شامل تھا۔’’ہم تو ردِ انقلاب کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ اس میں ہمارا قصور نہیں ہے کہ تمہارے کندھوں کے پیچھے جرمن ایجنٹ کھڑے ہیں۔‘‘ جرمنوں کا حوالہ بمشکل ہی ایک دلیل کا متبادل تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ معزز لوگ جرمنی کے کسی ایجنٹ کی نشاندہی نہیں کر سکتے تھے۔
سریتیلی ضرب لگانا چاہتا تھا، ڈین صرف مکّا دکھانا چاہتا تھا۔ اپنی بے بسی میں مجلس عاملہ نے ڈین کا ساتھ دیا۔ اگلے دن کانگریس کے سامنے پیش کی جانے والی قرارداد کا کردار بالشویکوں کے خلاف خصوصی قانون کا تھا، لیکن اس کے فوری مضمرات عملی نہ تھے۔
بالشویکوں کی طرف سے کانگریس کے نام اعلامیے میں کہا گیا، ’’اپنے مندوبین کے فیکٹریوں اور رجمنٹوں میں دورے کے بعد آپ کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر مظاہرہ نہیں ہوا تو اس کی وجہ آپ کی لگائی گئی پابندی نہیں تھی، بلکہ ہماری پارٹی نے خود ہی اسے منسوخ کر دیا تھا… فوجی سازش کا فسانہ عبوری حکومت کے اراکین نے گھڑا تھا تاکہ پیٹروگراڈ کے پرولتاریہ کو غیرمسلح کیا جا سکے اور پیٹروگراڈ گیریزن کو توڑا جا سکے… حتیٰ کہ اگر ریاستی اقتدار مکمل طور پر سوویت کے ہاتھ آ جاتا ہے، جس کی ہم وکالت کرتے ہیں، اور سوویت ہماری ایجی ٹیشن پر قدغن لگانے کی کوشش کرتی ہے تو بھی ہم چپ چاپ اطاعت قبول نہیں کریں گے؛ہمیں تم سے جدا کرنے والے بین الاقوامی سوشلزم کے نظرئیے کے لئے ہم جیل جانے اور دوسری سزاؤں کے لئے تیار ہیں۔‘‘
سوویت کی اکثریت اور سوویت کی اقلیت تین دن تک ایک دوسرے کے آمنے سامنے رہیں، گویا کوئی فیصلہ کن لڑائی ہونے والی تھی۔ لیکن آخری لمحے دونوں اطراف پیچھے ہٹ گئیں۔ بالشویکوں نے مظاہرہ ترک کر دیا۔ مصالحت پسندوں نے مزدوروں کو غیرمسلح کرنے کا خیال ترک کر دیا۔
سریتیلی اپنے ہی لوگوں کے درمیان اقلیت میں رہا۔ لیکن اپنے نقطہ نظر کے لحاظ سے وہ ٹھیک تھا۔ بورژوازی کے ساتھ اتحاد کی حکمت عملی ایک ایسی نہج پر آ چکی تھی جہاں اُن عوام کو مفلوج کرنا ضروری ہو چکا تھا جنہوں نے اس اتحاد کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ مصالحت کی حکمت عملی کو کامیابی سے مکمل کرنے، یعنی بورژوازی کا پارلیمانی اقتدار قائم کرنے کے لئے مزدوروں اور سپاہیوں کو غیرمسلح کرنا لازم تھا۔ لیکن سریتیلی صرف درست ہی نہیں تھا۔ وہ بے بس بھی تھا۔ نہ تو سپاہیوں اور نہ ہی مزدوروں نے رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالنے تھے۔ اُن کے خلاف طاقت کا استعمال ضروری تھا۔ لیکن سریتیلی کے پاس تو پہلے ہی طاقتیں نہیں تھیں۔ وہ صرف رجعت کے ہاتھوں سے ہی اُنہیں حاصل کر سکتا تھا۔ لیکن بالشویکوں کو کامیابی سے کچلنے کی صورت میں رجعت فوراً ہی مصالحت پسند سوویتوں کو بھی کچل دیتی اور سریتیلی کو یاد دلاتی کہ وہ سخت مشقت کی سزا کاٹنے والے مجرم کے سوا کچھ نہیں تھا۔ تاہم واقعات کی آگے کی روش ظاہر کرے گی کہ اِس کام کے لئے رجعت کے پاس بھی طاقتیں نہ تھیں۔
سریتیلی نے بالشویکوں کے خلاف لڑنے کی دلیل کی سیاسی بنیاد اس دعوے کو بنایا تھا کہ بالشویک پرولتاریہ کو کسانوں سے الگ کر رہے تھے۔ مارٹوف نے اُسے جواب دیا: سریتیلی اپنے رہنما خیالات ’’کسانوں کی گہرائی سے‘‘ نہیں لیتا۔ ’’دائیں بازو کے کیڈٹوں کا ایک گروہ، سرمایہ داروں کا ایک گروہ، زمینداروں کا ایک گروہ، سامراجیوں کا ایک گروہ، مغرب کی بورژوازی کا ایک گروہ‘‘، یہ وہ لوگ ہیں جو مزدوروں اور کسانوں کو غیرمسلح کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مارٹوف درست تھا: ملکیتی طبقات نے تاریخ میں ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے فریبوں کو کسانوں کی پشت پیچھے چھپایا ہے۔
لینن کے اپریل تھیسس کی اشاعت کے وقت سے ہی پرولتاریہ کی کسانوں سے علیحدگی کے خطرے کا حوالہ اُن تمام لوگوں کی بنیادی دلیل بن گیا جو انقلاب کو پیچھے دھکیلنا چاہتے تھے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا کہ لینن نے سریتیلی کو ’’پرانے بالشویکوں‘‘ سے تشبیہ دی تھی۔
سال 1917ء کی اپنی ایک تصنیف میں ٹراٹسکی نے اس موضوع پر لکھا: ’’ہماری پارٹی کی سوشل انقلابیوں اور منشویکوں سے علیحدگی، حتیٰ کہ اس کی انتہائی علیحدگی اگر قید تنہائی کی حد تک بھی پہنچ جاتی ہے تو بھی اِس کا مطلب پرولتاریہ کی محکوم کسانوں اور محکوم شہری عوام سے علیحدگی نہیں ہے۔ اس کے برعکس سوویت کے موجودہ رہنماؤں کے پرفریب انحراف سے انقلابی پرولتاریہ کی واضح علیحدگی دسیوں لاکھ کسانوں میں نجات کا سیاسی امتیاز پیدا کر سکتی ہے، غریب کسانوں کو غدار سوشل انقلابی قیادت کے نرغے سے نکال سکتی ہے اور سوشلسٹ پرولتاریہ کو قومی عوامی انقلاب کے حقیقی رہنماؤں میں تبدیل کر سکتی ہے۔‘‘
لیکن سریتیلی کی بالکل غلط دلیل زندہ رہی۔ اکتوبر انقلاب سے بالکل پہلے یہ دوہری قوت کے ساتھ کئی ’’پرانے بالشویکوں‘‘کی سرکشی کے خلاف دلیل بن گئی۔ کئی سال بعد جب اکتوبر انقلاب کے خلاف نظریاتی رجعت کا آغاز ہوا تو سریتیلی کا یہ کلیہ جعلسازوں کے طبقہ فکر کا بنیادی نظریاتی ہتھیار بن گیا۔

*****

کانگریس کے اسی اجلاس میں، جس میں بالشویکوں کی عدم موجودگی میں اُن کی مذمت کی گئی تھی، منشویکوں کے ایک نمائندے نے غیرمتوقع طور پر آنے والے اتوار، یعنی 18 جون کو پیٹروگراڈ اور دوسرے شہروں میں مزدوروں اور سپاہیوں کے مظاہرے منعقد کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ دشمن کو جمہوریت کا اتحاد اور قوت دکھائی جا سکے۔ تجویز مان لی گئی، اگرچہ پریشانی کے بغیر نہیں۔ ملیوکوف نے تقریباً ایک مہینے بعد درست طور پر مصالحت پسندوں کے اس غیرمتوقع موڑ کی وضاحت کی: ’’سوویتوں کی کانگریس پر کیڈٹوں والی تقاریر کرکے، 10 جون کے مسلح مظاہرے کو منتشر کر کے … سوشلسٹ وزرا نے محسوس کیا کہ وہ ہماری سمت میں بہت آگے چلے گئے تھے اور زمین اُن کے پیروں کے نیچے سے سرک رہی تھی۔ وہ ڈر گئے اور جلدی سے بالشویکوں والی سمت میں واپس مڑے۔‘‘ 18 جون کو مظاہرہ منعقد کرنے کا فیصلہ ظاہر ہے کہ بالشویکوں کی سمت میں قدم نہیں تھا، بلکہ یہ بالشویکوں کے خلاف عوام کی طرف مڑنے کی ایک کوشش تھی۔ مزدوروں اور کسانوں سے رات کی اُس ملاقات کے تجربے نے سوویتوں کے رہنماؤں میں کچھ اضطراب پیدا کر دیا تھا۔ لہٰذا اپنے کانگریس کے آغاز کے ارادوں کے بالکل برخلاف جا تے ہوئے اب اُنہوں نے حکومت کے نام ریاستی دوما کو ختم کرنے اور 30 ستمبر کو آئین ساز اسمبلی بلانے کی استدعا جاری کی۔ مظاہرے کے نعرے بھی اسی خیال کے تحت منتخب کئے گئے کہ عوام میں کوئی طیش نہ پھیلے: ’’عالمگیر امن‘‘، ’’آئین ساز اسمبلی کا فوری اجرا‘‘، ’’جمہوریہ کا قیام۔‘‘ حملے یا مخلوط حکومت کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ لینن نے ’پراودا‘ میں پوچھا: ’’معزز لوگو، ’عبوری حکومت پر مکمل اعتماد‘ کا کیا بنا؟.. .تمہاری زبان تمہارے گلے میں کیوں پھنس گئی ہے؟‘‘ یہ طنز بالکل درست تھی: مصالحت پسندوں نے اُس حکومت پر ہی اعتماد کا مطالبہ عوام سے نہیں کیا جس کے وہ خود رکن تھے۔
سوویت کے مندوبین نے دوسری بار مزدوروں کے علاقوں اور بیرکوں کا چکر لگا کر مظاہرے سے قبل مجلس عاملہ کو بڑی تسلی بخش اطلاعات دیں۔ سریتیلی ، جس کے توازن اور خوش دلانہ وعظ و نصیحت کو اِن اطلاعات نے بحال کر دیا تھا، نے بالشویکوں کے بارے میں کچھ رائے زنی کی: ’’اب ہم انقلابی قوتوں پر کھلی اور دیانتدارانہ نظر ثانی کریں گے… اب ہم دیکھیں گے کہ اکثریت کس کی پیروی کر رہی ہے، تمہاری یا ہماری۔‘‘ بالشویکوں نے اِس بے احتیاطی سے ترتیب دئیے گئے چیلنج کو پہلے ہی قبول کر لیا تھا۔’پراودا‘ نے لکھا، ’’ہم 18 تاریخ کو مظاہرے میں شامل ہوں گے تاکہ اُن مقاصد کے لئے جدوجہد کر سکیں جن کے لئے ہم نے 10 تاریخ کو مظاہرہ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔‘‘
بظاہر تین ماہ پہلے کے اُس جنازے کی یاد میں جو کم ازکم سطحی طور پر جمہوریت کے اتحاد کا دیوہیکل مظاہرہ تھا، اِس جلوس کا راستہ بھی ایک بار پھر مارس فیلڈ اور فروری انقلاب کے شہدا کی قبروں کو جاتا تھا۔ لیکن جلوس کے راستے کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں تھا جس سے پرانے دنوں کی یاد تازہ ہو۔ تقریباً 400000 لوگ اس جلوس میں شامل ہوئے، جنازے کی نسبت یہ تعداد بہت کم تھی: سوویت کے اس مظاہرے میں نہ صرف وہ بورژوازی غیرحاضر تھی جس کے ساتھ سوویتیں اتحاد میں تھیں، بلکہ پڑھے لکھے ریڈیکل لوگ بھی، جن کا مقام جمہوریت کے ماضی کے جلوسوں میں بڑا نمایاں ہوتا تھا۔ اگرچہ کم تعداد میں، لیکن فیکٹریاں اور بیرکیں ہی جلوس میں شامل ہوئیں۔
مارس فیلڈ میں جمع ہونے والے کانگریس کے مندوبین نے پلے کارڈوں کو پڑھا اور ان کی گنتی کی۔ پہلے بالشویک نعروں پر نیم قہقہہ لگایا گیا، آخر سریتیلی نے ایک دن پہلے بڑے اعتماد سے چیلنج کیا تھا۔ لیکن یہی نعرے ہر جگہ بار بار نظر آ رہے تھے۔ ’’دس سرمایہ دار وزیر مردہ باد!‘‘، ’’حملہ مردہ باد‘‘، ’’سارا اقتدار سوویتوں کے پاس!‘‘ طنزیہ مسکراہٹیں منجمد ہوئیں اور رفتہ رفتہ غائب ہو گئیں۔ ہر جگہ بالشویک پرچم منڈلا رہے تھے۔ مندوبین نے یہ پریشان کن گنتی بند کر دی۔ بالشویکوں کی فتح بالکل واضح تھی۔ سوخانوف لکھتا ہے، ’’ بالشویک پرچموں، بینروں اور صفوں کی زنجیرکہیں کہیں سوشل انقلابی اور سوویت کے سرکاری نعروں سے ٹوٹتی تھی۔ لیکن یہ سرکاری بینر ہجوم میں ڈوبے ہوئے تھے۔ سوویت کے اہلکار اگلے دن یاد کر رہے تھے کہ ’مختلف جگہوں پر عوام کتنے غصے سے ’’عبوری حکومت پر اعتماد‘‘ کے نعرے والے بینر پھاڑ رہے تھے۔‘ ‘‘اِس میں واضح مبالغہ آرائی ہے۔ صرف تین چھوٹے گروہوں نے عبوری حکومت کے حق میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے: پلیخانوف کا حلقہ، کاسکوں کا دستہ اور کچھ یہودی دانشور، جن کا تعلق بَنڈ (Bund) سے تھا۔ یہ تہرا امتزاج، جو اپنی رنگ برنگ رکنیت کی وجہ سے انوکھے سیاسی نمونے کاتاثر دے رہا تھا، یوں محسوس ہوتا تھا کہ حکومت کے خصی پن کی عوامی نمائش کا فریضہ لے کر آیا تھا۔ ہجوم کے مخالفانہ نعروں کی وجہ سے پلیخانوف کے پیروکاروں اور بَنڈ والوں نے اپنے پلے کارڈنیچے کر لئے۔ کاسک ضدی تھے اور اُن کے بینروں کو واقعی مظاہرین نے چھین کر پھاڑ دیا۔’ازوستیا‘ لکھتا ہے، ’’اِس وقت تک جو ندی پرسکون انداز میں بہہ رہی تھی اب ایک ایسے سیلابی دریا میں بدل گئی جو اپنے کناروں سے بس چھلکنے ہی والا تھا۔‘‘ یہ وائبورگ کا حصہ تھا، جس نے بالشویکوں کے بینر اٹھائے ہوئے تھے۔ ’’دس سرمایہ دار وزیر مردہ باد!‘‘ ایک فیکٹری کے مزدوروں نے پلے کارڈ اٹھایا ہوا تھا: ’’نجی ملکیت کے حق سے زندگی کا حق زیادہ بلند ہے۔‘‘ اس نعرے کی تجویز پارٹی نے نہیں دی تھی۔
خوفزدہ صوبائی مندوبین ہر جگہ اپنے رہنماؤں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ اُن کے رہنماؤں نے نظریں جھکائی ہوئی تھیں یا ویسے ہی چھپ گئے تھے۔ صوبائی مندوبین کے پاس بالشویک گئے۔ کیا یہ سازشیوں کا گینگ لگتا ہے؟ مندوبین نے اتفاق کیا کہ ایسا نہیں لگتا تھا۔ جس لہجے میں وہ سوویت کے باضابطہ اجلاسوں میں بولے تھے، اُس سے بالکل مختلف انداز میں اُنہوں نے تسلیم کیا، ’’پیٹروگراڈ میں تم ہی طاقت ہو، لیکن صوبوں میں نہیں، محاذ پر نہیں۔ پیٹروگراڈ سارے ملک کی مخالفت نہیں کر سکتا۔‘‘ بالشویکوں نے جواب دیا کہ بالکل ٹھیک ہے، تمہاری باری بھی جلد ہی آئے گی، یہی نعرے ہر جگہ بلند ہوں گے۔
بوڑھا پلیخانوف لکھتا ہے، ’’مظاہرے کے دوران میں شکائدز کے ساتھ مارس فیلڈ میں کھڑا تھا؛میں نے اُس کا چہرہ پڑھا ۔ سرمایہ دار وزرا کی برطرفی کا مطالبہ کرنے والے پلے کارڈوں کی حیران کن تعداد کی معنی خیزی کے بارے میں وہ خود کو دھوکہ نہیں دے رہا تھا۔ کوئی تہوار منانے کے انداز میں پاس سے گزرتے ہوئے بعض لینن اسٹ اِس پرزور تحکمانہ انداز میں اُسے مخاطب کر رہے تھے جیسے وہ جان بوجھ کر اِس حقیقت کو اجاگر کر رہے ہوں۔‘‘بالشویکوں کے پاس یقینا تہوار کے احساس کی وجہ تھی۔ گورکی کے پرچے نے لکھا، ’’مظاہرین کے پلے کارڈوں اور نعروں کے پیش نظر اتوار کے مظاہرے نے پیٹرزبرگ کے پرولتاریہ پر بالشویزم کی مکمل فتح کو واضح کر دیا۔‘‘ یہ ایک عظیم فتح تھی، مزید برآں یہ ایک ایسے میدان میں اور ایسے ہتھیاروں سے حاصل کی گئی تھی جن کا انتخاب دشمن نے کیا تھا۔ حملے کو منظور، مخلوط حکومت کو تسلیم اور بالشویکوں کی مذمت کرتے ہوئے سوویت کانگریس نے خود ہی عوام کو سڑکوں پر بلایا تھا۔ وہ اعلان کرتے ہوئے آئے: ہمیں نہ تو حملہ چاہئے اور نہ ہی مخلوط حکومت؛ ہم بالشویزم کے ساتھ ہیں۔ یہی اس مظاہرے کے سیاسی معنی تھے۔ یہ حیرانی کی بات نہیں ہے کہ مظاہرے کا آغاز کرنے والے منشویکوں کے اپنے پرچوں نے اگلے دن پیٹتے ہوئے پوچھا: یہ منحوس خیال کس کا تھا؟
ظاہر ہے کہ دارالحکومت کے سارے مزدوروں اور سپاہیوں نے مظاہرے میں حصہ نہیں لیا، نہ ہی سارے مظاہرین بالشویک تھے۔ لیکن اس وقت تک اُن میں سے کوئی بھی مخلوط حکومت نہیں چاہتا تھا۔ جو مزدور ابھی تک بالشویزم کے مخالف تھے، اُنہیں پتا نہیں تھا کہ اب اس کی مخالفت کیسے کریں۔ یوں مخالفت ایک محتاط غیرجانبداری میں تبدیل ہو گئی۔ بالشویک نعروں کے تحت جلوس میں حصہ لینے والے ایسے منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کی بھی کمی نہ تھی جو ابھی تک اپنی پارٹیوں سے الگ تو نہیں ہوئے تھے لیکن اُن کے نعروں پر پہلے ہی اعتماد کھو چکے تھے۔
18 جون کے مظاہرے نے اپنے شرکا پر گہرا اثر چھوڑا۔ عوام نے دیکھا کہ بالشویک اب ایک طاقت بن چکے تھے اور پہلے پس و پیش کرنے والے بھی اب اُن میں شامل ہو گئے۔ ماسکو، کیف، خارکوف، ایکاٹیرینوسلاو اور کئی دوسرے صوبائی شہروں میں مظاہروں نے بالشویکوں کے اثرورسوخ میں بے انتہا اضافے کا اظہار کیا۔ ہر جگہ وہی نعرے بلند ہوئے اور فروری حکومت کے دل پر ضرب لگائی۔ نتائج اخذ نہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھاکہ مصالحت پسندوں کے پاس کوئی گنجائش نہیں بچی تھی۔لیکن آخری لمحے میں حملے نے ان کی مدد کی۔ 19 جون کو نیوسکی شاہراہ پر کیڈٹوں کی قیادت میں کیرنسکی کی تصویر کے ساتھ ایک حب الوطن مظاہرہ ہوا۔ ملیوکوف کے الفاظ میں، ’’اسی سڑک پر ایک دن پہلے ہونے والے مظاہرے سے یہ اتنا مختلف تھا کہ فتح کے احساس کے ساتھ عدم اطمینان کا نادانستہ احساس بھی شامل ہو گیا تھا۔‘‘یہ احساس جائز تھا! لیکن مصالحت پسندوں نے سکھ کا سانس لیا۔اِن دونوں مظاہروں کے اوپر اُن کی سوچ ایک جمہوری تالیف (Synthesis) کی شکل میں بلند ہوئی۔خام خیالی اور ذلت کے جام کا آخری گھونٹ تک پینا اِن لوگوں کا مقد ر بن چکا تھا۔
اپریل کے دنوں میں بیک وقت دو مظاہرے، ایک انقلابی اور دوسرا حب الوطن، ایک دوسرے سے ملے تھے اور اُن کے تصادم کے نتیجے میں اموات ہوئی تھیں۔ جون کی 18اور 19 تاریخ کو دو مخالف مظاہرے یکے بعد دیگرے ہوئے تھے۔ اس وقت کوئی براہ راست تصادم نہیں ہوا ۔لیکن ایک تصادم سے بچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ یہ صرف دو ہفتوں کے لئے موخر ہو گیا تھا۔
انارکسٹوں کو معلوم نہیں تھا کہ اپنی خودمختیاری کا اظہار کیسے کریں۔ انہوں نے 18 جون کے مظاہرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وائبورگ کی جیلوں پر حملہ کر دیا۔صرف ایک جیل سے نہیں بلکہ بیک وقت کئی جیلوں سے ایسے قیدیوں کو کسی لڑائی اور خونریزی کے بغیر آزاد کروا لیا گیا جن میں سے اکثریت جرائم پیشہ لوگوں کی تھی۔ یہ واضح تھا کہ انتظامیہ اس حملے سے بے خبر نہیں تھی اور حقیقی اور جعلی انارکسٹوں کو انتظامیہ کا تعاون حاصل تھا۔ اس سارے پراسرار واقعے کا مظاہرے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن حب الوطن پریس نے انہیں آپس میں جوڑ دیا۔ بالشویکوں نے سوویتوں کی کانگریس کو تجویز دی کہ اس معاملے کی سخت چھان بین کی جائے جس میں کئی جیلوں سے 460 مجرموں کو بھاگنے دیا گیا تھا۔ تاہم مصالحت پسند خود کو مزید عیاشی کی اجازت نہیں دے سکتے تھے: اُنہیں ڈر تھا کہ انتظامیہ کے حکام اور اُن کے اپنے سیاسی اتحادیوں سے ان کا تصادم ہو جائے گا۔ مزید برآں اِس خبیث بہتان تراشی کے خلاف اپنے ہی مظاہرے کا دفاع کرنے کی اُن کی کوئی نیت نہیں تھی۔
وزیر انصاف پیریورزیف ، جسے کچھ دن پہلے ڈرنووو کے موسم گرما والے گھر کے معاملے میں ہزیمت اٹھانا پڑی تھی، نے انتقام لینے کا فیصلہ کیا اور بھاگنے والے مجرموں کی تلاش کے بہانے اس جگہ پر دوبارہ چھاپہ مار دیا۔ انارکسٹوں نے مزاحمت کی، اُن میں سے ایک مارا گیا اور گھر تباہ ہو گیا۔ اس گھر کو اپنا سمجھنے والے وائبورگ کے علاقے کے مزدوروں نے گھنٹی بجا دی۔ کئی فیکٹریوں نے کام چھوڑ دیا؛ اِس گھنٹی کی آواز کئی دوسرے علاقوں اور بیرکوں تک پھیل گئی۔
جون کے آخری دن مسلسل افراتفری میں گزرے۔ ایک مشین گن رجمنٹ نے عبوری حکومت پر فوری حملہ کرنے کی تیاری کی۔ رجمنٹوں کو سڑکوں پر بلانے کے لئے ہڑتالی فیکٹریوں کے مزدور مسلسل چکر لگاتے رہے۔ سپاہیوں کے کوٹوں میں ملبوس باریش کسان، جن میں سے بیشتر کے بال سفید تھے، سڑکوں کے بغلی راستوں پر احتجاجی جلوس نکالتے رہے: یہ درمیانی عمر کے کسان مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں کھیتوں میں کام کے لئے چھٹی دی جائے۔ سڑکوں پر آنے کے خلاف بالشویک ایجی ٹیشن جاری رکھے ہوئے تھے: جو کچھ کہا جا سکتا تھا وہ 18 تاریخ کے مظاہرے نے کہہ دیا ہے؛ تبدیلی پیدا کرنے کے لئے مظاہرہ کرنا کافی نہیں ہے؛ انقلاب کا وقت بھی ابھی نہیں آیا ہے۔ 22 جون کو بالشویک پریس نے گیریزن سے استدعا کی: ’’بالشویکوں کی فوجی تنظیم کے نام سے ملنے والی سڑک پر آنے کی کسی کال پر یقین نہ کرو۔‘‘ تشدد اور سزاؤں کی شکایات لے کر محاذ سے مندوبین آ رہے تھے۔ غیراطاعت شعار رجمنٹوں کو ازسرنو منظم کرنے کی دھمکیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ مجلس عاملہ کے نام بالشویکوں کے ایک اعلامیے میں بتایا گیا، ’’کئی رجمنٹوں میں سپاہی ہاتھوں میں ہتھیار لے کر سو رہے ہیں۔‘‘ حب الوطن مظاہرے، جو اکثر مسلح ہوتے تھے، سڑکوں پر لڑائیوں پر منتج ہوتے رہے۔ یہ مجتمع ہونے والی بجلی کی معمولی گرج چمک تھی۔ کوئی بھی فریق براہِ راست لڑائی کا ارادہ نہیں رکھتا تھا: رجعت بہت کمزور تھی، انقلاب کو بھی ابھی اپنی طاقت پر مکمل اعتماد نہیں تھا۔ لیکن یوں محسوس ہوتا تھا جیسے شہر کی سڑکوں پر دھماکہ خیز مواد بچھا ہو۔ لڑائی فضا میں منڈلا رہی تھی۔ بالشویک پریس وضاحت کر رہی تھی اور روک رہی تھی۔ حب الوطن پریس خوف کے مارے مسلسل بالشویکوں کو نشانہ بنا رہی تھی۔ 25 تاریخ کو لینن لکھتا ہے: ’’کیڈٹوں، سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کی بالشویکوں کے خلاف غصے اور عناد کی یہ ہمہ گیر چیخ و پکار درحقیقت اپنی ہی کمزوری کے خلاف اُن کی مشترکہ شکایت ہے۔ وہ اکثریت میں ہیں۔ وہ سارے ایک اتحاد میں اکٹھے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اس سے کچھ برآمد نہیں ہو رہا۔ ایسے میں وہ بالشویکوں کے خلاف چیخنے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں؟‘‘

*****

[۱]گرمّ ہاف مین ، سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ کا سوشلسٹ رکن تھا۔ وہ زمروالڈ کانفرنس کا منتظم رہا تھا اور جرمنی اور روس کے درمیان علیحدہ سے جنگ بندی کروانے کی خفیہ کوشش کر رہا تھا۔تاہم روس کے اتحادی ممالک (فرانس، برطانیہ وغیرہ) کو جلد ہی اس بارے پتا چل گیا اور انہوں نے شور مچا دیا۔ گرمّ کو روس سے نکال دیا گیا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں