روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

سی پیک کے 10 سال: ٹوٹے وعدے اور مسلسل نظر انداز ہوتا بلوچستان

سی پیک کے 10 سال: ٹوٹے وعدے اور مسلسل نظر انداز ہوتا بلوچستان

عدنان عامر

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے آغاز کو 10 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس نے پاکستان میں ایک بڑی اقتصادی تبدیلی لانے کا وعدہ کیا تھا۔ اگرچہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مجموعی تصویر اصل نقطہ نظر اور اہداف سے بہت دور ہے۔ سکیورٹی چیلنجز، کمزور گورننس اور تاخیر نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود اس کہانی کا سب سے نازک اور تکلیف دہ حصہ بلوچستان کا اخراج ہے۔ سی پیک کے لیے سٹریٹجک لحاظ سے سب سے اہم خطہ ہونے کے باوجود یہ حاشیے پر ہی رہاہے۔ یہ صرف پالیسی کی ناکامی نہیں ہے بلکہ ناانصافی کا واضح معاملہ ہے۔

10 سال قبل 20 اپریل کو چین کے صدر شی جن پنگ نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ ان کے دورے کے دوران کئی معاہدوں پر دستخط کیے گئے،جن سے سی پیک کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ 50 ارب ڈالر کی منصوبہ بند سرمایہ کاری کے ساتھ سی پیک کو چین کے وسیع بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ا یٹو کے پاکستان کے جزو کے طور پر پیش کیا گیا، جو 100 سے زائد ممالک کو آپس میں ملاتا ہے۔ پاکستانی قیادت نے اسے گیم چینجر اور معاشی بحالی کا سنہری موقع قرار دیا۔ خواب یہ تھا کہ نئی شاہراہیں، بندرگاہیں، ریلوے اور پاور پلانٹس ملک کو توانائی اور انفراسٹرکچر کے بحرانوں سے نکالیں گے اور صنعتی ترقی کی راہ ہموار کریں گے۔ عام لوگوں کو بتایا گیا کہ سی پیک پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔ تاہم ایک دہائی بعد نتائج اس خواب کی عکاسی نہیں کرتے۔

سرکاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 سے اب تک سی پیک کے کل 38 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جن میں 25.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ 2.1 ارب ڈالر مالیت کے اضافی 23 منصوبے اس وقت زیر کار ہیں۔ اگرچہ یہ نمبر ظاہر کر رہے ہیں کہ سرگرمی ہو رہی ہے، لیکن اگر اس پر گہری نظر ڈالی جائے کہ پیسہ کہاں خرچ کیا گیا ہے تو ایک زیادہ درست کہانی سامنے آتی ہے۔اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ پنجاب اور سندھ میں توانائی کے منصوبوں اور انفراسٹرکچر میں خرچ ہوا۔ دوسری طرف بلوچستان، جسے سی پیک میں مرکزی حیثیت حاصل تھی، کو ان فنڈز کا بہت کم حصہ ملا۔

آئیے گوادر کی مثال لیتے ہیں۔ یہ سی پیک کا تاج ہونا چاہیے تھا۔ حکام نے اسے مستقبل کا سنگاپور قرار دیا۔ اسے ایک جدید بندرگاہی شہر کے طور پر پیش کیا گیا تھا،جو علاقائی تجارت کو آگے بڑھائے گا۔ اس کے باوجود حقیقت میں گوادر ایسی کسی تبدیلی سے بہت دور ہے۔ سی پیک کے 890 ملین ڈالر کے فنڈز صرف گوادر میں خرچ ہوئے۔ آج بھی شہر بجلی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ 300 میگاواٹ کی صلاحیت کے حامل کول پاور پلانٹ کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس کے ذریعے یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے تھا، لیکن وہ ابھی تک نہیں بنایا یا۔اس کے نتیجے میں گوادر کو بجلی کی طویل بندش کا سامنا ہے۔ صرف یہ اقدام ہی یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس علاقے پر کتنی کم توجہ دی گئی ہے، جسے پہلے ترقی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

مسئلہ گوادر تک نہیں رکتا۔ پورے بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ مکمل ہونے والے سی پیک منصوبوں پر خرچ ہونے والے کل 25.4 ارب ڈالر میں سے صرف 3.2 ارب ڈالر بلوچستان میں خرچ ہوئے ہیں۔ اس رقم سے بھی حب میں کول پاور پلانٹ کے لیے 1.9 ارب ڈالر استعمال کیے گئے۔ یہ پلانٹ دوسرے خطوں کو بجلی فراہم کرتا ہے لیکن بلوچستان کی ترقیاتی ضروریات میں براہ راست مدد نہیں کرتا۔ باقی منصوبوں میں شاہراہیں اور گوادر کے ارد گرد کچھ انفراسٹرکچر شامل ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی سرمایہ کاری دوسرے صوبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے پیمانے سے مماثل نہیں ہے۔ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ سی پیک بلوچستان میں ایک بھی موٹر وے نہیں لا سکا۔ یہ پروجیکٹ کی تقسیم اور منصوبہ بندی میں گہرے عدم توازن کی عکاسی کرتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟ ذمہ داری کا سب سے بڑا حصہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) حکومت پر ہے، جس نے 2013 سے 2018 تک ملک کی قیادت کی۔ یہ وہ وقت تھا جب سی پیک کی تمام بڑی منصوبہ بندی اور معاہدوں کو حتمی شکل دی جا رہی تھی۔ حکمران جماعت نے اپنی توجہ پنجاب پر مرکوز رکھی جو ان کا سیاسی گڑھ ہے۔ کم آبادی اور کم پارلیمانی نشستوں کے ساتھ بلوچستان کو سیاسی طور پر اہم نہیں دیکھا گیا۔ لہٰذا منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں اسے ایک طرف کر دیا گیا تھا۔ان ابتدائی سالوں میں کیے گئے فیصلوں نے سی پیک کی پوری رفتار کو تشکیل دیا اور بدقسمتی سے ان فیصلوں میں بلوچستان کو کسی بھی معنی خیز انداز میں شامل نہیں کیا گیا۔

گزشتہ چند سالوں میں حکومت سی پیک 2.0کے نام سے اپنی دلچسپی بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں صنعتی زونز، صاف توانائی، زراعت اور سماجی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔ اس نئے مرحلے کے تحت سب سے بڑے مجوزہ منصوبوں میں سے ایک مین لائن 1 یا ایم ایل ون ہے۔ یہ کراچی اور پشاور کے درمیان ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کی مالیت 6.8 ارب ڈالر ہے اور اسے سی پیک کا اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ منصوبہ 2015 سے زیر بحث ہے، اور ابھی تک کوئی حقیقی کام شروع نہیں ہوسکا۔ مسلسل تاخیر سے یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ مرحلہ پہلے سے مختلف ہو گا۔

مزید برآں پہلے مرحلے کی طرح سی پیک2.0 بھی بلوچستان کو نظرانداز کرتا نظر آرہا ہے۔ اب تک نئے منصوبوں کے تحت صوبے میں بڑے انفراسٹرکچر یا صنعتی سرمایہ کاری کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ اگر یہ روش جاری رہی تو بلوچستان اور دیگر صوبوں کے درمیان خلیج مزید بڑھے گی۔ لگتا نہیں ہے کہ پچھلے 10 سالوں سے سبق سیکھاگیا ہے۔ یہ ہر اس شخص کے لیے تشویشناک ہے جو مساوی ترقی اور قومی یکجہتی پر یقین رکھتا ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں ایک حقیقی خامی کو ظاہر کرتی ہے۔صحیح معنوں میں وفاقی نظام میں وسائل اور ترقی کی منصفانہ اور متوازن تقسیم ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں زیادہ آبادی والے صوبوں کو زیادہ تر توجہ اور وسائل حاصل ہوتے ہیں۔ بلوچستان جیسے صوبے جو پہلے ہی پیچھے ہیں، مزید پیچھے رہ گئے ہیں۔ چونکہ بلوچستان بہت سے سیاسی فوائد پیش نہیں کرتا، اس لیے بڑے پالیسی فیصلوں میں اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔

مستقبل میں بلوچستان میں کان کنی کے منصوبوں اور دیگر سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ صوبہ معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔تاہم اگر یہ نئے منصوبے بھی سی پیک کے راستے پر چلتے ہیں تو وہ بھی مقامی آبادی کو بہتر بنانے میں ناکام ہو جائیں گے۔ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی سرمایہ کاری کو یقینی بنانا چاہیے کہ بلوچستان کے لوگ صرف مبصر نہیں بلکہ حقیقی حصہ لینے والے اور فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ مقامی روزگار، بنیادی ڈھانچہ، اور سماجی خدمات کو پیکیج کا حصہ ہونا چاہیے۔ دوسری صورت میں یہ منصوبے صرف ناراضگی کو گہرا کریں گے اور موجودہ خلا کو وسیع کریں گے۔

10 سال پہلے سی پیک کا اعلان بڑی امید کے ساتھ کیا گیا تھا۔ یہ پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونا تھا۔ اس کی بجائے یہ اس بات کی علامت بن گیا ہے کہ کس طرح وعدوں کو توڑا جا سکتا ہے اور ترجیحات کو غلط جگہ دی جا سکتی ہے۔ جہاں حکام اور ماہرین کامیابی اور ناکامی پر بحث کرتے ہیں، بلوچستان کے لوگ اس ترقی کا انتظار کرتے رہتے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ سالگرہ صرف جشن کا لمحہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ سوچنے کا ایک لمحہ ہونا چاہیے کہ کیا غلط ہوا اور مستقبل میں ان غلطیوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

(بشکریہ: ’دی فرائیڈے ٹائمز‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Adnan Amir

صحافی اور محقق عدنان عامر کوئٹہ میں مقیم ہیں۔ بلوچستان کے معروف آن لائن انگریزی جریدے ’بلوچستان وائسز‘ کے مدیر ہیں۔ سیاست، تنازعات اور معیشت ان کے خاص موضوعات ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں