روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

سویدا پر حملہ: دمشق میں طاقت کا ارتکاز اور فرقہ واریت

سویدا پر حملہ: دمشق میں طاقت کا ارتکاز اور فرقہ واریت

جوزف داہر

جنگ بندی کے اختتام کے بعد بدو جنگجو اور حکومت نواز قبائل شہر سویدا کے کچھ حصوں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ مقامی مسلح دروز دھڑوں نے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اسی دوران امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دمشق اور تل ابیب کے درمیان ایک جنگ بندی کروائی ہے۔ اس معاہدے کے تحت سویدا صوبے میں شامی سرکاری افواج کی تعیناتی کی اجازت دی گئی۔ تاہم شہر سویدا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ، جسے اسرائیل نے ابتدائی طور پر مسترد کر دیا تھا۔

ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والی لڑائی کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق ہزاروں افراد ، بشمول شہری اور جنگجو،مارے جا چکے ہیں، جب کہ1لاکھ40ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ’سویدا 24 ‘نامی نیوز ویب سائٹ کے مطابق 36 دیہات تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئے، جن میں سے بیشتر اب خالی ہو چکے ہیں اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ حالیہ واقعات دمشق حکومت کے حامی یا اس سے منسلک مسلح گروہوں کی جانب سے اپریل اور مئی میں سویدا صوبے اور دمشق کے نواح میں کیے گئے حملوں کے تسلسل میں ہیں، جن میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دمشق ان اقدامات کے ذریعے چند سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، جن میں ٹکڑوں میں بٹے ہوئے شام پر اپنی طاقت کو مضبوط بنانا،سویدا کی خودمختاری کو کمزور کرنا، اورنچلی سطح سے ابھرنے والی جمہوری تحریکوں کو سبوتاژ کرناشامل ہیں۔

سویداپر چاروں طرف سے حملے اور جان لیوا محاصرہ

اکثریتی دروز آبادی پر مشتمل سویدا صوبے کو شام کی عوامی بغاوت کے دوران کچھ سیاسی خودمختاری حاصل ہوئی تھی۔ اسد حکومت کے زوال کے بعد بہت سے مقامی مسلح گروہوں اور ممتاز دروز مذہبی رہنماؤں نے دمشق میں نئی حکومت سے رابطے تو رکھے، لیکن اسلحہ ڈالنے سے انکار کر دیا کیونکہ جمہوری اور جامع سیاسی عبوری عمل اور سویدا کے لیے کوئی ضمانتیں موجود نہیں تھیں۔

تاہم رواں سال 13 جولائی سے اس خطے کو جنگ زدہ علاقہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ ایک دروز تاجر کی گرفتاری اور تشدد تھا، جسے ایک ایسے چیک پوسٹ پر روکا گیا تھا ۔ یہ چیک پوسٹ اپریل اور مئی میں دمشق اور سویدا میں دروز آبادی پر ہونے والے حملوں کے بعد قائم کی گئی تھی۔ یہ چیک پوسٹ دمشق سویدا سڑک پر واقع ہے اور اسے دیہی دمشق کے علاقے الکسوہ کی المطالہ نامی بدو قبیلے کے جنگجو چلا رہے ہیں۔ یہ جنگجو وزارت داخلہ کی جنرل سکیورٹی سے وابستہ ہیں۔ اس چیک پوسٹ پر سویدا اور دارالحکومت دمشق کے درمیان سفر کرنے والے دروز افراد کے خلاف متعدد خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، اور دمشق حکومت نے اسے سویدا پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔

بدو آبادی سویدا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 5 فیصد ہے اور زیادہ تر دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔ ان کی عسکری تنظیم نسبتاً کمزور اور غیرمرکوز ہے، جب کہ مقامی دروز دھڑے تین بڑی عسکری تنظیموں میں منقسم ہیں۔ ان تنظیموں میں سویدا ملٹری کونسل، رجال الکرامہ، قوت الکرامہ شامل ہیں۔

ان گروہوں نے اسد حکومت کے دسمبر 2024 میں زوال کے بعد دمشق کی نئی حکومت کے بارے میں یکساں رویہ نہیں اپنایا۔ مثال کے طور پر’سویدا ملٹری کونسل‘ کا مرکزی حکومت کے خلاف رویہ زیادہ جارحانہ ہے، جب کہ ’قوات الکرامہ‘ نے صدر احمد الشرح کے ساتھ زیادہ قریبی تعاون کیا ہے۔

بدو اور دروز مسلح گروہوں کے درمیان ابتدائی جھڑپوں کے بعد شامی عبوری حکومت نے صوبہ سویدا میں کنٹرول قائم کرنے کی کوشش میں دمشق سے بکتر بند گاڑیوں کے دستے روانہ کیے، اور دعویٰ کیا کہ وہ تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں ، حالانکہ یہ کارروائیاں حکومت سے وابستہ بدو جنگجوؤں کے ساتھ مل کر کی گئیں۔

سویدا صوبے میں فوجی آپریشن کے ابتدائی دنوں میں دمشق حکومت سے وابستہ یا اس کی حامی مسلح افواج کی کارروائیاں ساحلی علاقوں میں علوی آبادی کے خلاف مارچ کے قتل عام کی یاد دلاتی ہیں، جس میں ایک ہزار سے زائد شہری ہلاک ہوئے تھے۔ عام شہریوں کا قتل، فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز تقاریر اور رویے، مقامی باشندوں کو ذلیل کرنے کے مناظراور دروز افراد کی مونچھیں کاٹنے یا زبردستی صاف کرنے جیسے واقعات سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ شہری گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور لوٹ مار کے مناظر بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ 18 جولائی تک شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق (ایس این ایچ آر) کے مطابق 200 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی دوران سویدا کے کئی شہری ،جن کے گھر جھڑپوں کے قریب تھے، حکومتی جنگجوؤں کے ممکنہ حملوں کے خوف سے صوبے کے نسبتاً محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔

اگرچہ حکومتی مسلح افواج اور ان کی حمایتی ملیشیاؤں کو عددی اور ہتھیاری برتری حاصل تھی، لیکن مقامی مسلح دروز گروہوں کی شدید مزاحمت اور بالخصوص دمشق میں فوجی ہیڈکوارٹرز اور سرکاری حامی افواج کے قافلوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث انہیں حاصل شدہ علاقوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اس کے بعد خودساختہ شامی صدر احمد الشرح نے 17 جولائی کو اعلان کیا کہ سویدا میں سکیورٹی کی ذمہ داری مقامی مسلح گروہوں اور دروز مذہبی عمائدین کو سونپ دی گئی ہے۔ اس اعلان کے بعد سویدا میں دروز جنگجوؤں کی جانب سے بدو شہریوں پر حملے کیے گئے۔

ان حملوں کے ردعمل میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد سنی عرب قبائل نے سوشل میڈیا پر اپنے بدو’بھائیوں‘کی حمایت میں بیانات اور اپیلیں جاری کیں۔ ان سنی عرب قبائل کے مرکزی حکومت سے قریبی تعلقات ہیں ۔ اس حمایت کو حکومتی اور اس کے اتحادی میڈیا کی طرف سے بھرپور پروپیگنڈہ مہم کے ذریعے مزید تقویت ملی، جس میں بدو شہریوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو نمایاں کر کے پیش کیا گیا۔ اس کے بعد 18 جولائی جمعرات کی شام سویدا صوبے میں قبائلی مسلح گروہوں کی جانب سے ایک نیا حملہ کیا گیا، جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں دروز آبادی کے خلاف نفرت انگیز اور فرقہ وارانہ بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے لگے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر گردش کرنے لگیں جن میں مختلف قبائل کے مسلح افراد اور گاڑیاں سویدا صوبے کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ قبائلی مسلح گروہ شہر سویدا کے مغربی حصے میں داخل ہو گئے، جہاں حکومت کی افواج نے ان کی کوئی مزاحمت نہیں کی۔ انہوں نے درجنوں گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو لوٹا اور نذر آتش کر دیا۔ ان کے گزرنے کے بعد ان محلوں کی دیواریں فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز نعروں سے بھر گئیں، جیسے:’دروز خنزیر‘ یا ’ہم تمہاری گردنیں کاٹنے آ رہے ہیں، وغیرہ۔‘

احمد الشرح نے سویدا میں دروز آبادی کے خلاف زیادتیوں کے مرتکب افراد کی مذمت کی اور کہا کہ ’انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے گا‘۔ تاہم اس سے قبل جب ساحلی علاقوں میں علوی شہریوں کے قتل عام کا واقعہ پیش آیا تھا، تب بھی انہوں نے یہی وعدہ کیا تھا، لیکن آج تک ان مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس قتل عام کی تفتیش کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کو اپنی رپورٹ 30 دن کے اندر پیش کرنا تھی، لیکن اس کا مینڈیٹ 10 اپریل کو تین ماہ کے لیے بڑھا دیا گیا۔ بالآخر رپورٹ 90 دن بعد 20 جولائی کو صدر الشرح کو پیش کی گئی۔ مزید برآں اس کمیشن نے 22 جولائی کی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مارچ کے قتل عام میں ریاستی یا فوجی اعلیٰ حکام کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ، حالانکہ چند ہفتے قبل شائع ہونے والی رائٹرز کی ایک تحقیق اس کے برعکس نتائج پر پہنچی تھی۔

اسی طرح کمیشن نے کہا کہ اس کے پاس ان متعدد واقعات کی کوئی معلومات نہیں جن میں فروری 2025 سے جاری قتل، اغواء، گمشدگی اور خواتین و بچیوں کے خلاف جنسی بنیادوں پر تشدد کی اطلاعات موجود تھیں، خصوصاً علوی خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم کی۔

دوسری طرف الشرح نے زیادہ تر’قانون شکن گروہوں‘، یعنی سویدا کے مقامی دروز مسلح دھڑوں ، کو صوبے میں تشدد کا اصل ذمہ دار قرار دیا، اور ان پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’خوفناک تشدد‘کرنے، شہری امن کو خطرے میں ڈالنے، اور ملک کو افراتفری اور سکیورٹی کے انہدام کی طرف دھکیلنے کا الزام لگایا۔ اسی دوران انہوں نے عرب قبائل کی صف بندی کی تعریف کی، ان کے’شجاعت بھرے کارناموں‘کو سراہا، اور ان سے سیز فائر کی پابندی کرنے کی اپیل کی ۔ یہ ایک تضادات سے بھرپور پیغام تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایچ ٹی ایس (ہیت تحریر الشام) کی مرکزی قیادت کی سیاسی حکمت عملی کے تحت سنی عرب قبائل کی صف بندی کو شامی حکومتی افواج کی عسکری کمزوری کو پورا کرنے کا ایک موثر ذریعہ سمجھا گیا۔ ایسا خاص طور پر سویدا کے خلاف کارروائیوں میں اور سیاسی رعایتیں حاصل کرنے کے لیے اہم سمجھا گیا۔

اسی وقت ملک میں غالب میڈیا بیانیہ سرکاری ریاستی پروپیگنڈے کی بازگشت بن چکا تھا۔خصوصاً شامی قومی ٹیلی ویژن ’الاخباریہ‘پراس بیانیے کو ترویج دی گئی۔ اس میں ان واقعات کی ایسی تعبیر کو فروغ دیا جا رہا تھا جس میں دروز مذہبی رہنما شیخ الحجری اور مسلح دروز گروہوں کو تشدد کا اصل ذمہ دار ٹھہرایا گیا، اور انہیں بیک وقت ’علیحدگی پسند‘،’مسلح گروہ‘،’صیہونیوں کے اتحادی‘وغیرہ جیسے القابات سے پکارا گیا۔

فوجی اور میڈیا دونوں سطحوں سے ہونے والے یہ مجموعی حملے صوبہ سویدا پر کیے گئے۔ ان حملوں نے مختلف دروز مسلح گروہوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے، بلکہ مقامی دروز آبادی کے اندر بھی اتحاد کی ایک نئی فضا پیدا کی ہے۔ ان خطرات کا سامنا کرتے ہوئے، جنہیں دروز آبادی پر ایک اجتماعی یلغار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ہر طرف سے اتحاد کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

اس بدلتے ہوئے منظرنامے کی عکاسی کرتے ہوئے سویدا میں متعدد مزدور یونینوں اور پیشہ ورانہ تنظیموں نے قتل عام کے خلاف احتجاجاً دمشق میں موجود مرکزی ٹریڈ یونین مراکز سے تمام روابط منقطع کر لیے اور انسانی حقوق کی ان پامالیوں کی مکمل ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد کی۔

مثال کے طور پر سویدا بار کونسل نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دیتے ہوئے ان اقدامات کی شدید مذمت کی، جنہیں انہوں نے ’دہشت گردانہ کارروائیاں، جنگی جرائم، فرقہ وارانہ صفائی، نسل کشی، اور انسانیت کے خلاف جرائم‘ قرار دیا ۔یہ سب اقدامات سویدا گورنری میں حکومت اور اس کی معاون افواج کے ہاتھوں سرزد ہوئے۔سویدا انجینئرز ایسوسی ایشن نے اپنے قتل شدہ اراکین کا سوگ مناتے ہوئے ایک حقیقی قومی اتھارٹی کے قیام کا مطالبہ کیا جو عوام کی نمائندگی کرے، اور دمشق میں موجود ٹریڈ یونین مرکز سے ہم آہنگی ختم کرنے کا اعلان کیا۔

زرعی انجینئرز یونین نے اپنے تین ارکان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ’جو دہشت گرد حکومت کی حمایت یافتہ وحشیانہ یلغار کا نشانہ بنے۔‘ یونین نے اعلان کیا کہ وہ دمشق کے ٹریڈ یونین مرکز سے اس وقت تک رابطے معطل رکھے گی جب تک کہ حالات نہ بدلیں اور ایک ایسی اتھارٹی قائم نہ ہو جو شامی عوام کی نمائندہ ہو، ان کے وقار کی حفاظت کرے اور ان کے حقوق کی پاسداری کرے۔

جانوروں کے ڈاکٹروں کی یونین (ویٹرنری یونین) نے ان واقعات کو ’انسانیت کے خلاف جرم‘قرار دیا، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور مرکزی حکومت پر ان خلاف ورزیوں کو ہوا دینے اور براہ راست حمایت کرنے کا الزام لگایا۔ یونین نے اعلان کیا کہ وہ ان مظالم میں ملوث ’امر واقعہ پر مبنی‘حکمرانی کے خاتمے اور شامی عوام کی نمائندہ حکومت کے قیام تک ٹریڈ یونین مرکز سے تعلقات معطل رکھے گی۔

سویدا کی اساتذہ یونین نے بھی حکومتی حکام کو اس قتل عام کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا، اور تعلیم و جمہوریت کے پیغام سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے شدت پسندانہ نظریات اور تکفیری کالز کی شدید مخالفت کی۔ یونین نے اعلان کیا کہ وہ دمشق کے ٹریڈ یونین مرکز سے اس وقت تک تعاون بند رکھے گی جب تک کہ وہاں سے شدت پسندانہ نظریات کا خاتمہ نہ ہو جائے۔

28 جولائی کو صوبہ سویدا بھر میں زبردست مظاہرے ہوئے جن میں محاصرے کے خاتمے، حکومت نواز مسلح افواج کے ہاتھوں کیے گئے قتل عام کی مذمت، انسانی راہداریوں کے قیام کے لیے بین الاقوامی مداخلت، اور حالیہ واقعات کی آزاد بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے غیر ملکی میڈیا کو صوبے میں داخل ہونے اور مظالم کی دستاویز بندی سے روکنے پر سکیورٹی فورسز کے رویے کی بھی شدید مذمت کی۔

دمشق حکومت سے منسلک یا اس کی حامی افواج کی سویدا میں کارروائیاں اور ان کا رویہ مقامی آبادی کے ساتھ ان اندوہناک یادوں کو تازہ کرتا ہے جب پرانی اسد حکومت نے 2016کے اواخر میں مشرقی حلب اور 2018کے موسم بہار میں غوطہ (دمشق کے مضافات) میں جبری داخلہ کیا تھا ، یا جب ترک فوج اور اس کے شامی حامی گروہوں نے شمال مغربی شہر عفرین پر قبضہ کیا تھا۔ ان سب کارروائیوں کی نوعیت مسلح قبضے کی تھی، جسے مقامی آبادی نے مسترد کیا۔

فرقہ واریت: تسلط اور کنٹرول کا سیاسی ہتھیار

سویدا پر ہونے والی یہ مسلح کارروائیاں ایچ ٹی ایس کی قیادت میں شامی حکومت کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں ،جس کا مقصد ایک بکھرے ہوئے ملک پر طاقت کا ارتکاز ہے۔

اس مقصد کے لیے حکومت نے ایک بیرونی توثیق اور بین الاقوامی سطح پر قبولیت حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے ،تاکہ ملک کے اندر اپنی بالادستی کو مضبوط کیا جا سکے۔ صدر الشرح اور ان کے حامی اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ شام کو امریکی زیر قیادت خطے کے ایک اتحاد کا حصہ بنایا جائے، جس میں ترکی، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک شامل ہیں ، تاکہ اقتدار کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ اس تناظر میں نئی حکومت اسرائیل کے ساتھ ایک قسم کی ’نارملائزیشن‘بھی چاہتی ہے ۔

اسی بنیاد پر نئی ایچ ٹی ایس قیادت نے ریاستی اداروں، فوج، سکیورٹی اداروں، اور معاشرتی حلقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔ سویدا کے معاملے میں اسد حکومت کے زوال کے بعد مقامی نیٹ ورکس اور گروہوں نے دیرینہ کارکن محسنہ المحیثاوی کو گورنر منتخب کیا تھا، لیکن دمشق نے اس انتخاب کو مسترد کرتے ہوئے اپنا مقرر کردہ گورنر تعینات کر دیا۔

وسیع تر تناظر میں الشرح نے وزراء، سکیورٹی حکام اور علاقائی گورنرز کے طور پر ایسے افراد قرر کیے ہیں جو ایچ ٹی ایس یا شام کی نیشنل آرمی (ایس این اے)سے وابستہ ہیں۔ ایس این اے ترکی کا حمایت یافتہ شامی اپوزیشن گروہوں کا اتحاد ہے۔مثلاً نئے وزیر دفاع اور دیرینہ ایچ ٹی ایس کمانڈر مرحف ابو قصرا کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نئی شامی فوج میں شامل کیا گیا ہے۔نئی شامی فوج کی تنظیم نو ان مسلح گروہوں پر مشتمل کی گئی ہے ،جو نئی دمشق حکومت (ایچ ٹی ایس اورایس این اے) سے وفاداری رکھتے ہیں، اور نئے سپاہیوں کی بھرتی بھی اسی وفاداری پر مبنی نظام کے تحت ہو رہی ہے۔

اسی دوران دمشق میں نئے حکام ان مسلح گروہوں پر ’قانون شکن گروہوں‘کا الزام عائد کرتے ہیں جو مرکزی حکومت کے مخالف ہیں، جیسے کہ مقامی دروز مسلح دھڑے۔ اس کے برعکس وہ مسلح گروہ جو حکومت کے قریب تر ہیں،ان پر یہ الزامات نہیں لگائے جاتے، جیسے سویدا میں لڑنے والے سنی عرب قبائل۔ اگرچہ تمام مسلح گروہوں کو ایک نئی شامی فوج میں ضم کرنے کا عمل بذات خود مخالفت کو جنم نہیں دیتا۔ تاہم سویدا میں دروز آبادی کے بڑے حصے اور شمال مشرق میں کرد عوام اب بھی اس عمل کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب انہیں کسی قسم کی ضمانتیں حاصل نہیں، جیسے کہ اختیارات کی مرکزیت ختم کرنا اور ایک حقیقی جمہوری عبوری عمل کا آغاز وغیرہ۔ حکومت نواز گروہوں کی پرتشدد کارروائیاں ان خدشات کو کم کرنے کی بجائے مزید بڑھا رہی ہیں۔

اسی طرح عبوری حکومت کے اہم عہدے ان افراد کے پاس ہیں جو صدر الشرح کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ مزید برآں، صدر اور ایچ ٹی ایس سے وابستہ افراد پر مشتمل متوازی ادارے قائم کیے گئے ہیں، جیسے کہ ’شامی قومی سلامتی کونسل‘،جس کی صدارت خود الشرح کرتے ہیں اور اس میں ان کے قریبی ساتھی وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، اور ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس شامل ہیں ۔ اس کونسل کا قیام عبوری حکومت کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور سیاسی معاملات سنبھالنے کے لیے کیا گیا۔

نئی شامی حکومت نے معاشی و سماجی شعبوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک کی چیمبرز آف کامرس اور انڈسٹری کو از سر نو تشکیل دیا گیا ہے، اوراکثریتی ارکان کو برطرف کر کے ان کی جگہ دمشق سے نامزد کردہ افراد کو مقرر کیا گیا۔ کئی نئے بورڈ ممبران ایچ ٹی ایس سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں، جیسا کہ شام کے فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس کے نئے صدر علاء العلی، جو پہلے ادلب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رہ چکے ہیں۔ دیگر نامور افراد میں عصام غریواتی شامل ہیں، جو اب بورڈ کے چیئرمین ہیں اور 2011 سے قبل کے کاروباری حلقے میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ عصام، ظہیر غریواتی کے بیٹے ہیں، جو غریواتی گروپ کے بانی تھے ، یہ شام کا ایک بڑا کاروباری گروپ ہے۔

اپریل کے وسط میں احمد الشرح کے بھائی ماہر الشرح کو صدارتی سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا، جو صدارتی انتظامیہ کو چلانے اور صدر و ریاستی اداروں کے درمیان ربط قائم رکھنے کے ذمے دار ہیں۔ ایک حالیہ رائٹرز تحقیق میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ حازم الشرح اور دیگر افراد اسد دور کی کمپنیوں کو خفیہ طور پر حاصل کر کے شامی معیشت کی از سر نو تشکیل میں مصروف ہیں۔ساتھ ہی حکام نے یونینوں اور پیشہ ورانہ تنظیموں میں بھی نئی قیادتیں مقرر کیں۔ خاص طور پر شامی بار ایسوسی ایشن کے لیے ایک نیا یونین کونسل تشکیل دیا گیا جو ادلب کونسل آف فری بارز کے افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے ردعمل میں شامی وکلاء نے بار ایسوسی ایشن میں جمہوری انتخابات کے لیے ایک پٹیشن کا آغاز کیا۔

ایچ ٹی ایس کی قیادت میں قائم نئی حکمران اتھارٹی فرقہ واریت کو آبادی پر تسلط اور کنٹرول کے ایک سیاسی آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگیاں اور نفرت نہ تو قدیم مذہبی تقسیم کا نتیجہ ہیں، نہ ہی یہ خطے کی آبادیوں میں فطری طور پر موجود ہیں، اور نہ ہی یہ کسی ’سنی اکثریت سے اقلیتوں کے بدلے‘کے تاریخی بیانیے سے جڑی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ کشیدگی جدید سیاسی عمل کا نتیجہ ہے اور اس کی جڑیں سیاسی مفادات اور حکمت عملیوں میں پیوست ہیں۔

جیسا کہ مارچ میں ساحلی علاقوں میں ہونے والے قتل عام سے ظاہر ہوتا ہے ،زیادہ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو فرقہ وارانہ زبان، کشیدگیوں، اور ایچ ٹی ایس اور حکومت کی حامی افواج کی جانب سے علوی اور پھر دروز آبادیوں کے خلاف کیے گئے حملے درحقیقت تین بڑے مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔فرقہ وارانہ کشیدگیوں کا فائدہ اٹھا کر’مظلوم سنی اکثریت‘(مظلومیۃ سنیۃ) کے بیانیے کو فروغ دینا، تاکہ سنی عرب آبادی کے مختلف و متضاد طبقات کو ایک مشترکہ شناخت کے تحت متحد کیا جا سکے ۔ باوجود اس کے کہ اس کمیونٹی کے اندر سیاسی، سماجی، اور علاقائی سطح پر گہرے اختلافات موجود ہیں۔

دوسرا یہ کہ یہ فرقہ وارانہ حملے اور کشیدگیاں نچلی سطح سے ابھرنے والی جمہوری سرگرمیوں یا امکانات کو سبوتاژ کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے السویدہ 2011 میں عوامی بغاوت کے آغاز سے عوامی مزاحمت کی ایک علامت رہا ہے۔ یہ مزاحمت خاص طور پر سابق اسد حکومت کے خلاف رہی ہے، جہاں جمہوری سرگرمیاں، ایک متحرک مقامی سول سوسائٹی، اور متبادل یونینز اور پیشہ ورانہ تنظیمیں بنانے کی کوششیں جاری رہی ہیں۔ مثال کے طور پر اگست 2023 کے وسط سے شروع ہونے والی ایک نسبتاً بڑی احتجاجی تحریک کے بعد السویدہ گورنریٹ میں عوامی مظاہرے اور مسلسل ہڑتالیں ہوئیں، جنہوں نے شام کی وحدت، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور سماجی انصاف کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ کچھ مقامی مسلح دروز دھڑے بھی جنوبی شام میں اسد حکومت کے خلاف آخری دنوں میں دیگر عسکری گروہوں کے ساتھ اس عسکری جدوجہد میں شریک رہے۔ علاوہ ازیں 2014 سے اسد حکومت کی وفادار شامی فوج میں شمولیت سے انکار کرنے والے سویدا کے دسیوں ہزار نوجوانوں کو تحفظ دینے میں بھی دروز کے مقامی مسلح گروہوں نے کردار ادا کیا۔

مارچ میں ساحلی علاقوں میں ہونے والے فرقہ وارانہ قتل عام نے جنوری اور فروری 2025 میں مختلف صوبوں میں نئی حکومت کے ہاتھوں برطرف کیے گئے سرکاری ملازمین کی جانب سے شروع کیے گئے مظاہروں کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔ دسمبر 2024 سے شامی حکومت نے دسیوں ہزار، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ، سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ اس فیصلے کے بعدسویدا سمیت ملک بھر میں برطرف یا معطل ملازمین کی جانب سے احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ یہ مظاہرے ایک امید افزا علامت تھے، جیسا کہ متبادل یونینز یا کم از کم ہم آہنگی کی تنظیموں کے قیام کی کوششیں کی گئیں۔ ان نئی تنظیموں نے نہ صرف بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی مخالفت کی، بلکہ تنخواہوں میں اضافے اور سرکاری اثاثوں کی نجکاری کے حکومتی منصوبوں کو بھی مسترد کیا۔ تاہم یہ احتجاجی تحریک مسلح گروہوں کی ممکنہ پرتشدد جوابی کارروائی کے خوف کے باعث منظم ہونے میں بری طرح کمزور ہو گئی۔

آخرکار فرقہ وارانہ بیان بازی اور حملوں نے دمشق میں نئی حکومت کو یہ موقع دیا کہ وہ سویدا جیسے ان علاقوں پر اپنا مکمل کنٹرول مسلط کرنے کی کوشش کرے جو اس کے اختیار سے باہر ہیں، یا پھر مارچ کے ساحلی قتل عام جیسے اقدامات کے ذریعے اپنے کنٹرول کو مضبوط بنائے، جس میں آبادی کے کچھ حصوں کو فرقہ واریت کی بنیاد پر متحرک کیا گیا۔

فرقہ واریت ایک طاقتور سماجی کنٹرول کا ذریعہ ہے، جو طبقاتی جدوجہد کے دھارے کو اس طرح موڑ دیتی ہے کہ عوامی طبقات اور ان کی حکمران اشرافیہ کے درمیان انحصار کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عوامی طبقات کسی سیاسی خودمختاری سے محروم ہو جاتے ہیں اور اپنی فرقہ وارانہ شناخت کے ذریعے ہی سیاسی طور پر عمل کرتے ہیں اور خود کو متعین کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے نئی حکومت سابق اسد حکومت کے نقش قدم پر چل رہی ہے، جو فرقہ وارانہ پالیسیوں اور حکمرانی، کنٹرول اور سماجی تقسیم کے ذرائع کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس سیاق و سباق میں حکومت سے منسلک اور حمایتی مسلح افواج کی جانب سے کیے جانے والے مسلح مظالم کو محض ’انفرادی اقدامات‘یا فوج کی ’پیشہ ورانہ مہارت کی کمی‘قرار نہیں دیا جا سکتا، چاہے وہ مارچ میں علوی آبادی کے خلاف قتل عام ہو یا آج سویدا میں ہو رہا ہو۔ درحقیقت رائٹرز کی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ حکومت نواز مسلح گروہ مارچ میں علوی شہریوں کے خلاف کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں میں براہ راست ملوث تھے، اور یہ سب کچھ ریاست کے اعلیٰ ترین حکام کی مرضی اور علم میں تھا۔ مزید برآں نئی حکومت نے وہ سیاسی حالات پیدا کیے جنہوں نے اس تشدد کو ممکن بنایا۔ گزشتہ مہینوں میں انفرادی علویوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، جیسے اغوا اور قتل، بڑھ گئی ہیں۔ دسمبر 2024 کے آخر میں فاحل کے قتل عام اور فروری 2025 کے اوائل میں ارضہ کے قتل عام جیسی کارروائیاں درحقیقت مارچ کے ساحلی قتل عام کی ریہرسل معلوم ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ شامی حکام نے بارہا علوی کمیونٹی کو پرانے نظام کی عوام دشمنی کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر 9ویں شامی ڈونرز کانفرنس میں برسلز،بلجیم میں اپنی تقریر کے دوران شامی وزیر خارجہ اسعد الشبانی نے کہاکہ ’اقلیتوں کی 54 سالہ حکمرانی نے 1 کروڑ 50 لاکھ شامیوں کو بے گھر کیا۔۔۔‘یہ بیان بالواسطہ طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ پوری علوی کمیونٹی نے دہائیوں تک ملک پر حکومت کی، نہ کہ اسد خاندان کی سربراہی میں قائم ایک آمریت نے۔

اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق نظام میں علوی شخصیات خاص طور پر فوجی اور سکیورٹی اداروں میں اہم عہدوں پر موجود تھیں، لیکن ریاست کی ماہیت اور اس کے غالب اداروں کو صرف ’علوی شناخت‘سے جوڑنا یا اس نظام کو محض اقلیتی مذہبی گروہوں کا حامی اور سنی اکثریت کا دشمن ظاہر کرنا حقیقت سے کوسوں دور اور گمراہ کن ہے۔

حکام جنگ زدہ شام میں جنگی جرائم میں ملوث تمام افراد اور گروہوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ایک جامع عبوری انصاف کے عمل کو فروغ دینے کا کوئی موثر طریقہ کار قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر ایسا کیا جاتا تو یہ انتقامی کارروائیوں کو روکنے اور بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا تھا۔ تاہم احمد الشرح اور ان کے اتحادیوں کو عبوری انصاف میں کوئی دلچسپی نہیں۔ غالباً ایسا اس خوف کے باعث ہے کہ کہیں وہ خود ان جرائم اور شہریوں کے خلاف بدسلوکیوں پر مقدمے کی زد میں نہ آ جائیں جو ان کے ہاتھوں سرزد ہوئے۔

17 مئی کو شامی عبوری حکام نے دو نئے سرکاری اداروں ،عبوری انصاف کمیشن اور لاپتہ افراد کے لیے قومی کمیشن ،کے قیام سے متعلق صدارتی فرمان جاری کیے۔ تاہم عبوری انصاف کمیشن کا دائرہ کار اس فرمان میں انتہائی محدود رکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے متاثرین کو خارج کر دیا گیا ہے۔ خاص طور پر ان افراد کو جو ایچ ٹی ایس اور اس کے اتحادی گروہوں ،جیسے ایس این اے کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔ اس طرح کا سلیکٹو جسٹس انتہائی تشویشناک ہے اور ملک میں نئی سیاسی و فرقہ وارانہ کشیدگیوں کو جنم دینے کا خطرہ رکھتا ہے۔

اس سب سے بڑھ کر بشار الاسد کے سابقہ نظام سے وابستہ اور جرائم میں ملوث یا ان میں معاون کردار ادا کرنے والے بعض افراد کو نئی حکومت کی طرف سے عملی طور پر استثنیٰ دے دیا گیا ہے، جیسے فادی صقر (نیشنل ڈیفنس فورسز کے سابق کمانڈر) اور محمد حمشو (ماہر الاسد سے وابستہ معروف کاروباری شخصیت)۔

اس تناظر میں سویدا صوبے میں حالیہ واقعات اور شامی حکومتی افواج کی حکمت عملی و اقدامات دراصل نئی حکمران اتھارٹی کی طرف سے اقتدار کو مرکز میں جمع کرنے اور سماج پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ایک مرکزی اور محدود صلاحیت رکھنے والی اتھارٹی کے ہاتھوں طاقت کی اس قسم کی مرتکز صورت صرف مزید سیاسی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کی خودمختاری مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کی فرقہ وارانہ کشیدگیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش

اسی دوران اسرائیلی حکومت نے حالیہ دنوں میں شامی حکومت کے حامی مسلح گروہوں کی جانب سے دروز آبادی کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا ہے ،تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی جا سکے۔ اسرائیل نے خود کو جنوبی شام میں دروز آبادی کا محافظ ظاہر کیا ہے اور ان کے ’تحفظ‘ کے لیے عسکری مداخلت کی دھمکیاں دی ہیں۔

دروزی مذہبی پیشوا شیخ حکمت الحجری کی اسرائیلی حکومت سے اپیلوں اور دروز آبادی کے بعض حلقوں کی اسرائیل کی طرف حالیہ ہمدردی کے باوجود، بالخصوص ان کے خلاف حالیہ پرتشدد کارروائیوں کے بعد، سویدا اور دیگر علاقوں میں دروز برادری کی اکثریت نے اسرائیلی مداخلت کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ وہ بارہا اپنی شام سے وابستگی اور ملکی وحدت کی حمایت کا اعادہ کر چکے ہیں۔تاہم اسرائیل کی ترجیح دروز آبادی کا دفاع نہیں رہی اور نہ ہے۔ اس کے برعکس تل ابیب نے دمشق کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ جنوبی شام میں کسی بھی قسم کی عسکری موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا ، خواہ وہ قنیطرہ، درعا یا سویدا میں ہو ، اور وہ ان علاقوں کی ڈی ملٹرائزیشن کا خواہاں ہے۔

اسی تناظر میں اسرائیلی قابض افواج نے 16 اور 17 جولائی کو دمشق میں شامی فوج کے صدر دفاتر اور وزارت دفاع کے قریب، نیز دیگر علاقوں میں نئے فضائی حملے کیے۔ یہ حملے سابقہ کارروائیوں کے تسلسل میں تھے۔اس عمل کے ذریعے صیہونی نوآبادیاتی اور نسل پرست ریاست اسرائیل شام کی ریاست کو مزید کمزور کرنا چاہتی ہے تاکہ دمشق سے زیادہ سیاسی مراعات حاصل کی جا سکیں ۔یہ وہ دمشق ہے،جس نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی براہ راست یا بالواسطہ خواہش کا اظہار کیا ہے۔ایچ ٹی ایس کی قیادت میں شامی حکومت اسرائیلی حکام کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور کسی حد تک مفاہمت کے راستے تلاش کرنے کے لیے مذاکرات اور بات چیت کے وجود کی تصدیق کر چکی ہے۔ باوجود اس کے کہ اسرائیلی فوج ان شامی علاقوں پر مسلسل حملے کر رہی ہے اور زرعی و شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہی ہے، جن علاقوں پر دسمبر میں اسد حکومت کے زوال کے بعد قبضہ کیا گیا۔احمد الشرح بارہا دہرا چکے ہیں کہ ان کی حکومت اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہے اور انہوں نے مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کو یہ بھی بتایا ہے کہ اگر ’مناسب حالات‘پیدا کیے جائیں تو وہ ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دمشق نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کے بڑے حملوں کی مذمت نہیں کی۔ اس کے برعکس وہ لبنان میں حزب اللہ کی کمزوری کی طرح ایران کی کمزوری کو بھی مثبت نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ یہ رویہ نہ صرف شام کی عوامی بغاوت کے دوران ایران کے کردار اور اس کے خلاف عوامی نفرت کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، اس سے نئی حکمران اشرافیہ کے اس سیاسی رجحان کا بھی پتہ چلتا ہے جو ملک کو امریکہ کی قیادت میں موجود اتحاد میں ضم کر کے داخلی طور پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

یہ سیاسی رجحان حالیہ واقعات کے باوجود تبدیل نہیں ہوا، اور امریکہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ دمشق میں نئی ابھرتی ہوئی طاقت مزید کمزور ہو، جو علاقائی سیاسی مفادات کی تسکین اور وہاں ایک خاص قسم کے آمرانہ استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی رہنماؤں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی حکومتی اہداف پر بمباری بند کرے اور دمشق کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرے۔ اس جنگ بندی کے تحت شامی حکومتی افواج کو ماسوائے شہر صوبہ سویدا میں تعینات کرنے کی اجازت دی گئی، جس کی اسرائیل نے ابتدائی طور پر مخالفت کی۔

مزید برآں سویدا میں عسکری کشیدگی آذربائیجان کے شہر باکو میں شامی اور اسرائیلی حکام کے مابین ہونے والی بات چیت کے بعد بڑھی، جیسا کہ ویب سائٹ’سیریا ان ٹرانزیشن‘نے رپورٹ کیا۔ ان مذاکرات کے دوران ایچ ٹی ایس کی زیر قیادت شامی حکام مبینہ طور پر تل ابیب سے سویدا کے دوبارہ انضمام کے لیے منظوری چاہتے تھے۔ اگرچہ اسرائیلی حکام نے محدود انضمام یعنی عوامی خدمات کی بحالی اور ایک محدود مقامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی کے لیے آمادگی ظاہر کی، لیکن دمشق نے اس فیصلے کو ایک بڑی عسکری کارروائی کی اجازت کے طور پر غلط سمجھا۔ اس غلط فہمی کے باوجود شامی حکام کا یہ رویہ اس رجحان کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ سویدا میں جبری اقدامات جیسی اپنی پالیسیوں کے جواز کے لیے بیرونی منظوری اور حمایت پر انحصار کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ مقامی سیاسی مکالمے کو فروغ دیں۔مختلف ذرائع کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور شام کے اعلیٰ حکام 24 جولائی بروز جمعرات کو جنوبی شام میں ایک سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے اور مزید بحرانوں سے بچاؤ کے لیے ملاقات کر چکے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں بین الاقوامی منظوری، امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی کوشش، اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ معمول کے تعلقات کو فروغ دینا،یہ تمام کوششیں ایچ ٹی ایس کی ملک پر گرفت کو مستحکم کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔ اس پورے عمل میں شامی محنت کش طبقے کے مفادات اور ان کی جمہوری امنگوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔اسی تناظر میں سویدا میں حالیہ واقعات ایک بار پھر ظاہر کرتے ہیں کہ شام ایک جمہوری اور جامع سیاسی عبوری عمل سے نہیں گزر رہا، بلکہ یہ ایک نیا آمرانہ نظام قائم کرنے کا عمل ہے، جو ایچ ٹی ایس کی قیادت میں تشکیل پا رہا ہے اور اسے ادارہ جاتی اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کی آڑ میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

تاہم یہ عمل ابھی نامکمل ہے کیونکہ نئے حکام کی سیاسی، معاشی، اور عسکری صلاحیتیں محدود ہیں، جیسا کہ سویدا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ان کی ناکامی سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ناکامی کے باوجود موجودہ حکام کی جانب سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی یا شامی محنت کش عوام کے سیاسی ، سماجی و اقتصادی مفادات کے حق میں حقیقی رعایتیں دیے جانے کا امکان اس وقت تک کم ہی ہے،جب تک کہ طاقت کے توازن میں تبدیلی نہ آئے، اور سب سے بڑھ کر، جب تک معاشرے کے اندر ایک متبادل طاقت، یعنی جمہوری اور ترقی پسند سیاسی و سماجی نیٹ ورکس اور عناصر پر مشتمل قوت کی دوبارہ تشکیل اور ترقی نہ ہو۔

اس کے باوجود کچھ نئی سیاسی، سماجی، اور کمیونٹی تنظیمیں ابھر رہی ہیں اور منظم ہو رہی ہیں، لیکن وہ ابھی تک عوام میں جڑیں رکھنے والی ایسی سماجی قوتوں میں تبدیل نہیں ہوئیں جو وسیع تر معاشرتی تحرک کو جنم دے سکیں۔ اسی وقت شام کے مختلف علاقوں کے درمیان تعاون، بشمول شمال مشرقی شام میں موجود کرد تنظیموں کے ساتھ، کو مزید فروغ دینا ہوگا۔تاہم 14 سالہ جنگ و تباہی اور 50 سال سے زائد آمریت کا بوجھ اس تعمیر نو پر بھاری پڑ رہا ہے۔۔۔

(بشکریہ: ’انٹرنیشنل ویوپوائنٹ‘، ترجمہ : حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں