جوناتھن لیفیور /ٹونی بوسیلن
آج سوڈان کو برباد کرتی خانہ جنگی محض حریف جنرلوں کے درمیان اقتدار کی لڑائی نہیں ہے۔ یہ اس لوٹ مار کا براہ راست اور الم ناک نتیجہ ہے جو ملک کی زمین کے نیچے موجود وسائل کو بیرونی طاقتوں کے مفاد کے لیے ہتھیانے کے لیے کی جاتی رہی ہے۔ صرف بیرونی مداخلت کا خاتمہ اور سوڈانی عوام کی منظم جدوجہد ہی اس تباہی کا خاتمہ کر سکتی ہے، تاکہ فوجی کردار سے پاک ایک سویلین حکومت قائم کی جا سکے۔
اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق اس جنگ نے اب تک 1 کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے، 86 لاکھ افراد اندرون ملک بے گھر ہوئے اور 40 لاکھ سے زیادہ لوگ بیرون ملک پناہ گزین بننے پر مجبور ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے خوفناک مظالم کیے ہیں، خاص طور پر الفاشر میں، جو 18 ماہ کے محاصرے کے بعد اب مکمل طور پر ان نیم فوجی دستوں کے قبضے میں ہے۔ یہ شہر2 لاکھ 60 ہزار مہاجرین کی آخری پناہ گاہ تھا۔اس اسٹریٹجک شہر کا سقوط شدید قحط، بھوک اور بے شمار مظالم کے ساتھ ہوا۔ ان میں ماورائے عدالت قتل، جنسی تشدد، بھاگتے ہوئے شہریوں پر حملے، اور نہتے مردوں کا قتل شامل ہیں، جیسا کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے اس کی تصدیق کی ہے۔
استحصال کی طویل تاریخ
دہائیوں سے سامراجی طاقتوں کی لالچ نے سوڈانی معاشرے کو شدید عدم استحکام کا شکار کیا ہے۔ سوڈان اپنی طویل بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی، اپنے وسیع رقبے،جو اسے 7افریقی ممالک کی سرحدوں سے جوڑتا ہے،اور اپنی معدنی دولت (یورینیم، سونے کی کانیں، دریائے نیل کے وسائل) کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ اسی لیے یہ مسلسل بیرونی طاقتوں کا ہدف بنا ہوا ہے۔
1993 سے 2020 تک سوڈان واشنگٹن کی ”دہشت گردی کی معاون ریاستوں“ کی فہرست میں شامل رہا، لیکن اس درجہ بندی کو خانہ جنگی کے پس منظر میں سوڈانی ریاست پر دباؤ ڈالنے کے ایک ہتھکنڈے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ آخرکار اسی مسلسل دباؤ نے 2010 میں جنوبی سوڈان کی علیحدگی کی راہ ہموار کی۔
غداری کا شکار ہوا 2019کا انقلاب
اپریل 2019 میں ایک وسیع عوامی بغاوت نے آمر عمر البشیر کی حکومت کو اکھاڑ پھینکا۔ اس تحریک کی قیادت انقلابی محلّہ کمیٹیوں اور سویلین قوتوں نے کی، جنہیں ڈاکٹروں اور وکلا کے مضبوط نیٹ ورک کی حمایت حاصل تھی۔
تاہم عمر البشیر کی حکومت کو ایک ایسی فوجی اشرافیہ کی پشت پناہی حاصل تھی جو خود سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے ذریعے ملک کے وسائل کی لوٹ مار سے فائدہ اٹھا رہی تھی۔ یہ غیر ملکی طاقتیں غیر قانونی راستوں سے سونا اور دیگر قیمتی وسائل اسمگل کرکے اپنے مفادات حاصل کر رہی تھیں۔
عمر البشیرحکومت کے خاتمے کے بعد مغربی طاقتوں نے ایک عبوری حکومت کی حمایت کی۔فورسزفار فریڈم اینڈ چینج (ایف ایف سی) نے اگست 2019 میں فوجی شمولیت کے ساتھ ایک نئی انتظامیہ تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔ اپنی طاقت کے باوجود عوامی تحریک حاشیے پر چلی گئی۔ اصل اختیار بدستور فوج کے ہاتھ میں رہا، جو معیشت اور سرکاری مالیات پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے تھی۔ سوڈانی کمیونسٹ پارٹی ایف ایف سی کی بانی رکن تھی، لیکن اس نے اس وقت تک حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا جب تک فوج کا کردار برقرار رہتا۔
2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سوڈان کو ”دہشت گردی کا تعاون کرنے والی ریاستوں“ کی فہرست سے نکالنے کے لیے ایک شرط عائد کی۔ اس شرط کے مطابق جنرل برہان کو دہشت گردی کے متاثرین کو 33 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے تھے۔ اس کے عوض امریکی اور اسرائیلی حمایت فوجی قیادت کو یقینی بنائی گئی۔
عبوری عمل کو اکتوبر 2021 میں اس وقت مکمل طور پر سبوتاژ کر دیا گیا، جب فوج نے اپنی طاقت کو مرکوز کرتے ہوئے ایک بغاوت کی۔ یہ بغاوت فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں کی گئی، جس میں سویلین وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کو برطرف کر دیا گیا۔ اس اقدام نے ”عبوری آئینی چارٹر کو چاک کر دیا اور ملک کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ میں دھکیل دیا۔“
پراکسی جنگ
اپریل 2023 میں دو فوجی دھڑوں کے درمیان جنگ بھڑک اٹھی۔ ایک طرف عبوری کونسل کے صدر جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں باقاعدہ فوج، اور دوسری طرف محمد حمدان دگالو (حمیدتی) کی زیر قیادت ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)، جو اسی عبوری کونسل کے نائب صدر بھی ہیں۔ دونوں عسکری قوتیں عمر البشیر کی آمریت کی پیداوار ہیں۔آر ایس ایف دراصل سابق جنجوید ملیشیائیں ہیں،یہ وہی گروہ ہیں جنہوں نے دارفور میں تباہی مچائی، اور جنہیں عمر البشیر اور عبدالفتاح البرہان نے 2013 میں ایک نیم فوجی فورس میں تبدیل کیا۔
آج یہ جنگ محض ایک مقامی تنازع نہیں رہی، بلکہ مختلف غیر ملکی طاقتوں کی ایک پراکسی جنگ بن چکی ہے۔ یہ تمام قوتیں سوڈان کی دولت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ ملک اس وقت دو پٹرول سے مالا مال بادشاہتوں کے درمیان میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) آر ایس ایف کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب باقاعدہ فوج کے ساتھ کھڑا ہے۔ سوڈان کی سونے کی صنعت اس جنگ کا مرکزی محرک ہے، کیونکہ تقریباً تمام سونے کی تجارت امارات کے ذریعے گزرتی ہے اور پھر یہ دولت لڑنے والے فریقوں کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
”کواڈ“ (یعنی امریکہ، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات) اس وقت ایک سمجھوتے کے لیے مذاکرات شروع کر چکے ہیں۔ لیکن سوڈانی کمیونسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ ”ایسی کوئی بھی مفاہمت، جو ان شرائط کے تحت طے پائے، بحران کو دوبارہ جنم دے گی، جیسا کہ تاریخ بارہا سوڈان اور دیگر خطوں میں ثابت کر چکی ہے۔“ موجودہ مذاکرات ملک کو دوبارہ فوج اور آر ایس ایف کے درمیان تقسیم کرنے کے خطرے کو بڑھا رہے ہیں۔
بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلت
امریکہ اور اسرائیل شمالی سوڈان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوجی قیادت کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی نظر میں تو یہ علاقہ فلسطینیوں کی جبری آباد کاری کے ممکنہ مقام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سوڈانی کمیونسٹ پارٹی اس منطق کے خلاف خبردار کرتی ہے، اسے ”گریٹر مڈل ایسٹ“ منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہوئے، جس کی تذویراتی سوچ علاقے کی قومی اکائیوں کو توڑنے اور سامراجی لوٹ مار کو آسان بنانے پر مبنی ہے۔ اس کی عملی صورت یوں سامنے آئی ہے کہ ”فلسطینی مسئلے کا منظم خاتمہ، فلسطینی عوام کی نسل کشی اور جبری بے دخلی، اور سوڈانی انقلاب کو مٹانے کی کوشش۔“
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام غیر ملکی فوجی حمایت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”مسئلہ صرف لڑائی نہیں۔۔۔بلکہ بیرونی مداخلت میں مسلسل اضافہ ہے۔“
یورپی اسلحہ
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ سوڈان میں لڑنے والے فریقین کو فرانسیسی ساختہ اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے، جو متحدہ عرب امارات کی بکتر بند گاڑیوں پر نصب ہے اور آر ایس ایفاستعمال کر رہی ہے۔ یہ عمل دارفور پر اقوامِ متحدہ کی اسلحہ پابندی کی ”واضح خلاف ورزی“ ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل انیس کالمار اس بارے میں دوٹوک کہتے ہیں کہ ”تمام ممالک کو چاہیے کہ فوراً سوڈان کے متحارب فریقوں کو کسی بھی قسم کے ہتھیار یا گولہ بارود کی براہ راست یا بالواسطہ فراہمی بند کریں، اور انہیں دارفور پر اسلحہ پابندی کا احترام اور اس پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔۔۔تاکہ مزید عام شہری اپنی جانیں نہ گنوائیں۔“ اسی طرح برطانیہ میں تیار کردہ اسلحہ بھی متحدہ عرب امارات کے ذریعے آر ایس ایف کو دیا گیا ہے، حالانکہ قوانین میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر اس بات کا خدشہ ہو کہ اسلحہ پابندی والے علاقوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے،یا مظالم کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، تو برآمدات کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
عوام کی موبلائزیشن
ملک کے اس منظم انہدام کے مقابلے میں سوڈانی شہری مزاحمت نے جنگ روکنے کے لیے عوامی سطح پر وسیع تر متحرک ہونے کی اپیل کی ہے۔
سوڈانی کمیونسٹ پارٹی کے مطابق ”اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک وسیع ترین عوامی قومی محاذ تشکیل دیا جائے، جو دشمنیوں کے فوری خاتمے، انقلابی عمل کی بحالی اور سوڈان کی وحدت کی حفاظت کے مطالبے میں غیر متزلزل ہو۔“ دونوں غیر قانونی حکمران گروہوں کا خاتمہ ناگزیر ہے، اور اس کے لیے فوجی ادارے، آر ایس ایف اور تمام ملیشیاؤں کا مکمل انخلا لازمی ہے۔
غیر ملکی مداخلت کو ختم ہونا چاہیے، اور ایسے کسی بھی معاہدے کی حمایت بند کی جائے جو ملک پر فوجی تسلط کو برقرار رکھے۔ دونوں فوجوں کو واپس بیرکوں میں جانا ہوگا اور دونوں جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم کو عدلیہ کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ عوامی تحریک کا جائز مطالبہ ہے کہ ملک کی وحدت اور خودمختاری کا تحفظ کیا جائے اور اقتدار مکمل طور پر ایک سویلین حکومت کو منتقل کیا جائے۔
یہ معاملہ صرف سوڈان تک محدود نہیں۔ سوڈانی کمیونسٹ پارٹی کے مطابق سامراجی منصوبے کے تحت ملک کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی یہ منطق ”صرف امن ہی نہیں، بلکہ سوڈان کی خودمختاری اور پورے افریقی براعظم کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے۔“
(بشکریہ: ’دی لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)